جاتے ہوئے ادھر بھی وہ جانا نہ ہوگیا۔ شیخ ظہور الدین حاتم

جاتے ہوئے ادھر بھی وہ جانا نہ ہوگیا
آئینہ خانہ دل کا پری خانہ ہوگیا

لکھتا تھا سوزِ دل کا میں اس شمع رو کے تئیں
کاغذ بھی تاوکھا پر پروانہ ہوگیا

زنجیر زلف کی ترے حلقوں میں یک بیک
دل سا سیانہ دیکھتے دیوانہ ہوگیا

ایسا گرا میں اس کی نظر سے کہ بعدِ مرگ
میرے کبھو مزار تلک آ نہ ہوگیا

اس ناقدر شناس کی خدمت میں دوستاں
بدلا مری وفا کا جریمانہ ہوگیا

حاتم کا دل تھا شیشہ کی مانند بزم میں
ساقی کے فیضِ دست سے پیمانہ ہوگیا

شیخ ظہور الدین حاتم
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
واہ خوبصورت انتخاب۔
کاغذ بھی تاو¿ کھا پر پروانہ ہوگیا
اس مصرع میں ٹائپو آ گیا ہے۔ اسے درست کر دیجیے گا۔

اس ناقدر شناس کی خدمت میں دوستاں
اگر کوئی عام شاعر عزت و توقیر یا اہمیت و حیثیت کے معنوں میں قدر کو "قَدَر" کو باندھتا تو میں با سہولت اسے ایک غلطی قرار دے کر گزر جاتا لیکن یہاں حاتم نے باندھا ہے اور حاتم وہ جو سودا کے استاد تھے۔
شش و پنج میں ہوں کہ کیا قدَر (دال پر زبر کے ساتھ) ان معنوں میں باندھنا جائز ہے یا حاتم نے ضرورتِ شعری کے تحت باندھا۔
محمد وارث ، الف عین
 

طارق شاہ

محفلین

شیخ ظہور الدین حاتم

جاتے ہُوئے اُدھر بھی، وہ جانا، نہ ہوگیا
آئینہ خانہ دِل کا پَری خانہ ہوگیا

لِکھتا تھا سوز دِل کا میں اُس شمع رُو تئیں
کاغذ بھی تاؤ کھا پَرِ پروانہ ہوگیا

زنجیر زُلف کی تِرے حلقوں میں یک بیک
دِل سا سِیانا دیکھتے دِیوانہ ہوگیا

ایسا گِرا میں اُس کی نظر سے کہ، بعدِ مرگ !
میرے کبھو مزار تک آنا، نہ ہوگیا

اُس قدرناشناس کی خِدمت میں دوستاں
بدلا مِری وفا کا جریمانہ ہوگیا

حاتم کا دِل تھا شِیشہ کی مانند بزْم میں
ساقی کے فیضِ دست سے پیمانہ ہوگیا

شیخ ظہور الدین حاتم
 
Top