توبۃ النصوح صفحہ نمبر 101 تا 150

قیصرانی نے 'ناول' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 24, 2008

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بٹیریں، مرغ، تمام مشاغل لایعنی کے ترک کا عہد واثق کرو۔

    بیٹا: یہ تو سراسر میری منفعت کی بات ہے اور میں اس میں کسی طرح کا انکار کروں تو آپ کی نافرمانی، اپنی خرابی خدا کا گناہ، دنیا کی بدنامی، عاقبت کی رسوائی، کوئی پہلو بھی تو اچھا نہیں اور اگر بالفرض آپ کوئی ایسی بات بھی فرماتے جس میں میرا نقصان ہوتا، تاہم مجھ کو سوائے تعمیل ارشاد کیا چارہ تھا۔ بندہ اور خدا، غلام اور مالک، رعیت اور بادشاہ، نوکر اور آقا، بیوی اور شوہر، شاگرد اور استاد، بیٹا اور باپ، میں تو جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ ایک ہی طرح کی نسبتیں ہیں اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ میرا طرز زندگی آئندہ ایسا ہی ہوگا جیسا آپ کو منظور ہے۔

    باپ: بارک اللہ و جزاک اللہ۔ بس تم نے آج مجھ کو مطمئن کر دیا۔ خدا تم کو دین اور دنیا دونوں میں سرخرو رکھے۔ اچھا اب جاؤ اپنا کام کرو۔ ذرا اپنے بڑے بھائی کو میرے پاس بھیج دینا۔

    بیٹا: شاید آپ یہی گفتگو ان سے کرنی چاہتے ہیں۔

    باپ: ضرور۔

    بیٹا: اگر بالمشافہ ان سے گفتگو نہ ہوتی تو میرے نزدیک بہتر تھا۔

    باپ: تمہارا خوف بے جا نہیں۔ میں کئی کئی دن سے اس بات پر غور کر رہا ہوں۔ آخر کار یہی تجویز ٹھہری کہ ایک دفعہ مجھ کو رودررواتمام حجت کر دینا ضرور ہے۔

    فصل ہفتم

    نصوح نے بڑے بیٹے کلیم کو بلایا اور ہر چند فہمیدہ
    اور علیم دونوں نے سمجھایا مگر وہ نہ آیا پر نہ آیا

    غرض علیم رخصت ہو کر مردانے مکان میں گیا تو میاں کلیم کو پیام طلب جا سنایا۔

    کلیم: کیا ہے۔ خیریت تو ہے؟ آج کل تو ہم لوگوں پر بڑی عنایت ہے۔

    علیم: بھلا کبھی عنایت نہیں بھی تھی؟

    کلیم: اس کو کوئی سلیم سے پوچھے۔

    اتنے میں سلیم بھی دروازے سے نمودار ہوا۔ مگر اس سے پہلے وہ اپنا سر منڈوا چکا تھا اور اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو بڑے بھائی جان دیکھ لیں، چاہتا تھا کہ چپکے چپکے دبے پاؤں گھر میں گھس جائے۔ لیکن جوں ہی بیچارے نے گھر کے اندر قدم رکھا کہ کلیم نے آواز دی۔ سلیم تو بھائی کی آواز سن کر کانپ اٹھا اور سمجھا کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ مگر منجھلے بھائی کو بیٹھا ہوا دیکھ کر کسی قدر دم میں آیا اور پاس آ کر بے پوچھے کہنے لگا کہ ابا جان کے حکم سے میں نے آج بال منڈا دیے۔

    بڑا بھائی (منجھلے کی طرف مخاطب ہو کر): "دیکھئے صورت بیس حالش مپرس۔" ایک شفقت پدری تو یہ ہے کہ بیچارے کی اچھی خاصی صورت کو لے کر بگاڑ دیا اور برسوں کی کمائی خاک میں ملوا دی۔

    ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
    ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنانا آتی ہے

    کیوں سلیم، تمہارا دل تو بالوں کے واسطے بہت کڑھا ہوگا؟

    چھوٹا بھائی: میں تو خود ایک مدت سے بالوں کو منڈوا دینے کی فکر میں تھا۔ بلکہ شاید آپ کو یاد ہو، ایک مرتبہ سر کھول کر حجام کے روبرو بیٹھ گیا تھا۔ آپ خفا ہونے لگے تو اٹھ کھڑا ہوا۔

    بڑا بھائی: آھا! اب مجھ کو یاد آیا کہ تمہارے ان چار یاروں نے جن کو میں مکر و فریب کے عناصر اربعہ سمجھتا ہوں، تم کو بہکا دیا تھا۔ بھلا ان کوڑھ مغزوں کو کالج میں پڑھنے سے فائدہ؟

    صحبت عیسٰی بنائے خرد کو انسان کس طرح
    تربیت سے ہے واقعی نا اہل دانا کب بنے

    چھوٹا بھائی: آپ ناحق ان بیچاروں کو برا کہتے ہیں۔ وہی بات تو ابا جان نے بھی کہی۔

    بڑا بھائی: ابا جان نے ابھی بیماری سے اٹھ کر کہی یا کبھی پہلے بھی کہی تھی۔

    چھوٹا بھائی: نہیں پہلے تو کبھی کچھ نہ کہا۔

    بڑا بھائی: پھر سمجھ لو کہ ابا جان کو خلل دماغ ہے۔ میں نے تو شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ ڈاکٹر نے جو اسہال بند کر نے کی دوا دی ہے، ابخرے دماغ کو چڑھ گئی ہیں۔

    منجھلا بھائی: یہ کیسی بات آ پ کہتے ہیں۔ ابھی میں ابا جان کے پاس سے چلا آتا ہوں۔ دو گھنٹے تک متواتر مجھ سے گفتگو کرتے رہے۔ میرے نزدیک تو ان کے خیالات پہلے سے کہیں عمدہ اور معقول ہو گئے ہیں۔

    بڑا بھائی: سنتا ہوں کہ ان دنوں نماز بہت پڑھا کرتے ہیں۔

    منجھلا بھائی: تو کیا اس کو آپ نے خلل دماغ قرار دیا۔

    بڑا بھائی: کیا خلل دماغ کے سر میں سینگ لگے ہوتے ہیں۔بیمار ہو کر اٹھے تھے، کوئی بڑا بھاری جلسہ کرتے کہ شہر میں نام ہوتا۔ اٹھے بھی تو اونگھتے ہوئے۔ دو چار مرتبہ میں نے ان کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ نوری جولاہا تو امام بنتا ہے اور محلے کے سقے، حجام، کنجڑے، مسجد کے مسافر، اس قسم کے لوگ اس کے مقتدی ہوتے ہیں اور ان ہی میں یہ حضرت بھی جا کر شریک نماز ہوتے ہیں۔ بھائی میں تو تم سے سچ کہوں، یہ دیکھ کر مجھ کو اس قدر شرم آتی ہے کہ میں نے ادھر کا راستہ چلنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ ملا نے، جو خدا کی قدرت، ہمارے ابا جان کے ہم نشین بنے ہیں، اس قدر تو ذلیل اوقات ہیں کہ دعوت کے لقموں اور مسجد کی روٹیوں پر تو ان کی گذر ہے مگر مغرور بھی پرلے ہی سرے کے ہوتے ہیں۔ کبھی راہ میں مڈبھیڑ ہو جاتی ہے، تو خیر یہ تو مجال نہیں کہ سلام نہ کریں لیکن اتنے بڑے ٹرے کی بندگی، نہ آداب، نہ تسلیم، دور ہی سے السلام علیکم کا پتھر کھینچ مارتے ہیں۔ ہاتھ یہ نہیں اٹھاتے، سر یہ نہیں جھکاتے اور اس پر طرہ یہ کہ سو قدم سے مصافحے کو ہاتھ پھیلا کر لپکتے ہیں۔

    دراز دستی ایں کوتہ آستیناں بیں

    سلیم! تم کو صرف سر ہی منڈانے کا حکم تھا یا نماز کی بھی ہدایت ہوئی ہے۔

    چھوٹا بھائی: جناب نماز کے لئے تو سخت تاکید کی ہے کہ خبردار کسی وقت کی قضا نہ ہونے پائے اور اس کے علاوہ کنکوا اڑانا، شطرنج کھیلنا، جانوروں کی لڑائی میں شریک ہونا، جھوٹ بولنا، قسم کھانا، بے ہودہ بات بکنا، بڑے لڑکوں میں بیٹھنا، ان سب باتوں سے منع کیا ہے۔

    بڑا بھائی: کیوں نہیں تم سے ایک ہی بات کہہ دی کہ مر رہو۔

    منجھلا بھائی: (یہ جملہ سن کر بے اختیار ہنس پڑا اور کہنے لگا) کیا آپ کے نزدیک ان شرطون کی تعمیل کرنا اور مرنا دونوں برابر ہیں؟

    بڑا بھائی: جب تمام کھیلوں کی ممانعت اور لوگوں سے ملنے اور بات کرنے کی بندی ہوئی تو تم ہی انصاف کرو کہ ایسے جینے اور مرنے میں کیا امتیاز ہو سکتا ہے۔

    زندگی زندہ دلی کا ہے نام
    مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

    منجھلا بھائی: میں تو سمجھتا ہوں کہ ہماری بالفعل کی زندگی کی نسبت اس طرح کی زندگی جو ابا جان تعلیم کرتے ہیں، روحی مسرت زیادہ ہے۔ اگرچہ میں کھیل کود کی چیزوں میں خصوصاً ان دنوں کم مصروف ہوتا ہوں، اس واسطے کہ مدرسے کے کام سے فرصت نہیں ملتی مگر جتنا مصروف ہوتا ہوں، اس سے سوائے کوفت اور کبیدگی کے میں تو کوئی نتیجہ نہیں دیکھتا۔ رہا یار دوستوں کا مشغلہ، سو میں ان میں سے کس کو دوست نہیں سمجھتا۔ بھلا کوئی سے ایسے دو بتائیے جن سے ہر روز تو تو میں میں کی نوبت نہ پہنچتی ہو۔

    بڑا بھائی: پھر بھی یہ لوگ ان حجاموں، کنجڑوں اور مسجد کے مسافروں سے بہتر ہیں جو نمازیں پڑھ پڑھ کر شریف بننا چاہتے ہیں۔

    زنہار ازاں قوم نہ باشی کہ فریبند
    حق را بسجودے و نبی رابہ دردے

    منجھلا بھائی: اگر ایسے شریف ہوتے تو جیسے ہم اور ہمارے یار دوست ہیں تو میرے نزدیک ایسی شرافت پر کوئی معقول آدمی ناز نہیں کر سکتا۔ کون سی بے ہودگی ہے جو ہم لوگ نہیں کرتے۔ خصوصاً جب کہ اکٹھے ہوں۔ کون سی بے تہذیبی ہے جس کے مرتکب ہم نہیں ہوتے، خاص کر اس وقت کہ ایک دوسرے سے ملیں۔ دھول دھپا، لام کاف، چھیڑ چھاڑ، مار کٹائی، دھینگا مشتی، ہاتھا پائی، کس خاص چیز کا نام لوں۔ ایک جلسہ اور دنیا بھر کی تفضیح، ایک مجمع اور زمانے بھر کی رسوائی۔ نام کے شریف اور پاجیوں کی سی عادت، کہنے کو بھلے مانس اور بازاریوں جیسی طبعیت۔

    بڑا بھائی: چلو خیر معلوم ہوتا ہے کہ تم تو یعت کرنے کو تیار بیٹھے ہو۔

    منجھلا بھائی: تیار کیسا ابھی تو بیعت کئے چلا آ رہا ہوں۔

    بڑا بھائی: سلیم تم اپنی کہو۔


    چھوٹا بھائی: جناب، میں ان سے پہلے منڈ چکا ہوں۔

    بڑا بھائی: تمہارا منڈنا سند نہیں۔ تمہار امعاملہ،

    ورنہ ستانی بہ ستم می رسد

    کا معاملہ ہے۔ مگر (منجھلے کی طرف اشارہ کر کے) ان کو توڑا تو انہوں نے اپنے نزدیک بڑا کفر توڑا۔ رہ گیا اکیلا میں۔

    منجھلا بھائی: آپ اسی وقت تک اکیلے ہیں کہ ابا جان تک نہیں پہنچے۔ گئے اور داخل حلقہ ہوئے۔

    بڑا بھائی: اجی بس اس کو دل سے دور رکھیں۔

    یاں وہ نشے نہیں جنہیں ترشی اتار دے

    منجھلا بھائی: ابا جان سے ملنا شرط ہے۔

    بڑا بھائی: آخر کریں گے کیا؟

    منجھلا بھائی: سمجھائیں گے۔

    بڑا بھائی:

    میں نہ سمجھوں تو بھلا کیا کوئی سمجھائے مجھے

    منجھلا بھائی: وہ باتیں ہی اس طرح کی کہتے ہیں کہ لوہے کو پگھلائیں، پتھر کو موم بنائیں۔

    بڑا بھائی: تو بس میں بھی جا چکا۔

    منجھلا بھائی: یہ بات تو آپ کی بالکل نا مناسب ہے۔

    بڑا بھائی: ہو

    "رند عالم سوز را با مصلحت بینی چہ کار"

    منجھلا بھائی: لیکن شاید ابا جان نے آپ کو کچھ اور ہی بات کے لئے بلایا ہو۔

    بڑا بھائی: اجی تانت باجی راگ پایا۔ اس کے سوا اور کوئی بات نہیں۔

    منجھلا بھائی: اگر ابا جان نے دوبارہ بلوا بھیجا؟

    بڑا بھائی: میں جانوں کہ ضرور ان کو خلل دماغ ہے۔

    منجھلا بھائی: والد، جیسے میرے ویسے آپ کے۔ آپ کو اختیار ہے ان کی شان میں جو چاہیں سو کہیں۔ لیکن اتنا میں آپ سے کہے دیتا ہوں کہ اس اصرار کا انجام اچھا نہیں۔

    بڑا بھائی: اتنا میں بھی سمجھتا ہوں لیکن میں اس انجام کی کچھ پروا نہیں کرتا۔

    منجھلا بھائی: لیکن اس بگاڑ میں آپ فائدہ کیا سمجھتے ہیں؟

    بڑا بھائی: اور میرا نقصان ہی کیا ہے؟

    منجھلا بھائی: اگر اور کچھ نقصان نہ بھی ہو تو ابا جان کی ناخوشی کیا کچھ تھوڑا نقصان ہے؟

    بڑا بھائی:

    "رنج و آرزدگی غیر سبب راچہ علاج"

    منجھلا بھائی: اول تو ابھی آرزدگی کی نوبت نہیں آئی لیکن اگر خدانخواستہ آئے گی تو لوگت اس کو بے سبب نہیں کہیں گے اور سبب کی ابتدا آپ کی طرف سے ہوتی ہے کہ انہوں نے بلایا ہے اور آپ نہیں جاتے۔ بھلا دنیا میں کوئی باپ ایسا ہوگا کہ فرزند اس کی نافرمانی کرے اور وہ ناخوش نہ ہو۔

    بڑا بھائی: ان کو میرے افعال سے بحث کیا اور میرے اعمال سے تعرض کیوں؟

    منجھلا بھائی: اول تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ آپ سے کیا کہیں گے۔ لیکن مانا کہ وہی کہیں جو مجھ سے اور سلیم سے کہا، تو کیا ان کو نصیحت کا اختیار اور ہدایت کا منصب نہیں ہے؟

    بڑا بھائی: ہے، لیکن حمیدہ پر، سلیم پر اور تم پر، کیوں کہ تم لوگ بہ طوع خاطر ان کی نصیحت سننی چاہتے ہو۔

    منجھلا بھائی: کیوں؟ جیسے ہم ان کے فرزند ویسے آپ۔

    بڑا بھائی: میں فرزند کبھی تھا، اب سینگ کٹا کر بچھڑوں میں ملنا میرے لئے عار ہے اور میں اپنے تئیں ان کی حکومت سے مستثنٰی اور ان کے اختیارات سے آزاد سمجھتا ہوں۔

    منجھلا بھائی: لیکن شریفوں میں یہ دستور نہیں ہے کہ اولاد بڑی ہو جائے تو ماں باپ کا ادب و لحاظ اٹھا دے۔ میں دیکھتا تھا کہ ابا جان اس قدر جد مرحوم کا پاس کرتے تھے کہ ان کے سامنے حقہ پینا کیسا، پان کھانے میں بھی ان کو تامل ہوتا تھا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا؟

    بڑا بھائی: لیکن میں نے بھی اس وقت تک ابا جان کو الٹ کر جواب نہیں دیا۔

    منجھلا بھائی: درست ہے لیکن یا بہ آن شورا شوری یا بہ ایں بے نمکی؟

    بڑا بھائی: تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔ اب بھی اگر ابا جان میرے حال پر تعرض نہ کریں تو میں کسی طرح کی نافرمانی یا گستاخی کرنی نہیں چاہتا۔

    منجھلا بھائی: تو اس صورت میں کچھ آپ کی اطاعت بھی محمود نہیں ہے۔

    بڑا بھائی: میں مدح سے باز آیا۔ مجھ کو میرے حال پر رہنے دیں اور میرے نیک و بد سے معترض نہ ہوں۔

    رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
    تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

    منجھلا بھائی: اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ ان سے قطع تعلق کر چکے۔

    بڑا بھائی: کیا ضرور ہے کہ جب میں پھر لڑکوں کی طرح مکتب میں پڑھوں اور تب ہی بیٹا کہلاؤں، ورنہ فرزندی سے عاق کیا جاؤں؟

    منجھلا بھائی: کوئی آپ سے مکتب میں پڑھنے کے لئے نہیں کہتا اور یہ بھی امید نہیں ہے کہ ابا جان آپ کی بڑائی کا پاس نہ کریں۔

    بڑا بھائی: جب کہ مجھ کو اپنا نیک و بد اور نفع و نقصان میں امتیاز کی عقل ہے تو مجھ سے یہ کہنا کہ یہ کرو اور یہ مت کرو گویا مجھ کو بدتمیز لڑکا بنانا ہے۔

    منجھلا بھائی: کیا انسان کی رائے غلطی نہیں کرتی؟

    بڑا بھائی: ایسا احتمال ان کی رائے پر بھی ہو سکتا ہے۔

    منجھلا بھائی: تو کیوں نہیں آپ انہی سے جا کر گفتگو کرتے کہ بحث ہو ہوا کر ایک بات قرار پا جائے۔

    بڑا بھائی: مجھ کو گفتگو کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔

    ہر کسے مصلحت خویش نکومی داند

    منجھلا بھائی: انہی کی ضرورت سہی اور جب کہ آپ کو اپنی رائے پر وثوق ہے پھر آپ بالمشافہ گفتگو کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟

    بڑا بھائی: دنیا میں کوئی مباحثہ طے ہوا ہے جو یہ ہوگا۔

    منجھلا بھائی: ہٹ دھرمی اور تعصب اور سخن پروری نہ ہو تو پھر ہر بحث کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

    بڑا بھائی: ہمارے ابا جان کو بھی ایک بات کی زڑ لگ جاتی ہے۔ اب نماز روزے کا خیال آ گیا ہے تو بس اسی کی دھن ہے۔ چند روز بعد دیکھ لینا، وہی ابا جان ہیں وہی ہم ہیں اور وہی کھیل تماشے ہیں۔

    منجھلا بھائی: آپ چوں کہ مجھ سے بڑے ہیں، بے شک زیادہ واقفیت رکھتے ہیں لیکن میں ابا جان کے مزاج سے نا آشنا نہیں ہوں۔ اصلاح خاندان کا ان کو تہہ دل سے خیال ہے اور اس خصوص میں ان کو ایک اہتمام خاص ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کا ارادہ متزلزل اور عزم ناپائیدار ہو اور آپ کے بارے میں جو کچھ ان کو منظور ہو، مگر آپ کے سوا، میں تو گھر بھر میں کسی کو نہیں دیکھتا کہ وہ گھر میں رہے اور اپنا پرانا ڈھرا نہ چھوڑے۔

    بڑا بھائی: ذرا اماں جان سے اور مجھ سے دو دو باتیں ہو جائیں تو تم کو ارادے کا استحکام اور عزم کا استقلال خود بہ خود معلوم ہو جائے گا۔

    چھوٹا بھائی: امان جان تو آج بڑی خفا بیٹھی ہیں۔

    بڑا بھائی: کیوں؟

    چھوٹا بھائی: آپ کو نہیں معلوم، آپا جان سے اور ان سے آج بڑی لڑائی ہوئی۔

    بڑا بھائی: کس بات پر؟

    چھوٹا بھائی: آپ اجان، لڑکا حمیدہ کو دے کر ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔ حمیدہ، لڑکے کو بٹھا کر نماز پڑھنے لگی۔ آپا جان نے نماز پڑھتی کو دھکیل دیا۔ اس کی ناک میں تخت کی کیل لگ گئی۔ ڈھیر سا خون نکلا۔ اسی پر تکرار ہونے لگی۔ آپا جان نے کئی مرتبہ، توبہ توبہ، نماز کو برا کہا۔ اماں جان نے بار بار منع کیا، نہ مانا۔ آخر اماں جان نے تھپڑ کھینچ مارا۔

    بڑا بھائی: سچ کہو۔

    چھوٹا بھائی: آپ چل کر دیکھ لیجئے۔ آپا جان کوٹھری میں پڑی رو رہی ہیں۔ صبح سے کھانا نہیں کھایا۔

    منجھلا بھائی: واقعی کچھ لڑائی تو ضرور ہوئی ہے۔ میں جو ابا جان کے پاس گیا تو آتے جاتے سب کو چپ دیکھا اور سمجھا کہ بے سبب نہیں ہے۔

    بڑا بھائی: کہیں گھر بھر نے متوالی کودوں تو نہیں کھا لی؟ ابھی سے جہاد بھی شروع ہو گیا۔ حمیدہ کا نماز پڑھنا دیکھو اور ذرا سی بات پر بے چاری نعیمہ کے مار کھانے پر خیال کرو۔

    منجھلا بھائی: میرے نزدیک تو ان میں کوئی بات بھی تعجب کی نہیں۔ حمیدہ نے نماز پڑھی تو کیا کمال کیا۔ باتیں تو بڑی بوڑھیوں کی سی کرتی ہے۔

    بڑا بھائی: تو کیا ضرور ہے کہ باتیں بڑی بوڑھیوں کی سی کرے تو نماز بھی بوڑھیوں کی سی پڑھے۔ اس کی عمر گڑیاں کھیلنے اور ہنڈ کلھیاں پکانے کی ہے، نہ زہد و مراقبے کی۔

    منجھلا بھائی: کیا یہ ایسی مشکل بات ہے کہ حمیدہ اس کو نہیں سمجھ سکتی۔

    بڑا بھائی: مار مار کر سمجھایا جائے تو شاید صدرہ اور سمس بازغہ کو بھی کہہ دے گی کہ ہاں سمجھ گئی۔

    منجھلا بھائی: لیکن اس کو تو مار نہیں پٹی۔

    بڑا بھائی: ایک کو پٹی تو گویا سب ہی کو پٹی۔ جب نعیمہ ہی کو اماں جان نے تھپڑ کھینچ مارا تو اب کس کی عزت رہ گئی۔ بڑی بیٹی، بیاہی ہوئی، صاحب اولا دکو مارنا، یہ شرافت دین دارانہ ہے۔

    نے کعبے نے دیر کے قابل
    مذہب ان کا سیر کے قابل

    سلام ہے ایسے دین پر کہ انسان اپنے آپے سے باہر ہو جائے اور دنیا کے نیک و بد پر کچھ نظر نہ کرے۔ آخر یہ خبر ممکن نہیں کہ اس کے سسرال نہ پہنچے۔ سمدھیانے والے کیا کہیں گے۔ غیرت ہو تو گھر بھر چلو بھر پانی میں ڈوب مریں حیا ہو تو کنبے میں منہ نہ دکھائیں۔ اسی پر تم مجھ کو ابا جان کے پاس جانے کی رائے دیتے ہو۔ اگر کہیں مجھ پر بھی ایسا ہی دست شفقت پھر دیا تو پھر،

    ایں منم کارند میان خاک و خوں بینی سرے

    اور مجھ کو نعیمہ کے جاں بر ہونے کی بھی امید نہیں

    سن لیجیو کہ آج اگر ہے تو کل نہیں

    منجھلا بھائی: اس بات کا مجھ کو بھی تعجب ہے۔ لیکن جب تک اماں جان کے منہ سے کیفیت نہ سن لو، میں نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے بے جا کیا یا بجا کیا۔

    بڑا بھائی: تمہارے ساتھ یہ معاملہ ہوا تھا اور پھر تم بے جا اور بجا کا تردد رکھتے تو میں تم کو خلف الرشید اور فرزند سعادت مند جانتا۔

    جس پہ بیتی ہو یہ وہی جانے
    جو کہ بے درد ہو وہ کیا جانے

    منجھلا بھائی: شاید وقت پر طبیعت کا حال دگرگوں ہو جائے تو خبر نہیں، ورنہ میں تو ماں باپ کی تادیب کو موجب بے حرمتی نہیں سمجھتا۔

    بڑا بھائی: شاید ایسی ہی باتوں نے ان کو دلیر کر دیا ہے

    منجھلا بھائی: جس کو خدا ماں باپ بناتا ہے تو اس کو اتنی بات سمجھنے کی عقل بھی دیتا ہے کہ اولاد پر اس کو کیسے کیسے اختیار حاصل ہیں۔

    بڑا بھائی: غرض تمہارے نزدیک ماں باپ کو اختیا رہے کہ اولاد گو بڑی بھی ہو جائے مگر ان کو بے تمیز بچوں کی طرح ماریں پیٹیں تو کچھ الزام نہیں۔

    منجھلا بھائی: مجھ سے فتوٰی طلب نہیں ہے کہ ایک عام رائے دوں۔ البتہ اپنے گھر کے اس خاص معاملے میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اماں جان نے جب بہت ہی ضرورت سمجھی ہوگی تو آپا جان پر ہاتھ اٹھایا ہوگا اور فرض کیا کہ اماں جان کی زیادتی سہی، تو کیا ایک طمانچے کے مارنے سے ان کو عمر بھر کی شفتقیں اکارت اور سال ہا سال کی نیکی برباد

    آں را کہ بجائے تست ہر دم کرمے
    عذرش بنہ ارکند بہ عمرے ستمے

    اب بھی آپا جان کی محبت اماں جان کو ہوگی، مجھ کو اور آپ کو اس کا ایک شمہ تو ہولے

    بڑا بھائی: غرض جو کچھ ہو:

    میرے وحشت خانے میں جوش و جنوں کی دھوم ہے
    عافیت مقصود اور آسودگی معدوم ہے

    بھائی بھائی یہی باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں رسولن نامی لونڈی دوڑی آئی اور علیم سے کہا کہ میاں پوچھتے ہیں، میرے بات کا جواب تم نے ہست نیست کچھ نہیں دیا۔

    رسولن کو تو علیم نے یہ کہہ کر رخصت کیا کہ تو چل کر کہہ ابھی آتے ہیں اور بڑے بھائی سے کہا کہ ابا جان آپ کے منتظر بیٹھے ہیں، جائیے کھڑے کھڑے ہو آئیے۔

    بڑا بھائی: اگر مجھ کو یہ یقین ہوتا کہ میرا جانا اور چلا آنا ایک سرسری بات ہے تو میں اب تک جا کر کبھی کا چلا آیا ہوتا۔

    منجھلا بھائی: آپ نے یہ کیوں تجویز کر لیا کہ سرسری نہیں ہے۔

    بڑا بھائی: خدا کو دیکھا نہیں تو عقل سے پہچانا۔

    منجھلا بھائی: بس شاید ابا جان کو اتنی ہی بات آپ کے منہ سے سننی منظور ہے۔

    بڑا بھائی:

    ہر سخن موقع اور ہر نکتہ مکانے وارد

    منجھلا بھائی: مجھ کو حیرت ہے کہ آپ کو تردد کس بات کا ہے۔

    بڑا بھائی: میں ان کے مزاج سے خائف اور اپنی عادت سے مجبور ہوں۔

    منجھلا بھائی: لیکن جانے میں جس بات کا احتمال ہے، نہ جانے میں اس کا تیقن ہے۔

    بڑا بھائی: احتمال تم کو ہے، نہ مجھ کو۔ میں سمجھے بیٹھا ہوں کہ بالا خانے پر چڑھا اور آفت نازل ہوئی۔

    منجھلا بھائی: میں زیادہ اصرار کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ آپ کو اختیار ہے جو چاہے سو کیجئے۔ لیکن اتنا پھر کہے دیتا ہوں کہ اس کا انجام بہ خیر نہیں معلوم ہوتا۔

    بڑا بھائی:

    ہر چہ بادا باد ما کشتی در آب اندا ختیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    منجھلا بھائی: تو پھر میں ابا جان سے کہلائے بھیجتا ہوں۔

    بڑا بھائی: یہ تم کو اختیار ہے۔ میں جب ان کے بلانے سے جانا لابد نہیں سمجھا تو ان کے پوچھنے سے جواب دینے کو کب ضروری جانتا ہوں۔

    منجھلا بھائی مایوس ہو کر اٹھا اور تھوڑی دور جا کر پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا کہ میرا پاؤں آگے نہیں پڑتا اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہوں تو کیا کہوں۔ یہ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ کا نہ جانا بڑی ہی خرابی پیدا کرے گا۔ نہیں معلوم اس وقت آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ آپ جاتے اور ان کی بات مانتے تاہم چنداں قباحت نہ تھی۔ لیکن نہ جانے میں بگاڑ کی ابتداء، فساد کا آغاز، نافرمانی کا شروع آپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ تمام دنیا آپ کو اس کا الزام دے گی اور سارا جہان آپ پر قصور عائد کرے گا اور چوں کہ میں اس کا نتیجہ سر تا سر آپ کے حق میں زبوں سمجھتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میری اس میں شرکت ہو۔ آپ کا جانا منظور نہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ کسی دوسرے کے ہاتھ کہلا بھیجئے۔

    بڑا بھائی: لیکن مجھ سے انہوں نے پوچھا نہیں تو میں کیوں کہلا بھیجوں۔

    منجھلا بھائی ایسا روکھا جواب سن کر پھر چلا۔ بے چارہ عجیب مخمضے میں تھا کہ ادھر باپ نے بہ تاکید پوچھ بھیجا ہے تو جواب میں کچھ ہاں یا نہیں کہنا چاہیے اور چوں کہ سمجھ چکا تھا کہ نہ جانا بھائی کی ہمیشہ ہمیشہ کی تباہی کا موجب ہوگا، اندر سے جی نہیں مانتا تھا کہ اس کی بربادی کی بات منہ سے نکالے۔ اسی گھبراہٹ میں دوڑا ہوا ماں کے پاس گیا اور کہا کہ اماں جان غضب ہوا چاہتا ہے۔ ماں بے چاری نعیمہ کے سوچ مینں بیٹھی ہوئی تھی، کیوں کہ کوٹھری میں فرش پر ایک حالت سے پڑے نعیمہ کو سارا دن گذرا۔ نہ تو اس نے سر اٹھایا، نہ کوئی چیز اس کے منہ میں گئی ماں نے گلوریاں خاص دان میں بھروا کر پاس رکھوا دی تھیں، بھی سب اسی طرح رکھی رکھی سوکھا کیں، پانی اور کھانے کا کیا مذکور۔ لڑکا گھڑی دو گھڑی تو چپکا رہا پھر اس نے الگ رونا شروع کر دیا۔ سارا گھر اس کو سنبھالتا تھا مگر اس نےتالو سے زبان نہ لگائی۔ بہتیرا نانی بہلا پھسلا کر دودھ دیتی تھی مگر گود سے نکل نکل پڑتا تھا۔ نہ اٹھے سکھ، نہ بیٹھے چین۔ سب کو حیران کر مارا۔ دن تو خیر بری بھلی طرح گذر بھی گیا۔ اب

    رات آئی تو یہ جانا کہ قیامت آئی

    صالحہ کو جو بلوایا تھا تو ایک یوں ہی پیام کہلا بھیجا تھا۔ وہاں سے جواب آیا کہ آج شام کو گھر میں مولوی صاحب کا وعظ ہے۔ انشاء اللہ کل بڑے تڑکے صبح نماز پڑھ کر میں پہنچوں گی۔ اسی اضطراب میں میاں علیم نے جو ایک دم سے جا کر کہا کہ غضب ہوا چاہتا ہے، ماں کا کلیجہ دھک سے ہو گیا اور سمجھی کہ نعیمہ کی خیر نہیں۔ گھبرا کر پوچھا: "کیا۔"

    بیٹا: بھائی جان کو ابا جان چار گھڑی سے بلا رہے ہیں۔ یہ وقت ہونے آیا، نہیں جاتے ہیں۔ مردانے میں پردہ کرا دوں، آپ ذرا چل کر سمجھا دیجئے۔ شاید مان جائیں۔ میں تو کہہ کر تھک گیا۔

    فہمیدہ کا یہ حال تھا کہ نعیمہ سے بدتر اس کی کیفیت تھی۔ لوگوں کو دکھانے کو دسترخوان پر بیٹھ تو گئی تھی، مگر ایک دانہ حلق سے نہیں اترا۔ جیسی بیٹھی تھی ویسی ہی منہ جھٹلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بار بار کسی نہ کسی بہانے سے کوٹھری کے پاس جاتی۔ کواڑوں کے پاس کھڑے ہو کر درزوں میں جھانکتی اور نعیمہ کے رونے کی آہٹ لیتی۔ گھر والوں میں سے جو سامنے آ نکلتا اس کو بھیجتی کہ جاؤ ہو سکے تو مناؤ، لیکن کسی کو اتنا جبہا نہ تھا کہ کوٹھری کے اندر قدم رکھتا۔ بیدارا جس نے نعیمہ کو پالا تھا اور ہر طرح کا دعوٰی رکھتی تھی، لڑکے کو لے کر دودھ پلوانے کے بہانے سے پاس جا بیٹھی۔ ابھی منہ سے بات بھی نہ کہنے پائی تھی کہ نعیمہ نے ایسی دو لتی چلائی کہ بیدارا کئی لڑھکنیاں کھاتی گیند کی طرح لڑھکتی لڑھکاتی باہر آ کر گری۔ خدا نے خیر کی کہ لڑکا نہالچے سمیت گود سے نکل پڑا ورنہ اتنی دور میں نہیں معلوم کہ کیا سے کیا ہو جاتا۔ بیدارا کی مدارت دیکھ کر پھر تو جس سے فہمیدہ کوٹھری میں جانے کا نام لیتی، وہ کانوں پر ہاتھ دھرتی کہ نہ بیوی، میری ہڈیوں میں تو خدا کی لاٹھی سہارنے کا بوتا نہیں ہے۔ چاہتے سب تھے کہ نعیمہ کو منائیں مگر کوٹھری میں جانے سے ایسے ڈرتے تھے کہ گویا اندر کالی ناگن بیٹھی ہے۔ پاؤں رکھا اور اس نے ڈس لیا۔

