حباب (Bubble)- آزاد نظم

سید ذیشان

محفلین
حَباب (Bubble)

مئے غم کی لہروں میں ابھرا حباب اِک
سر اِس نے اٹھایا
نظر بھر کے دیکھا
کہ موجوں کا ہر سو سمندر رواں تھا
تلاطم بپا تھا
سفر ایک پل کا کیا بھی نہیں تھا
کہ جھٹ سے یہ پھوٹا
عدم کے شہر کا مکیں بن گیا یہ
ہزینانِ ہستی۔۔۔
سبھی رشک سے پھولتے جا رہے تھے
حبابوں کا لشکر بنے جا رہے تھے

گماں ایسا مجھ کو ہوا کہ
یہ سسکی ہے گویا
کسی ڈوبتے شخص کی آخری آہ
یا ہے اک خیالِ فحش
کسی فاقہ کش کا
جو اک پل کو ابھرا
تو جھٹ سے ہے پھوٹا
ارے پگلی تیری یہ قسمت کہاں ہے!
میسر ہو تجھ کو کبھی عیشِ نان شبینہ؟
تو غم کا ہے باسی
کہ اس کے سبو سے پرے ہیں
اندھیروں کے رستے
ترے اشک ایسے گہر ہیں
کہ جن سے زمین و فلک خوشنما ہو گئے ہیں

گماں دل میں ایسا اٹھا کہ
حباب اِک جو ابھرا
وہ میں ہوں
مِری زندگی ہے
کہ میں بھی۔۔
ہوں محورِ روز و شب میں گرفتاں
حبابِ مئے غم کی مانند!
سفر در سفر طے کئے ہیں
میں موجوں میں غرقاب ہوتا رہا ہوں
مگر پھر۔۔۔
گماں دل میں ایسا اٹھا ہے
بس اک پل جیا ہوں
مئے غم کا اک بلبلہ ہوں!
 

محمد وارث

لائبریرین
اچھی نظم ہے ذیشان صاحب۔

شہر کا تلفظ ایک جگہ غلط بندھا ہے، یہ ہ اور ر ساکن کے ساتھ ہوتا ہے یعنی بروزنِ درد۔

ایک دو جگہ لفظ کہ بھی دو حرفی بندھا ہے، اس کو اگر یک حرفی ہی باندھا جائے تو بہتر ہے۔

لفظ گرفتاں کو اگر گرفتار بھی کر لیا جائے تو ٹھیک ہے۔

ترکیب عیشِ نانِ شبینہ بھی تبدیلی چاہتی ہے یا پھر میں اسے سیاق و سباق میں ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا۔

والسلام
 

سید ذیشان

محفلین
بہت شکریہ وارث صاحب پسند کرنے کا اور اپنی قیمتی رائے دینے کا :) ۔

وزن کی غلطیوں کو میں ٹھیک کرتا ہوں کچھ دیر میں۔

عیشِ نانِ شبینہ سے مراد لی ہے باسی کھانے کی خوشی۔ یعنی فاقہ کشی اس حد تک ہے کہ باسی کھانا کھانے سے بھی خوشی ہو گی۔ کیا اب بھی تبدیلی ضروری ہے؟
 

نایاب

لائبریرین
زبردست کہی ہے نظم محترم زیش بھائی
میں عنوان سے انگلش نظم سمجھتا رہا ۔
بلاشبہ بہت گہرے خیال کی حامل ہے یہ نظم
 

سید ذیشان

محفلین
زبردست کہی ہے نظم محترم زیش بھائی
میں عنوان سے انگلش نظم سمجھتا رہا ۔
بلاشبہ بہت گہرے خیال کی حامل ہے یہ نظم

بہت شکریہ نایاب بھائی پسندیدگی کا۔ اور عنوان انگریزی میں اس لئے لکھا کہ حباب عام فہم لفظ نہیں ہے۔
اور خیال پسند کرنے کے لئے بھی شکر گزار ہوں :)
 

سید ذیشان

محفلین
اب اسطرح کر دیا ہے:

مئے غم کی لہروں میں ابھرا حباب اِک​
سر اِس نے اٹھایا​
نظر بھر کے دیکھا​
کہ موجوں کا ہر سو سمندر رواں تھا​
تلاطم بپا تھا​
سفر ایک پل کا کیا بھی نہیں تھا​
کہ جھٹ سے یہ پھوٹا​
یوں شہرِ عدم کا مکیں بن گیا ہے
ہزینانِ ہستی۔۔۔​
سبھی رشک سے پھولتے جا رہے تھے​
حبابوں کا لشکر بنے جا رہے تھے​

گماں ایسا مجھ کو ہوا ہے
یہ سسکی ہے گویا​
کسی ڈوبتے شخص کی آخری آہ​
یا ہے اک خیالِ فحش​
کسی فاقہ کش کا​
جو اک پل کو ابھرا​
تو جھٹ سے ہے پھوٹا​
ارے پگلی تیری یہ قسمت کہاں ہے!​
میسر ہو تجھ کو کبھی عیشِ نان شبینہ؟​
تو غم کا ہے باسی​
کہ اس کے سبو سے پرے ہیں​
اندھیروں کے رستے​
ترے اشک ایسے گہر ہیں​
کہ جن سے زمین و فلک خوشنما ہو گئے ہیں​

گماں دل نے ایسا کیا ہے
حباب اِک جو ابھرا​
وہ میں ہوں​
مِری زندگی ہے​
کہ میں بھی۔۔​
ہوں محورِ روز و شب میں گرفتاں​
حبابِ مئے غم کی مانند!​
سفر در سفر طے کئے ہیں​
میں موجوں میں غرقاب ہوتا رہا ہوں​
مگر پھر۔۔۔​
گماں دل میں ایسا اٹھا ہے​
بس اک پل جیا ہوں​
مئے غم کا اک بلبلہ ہوں!​
 
Top