جگر جو مسرتوں میں خلش نہیں، جو اذیتوں میں مزا نہیں- غزل

جو مسرتوں میں خلش نہیں، جو اذیتوں میں مزا نہیں
ترے حسن کا بهی قصور ہے، مرے عشق ہی کی خطا نہیں.
مرے جذب عشق پہ رحمتیں، مجھے بے بسی کا گلا نہیں
ترے جبر حسن کی خیر ہو، مرے اختیار میں کیا نہیں ؟
مرا ذوق بهی مرا شوق بهی، ہے بلند سطح عوام سے
ترا ہجر بهی ترا وصل بهی، مرے درد دل کی دوا نہیں
جسے میں بهی خود نہ بتا سکا، مرا راز دل ہے وہ راز دل
جسے غیر دوست سمجھ سکے ، مرے ساز میں وہ صدا نہیں
مرا نالہ ہوش ربا ہوگیا، مرا نغمہ روح فزا ہو کیوں؟
کہ چمن میں پهول تو ہیں وہی، مگر ان میں بوئے وفا نہیں
یہ طریق عہد ہے خوب تر، مگر آہ واعظ بے خبر !
اسے سازگار ہو زہد کیا ، جسے معصیت بهی روا نہیں
مرے درد میں یہ خلش کہاں، مرے سوز میں یہ تپش کہاں
کسی اور ہی کی پکار ہے، مری زندگی کی صدا نہیں
وہ ہزار دشمن جاں سہی ، مجھے غیر پهر بهی عزیز ہے
جسے خاک پا تری چهو گئی ، وہ برا بهی ہو تو برا نہیں
وہی ربط عشق وجمال ہے، ترا اور کچھ جو خیال ہے
یہ سمجھ، تجهی میں ہے کچھ کمی، یہ نہ کہہ کہ جنس وفا نہیں
وہی میں ہوں اور وہی انجمن، مگر آج ہے مرا حال کیا
یہ گمان ہے کہ حقیقتا کوئی اور تیرے سوا نہیں
مرے شعر میں ہیں نزاکتیں، مری نظم میں ہیں لطافتیں
مری فکر میں کہیں اے جگر ! ادب کثیف کی جا نہیں
" آتش گل" سے
 

طارق شاہ

محفلین

مِرا نالہ ہوشرُبا ہو کیا، مِرا نغمہ رُوح فزا ہو کیوں؟
کہ چمن میں پُهول تو ہیں وہی، مگر اِن میں بُوئے وفا نہیں


تشکر شیر کرنے پر
 
Top