    باہر اس ذرا سے فتنے یعنی نعیمہ کے بچے نے آفت توڑ رکھی تھی۔ اگال دان، پان دان، سینیاں بجاتے، کنڈیاں کھڑکاتے، مگر اس عزیز کے کان پر جوں نہ چلتی تھی۔ گود میں لٹاؤ، جھولے میں سلاؤ، کندھے لگاؤ، لیے لیے پھرو مگر کسی طرح اس کو قرار نہ تھا۔ بے زبان بچہ منہ سے بولتا نہیں، چالتا نہیں، برابر روئے جاتا ہے۔ کوئی کیا جانے کہ اس کو کس بات کی تکلیف ہے۔ پہلے تو خیال ہوا کہ کہیں افیم تو نہیں تھوک دی۔ مسور برابر چھوڑخاصی مٹرجتنی گولی دی، مطلق اثر نہیں۔ جانا کہ ہنسلی جاتی رہی، وہ بھی ملوائی اور دونا چلایا۔ سمجھے کہ پیٹ میں درد ہے۔ دودھ میں سہاگہ گھس کر دیا، پھر بھی نہ چپ ہوا۔ آخر جب خوب ہلاک ہو لیا تو ہار کر، کوئی دو گھڑی دن رہے، نانی کے کندھے سے لگ کر سو گیا۔ یہ بے چاری بھی دن بھر کی تھکی ماندی، نہار منہ، اس پر اداس ، طبعیت مغموم، بت کی طرح ایک دیوار سے لگی بیٹھی اونگھ رہی تھی کہ پہلے صالحہ کا جواب آیا۔ اوپر سے میاں علیم، بھائی کا مژدہ لے کر پہنچے۔ سن کر رہی سہی عقل بھی کوئی گئی۔ تھوڑی دیر تک چپ سناٹے میں بیٹھی رہی۔ اس کے بعد اپنے آپ میں آئی اور علیم سے کہا، پھر بیٹا تم نے بڑے بھائی کو کچھ نہ سمجھایا۔

    بیٹا: میں نے کتنا کتنا سمجھایا۔

    ماں: نعیمہ کا حال تم نے کچھ سنا۔

    بیٹا: جی ہاں سنا۔

    ماں: بس خدا نے دونوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھالا ہے۔ مجھ کو تو امید نہیں کہ کلیم روبرو ہو۔ جب اس کوخدا ہی کا خوف اور باپ ہی کا ڈر نہ ہو تو بھلا میں کون بلا ہوں۔ یوں تو کہتے ہو، چلو میں کہہ سن بہتیرا کچھ دوں گی۔ کیوں علیم، بھلا تمہارے نزدیک میری زیادتی تھی یا نعیمہ کی؟

    بیٹا: میں نے مفصل حال تو سنا نہیں لیکن جس قدر سنا اس سے سر تا سر آپا کا قصور معلوم ہوت اہے اور مجھ کو زیادہ تحقیقات کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ میں نے سنتے کے ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ اماں جان نے جب ایسی ہی سخت ضرورت سمجھی ہوگی تو آپا پر ہاتھ اٹھایا ہوگا۔

    ماں: علیم، کیا تم سے کہوں۔ خدا کی شان میں ایک ایک بے ادبی کہ معاذ اللہ! میں تو تھرا اٹھی کہ ایسا نہ ہو کہیں چھت گر پڑے اور جان جان کر، منع کرتے کرتے۔

    بیٹا: بے شک آپ نے مارا تو بہت واجب کیا۔ خیر آپ کا چنداں اندیشہ نہیں۔ آپ ہی غصہ اتر جائے گا۔ بڑے بھائی کا کھٹکا ہے۔ یہاں کل تک وارا نیارا ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

    ماں: دونوں ایک دوسرے کے قدم بر قدم ہیں۔ اس نعیمہ نے کیا وارا نیارا کرنے میں کچھ اٹھا رکھا ہے۔ سارا دن گذر گیا، نہ پانی پیا، نہ کھانا کھایا، نہ بچے کو دودھ پلایا۔

    بیٹا: بچے کو دودھ نہیں پلایا؟ بھلا اس بے چارے کا کیا قصور؟

    ماں: بیدارا ایک بار لے کر گئی تھی۔ بے چاری کے ایسی لات ماری کہ صحنچی میں ہلدی تھوپے پڑی کراہ رہی ہے۔

    بیٹا: میں چلوں اور سمجھاؤں؟

    ماں: نہ بیٹا، اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ تم گئے اور چھوٹے تو ہو ہی، کچھ جا بے جا کہہ بیٹھی تو ناحق تم کو برا لگے، کیا فائدہ۔

    بیٹا: جب وہ میری بڑی بہن ہیں تو مجھ کو ان کا کہنا برا کیوں لگنے لگا۔

    ماں: تو بھی تمہارے جانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ میں نے صالحہ کو بلا بھیجا ہے وہ آئے گی تو اس کو اپنے طور پر ٹھیک ٹھاک کرے گی۔

    بیٹا: واقعی یہ آپ نے خوب تجویز کی۔ مگر اب رات ہو گئی، کب آئیں گی؟

    ماں: ان کے یہاں اس وقت وعظ ہے۔ اس کا کہلا بھیجا ہے کہ کل بڑے سویرے پہنچوں گی۔ خیر، جوں توں رات کٹ ہی جائے گی۔

    بیٹا: میں صالحہ کو جا کر لے نہ آؤں؟ اتنے میں آپ بھائی جان سے باتیں کیجئے۔

    ماں: ہاں بہتر تو ہوگا۔ میں نے اس کو یہ حال کہلا نہیں بھیجا ورنہ وہ تو سنتے کے ساتھ ہی دوڑی آتی۔

    غرض علیم تو صالحہ کو لینے گیا اور فہمیدہ پردہ کرا کر مردانے میں پہنچی۔ اتنی ہی دیر میں یہاں تاش کھیلنے شروع ہو گئے تھے۔ فہمیدہ جو گئی تو چاندنی پر تاش کے ورق بکھرے ہوئے پڑے تھے۔ فہمیدہ نے دیکھ کر کہا آگ لگے اس کھیل کو۔ کھیل نہ ہوا بلائے جان ہوا کہ رات کو بھی بند نہیں ہوتا۔

    بیٹا: نکما بیٹھا ہوا آدمی کچھ کرے یا نہ کرے۔

    بے کار مباش کچھ کیا کر

    ماں: بیٹا، خدا نہ کرے کہ تم نکمے ہو۔ کرنے والا ہو توکام بہتیرے۔ باپ نےتم کو کئی دفعہ بلایا، نکمے تو تھے، تم سے اتنا نہ ہو سکا کہ جاؤں سن تو آؤں کیا کہتے ہیں۔

    بیٹا: بس میں نے یہیں بیٹھے بیٹھے سن لیا۔

    ماں: کچھ نہ سنا نہ سنایا۔ جاؤ ہو آؤ۔ یہ اچھی بات نہیں۔

    بیٹا: اچھی بات کیا نہیں؟ میں جانتا ہوں جو وہ کہیں گے۔

    ماں: تم جانتےسہی، مگر جا کر سن لینے میں بیٹا کچھ قباحت ہے؟

    بیٹا:

    قباحت سی قباحت ہے، خرابی سی خرابی ہے۔

    ماں: میں بھی سنوں؟

    بیٹا: اب مجھی سے کہلواتی ہو۔ تم آپ سمجھ جاؤ۔

    ماں: میں تو تمہاری پہیلی نہیں سمجھتی۔

    بیٹا: ایسی پہیلیاں نعیمہ خوب بوجھتی ہے۔

    ماں: خدا کسی کو ایسی الٹی سمجھ نہ دے جیسی نعیمہ کی ہے۔ تم اس کی زبان سنتے ہو کہ خدا تک کا لحاظ اس نے اٹھا دیا۔ نماز کو اٹھک بیٹھک، خدا کی شان میں توبہ توبہ، یہ کلمہ کہ کیسا خدا۔ بے دین سے بے دین بھی ایسی بات منہ سے نہیں نکالتا۔ ابھی ایک آفت گھر پر آ چکی ہے کہ ایک چھوڑ تین تین مردے اسی گھر سے اٹھے مگر خوف مطلق نہیں، ذرا سا ڈر نہیں۔

    بیٹا: وبا بھی ایک مرگ انبوہ تھا۔ اچھے برے سب ہی قسم کے لوگ مرے۔

    ماں: تو کیا اچھوں کو مرتا دیکھ کر آدمی برا بن جائے۔

    بیٹا: نہیں، میں تو یہ نہیں کہتا کہ برا ہونا اچھا ہے۔

    ماں: اس سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی کہ آدمی خدا کو خدا نہ سمجھے۔

    بیٹا: اچھی کہی۔ خدا کو خدا کون نہیں سمجھتا۔ نعیمہ کے منہ سے نہیں معلوم کیوں کر ایک بات نکل گئی ہوگی۔

    ماں: پھر تم کو باپ کے پاس میں کیا تامل ہے؟

    بیٹا: میں نے سنا ہے کہ نماز پڑھنے کا قول کراتے ہیں۔ کھیل کود سے منع کرتے ہیں۔

    ماں: ابھی تو تم نے کہا کہ میں خدا کو خدا سمجھتا ہوں۔ تو کیا نماز اس کا حکم نہیں ہے؟

    بیٹا: میں یہ بھی نہیں کہتا کہ نماز اس کا حکم نہیں ہے لیکن مجھ سے ایسے حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی۔

    ماں: تو تم نے یہ ناحق کہا کہ میں خدا کو خدا سمجھتا ہوں۔ اگر تم خدا کو خدا سمجھتے تو ضرور اس کا حکم مانتے۔ چلو بیٹا، دنیا اور دین دونوں سے آزاد ہوئی۔ ادھر باپ بلائے اور نہ جاؤ تو گویا باپ کو باپ نہ جانا۔ ادھر خدا فرمائے اور نماز نہ پڑھو، یعنی خدا کو خدا نہ سمجھا۔

    بیٹا: مجھ کو حیرت ہے کہ گھر میں کیوں یہ نئے نئے دستور اور قاعدے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہی خدا ہے اور وہی ہم سب، تو جس طرح پہلے سے رہتے سہتے چلے آئے ہیں، اب بھی رہنے دیں۔ دوسرے کے افعال سے کیا بحث اور کسی کے اعمال سے کیا سروکار؟ اگر کوئی بے دین ہے تو اپنے لئے اور کوئی زاہد اور پرہیز گار ہے تو اپنے واسطے۔

    ماں: سروکار کیوں نہیں۔ اولاد کی تعلیم ماں باپ پر فرض ہے۔

    بیٹا: پہلے سے فرض تھی یا اب علالت میں کوئی خاص وحی نازل ہوئی ہے۔

    ماں: اگر تم ایسی حقارت سے ماں با پ کا ذکر کرتے ہو تو یہ تمہاری سعادت مندی کی دلیل ہے! تم تو کتابیں پڑھتے ہو، ماں باپ کا کیسا کچھ ادب لکھا ہے؟ لوگوں میں بھی اس کی ایک کہاوت مشہور ہےَ با ادب با نصیب۔ بیٹے! تمہارے باپ بے چارے نے ہرگز یہ دعوٰی نہیں کیا کہ مجھ کو الہام ہوتا ہے یا مجھ پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔

    بیٹا: اگر وحی نہیں ہے تو اسی علالت کا اثر ہے۔

    ماں: تم باپ تک گئے ہوتے تو کبھی ایسے احتمالات نہ کرتے۔ یہ تمہاری نئی تجویز نہیں ہے۔ تم تو ابتدائے علالت سے باپ کو جنون اور سرسام بتاتے ہو۔ لیکن کیا مجنوں کا یہی کام ہے کہ عاقبت تک کی مال اندیشی کرے؟ دیوانے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ آخرت تک کا سوچیں؟ ایک مرتبہ ذرا کی ذرا چل کر ان کی باتیں سنو اور پھر ان کو مجنوں سمجھو تو البتہ میں قائل ہو جاؤں گی۔

