مصطفیٰ زیدی جرمنی

غزل جی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 22, 2014

  1. غزل جی

    غزل جی محفلین

    مراسلے:
    234
    جرمنی

    میں نے کب جنگ کی وحشت کے قصیدے لکھے
    میں نے کب امن کے آہنگ سے انکار کیا
    میں نے تو اپنے سرِ دامنِ دل کو اب تک
    کبھی پُھولوں ، کبھی تاروں کا گنہگار کیا
    اے مری روحِ طرب میں نے ہر عَالم میں
    جب بھی تو آئی ترے پَیار کا اقرار کیا

    لیکن اس دیس کے آہنگِ گراں بار میں بھی
    وہی نغمہ ہے جو شب تاب کی تقدیر میں ہے
    میں نے زلفوں کے گھنے سائے میں سیکھی تھی جو بات
    وہی اس حلقہء بدنام کی زنجیر میں ہے
    کتنے خوابوں کے طلسمات کی جنّت ہے یہاں
    کون سا خواب ابھی پردہء تقدیر میں ہے
    خواب اس وقت کا جو وقت نہیں آسکتا
    خواب اس وقت کا جس وقت کو آنا ہوگا

    گیت جس میں اب لب و رخسار کے افسانے ہیں
    گیت جو خود بھی کبھی ایک فسانہ ہو گا !
    جس کو چھیڑیں گے مہکتے ہوئے ہونٹوں کے گلاب
    جس کو بندوق کے آہنگ پہ گانا ہوگا

    آگ کے دشت پڑے ، خُون کے صحرا آئے
    اب بھی لیکن وہی رفتارِ جواں ہے کہ جو تھی
    میونخ اب بھی ہر اک ہر اک عہد کا روشن وارث
    ہائیڈلبرگ و حکمت کی دوکاں ہے جو کہ تھی

    فرض کرتے ہیں تری مرگ وہی لوگ جنھیں
    خود نہ جینے کا سلیقہ ہے نہ مرنے کا شعور !
    تیرے ماتھے پہ نئے عہد نئے دن کی امنگ
    تیری آنکھوں میں چمکتے ہوئے مہتاب کا نور
    وَیگنر کا یہ سبک ساز یہ فولاد کے گیت
    تیرے سینے کی امنگیں تیرے بازو کا غرور
    ہم پیمبر تو نہیں ہیں ترے دیوانے ہیں
    اک ذرا آگ ہمیں بھی ملے اے شعلہء طور

    ( فرینکفرٹ )

    ( مصطفیٰ زیدی از مَوج مِری صدف صدف )
     
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جرمنی

    میں نے کب جنگ کی وحشت کے قصیدے لکھے
    میں نے کب امن کے آہنگ سے انکار کیا
    میں نے تو اپنے سرِ دامنِ دل کو اب تک
    کبھی پُھولوں ، کبھی تاروں کا گنہگار کیا
    اے مری روحِ طرب میں نے ہر عَالم میں
    جب بھی تو آئی ترے پَیار کا اقرار کیا

    لیکن اس دیس کے آہنگِ گراں بار میں بھی
    وہی نغمہ ہے جو شب تاب کی تقدیر میں ہے
    میں نے زلفوں کے گھنے سائے میں سیکھی تھی جو بات
    وہی اس حلقۂ بدنام کی زنجیر میں ہے
    کتنے خوابوں کے طلسمات کی جنّت ہے یہاں
    کون سا خواب ابھی پردۂ تقدیر میں ہے

    خواب اس وقت کا جو وقت نہیں آسکتا
    خواب اس وقت کا جس وقت کو آنا ہوگا
    گیت جس میں لب و رخسار کے افسانے ہیں
    گیت جو خود بھی کبھی ایک فسانہ ہو گا !
    جس کو چھیڑیں گے مہکتے ہوئے ہونٹوں کے گلاب
    جس کو بندوق کے آہنگ پہ گانا ہوگا

    آگ کے دشت پڑے ، خُون کے صحرا آئے
    اب بھی لیکن وہی رفتارِ جواں ہے کہ جو تھی
    میونخ اب بھی ہر اک عہد کا روشن وارث
    ہائیڈلبرگ و حکمت کی دوکاں ہے جو کہ تھی

    فرض کرتے ہیں تری مرگ وہی لوگ جنھیں
    خود نہ جینے کا سلیقہ ہے نہ مرنے کا شعور !
    تیرے ماتھے پہ نئے عہد نئے دن کی امنگ
    تیری آنکھوں میں چمکتے ہوئے مہتاب کا نور
    وَیگنر کا یہ سبک ساز، یہ فولاد کے گیت
    تیرے سینے کی امنگیں ترے بازو کا غرور
    ہم پیمبر تو نہیں ہیں ترے دیوانے ہیں
    اک ذرا آگ ہمیں بھی ملے اے شعلۂ طور

    ( فرینکفرٹ )

    ( مصطفیٰ زیدی از مَوج مِری صدف صدف )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر