جھوٹا وصیت نامہ

زہیر

محفلین
اس وقت جو کتاب شیر کر رہا ہوں وہ بہت ہی اہمیت کے حامل ہے۔ اگر آپ حضرات کے علم میں ہو کہ ایس ایم اسی اور ای میل کے ذریعہ کسی شیخ احمد نامی شخص کا وصیت نامہ بہت چلتا رہا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں خادم تھا اس نے خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ ﷺ نے اسے وصیت کی کے میری امت میں برائیاں بڑھ گئی ہیں اور ایک ہفتہ میں جتنے مسلمان مرے ہیں سب جہنم میں گئے ہیں وغیرہ۔ ہم مسلمانوں کی بدنصیبی کہ ہم نے بغیر تحقیق وہ جھوٹی من گھڑت ای میل بہت سے لوگوں کو آگے بھی بھیجی

۔ابھی چند روز پہلے یہ کتاب سامنے آئی جس میں اس وقعہ کی تحقیق کی گئی اور تعجب انگیز بات یہ کہ شیخ احمد نامی وصیت نامہ آج سے کوئی 120 سال پہلے بھی چھپتا تھا اور اس وقت کے علماء نے اس کی تردید میں رسالے تک لکھے تھے۔ مزید تفصیل کے لیئے یہاں کلک کریں
 

فرخ منظور

لائبریرین
آپ نے درست فرمایا۔ ہمارے دادا، دادی بھی ہمیں یہی کہتے تھے کہ ہمارے زمانے میں بھی اس کی کاپیاں تقسیم ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے بچپن میں فوٹو کاپیوں کا کہا جاتا تھا اور اب یہی سلسلہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بدل گیا ہے۔ اب ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے یہ نام نہاد خواب تقسیم کروایا جاتا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اس قصے میں وصیت کی جاتی ہے کہ اس کی اتنی کاپیاں بنوا کو تقسیم کریں۔

فلاں فلاں نے کاپیاں تقسیم کیں تو انہیں یہ فوائد حاصل ہوئے، کسی کی لاٹری نکل آئی اور کسی کا پرائیز بونڈ نکل آیا۔ اور فلاں فلاں نے اسے جھوٹا سمجھ کر کاپیاں تقسیم نہیں کیں تو فلاں کی بھینس مر گئی اور فلاں کا کٹا مر گیا۔

بس یہاں آ کر ہمارے سیدھے سادے مسلمان بھائی مار کھا جاتے ہیں اور چل پڑتے ہیں فوٹو کاپی مشین والے کے پاس کاپیاں کروانے۔ یہی صداقت رہ گئی ہے اب تو۔

اور موجودہ دور میں جن کے پاس کمپیوٹر کی سہولت ہے دھڑ سے اپنی ایڈریس بُک کھولتے ہیں اور سبکو یہ پیغام بھیج دیتے ہیں۔ چلو جی چند سیکنڈ میں دین کے پھیلانے کا کام کر لیا۔

لا حول ولا قوۃ

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے۔
 
قصہ اور چیز ہے اور کاپیاں کرنے کی تاکید اور چیز ہے، عین ممکن ہے کہ کاپیاں تقسیم کرنے کی شرط کسی نے اپنی طرف سے عائد کردی ہو لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ کسی شیخ احمد صاحب کے ساتھ یہ واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا غیر منطقی سی بات لگتی ہے۔:)
 

dxbgraphics

محفلین
چند سال پہلے میرے ایک بہت ہی اچھے دوست نے ایک فوٹو کاپی حوالے کی کہ اس کی بیس کاپیاں تقسیم کر لیں۔ میں نے اسی وقت ان کی آنکھوں کےسامنے ان کا دیا وہا ورق پھاڑ کر آٹھ حصے کر ڈالا۔
اللہ بچائے مسلمانوں کو ایسی فضول چیزوں سے۔
 

dxbgraphics

محفلین
جب میں عمرے کی غرض سے سعودی گیا۔ چونکہ اکیلا گیا تھا تو ایک آدھ گھنٹے مدینے کی بس کے انتظار میں ادھر ہی سٹینڈ میں بھٹکتا رہا۔ ایک بک سٹینڈ پر کافی کتب ملیں جو کہ سعودی فرمانروا نے ہر زبان میں شائع کروارکھی ہیں جس میں شیخ احمد کے حوالے سے اس من گھڑت واقعے کی تردید کی گئی ہے۔
ایک طرح سے یہ نہ صرف من گھڑت واقعہ ہے بلکہ ایک شرمناک جھوٹ بھی ہے
 