    بیٹا: کیا میں بھی سلیم ہوں کہ ان کی باتوں میں آ جاؤں گا؟

    ماں: ہماری نظروں میں تو تم سلیم سے بھی چھوٹے ہو۔

    بیٹا: بس یہ مہربانی نعیمہ کے ساتھ خاص رہے۔

    ماں: اگر مہربانی ہی مہربانی ہوتی تو شاید تم کو اس کے کہنے کی نوبت ہی نہ آتی، کیوں کہ مہربا نی اسی کے ساتھ کی جاتی ہے جو اس کی قدر کرے اور مہربانی کرنے والے کا احسان مانے۔ مجبوری تو یہی ہے کہ نری مہربانی نہیں ہے بلکہ اپنی گردن کا بوجھ اور اپنے سر کا فرض اتارنا ہے۔

    بیٹا: یہ نیا مسئلہ ہے کہ بڈھے طوطوں کو مار مار کر پڑھایا جائے۔

    ماں: تم اپنے تئیں بڈھا سمجھتے ہو؟

    بیٹا: میں دودھ پیتا ہوا بے تمیز بچہ ہی سہی، لیکن میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے افعال سے تعرض کرے۔ میں اپنا برا بھلا آپ سمجھ سکتا ہوں۔

    ماں: ماں باپ اولاد کے بدخواہ نہیں ہوتے۔ ہم لوگ بھی تمہاری ہی بہتری کے لئے کہتے ہیں۔

    بیٹا: مجھ کو اپنی بہتری منظور نہیں ہے۔

    ماں: میں جانتی ہوں کہ یہ بات تم اس وقت ضد سے کہہ رہے ہو۔ بھلا دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جو اپنی بہتری نہیں چاہتا۔

    بیٹا: جب میں تمہاری مداخلت اپنے افعال میں جائز نہیں رکھتا تو تم بیٹھے بٹھائے مجھ کو چھیڑنے والی کون؟

    ماں : میں تمہاری ماں، وہ تمہارے باپ۔

    بیٹا: یہ بھی اچھی زبردستی ہے۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔ مجھ کو تمہارے ماں باپ ہونے سے انکار نہیں۔ گفتگو اس بار میں ہے کہ تم کو میرے افعال میں زبردستی دخل دینے کا اختیار ہے یا نہیں، سو میں سمجھتا ہوں کہ نہیں۔ تم کہتی ہو کہ ہم بہ مجبوری دخل دیتے ہیں، اس واسطے کہ ماں باپ کا اولاد کا تعلیم کرنا فرض ہے۔ سو اول تو میں اس کو داخل تعلیم ہی نہیں سمجھتا اور مانا کہ داخل تعلیم ہو تو میرے نزدیک صرف دس بارہ برس تک اولاد محتاج تعلیم ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کو ان کی رائے میں کچھ دخل نہیں۔ وہ اپنا نفع نقصان خود سمجھ سکتے ہیں۔ اگر یہی منظور تھا کہ میں بڑا ہو کر مسجد کا ملانا یا قبرستان کا قرآں خواں یا لنگر خانہ کا خیراتی کا ٹکڑ گدا بنوں، تو شروع سے مجھ کو ایسی تعلیم کی ہوتی کہ اب تک بھلا کچھ نہیں تو میں دو چار حج بھی کر آیا ہوتا۔ پنچ آیت میں میری قرآت کی دھوم ہوتی، تراویح میں میرے لہجہ قرآن خوانی کی شہرت۔ کہیں مردہ مرتا جائے نماز مجھ کو ملتی۔ کہیں قربانی ہوتی، کھال میرے پاس آتی۔ صدقے کا میں آڑھتیا ہوتا، زکٰوۃ کا ٹھیکے دار، دعوتوں کا مستحق، خیرات کا حق دار۔ نہ یہ کہ پڑھاؤ کچھ، پوچھو کچھ۔ سکھاؤ اور چیز اور امتحان لو دوسری چیز میں۔ دنیا میں جیسے اور شریف اور معزز خاندانوں کے بیٹے ہیں، اگر میں سب اچھا نہیں تو کسی سے برا بھی نہیں۔ مشاعرے میں میری غزل ساتھ مشق کرنے والوں میں سب سے بڑھی چڑھی ہوتی ہے۔ شطرنج میں، مرزا شاہ رخ تو خیر پرانے کھیلنے والوں میں ہیں اور حق یہ ہے کہ اچھی شطرنج کھیلتے ہیں، دوسرا کوئی مجھ کو مات کر دے تو البتہ میں اس کی ٹانگ تلے سے نکل جاؤں۔ ہمارے محلے میں میاں وزیر، بادشاہی پیادوں کے جمعدار، بڑے شاطروں میں مشہور ہیں۔ میں فرزیں اٹھا کر ک ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ گنجفہ اگرچہ میں کم کھیلتا ہوں لیکن بیٹھ جاؤں تو ایسا بھی نہیں کہ کوئی صفو پر نادری چڑھائے۔ اور قریب قریب یہی حال تاش اور چوسر کا ہے۔ کبوتر جیسے آج ہماری چھتری کے دم دار ہیں، شہر میں شاید دو جگہ اور ہوں گے۔ پتنگ میں ایسی اڑاتا ہوں کہ ایک دھیلچے سے دو ٹھڈے کی نکل ایک نہیں تو سینکڑوں کاٹی ہوں گی۔ لکھنے سے عار میں نہیں، پڑھنے سے عاجز میں نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ امیروں اور امیر زادوں کا وہ کون سا ہنر ہے جو مجھ کو نہیں آتا۔

    قسمت سے تو ناچار ہوں اے ذوق وگرنہ
    سب فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا

    کل کی بات ہے کہ میری مدح ہوتی تھی اور مجھ کو ہر بات پر شاباش ملتی تھی۔ اب دفعتہً میں ایسا بے ہنر ہو گیا کہ مجھ کو سیکھنے اور تعلیم پانے کی ضرورت ہے

    ہائے ہم کیا کہیں گے کیا ہو گئے کیا کیا ہو کر

    میرا کون سا فعل ہے جو تم کو ابا جان کو معلوم نہیں؟ کیا ابا جان نے میرے غزلیں نہیں سنیں؟ میں ان کے ہاتھ کے صاد کیے ہوئے شعر دکھا سکتا ہوں۔ ابھی پورا ایک مہینہ بھی نہیں گذرا کہ شطرنج کا ایک بڑا مشکل نقشہ ابا جان نے کسی اخبار میں دیکھا تھا، اس کو میں نے حل کیا۔ کبوتر اڑاتے ہوئے تم نے نہیں دیکھے، یا پتنگوں کی لڑائی انہوں نے نہیں سنی؟ کبھی تم نے روکا یا انہوں نے ٹوکا؟ اب یہ نئی بات البتہ سننے میں آئی ہے کہ نماز پڑھو۔ مسجد میں معتکف بن کر بیٹھو۔ کھیلو مت۔ کسی یار آشنا سے ملو مت۔ بازار مت جاؤ۔ میلے تماشے میں مت شریک ہو۔ بھلا کوئی مجھ سے یہ باتیں ہونے والی ہیں۔

    جو دل قمار خانے میں بت سے لگا چکے
    وہ کعبتین چھوڑ کر کعبے کو جا چکے

    ماں: میں سچ کہتی ہوں کہ جتنی باتیں تم نے کہیں، تمہارے باپ، جن کو تم مجنوں اور مختل الحواس تجویز کرتے ہو، سب پہلے سے سمجھ ہوئے بیٹھے ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ تم سے ان عادتوں کا ترک ہونا دشوار ہے اور ابتدا میں تم کو تعلیم نہ کرنے کا تذکرہ کر کے اس حسرت کے ساتھ روتے ہیں کہ دیکھنے والا تاب نہیں لا سکتا۔ غضٗب تو یہی ہے کہ تم ان تک چلتے نہیں، ورنہ تم کو معلوم ہو جاتا کہ باپ کے دل کی کیا کیفیت ہے۔ وہ خود قائل ہیں کہ اولاد کا کچھ قصور نہیں۔ ان کے بگاڑ کا وبال، ان کی خرابی کا الزام سب میری گردن پر ہے۔ اپنے تئیں کوستے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ان کا باپ تھا عدو تھا کہ میں نے جان بوجھ کر ان کا ستیا ناس کیا، دیدہ دانستہ ان کو غارت کیا۔ اب کس منہ سے ان کو سمجھاؤں اور کیوں کر ان سے آنکھیں ملاؤں۔ مگر پھر آپ ہی کہتے ہیں کہ اگر میں نے اپنے فرض کے ادا کرنے میں اب تک کوتاہی کی تو کیا تلافئی مافات سے غافل رہنا ترک فرض سے کچھ کم ہے۔ ناچار، اپنے مقدور بھر کوشش کروں گا، مجبور، حتی الوسیع زحمت اٹھاؤں گا۔

    بیٹا: خیر، ایسا ہی فرض کا خیال ہے تو دوسرے بچوں کو اپنی رائے کے مطابق تعلیم کریں، مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دیں۔

    ماں: کیا خدا نخواستہ تم اولاد نہیں ہو؟

    بیٹا: ہوں لیکن مجھ سے بھی آخر کہہ نہ چکے۔ بس ان کے ذمے کا فرض ساقط ہو گیا۔

    ماں: یہی حجت دوسرے بھی پیش کر سکتے ہیں۔

    بیٹا: جھک مارنے کی بات ہے۔ چھوٹوں کو ماننا چاہیئے۔

    ماں: کیا چھوٹے سدا چھوٹے ہی رہیں گے۔

    بیٹا: بڑے ہوئے پیچھے بے شک ان کو بھی آزادی ہونی چاہیے۔

    ماں: گھر میں اگر کوئی انتظام کرنا منظور ہو تو جب تک چھوٹے بڑے سب اس کی تعمیل نہ کریں وہ انتظام چل نہیں سکتا۔

    بیٹا: چلے یا نہ چلے، بی، میں تم سے صاف کہوں، مجھ سے تو یہ نماز روزے کا کھڑاک سنبھلنے والا نہیں۔ یہ سر حاضر ہے، نعیمہ کی طرح چاہے تو مجھ کو بھی دو چار جوتیاں مار لو۔

    ماں: الہٰی! نماز کچھ ایسی مشکل ہے کہ جوتیاں کھانی قبول پر نماز پڑھنی منظور نہیں۔

    بیٹا: مجھ کو تو ایسی ہی مشکل معلوم ہوتی ہے۔

    ماں: خیر، تم میری اور باپ کی خاطر پڑھ لیا کرنا۔

    بیٹا: مجھ سے ہو ہی نہیں سکتی۔

    ماں: تو یوں کہو، تم کو باپ کے کہنے کی ضد ہے۔

    بیٹا: جو کچھ سمجھو۔

    ماں: بھلا پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟

    بیٹا: ہوگا کیا۔ بہت کریں گے خفا ہوں گے۔ دو چار دن میں سامنے نہ جاؤں گا۔ آخر تم کہہ سن کر بات کو رفت و گزشت کرا ہی دو گی۔ کیوں بی اماں کرا دو گی نا؟

    ماں: اگر یہی انجام ہوتا تو میں تم سے اتنا اصرار ہرگز نہ کرتی۔

    بیٹا: پھر کیا مجھے پھانسی دلوا دیں گے، مار ڈالیں گے، کیا کریں گے؟

    ماں: بھلا بیٹا کوئی کسی کو مار سکتا ہے؟ ایک ذرا ہاتھ لگانے پر تو نعیمہ نے یہ آفت توڑ رکھی ہے کہ اللہ پناہ دے۔ جان سے مارنا تو خدا کا گناہ اور حاکم کا جرم۔

