عدم جب وہ میرے قریب ہوتا ہے - عبدالحمید عدم

جب وہ میرے قریب ہوتا ہے
وہ سماں کیا عجیب ہوتا ہے

ہاے بیچارگی پتنگے کی
کیسے قرباں غریب ہوتا ہے
غم کو دل سے لگا کے کیوں نہ رکھوں
یہ تو میرا حبیب ہوتا ہے
آپ کا اس میں کوئی دوش نہیں
اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے
دل میں آ کر تو جان من دیکھو
دل کا عالم عجیب ہوتا ہے
اے عدم درد مٹ ہی جائےگا
کیوں پریشاں طبیب ہوتا ہے
عبدالحمید عدم
 

طارق شاہ

محفلین
تشکّر وقاص صاحب شیئر کرنے کا
یہ شاید عدم صاحب کے دور اوائل کی غزل ہے
کیونکہ اس میں وہ معنی آفرینی نہیں نظر آتی جو عدم کی
اب تک پڑھی غزلوں میں دیکھا ہے، یا مجھےہی، یوں محسوس ہوا
خیر شکریہ ایک بار پھر سے
بہت خوش رہیں
 
Top