تیرے دوانے طالبِ منزل نہیں رہے

محمد امین

لائبریرین
دنیا میں رہ کے عشق سے غافل نہیں رہے
تیرے دوانے طالبِ منزل نہیں رہے

تیرا خیال ہم کو کہیں اور لے گیا
بیٹھے بٹھائے پھر سرِ محفل نہیں رہے

آنکھوں میں نیم شب کا خمار ایسا بس گیا
سورج کو دیکھنے کے بھی قابل نہیں رہے

غم خواری بھی جاں سوز زمانے تری بھلی
پتھر بھی آئنے کے مقابل نہیں رہے

اشکوں کی موج میں مرا گھر بار بہہ گیا
قائم سمندروں کے سواحل نہیں رہے


الف عین چاچو جی، محترم محمد یعقوب آسی توجہ فرمائیں۔۔
 
مجموعی طور پر اچھی کوشش ہے۔ کچھ امور البتہ توجہ طلب ہیں، اقتباس میں عرض کئے دیتا ہوں:

دنیا میں رہ کے عشق سے غافل نہیں رہے
تیرے دوانے طالبِ منزل نہیں رہے
اچھا شعربن سکتا ہے، اسے بہتر کیجئے۔ جب ہم تیرے دیوانے کہتے ہیں تو مخاطب منزل ٹھہرا، پھر اُس کا انکار کیسے؟

تیرا خیال ہم کو کہیں اور لے گیا
بیٹھے بٹھائے پھر سرِ محفل نہیں رہے
ہم کو کہیں ۔۔ اسے ادا کرنے میں ثقالت کا احساس ہوتا ہے "تیرا خیال اور کہیں لے گیا ہمیں" یا " ۔۔۔ جانے کہاں لے گیا ہمیں"؟ دیکھ لیجئے گا۔
بیٹھے بٹھائے کے معانی محاورے میں چلے گئے؛ بیٹھے نہیں رہے والی بات نہ بن سکی۔ توجہ فرمائیے گا۔


آنکھوں میں نیم شب کا خمار ایسا بس گیا
سورج کو دیکھنے کے بھی قابل نہیں رہے
مناسب ہے۔

غم خواری بھی جاں سوز زمانے تری بھلی
پتھر بھی آئنے کے مقابل نہیں رہے
الف، واو، یاے، ہاے کے اخفاء کے جواز سے قطع نظر یہاں پہلے مصرعے میں نشان زدہ لفظوں کی ہیئت صوتی کم از کم مجھے تو گراں گزرتی ہے، آپ جانئے!

اشکوں کی موج میں مرا گھر بار بہہ گیا
قائم سمندروں کے سواحل نہیں رہے
اس شعر کے علامتی نظام میں گھر بار فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ اشک، سمندر (آنکھیں)، ساحل، موج؛ سب ایک قلبی عالم کا نظام بنا رہے ہیں، اس کی نسبت سے یہاں خوشی، سکون، قرار وغیرہ مذکور ہو تو اچھا لگے گا۔

بہت آداب
 

محمد امین

لائبریرین
مجموعی طور پر اچھی کوشش ہے۔ کچھ امور البتہ توجہ طلب ہیں، اقتباس میں عرض کئے دیتا ہوں:



بہت آداب

جزاک اللہ مکرمی۔ بہت سی باتوں پر واقعی میں نے دھیان نہیں دیا تھا۔ وقت ملا تو نوک پلک سنواروں گا ان شاء اللہ۔۔
 
Top