    بیٹا: شاید یہ کریں کہ گھر سے نکال دیں۔

    ماں: شاید۔ تم تو بیٹے ہو، ان کو اس بلا کا اہتمام ہے کہ اگر میں بھی ان کی رائے کے خلاف کروں تو تیس برس کا گھر خاک میں ملانے کو تیار ہیں۔

    بیٹا: شاید اسی ڈر سے تم سب کے سب انہی کی سی کہنے لگے۔

    ماں: اس وقت تک تو کسی کے ساتھ کسی طرح کی زبردستی کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ باتیں ہی وہ اس غضب کی کرتے ہیں کہ گنجائش انکار باقی نہیں رہتی۔ لیکن ہاں جو تمہاری طرح کوئی کٹ حجتی کرتا تو ضرور بگڑتے۔

    بیٹا: میں ان کی خفگی سے تو خیر کسی قدر ڈرتا بھی تھا لیکن گھر سے نکلنے کی بندہ درگاہ ذرا بھی پروا نہیں کرتے اور گھر کی طمع سے جو نماز پڑھتے ہیں ان کو ہی کچھ کہتا ہوں۔ اپنے کھانے پینے پر گھمنڈ کرتے ہوں گے۔ میں ان جیسے دس کو کھانا کپڑا دے سکتا ہوں۔

    ماں: باپ بیچارے نے تو یہ بات بھی منہ سے نہیں نکالی۔ تم اپنے دل سے جو چاہو سو کہو۔

    بیٹا: نہیں ان کے اصرار سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کپڑے کا ڈراوا دے کر وہ چاہتے ہیں کہ دین کا ٹوکرا زبردستی ہم لوگوں کے سر پر لادیں، سو یہ دل سے دور رکھیں۔ میں خود گھر سے دل برداشتہ ہو رہا ہوں۔ نہیں معلوم کہ کیا سبب تھا کہ میں اب تک رہ گیا۔ اگر پہلے ذرا بھی مجھ کو معلوم ہوا ہوتا تو خدا کی قسم، کب کا گھر سے ایسا گیا ہوتا جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور اب دیکھ لینا، دیوانہ را ہوئے بس است۔

    ماں: بیٹا، تم کیسی باتیں کرتے ہو۔ باپ تک تم گئے نہیں۔ نہ اپنی کہی نہ ان کی سنی۔ آپ ہی آپ تم نے ایک با ت فرض کر لی اور اس پر غصہ کرنے لگے۔

    بیٹا: درست۔ چھیڑ چھاڑ میری طرف سے شروع ہوئی یا ان کی طرف سے؟

    ماں: اپنی بہتری کی بات کو تم نے چھیڑ چھاڑ سمجھا اور مانا کہ انہی کی طرف سے چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی سہی تو تم کو گھر سے ناراض ہونے کا سبب؟ گھر میں تو میں بھی ہوں، اللہ رکھے تمہارے بھائی ہیں، بہنیں ہیں، ہم سب نے تمہارا کیا قصور کیا؟

    بیٹا: تم سب تو انہی سے ملے ہوئے ہو۔ اچھا، اگر تم کو میرا پاس ہے تو میرا ساتھ دو۔

    ماں: اگر تمہارے باپ کی زیادتی ہوتی تو بے شک میں تمہاری طرف داری کرتی۔ انسان وہ کام کرے کہ دس بھلے آدمیوں میں بات آ پڑے تو لوگ اس کو الزام نہ دیں۔ فرض کیا کہ تم اتنی ہی بات پر گھر سے خفا ہو کر چلے گئے تو لوگ تم ہی کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔

    بیٹا: لوگ میرے قاضی نہیں، مفتی نہیں۔ میں کسی کی رعیت نہیں۔ جب مینں اپنے سگے باپ کے کہنے کی پروا نہیں کرتا تو لگ پڑے بھونکا کریں۔

    ماں: بیٹا، دنیا میں رہ کر تو ایسی آزادی نبھی نہیں سکتی۔

    بیٹا: اجی ایسے نبھے کہ جیسے کہتے ہیں۔

    کیسا اس کو نباہتا ہوں

    انشاء اللہ دیکھئے گا!

    ماں: کیا تم گھر سے چلے جاؤ گے؟

    بیٹا: تو کوئی مجھ کو روک بھی سکتا ہے؟

    مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
    ایک چکر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

    ماں: کیوں، رکھنے والی میں بیٹھی ہوں۔ کیا تم پر اپنا بھی حق نہیں ہے؟

    یہ کہہ کر فہمیدہ کا دل بھر آیا اور اس پر رقت طاری ہو گئی۔۔۔ "میں نے تم کو نو مہینے اسی دن کے واسطے پیٹ میں رکھا تھا اور اسی لئے تمہارے پالنے کی مصیبتیں اٹھائی تھیں کہ جب بہار دیکھنے کے دن آئیں تو تم مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ کلیم! سچ کہتی ہوں، ذرا جا دیکھ، قیامت تک دودھ بخشنے ہی کی نہیں۔

    بیٹا: "ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر"

    ماں: بھلا ایسے جانے میں کیا فلاح و برکت ہوگی کہ باپ کو نارضامند کر کے جاؤ اور ماں کو ناخوش، اور بے وجہ، بے سبب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بیٹا: خیر، اب تو یہ دل پر ٹھنی ہے:

    سر جائے پہ درد سر نہ جائے

    اور کچھ خاص کر یہی سبب نہیں۔ مدتوں سے گھر میں بیٹھے بیٹھے میرا دل اکتا گیا تھا اور ہمیشہ یہی خیال آیا کرتا تھا کہ چلو ذرا باہر کی بھی ہوا کھاؤں۔

    چل در مے کدہ تک
    ہے حرکت میں برکت

    ماں: گھر سے ناراض ہو کر جاؤ گے تو اچھا باپ دادے کا نام شہر میں اچھلے گا۔

    بیٹا: جب باپ نے میرا پاس آبرو نہ کیا تو خاندان کی عزت رہے تو بلا سے اور جائے تو بلا سے۔

    ماں: باپ دادوں کی عزت تو رہے یا جائے، تم نے گھر سے باہر قدم رکھا اور تمہاری بات دو کوڑی کی ہوئی۔ یہی تمہارے دوست آشنا جو رات دن تمہاری للو پتو میں لگے رہتے ہیں، سلام تک کے روادار تو ہونے ہی کے نہیں، ہمدردی اور غمگساری کا تو کیا مذکور ہے۔

    بیٹا: گھر سے نکل کر کیا میں نے دلی میں رہنے کی قسم کھائی ہے۔

    ملک خدا تنگ نیست
    پائے مرا لنگ نیست

    جدھر کو منہ اٹھ گیا۔ چل کھڑے ہوئے۔

    ماں: بھلا میں بھی تو سنوں کہ تم نے کون سا ٹھکانا سوچا ہے۔

    بیٹا:

    جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
    مسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

    ماں: بھلا پھر اس میں خوبی کیا نکلی کہ تم نے عیش چھوڑا، آرام چھوڑا، گھر چھوڑا، عزیز و اقارب چھوڑے اور ان سب کے بدلے ملا تو کیا ملا:

    بدنامی کا خلعت، رسوائی کا خطاب، مفلسی اور محتاجی کا انعام، تکلیف و مصیبت کا پروانہ، تردد و پریشانی کا فرمان۔ موٹی سی موٹی سمجھ اور چھوٹی سے چھوتی عقل بھی اس کو جائز نہیں رکھتی۔

    بیٹا:

    عقل چہ کتی است کہ پیش مرداں بیاید

    ماں: تم تو باپ کو باؤلا اور مجنوں بتاتے تھے، مگر باؤلوں کی سی باتیں، دیوانوں کی سی حرکتیں تم خود کرتے ہو۔ دیکھو کہے دیتی ہوں، بہت پچھتاؤ گے، بہت افسوس کرو گے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ تم میری بات مانو لیکن جس کو تم اپنے نزدیک معقول پسند اور دانش مند سمجھتے ہو اسے پوچھو، صلاح لو، مشورہ کرو، دیکھ تو کیا کہتا ہے۔

    بیٹا:

    رائے اپنی صلاح ہے اپنی

    ماں: بھلا اتنا تو تم سمجھو کہ میں جو تم سے اتنا اصرار کر رہی ہوں اور اتنی دیر سے تہمارے پیچھے سر کھپا رہی ہوں، اس میں کچھ میرا نفع یا تمہارے باپ کا فائدہ ہے؟ اگر تم نیک بنو گے تو کچھ ہم کو بخش دو گے، یا کراہ کر چلو گے تو کچھ ہم سے چھین لو گے؟ مگر خدا نے یہ اولاد کی مامتا کم بخت ایسی ہمارے پیچھے لگا دی ہے کہ جی نہیں مانتا اور دل صبر نہیں کرتا کہ تم کو بگڑے دیکھیں اور نہ روکیں، تم اپنی خرابی کے لچھن اختیار کرو اور ہم منع نہ کریں۔

    ماں اور بیٹے میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ بیدارا اندر سے ایک خط لیے ہوئے نکلی اور خط اس نے لا کر کلیم کے ہاتھ میں دیا۔ رات کا وقت اور بیدار ا کا اندر سے خط لے کر نکلنا۔ فہمیدہ سمجھ گئی کہ ضرور کلیم کے باپ کا خط ہے۔ جب تک کلیم خط پڑھتا رہا، فہمیدہ چپ بیٹھی دیکھا کی۔ خط پڑھ چکنے کے بعد کلیم چاہتا تھا کہ پھر وہی بات شروع کرے۔ اتنے میں فہمیدہ نے پوچھا "باپ نے کیا لکھا ہے؟"

    بیٹا: ان کو تو جانتی ہو، جس بات کے پیچھے پڑتے ہیں، پہروں کی خبر لاتے ہیں۔ پھر بلایا ہے۔

    ماں: صرف بلاوے کا اتنا بڑا بھاری خط۔ ذرا میں بھی دیکھوں۔

    فہمیدہ نے خط لے کر پڑھا۔ اس میں لکھا تھا: (خط)

    اے جان پدر! از شدک اللہ تعالٰی۔ میں نے پہلے تم کو علیم اور پھر رسولن کے ہاتھ بلوایا اور تم نہ تو آئے اور نہ معذوری و معذرت کہلا بھیجی، جس سے ظاہر ہے کہ تم نے مجھ کو ہیچ اور میرے حکم کو بے وقعت محض سمجھا۔ اگرچہ میرے نزدیک دنیا کا ضروری سے ضروری کام بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ بلائے اور بیٹا اس کام کے حیلے سے باپ کے پاس حاضر ہونے میں مکث کرے، لیکن اگر کوئی ایسی صورت درپیش تھی کہ تم اس کو میری طلب پر مقدم رکھنا چاہتے تھے تو اس کو مجھ پر ظاہر اور اپنی مجبوری سے مجھ کو مطمئن کرنا بھی تم پر لازم تھا۔