سعودیوں کو کیا کسی نے خواب میں آکر بشارت دی ہے کہ یہ قصہ جھوٹا ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قصہ مشکوک ہے، یقین نہیں آتا وغیرہ وغیرہ۔ ۔ ۔لیکن جزم کے ساتھ یہ اعلان کرنا کہ یہ جھوٹا ہے اسکے لئیے یقینی علم چاہیے اور وہ انکے پاس ہے نہیں۔ ۔ ;)
 

زہیر

محفلین
اصل بات یہ ہے کہ ہم کسی بھی بات کی تحقیق سے پہلے اسے آگے پھیلانا شروع کردیتے ہیں اور دینی تعلیمات سے غافل ہیں حالانکہ قرآن وحدیث میں کسی بات کو سننے کے بعد آگے پہنچانے سے پہلے تحقیق کرنے کا حکم آیا ہے۔ اس کتاب میں جو عجیب چیز سامنے آئی وہ یہ کہ یہ بات آج کی نہیں بلکہ گزشتہ کم از کم 150 سال سے گردش کر رہی ہے اور اس وقت کے علماء نے بھی اس واقعہ کی تحقیق کی تھی۔ معلوم ہوا کہ مسجد نبوی میں اس نام کا کوئی بندہ ہی نہیں تھا۔ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کوئی گواہ نہیں ہے کسی معتبر شخص نے اس واقعہ کی گواہی نہیں دی ۔ محض ایک افسانہ ہے۔ باقی تفصیل کتاب میں مطالعہ کرلی جاے تو امید ہے کہ بات اور واضح ہو جائے۔ میں نے اس ویب سائٹ سے ایک ہی اصول سیکھا ہے کہ محض سنی سنائی باتوں کا نام دین نہی بلکہ دین میں ہر شے کی دلیل ہے۔
جب بھائی غزنوی اس بات کے خود ہی قائل ہیں کہ(عین ممکن ہے کہ کاپیاں تقسیم کرنے کی شرط کسی نے اپنی طرف سے عائد کردی ہو) تو پھر یہ ممکن کیوں نہیں کہ یہ من گھٹر بات ہو؟
 
اگر یہ بات درست ہے کہ اُس زمانے کے علماء نے مدینہ جاکر تصدیق کی تھی اور اس نام کے کوئی بزرگ نہ مل سکے جنہوں نے یہ دعوٰی کیا تھا، تب تو آپکی بات میں وزن ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوا، تب واللہ اعلم بالصواب کہنا زیادہ بہتر اپروچ ہے۔
 

زہیر

محفلین
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ شریعت میں خواب کی حیثیت کیا ہے ہمیں سب سے پہلے یہ بھی معلوم کرلینا چاہئے کہ جس کام کو نیکی سمجھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں اسکی حیثیت بھی کچھ ہے یا اپنا پیسہ ہی ضائع کر رہے ہیں۔۔۔۔ جیسے آج کل ایس ایم ایس چلتے ہیں کہ اگر یہ ایس ایم ایس آگے نہ بھیجا تو شدید نقصان ہوگا اور اگر بھیجا تو فائدہ ہوگا۔ اور ہم پڑھی لکھی عوام دبادب آگے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔مجھے تو لگتا ہے کہ موبائل کمپنیوں والے خود ہی ایسی رسالہ بناکے ہمیں بے وقوف بناتے ہیں اور ہم سے ہی کمائی کرتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
اس میں کیا شک ہے کہ ایسے رسالے انہی فون کمپنیوں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ایک قسم کے رسالے بھی انہی کی طرف سے ہوتے ہیں جن میں ہر قسم کے لطیفے اور مختلف مواقع پر مبارک بادوں کے پیغام۔
 
Top