حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت کا ایک واقعہ

محمد بلال اعظم

لائبریرین
سبحان اللہ!
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری
اذان ازل سے تیرے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

سبحان اللہ
ایک لازوال، بے مثال واقعہ ہے۔
بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔
میں بھی یہی شعر لکھنے لگا تھا مگر اب آپ نے دے دیے ہیں تو میں پوری نظم ہی دے دیتا ہوں، کیا نقشہ کھینچا ہے علامہ اقبال نے:

بلال



چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری
تجھے نظارے کا مثل کلیم سودا تھا
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا
مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید
گری وہ برق تری جان ناشکیبا پر
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا
 

نیلم

محفلین
بہت خوبصورت
سبحان اللہ
ایک لازوال، بے مثال واقعہ ہے۔
بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔
میں بھی یہی شعر لکھنے لگا تھا مگر اب آپ نے دے دیے ہیں تو میں پوری نظم ہی دے دیتا ہوں، کیا نقشہ کھینچا ہے علامہ اقبال نے:

بلال



چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری
تجھے نظارے کا مثل کلیم سودا تھا
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا
مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید
گری وہ برق تری جان ناشکیبا پر
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا
 

اشتیاق علی

لائبریرین
بہترین مراسلہ لکھا ۔ مبارک باد قبول کیجئے۔
پڑھنے کے دوران آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس قدر محبت کبھی نہ دیکھی اور نہ سنی ۔ اللہ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اور ان کے اہل بیت اور اصحاب کے صدقے ہماری مففرت فرمائے اور آخرت میں اپنی شفاعت نصیب فرمائیں۔ آمین۔
دل میں یہ بھی حسرت ہے اور اکثر دعا میں بھی شامل رہتی ہے ۔

آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بھی دیدار کا شرف نصیب فرمائیے اور ہمارے قلب کو اپنے عشق سے معمور کر دیجئے۔
 

نیلم

محفلین
بہت شکریہ....آمین ثم آمین..اللہ ہم سب کے دلوں میں ایسی ہی محبت ڈال دے.کہ محبت بھی محبت پہ رشک کرے.
 
سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد حضرت بلال کی ایک اذان ۔ پورا مدینہ اسے سن کر رونے لگا تھا

****************************
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور... شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
بہت اچھا واقعہ ہے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد حضرت بلال کی ایک اذان ۔ پورا مدینہ اسے سن کر رونے لگا تھا

****************************
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور... شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔
جب بھی یہ واقعہ پڑھوں بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہونے لگتی ہے۔ خدا ہی جانے اہلِ مدینہ کا کیا حال ہوا ہو گا۔ اور خود سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی کیا کفیت ہوئی ہو گی۔ 😔
 

جاسمن

مدیر
اللہ انھیں کامل ایمان ، کامل صحت ، آسانیوں والی زندگی دے۔ چلتے ہاتھ پاؤں رکھے۔ کسی کا محتاج نہ کرے۔ عزت والی، آسانی والی خوبصورت موت عطا فرمائے۔ خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین! ہمارے استاد سر سلیم بٹ نے اپنے مخصوص انداز میں جب یہ واقعہ سنایا۔ہم ایم اے کے پہلے سال میں تھے اس وقت۔ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ میں کمرہ جماعت میں ہوں۔۔۔جو آنسوؤں کی جھڑی لگی۔۔۔۔
یہ واقعہ ہی ایسا ہے کہ ہم جیسے محبت سے خالی کھڑکھڑاتے، خالی پیپے جیسے دل والے بھی رو پڑتے ہیں۔ کہاں ہم اور کہاں وہ عظیم ہستی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔ مجھے بھی وہ بے حد بے حد پسند ہیں۔ اتنے پیارے لگتے ہیں، اتنے پیارے لگتے ہیں کہ بس۔ ان کے پیار پہ پیار آتا ہے۔ ان کی محبت سے محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کے آنسوؤں کی جھڑی جو اس وقت سے لگی ہے تو ہر مومن کی آنکھ جو ان کے اس واقعہ پہ روتی ہے، اسی جھڑی کا تسلسل ہے گویا۔۔۔۔ اور یہ تسلسل ہمیشہ قائم رہے گا۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
اللہ انھیں کامل ایمان ، کامل صحت ، آسانیوں والی زندگی دے۔ چلتے ہاتھ پاؤں رکھے۔ کسی کا محتاج نہ کرے۔ عزت والی، آسانی والی خوبصورت موت عطا فرمائے۔ خاتمہ بالخیر کرے۔ آمین! ہمارے استاد سر سلیم بٹ
آمین ثم آمین
 

سیما علی

لائبریرین
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔ مجھے بھی وہ بے حد بے حد پسند ہیں۔ اتنے پیارے لگتے ہیں، اتنے پیارے لگتے ہیں کہ بس۔ ان کے پیار پہ پیار آتا ہے۔ ان کی محبت سے محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کے آنسوؤں کی جھڑی جو اس وقت سے لگی ہے تو ہر مومن کی آنکھ جو ان کے اس واقعہ پہ روتی ہے، اسی جھڑی کا تسلسل ہے گویا۔۔۔۔ اور یہ تسلسل ہمیشہ قائم رہے گا۔
اللّہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔
درست کہا جب بھی پڑھیں آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں !!!!حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حال جب جب نظروں سے پڑھا یہ حال ہوا پروردگار یہ قائم و دائم رہے ہماری آخری سانسوں تک آمین
 
Top