    نہ صرف اس نظر کہ میں تمہارا باپ ہوں اور تم میرے بیٹے ہو بلکہ آداب تمدن اور اخلاق معاشرت بھی اسی طرح کے برتاؤ کے متقضی ہیں۔ دنیا کا انتظام جس قاعدے اور دستور سے چلتا ہے، تم اپنے تئیں اس سے بے خبر اور ناواقف نہیں کہہ سکتے۔ ہر گھر میں ایک مالک، ہر محلے میں ایک رئیس، ہر بازار میں ایک چودھری، ہر شہر میں ایک حاکم، ہر ملک میں ایک بادشاہ، ہر فوج میں ایک سپہ سالار، ہر ایک کام کا ایک افسر، ہر فرقے کا ایک سرکردہ ہوتا ہے۔ الغرض ہر گھر ایک چھوٹی سی سلطنت ہے اور جو شخص اس گھر میں بڑا بوڑھا ہے، وہ اس میں بہ منزلہ بادشاہ کے ہے اور گھر کے دوسرے لوگ بطور رعایا اس کے محکوم ہیں۔ اگر ملک کی بدنظمی حاکم ملک کی غفلت اور بے عنوانی سے ہوتی ہے تو ضرور اس گھر میں جو خرابی ہے، اس کا الزام مجھ پر ہے اور میں نہایت ندامت اور حسرت کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں کہ اب تک میں بہت ہی غافل بادشاہ اور بڑا ہی بے خبر حاکم رہا ہوں۔ میری غفلت نے میرے ملک کو غارت اور میری سلطنت کو تباہ کر دیا۔ میری بے خبری نے نہ صرف مجھ کو ضعیف الاختیار بنایا بلکہ رعیت کو بھی ایسا سقیم الحال کر دیا کہ اب ان کے پنپنے کی کوئی امید نہیں۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے نواب اور رجواڑے سلطان وقت کے حضور میں اپنے ملکوں کی بدنظمی کے واسطے جواب دہی کیا کرتے ہیں اور ان کی غفلت اور بے عنوانی کی سزا ملتی ہے۔ واجد علی شاہ سے سلطنت منتزع ہوئی۔ والی ٹونک مسند حکومت سے اتار دیئے گئے۔ میں بھی بادشاہ دو جہاں کے حضور میں اپنے گھر کی خرابی کا جواب دہ ہوں اور دوسروں کو سزا یاب ہوتے دیکھ کر اب مجھ کو سچا اور پورا تنبہ ہوا ہے اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آئندہ سے میری خانہ داری کے ملک میں جتنے رخنے ہیں بند اور جتنے خلل ہیں مسدود، جتنے نقص ہیں پورے، جتنے سقم ہیں دفع کیے جائیں۔ بڑی خطرناک قباحت جو میں اپنے ملک خانہ داری میں پاتا ہوں، یہ ہے کہ میں اور میری رعایا یعنی تم لوگ شاہنشاہ دو جہاں سے سرکشی و بغاوت پر آمادہ و کمربستہ ہو اور خراج عبادت جو ہم کو وقت مقرر پر ادا کرنا چاہیے بالکل باقی پڑا ہے۔ خراج جو ہم پر عائد کیا گیا ہے، میں دیکھتا ہوں تو نہایت ہی ہلکا اور نرم اور رعایتی ہے۔ اگر ہم چاہتے تو کوئی قسط بھی باقی نہ رہتی اور جو مطالبہ شاہی تھا، بے زحمت، اپنے وقت پر خزانہ عامرہ سرکاری میں داخل ہو جایا کرتا۔ با این ہمہ جو کوتاہی ہماری طرف سے ہوئی ظاہر ہے۔ اس نادہندی کی کوئی معقول تاویل بھی تو ہم نہیں کر سکتے۔

    اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں: یا تو پچھلا خراج تمام و کمال بے باق کریں اور اپنا قصور معاف کرائیں اور آئندہ کو عہد کریں کہ کبھی باقی نہ رکھیں گے، یا بادشاہ کے ساتھ لڑیں اور مقابلہ کریں اور ہو سکے تو اپنے تئیں اس کے رقبہ اطاعت سے آزاد کر لیں۔ شاہی قوت اور ہمارا ضعف تو ظاہر ہے۔ بھلا ہماری تو کیا ہستی، فرعون اور نمرود اور شداد اور ہامان اور قارون، کیسے کیسے جابر اور مقتدر ہو گزرے ہیں، باغی ہوئے تو کسی کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ پس سوائے اطاعت و مشورے کے لئے بلایا تھا۔ تمہارے نہ آنے سے ثابت ہوا کہ تم کو سرکار کا ذرا سا بھی خوف نہیں۔

    اب تک میں نے تشبیہ و تمثیل میں تم سے گفتگو کی اور اس سے تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس مجبوری سے میں تمہارے معاملات میں دخل دیتا اور تمہارے افعال سمیت غرض کرتا ہوں۔ میرا دخل و تعرض بے شک تم کو دخل بے جا اور تعرض ناروا معلوم ہوتاہوگا لیکن ذرا اپنی اور میری ذمہ داری کو انصاف کے ساتھ موازنہ کرو گے، تو سمجھ لو گے کہ اس کو بے جا اور ناروا سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ جن شرطوں کا میں تم کو پابند کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے تئیں اور کسے کے تئیں ان سے مستثنٰی نہیں کرتا۔ پھر شکایت کیا اور گلہ کیوں؟

    تم جیسے نوجوان آدمیوں کو مذہب کے بارے میں کبھی کبھی خدشات بھی واقع ہوا کرتے ہیں اور یہ کچھ عیب کی بات نہیں۔ خدشے کا واقع ہونا دلیل جستجو ہے اور جستجو کا انجام ہے حصول۔ جوئندہ یا بندہ۔ اگر تم میں سے کوئی ایسا خدشہ پیش کرنا چاہے تو میں اس کا جواب دینے کو موجود ہوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، مذہب کے اصول ایسے سچے اور یقینی اور بدیہی اصول ہیں کہ ان میں تردد و انکار کا دخل ہو ہی نہیں سکتا۔ چوں کہ ابتدائے شعور سے اب تک ہم لوگ غفلت اور سستی اور بے پروائی اور خداوند جل و علا شانہ کی مخالفت اور حکم عدولی اور نا فرمانی میں زندگی بسر کرتے رہے ہیں، البتہ میں جانتا اور مانتا ہوں کہ ایک مدت میں زنگ معصیت ہمارے اسی قدر تھا کہ ہر شخص مناسب حالت میں اپنا اپنا فکر کر چلے۔

    جب میں اپنی اور تم سب کی پچھلی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو اپنی بوٹیاں توڑ توڑ کر کھاتا ہوں، کیوں کہ اس ساری خرابی کا بانی اور اس تمام تر بدی کا موجب میں ہوں۔ اے کاش! میرا اتنا ہی قصور ہوتا کہ میں اپنی ذات سے گنہگار قرار دیا جاتا۔ نہیں، تم سب کے گناہوں میں میرا سانجھا اور تم سب کی خطاؤں میں میری شرکت ہے۔ میں خدا کا گنہگار الگ ہوں اور تمہارا قصوروار الگ۔ لیکن افسوس ہے کہ اس گناہ کا کفارہ اور اس قصور کی تلافی میرے اختیار سے خارج ہے۔ ہاں، مگر یہ کہ تم مجھ پر رحم کر کے اپنی اصلاح وضع کرو۔ کیا تمہاری سعادت مندی اس بات کو جائز رکھتی ہے کہ تمہارے سبب قیامت میں میری رسوائی ہو؟ کیا تمہاری حمیت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ تمہاری وجہ سے میں حشر کے دن میں خدا کے غضب میں پکڑا جاؤں؟ چوں کہ تم میرے بڑے بیٹے ہو، مجھ کو سب سے زیادہ تمہارا بھروسہ تھا کہ تم اس مشکل میں میرا ساتھ دو گے، میری مدد کرو گے، نہ کہ تم نے ملنے سے بھی کنارہ کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میری آس ٹوٹ گئی اور میری ذہنی منصوبے تمام بگڑ گئے۔ اتنی بڑی مہم اور میں اکیلا! اتنا مشکل کام اور میں تنہا!

    تم جانتے ہو کہ تمہارا انحراف میرے انتظام میں کتنا خلل ڈالے گا۔ چھوٹے بڑے سب تم کو سند گردانیں گے اور بات بات میں تمہارا حوالہ دیں گے۔ اگر تم اسی مصلحت سے میری شرائط کو قبول کر لیتے تو تمہارا کیا بگڑ جاتا؟ تم نے ابتداء ہی سے وہ سختی اختیار کی جس کی مجھ کو انجام میں بھی تم سے توقع نہ تھی۔ جتنی مشکلیں مجھ کو پیش آنے والی ہیں میں ان سے بے خبر نہیں ہوں اور اگر اس ارادے کا ترک کر دینا میرے اختیار میں ہوتا تو مین تم کو سچ کہتا ہوں، میں اس بات کو منہ ہی سے نہ نکالتا۔ لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ میں کوئی انوکھا آدمی نہیں ہوں۔ آخر مجھ کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ ابھی جب میں نے ہیضہ کیا تو کیا مرنے میں کچھ باقی رہ گیا تھا؟ خدا کی قدرت تھی کہ اس نے مجھ کو از سر نو پھر جلا دیا۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔

    رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
    پھر آخر کو مرنا ہے حضرت سلامت

    اور جس طرح مرنا یقینی ہے یہ بھی یقینی ہے کہ مجھ کو اپنے اعمال و افعال کے واسطے خدا کے حضور میں جواب دہی کرنی پڑے گی اور نہ صرف اپنے اعمال و افعال کے واسطے بلکہ تم سب کے اعمال و افعال کے واسطے بھی۔ پس سوائے اس کے کہ میں اپنا اور تم سب کا طرز زندگی بدل دوں اور کچھ چارہ نہیں۔ اگر تم میرے پاس آئے ہوتے تو مجھ سے اور تم سے بات چیت ہوئی ہوتی تو میں تمہاری رائے دریافت کر کے ایک خاص طور پر تم سے گفتگو کرتا۔ اب مجھ کو نہیں معلوم کہ جتنی باتیں میں نے کہیں ان میں سے کون سی تم کو تسلیم ہیں اور کس کس سے تم کو انکار ہے؟

    اب زیادہ لکھنا فضول و عبث سمجھتا ہوں، لیکن جو میرے ذہن میں تھا، لکھ چکا۔ میں تم سے اس کے جواب کا متقاضی نہیں اور اس کے دو سبب ہیں۔ اول یہ کہ مین اپنے تقاضے کا لاحاصل اور بے اثر ہونا دیکھ نہیں سکتا۔ دوسرے، صرف ایک ہی جواب ہے کہ اس کو میں بطیب خاطر سن سکتا ہوں، وہ یہ کہ تم میری شرطوں کو منظور کرو۔ ورنہ میں اپنے تئیں مواخذہ عاقبت سے بچانے کے لئے البتہ ان چند روزہ رشتوں کا پاس اور ان عارضی قرابتوں کی پروا نہیں کر سکتا اور یہ میری ہارلے درجے کی تدبیر ہے اور میں خدا سے گڑگڑا کر دعا مانگتا ہوں کہ مجھ کو اس کے اختیار کرنے کی ضرورت واقع نہ ہو۔ والدعا۔

    خط پڑھ کر فہمیدہ بیٹے سے کہنے لگی "دیکھا؟"

    بیٹا:

    جو کچھ خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا؟"

    ماں: کیا اب بھی تم کو باپ کی نسبت جنون کا احتمال ہے؟

    بیٹا: احتمال کیسا، اب تو یقین کامل ہے۔ بہ قول شخصے

    دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

    اپنے تئیں بادشاہ سمجھنا جنوں نہیں تو کیا ہے؟

    ماں: "انا للہ و انا الیہ راجعون"

    بیٹا: کیوں، آپ نے انا للہ کس بات پر کہا؟

    ماں: تمہاری الٹی سمجھ اور تمہاری بدقسمتی پر۔

    بیٹا:

    بہتر ہے وہی جو کچھ بدی ہے

    ماں: تو کیا سچ مچ تم باپ کے پاس نہ جاؤ گے؟

    بیٹا: اب تو میرا نہ جانا ان پر بھی ظاہر ہو گیا ہے، پھر کیا ضرورت ہے۔ کل جیسی ہوگی دیکھی جائے گی۔

    ماں: دیکھو پھر میں تم سے کہے دیتی ہوں کہ رات کو اطمینان سے تم اس خط کے مطلب پر غور کرو۔ تمہارے باپ نے کوئی بات بے جا نہیں لکھی۔ جو شخص اس خط کو دیکھے گا، تم کو قائل معقول کرے گا۔

