جانتا ہوں مگر نہیں معلوم

چوٹ آئی کدھر...نہیں معلوم
چھوڑ دے چارہ گر...نہیں معلوم

تم پتہ پوچھتے ہو اوروں کا
ہم کو اپنا ہی گھر نہیں معلوم

تیری یادوں کی چھت ہی باقی ہے
کوئی دیوار و در نہیں معلوم

راز ہستی وہ راز ہے ، گویا
جانتا ہوں مگر نہیں معلوم

آج تو ہنس کے ہاں کہا اس نے
کب وہ جائے مکر... نہیں معلوم

جرم انکار کی سزا دیں وہ
یا کریں در گرز...نہیں معلوم

ناصحا چپ رہو تو بہتر ہے
میرا غصہ اگر نہیں معلوم
 

الف عین

لائبریرین
واہ اچھی غزل ہے، اصلاح کی نظر سے صرف ایک شعر میں ردیف کا مناسب استعمال نہیں محسوس ہوتا
تیری یادوں کی چھت ہی باقی ہے
کوئی دیوار و در نہیں معلوم
مطلع کئ دوسرے مصرع میں بھی ’نہیں معلوم‘ غیر ضروری ہے لیکن مطلع ہونے کی وجہ سے معافی دی جا سکتی ہے
 

عظیم

محفلین
واہ اچھی غزل ہے، اصلاح کی نظر سے صرف ایک شعر میں ردیف کا مناسب استعمال نہیں محسوس ہوتا
تیری یادوں کی چھت ہی باقی ہے
کوئی دیوار و در نہیں معلوم
مطلع کئ دوسرے مصرع میں بھی ’نہیں معلوم‘ غیر ضروری ہے لیکن مطلع ہونے کی وجہ سے معافی دی جا سکتی ہے

بابا کیا یہ شعر ایسے درست مانا جا سکتا ہے ؟
تیری یادوں کی چهت تو باقی ہے
اور دیوار و در نہیں معلوم
 

الف عین

لائبریرین
نہیں عظیم، میرا اعتراض ’معلوم‘ پر ہے، ’موجود‘ تو درست ہو سکتا ہے، ’نہیں معلوم‘ یں یوں تو کہا جا سکتا ہے کہ دیوار و در ہیں یا نہیں، یہ بات نہیں معلوم۔ لیکن محض دیوار و در نہیں معلوم؟؟
 

الف عین

لائبریرین
تیری یادوں کی چھت ہی باقی ہے
کوئی دیوار و در نہیں معلوم
کو یوں کیا جا سکتا ہے
تیری یادوں کی چھت ہی باقی ہے
ہیں کہیں بام و در ؟ ۔۔۔نہیں معلوم
 
Top