حدیثِ دوست.....فرامین رسول صلی اللہ علیہ و سلم

سیما علی

لائبریرین
9NRSkfJ.jpg
 

سیما علی

لائبریرین
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں:
‏میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: "الله اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو، غنی ہو، گمنام ہو."
‏(گمنام: دنیاوی بلندی، عہدوں کا خواہشمند نہ ہو.
‏غنی: نفس کی مالداری و بے نیازی).
‏مسلم 7432
‏(مسند احمد 9340؛ مشکوٰۃ 5284)
 

سیما علی

لائبریرین
xcLGVPG.jpg

حدیث نمبر: 3116پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا مالك بن عبد الواحد المسمعي، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن ابي عريب، عن كثير بن مرة، عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من كان آخر كلامه لا إله إلا الله، دخل الجنة".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا آخری کلام «لا إله إلا الله» ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۱؎“۔
19655 - D 3116 - U 2712
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/233، 247) (صحیح)» ‏‏‏‏
۱؎: اس لئے مرتے وقت مرنے والے کے قریب «لا إله إلا الله» کہنا چاہئے تاکہ اس کی زبان پر بھی یہ کلمہ جاری ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح البخاری
 

سیما علی

لائبریرین
لامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 260
´نماز کی صفت کا بیان`
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز کھڑے ہو کر پڑھو، اگر کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی استطاعت نہیں تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو (ان میں سے کسی پر بھی عمل نہ ہو سکے) تو اشارے سے ہی پڑھ لو۔“ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 260»
تخریج:
«أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»

تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کسی صورت بھی معاف نہیں بجز مدہوشی کی حالت کے‘ نیز ثابت ہوا کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی چاہیے۔
بامر مجبوری یا بیماری کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا مشکل ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے۔
اگر ایسا کرنا بھی دشوار ہو تو لیٹ کر پڑھ لے۔
اگر ان حالتوں میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اشاروں سے ادا کرے۔
گویا نماز کسی صورت بھی ترک نہ کرے۔
بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث\صفحہ نمبر: 260

bs2BBt2.jpg
 

سیما علی

لائبریرین
WAgPRSk.jpg
--. موت کی آرزو نہ کرو
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 1613پی ڈی ایف بنائیں اعراب
عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تمنوا الموت فإن هول المطلع شديد وإن من السعادة ان يطول عمر العبد ويرزقه الله عز وجل الإنابة» . رواه احمد
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”موت کی تمنا نہ کرو، کیونکہ مرنے کے بعد کے سماں کی ہولناکی بہت سخت ہے، اور یہ سعادت کی بات ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو جائے اور اللہ عزوجل اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ “ سندہ حسن، رواہ احمد۔
61791 - D 1613 - U 0
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله:
«سنده حسن، رواه أحمد (332/3 ح 146180)
٭ و حسنه الھيثمي في مجمع الزوائد (203/10) والمنذري في الترغيب والترهيب و للحديث شواھد معنوية.»
قال الشيخ زبير على زئي: سنده حسن
bar.gif

1610161116121613161416151616
 

سیما علی

لائبریرین
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2515
´باب:۔۔۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مومن کامل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتا ہے“۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2515]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہیے،
اگر مسلمان اپنے معاشرہ کو خود غرضی رشوت،
بددیانتی،
جعل سازی،
لوٹ کھسوٹ وغیرہ سے پاک صاف رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس حدیث کو اپنے لیے نمونہ بنا کر اس پر عمل کر نا ہوگا،
إن شاء اللہ جو بھی اخلاقی بیماریاں عام ہیں وہ ختم ہوجائیں گی،
ورنہ ذلت اوربد اخلاقی سے ہمیشہ دو چار رہیں گے۔
سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2515
ruQZuLP.jpg
 
Top