    فصل ہشتم

    نعیمہ کی خالہ زاد بہن صالحہ نے اس کو آ کر منایا، کھانا کھلایا
    اور اسی کے ساتھ نعیمہ خالہ کے یہاں چلی گئی

    ابھی فہمیدہ یہ بات پوری بھی نہیں کرنے پائی تھی کہ صالحہ کی ڈولی آ پہنچی۔ اترتے کے ساتھ خالہ سے پہلے یہی پوچھا: "کہو آپا نے کچھ کھایا پیا نہیں؟"

    خالہ: کچھ بھی نہیں۔

    صالحہ: ہیں کہاں؟

    خالہ: درے کے اندر کوٹھری میں۔

    صالحہ: آخر بات کیا ہوئی تھی؟

    خالہ: کیا علیم نے تم سے کچھ نہیں کہا؟

    صالحہ: اتنا ہی کہا کہ لڑائی ہوئی ہے، صبح سے کھانا نہیں کھایا۔ میں ہر چند پوچھتی رہی، کچھ نہیں بتایا اور کہا کہ بھائی وہاں چل کر پوچھ گچھ لینا۔

    تب خالہ نے شروع سے آخر تک سب ماجرا کہہ سنایا۔

    صالحہ بڑی دانش مند لڑکی تھی اور اگرچہ نعیمہ سے عمر میں کچھ چھوٹی تھی مگر دونوں میں بڑا میل ملاپ تھا۔ صالحہ کو جو دقت پیش آنے والی تھی اس کو سوچ کر اس نے خالہ سے کہا: "انشاء اللہ آپا کو میں راضی کر لوں گی، مگر میرے سوائے اس گھر میں دوسرا آدمی کوئی نہ رہے۔ کیوں کہ گھر میں جتنے آدمی ہیں، آخر سب اس حال سے واقف ہیں، ان میں سے کوئی سامنے جائے گا، تو آپ کو ضرور حجاب ہوگا۔

    بات صالحہ نے معقول سوچی تھی، کیوں کہ جب ایک مجمع میں کسی آدمی کی بے عزتی ہوتی ہے تو جو لوگ اس کی تفضیح دیکھ چکے ہیں، وہ سب کو اپنا دشمن ٹھہرا لیتا ہے۔ شاید اس خیال سے کہ یہ سب کھڑے دیکھتے رہے اور انہوں نے میری کچھ مدد نہ کی اور ان میں سے جب کوئی شخص سامنے آتا ہے تو اس ستم رسیدہ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اسی نے مجھ کو فضیحت کرایا تھا۔ پس ضرور اس کے غصے کو ترقی اور اس کے غضب کو زیادتی ہوتی ہے اور اس بے چاری بیدارا نے جو ناحق ایک دولتی کھائی تو اسی وجہ سے، ورنہ اس کا کیا قصور تھا۔ وہ ماں بیٹیوں کے بیچ میں کچھ بولی نہیں چالی نہیں، نہ کسی طرح کا دخل دیا، نہ کسی کی طرف داری کی اور دخل دینے کی فرصت کس کو ملی۔ ماں بیٹیوں میں ایک بات پر رد و کد شروع ہوئی، جیسے ہمیشہ ہوا کرتی ہے۔ ماں نے دفعتہً بیٹی کو طمانچہ کھینچ مارا۔ غرض بات کی بات میں تو تیاری، سامان، ارادے، چڑھائی، مار کٹائی، ہار جیت، سب کچھ ہو گیا۔ گھر والے دیکھتے کے دیکھتے رہے۔

    صالحہ نے جو اپنا انتظام خالہ کو سنایا۔ انہوں نے بھی پسند کیا اور سب لوگوں سے کہہ دیا کہ اس قطعے میں کوئی نہ جائے۔ ہر ایک کو سونے بیٹھنے کا ٹھکانہ بتا دیا اور اپنے واسطے یہ تجویز کی کہ ہم گھر والے سب مردانے میں پردہ کرا کر سو رہیں گے۔ بلکہ صالحہ نے کہا بھی کہ آپ کوٹھے پر سوئیں، خالہ نے جواب دیا کہ ابھی مجھ کو ان بڑے حضرت، میاں کلیم کے ساتھ سر مارنا ہے۔

    صالحہ: کیا ان سے بھی لڑائی ہوئی ہے؟

    خالہ: لڑائی کیسی ان سے چھٹم چھٹا ہو رہی ہے۔

    صالحہ: کس بات پر؟

    خالہ: بات تو اتنی سی ہے کہ باپ نے ان کو نماز روزے کے واسطے نصیحت کرنے کو اپنے پاس اوپر بلوایا، یہ نہیں گئے۔

    صالحہ: خالو جان نے بلوایا اور یہ نہیں گئے؟

    خالہ: تم کو نہ جانے پر تعجب ہوتا ہے، باتیں سنو تو حیران ہو جاؤ۔ باپ کو دیوانہ اور مجنوں، نماز کو کھڑاک، دین کے پیشواؤں کو ملانے، قلاؤذے، مردہ شو، ٹکڑ گدے، بھک منگے بتاتے ہیں۔

    صالحہ: کسی نے آپ سے غلط کہہ دیا ہوگا۔

    خالہ: میرے رو در رو۔

    صالحہ: پھر کسی نے ان کو سمجھایا ہوتا۔

    خالہ: ایک سمجھانا۔ علیم نے بہتیرا سر مارا۔ میں شام سے اب تک کہتے کہتے تھک گئی۔ جن مصیبتوں سے آج کا دن کٹا ہے، خدا ہی جانتا ہے۔ دانہ تک میرے یا حمیدہ کے منہ میں گیا ہو تو جس طرح کی چاہو قسم لے لو۔ اس نعیمہ کا فکر، کلیم کا تردد اور سب سے بڑھ کر نعیمہ کے بچے کو سنبھالنا، کہ آج اس کو دن بھر روتے گذرا ہے۔

    صالحہ: آپ کھانا کھائیے۔ دوسرا وقت بھی ناوقت ہو گیا ہے۔ یقین ہے کہ آپ کے کھاتے کھاتے میں آپا کے واسطے کھانا منگواتی ہوں۔

    خالہ: میری کیا جلدی ہے، میں کھا ہی لوں گی۔ حمیدہ بے چاری کے صبر کو دیکھو کہ اس نے کھانے کا نام بھی نہیں لیا۔ کل اسی وقت کا کھائے ہوئے ہے۔ خالی پیٹ میں دن بھر پانی انڈیلتی رہی ہے۔ میں نے ہرچند کہا نہ مانا۔ آخر بھوکی سو رہی۔

    صالحہ: کیا آپ حمیدہ پر بھی کچھ خفا ہوئی تھیں؟

    خالہ: مطلق نہیں۔ اس نے بہن کے افسوس میں کھانا نہیں کھایا۔ بہن کا وہ حال کہ بس چلے تو جان سے مار ڈالنے میں تامل نہیں اور اس کی یہ کیفیت کہ بہن پر اپنا دم دیتی ہے۔ بھانجے کو اس قدر چاہتی ہے کہ رات کو بھی ساتھ لے کر سوتی ہے۔

    صالحہ: حمیدہ کو آپ جگائیے اور اطمینان سے آپ بھی کھانا کھائیے اور اس کو بھی کھلائیے۔ آپا کی اب کچھ فکر نہ کیجئے۔

    یہ کہہ کر صالحہ اندر مکان میں گھستے ہی پکاری: "کیوں بی، میری آپا کہاں ہیں؟" گھر میں کوئی ہو تو جواب دے۔ سب سے پہلے باورچی خانے میں گئی، وہاں نہ دیکھا تو دالان میں آئی، وہاں بھی نہ پایا تو سہ درے میں ڈھونڈتی پھری۔ غرض ٹال مٹول کرتے کرتے آخر کار درے والی کوٹھری کے پاس آ کر جھانکنے لگی، جہاں نعیمہ تھی۔ نعیمہ دن بھر تو فرش پر پڑی رہی مگر صالحہ کی آواز سنتے کے ساتھ جلدی سے اٹھ منہ لپیٹ پلنگ پر جا لیٹی اور دروازے کی طرف پیٹھ کر لی۔ صالحہ نے پہلے تو انجان بن کر پوچھا: "یہ پلنگ پر کون لیٹا ہے؟" پھر آپ ہی کہنے لگی: "آہا آپا ہیں۔ ایں، اکیلی کوٹھری میں اور ایسے سویرے!" اتنا کہا تو دوڑ کر نعیمہ کو لپٹ گئی۔

    نعیمہ نے جب سے صالحہ کی آواز سنی، اس کو ایک طرح کی حیرت تھی کہ سان نہ گمان دفعتہً یہ کہاں سے آ موجود ہوئیں۔ مگر یہ بات اس کے ذہن میں بھی نہیں گذری کہ بلوائی ہوئی آئی ہے۔ نعیمہ نے اس وقت اپنے تئیں ایسا بنا لیا کہ گویا دیر سے پڑی سوتی ہے اور بھاری سی آواز بنا کر بولی: "اے ہے، بھائی ہم کو دق نہ کرو، ہم کو سونے دو۔"

    صالحہ: ہائے بی آپا! میں ہوں صالحہ۔ اٹھو منہ کھولو، ابھی سے کیوں سو رہیں، جی کیسا ہے؟"

    اگرچہ نعیمہ نے چاہا کہ صالحہ پر اپنی کیفیت ظاہر نہ کرے مگر اس نے ایسی ہمدردی سے پوچھا کہ نعیمہ ضبط نہ کر سکی اور رونے لگی۔ اس کو روتا دیکھ کر صالحہ نے اصرار سے پوچھنا شروع کیا: "کیا سر دکھتا ہے؟ پیٹ میں درد ہے؟ بچے کا جی کیسا ہے؟ سسرال والوں نے کچھ کہلا بھیجا ہے؟ گھر میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟" صالحہ بہتیرا پوچھتی تھی مگر نعیمہ ہاتھوں سے پرے دھکیلتی جاتی تھی اور کچھ جواب نہیں دیتی تھی۔ آخر صالحہ نے کہا: "نہ بتاؤ تو مجھ کو کھاؤ۔" تب نعیمہ خفا ہو کر بولی: "چل مکارہ، مجھی سے باتیں بنانے آئی ہے۔ کیا تجھ کو خبر نہیں؟"

    صالحہ: ابھی مولوی ہدایت اللہ صاحب کے وعظ سے اٹھی چلی آتی ہوں۔ یہاں آئی تو خالہ اماں اور گھر والے سب مردانے مکان میں ہیں۔ اتنا سنا کہ بڑے بھائی خفا ہو کر گھر سے جا رہے ہیں۔ مجھ کو تم سے ملنے کی جلدی تھی، اماں کو سلام کر سیدھی اندر چلی آئی۔ یہاں آ کر دیکھا تو نہ آدم نہ آدم زاد۔ تم کو سارے گھر میں ڈھونڈتی پھری۔

    نعیمہ: کیوں، بڑے بھائی کس بات پر گھر سے نکل رہے ہیں؟

    صالحہ: لوگ آپس میں کہہ رہے تھے کہ خالو ابا نے کہلا بھیجا ہے، نماز پڑھیں تو میرے گھر میں رہیں ورنہ جہاں چاہیں چلے جائیں۔

    نعیمہ: آگ لگے اس نماز کو۔ یہ کیا اب گھر میں کسی کو تھوڑا ہی رہنے دے گی۔ یہ تو حمیدہ کے سواے سبھی کو نکلوائے گی۔

    صالحہ: تو کیا آپا تم بڑے بھائی ہی کے واسطے پڑی رو رہی تھیں؟

    نعیمہ: مجھ کو تو بے چارے بڑے بھائی کی خبر بھی نہیں۔ ان سے پہلے میں خود آپ نکلنے کو بیٹھی ہوں۔

    صالحہ: توبہ آپا توبہ۔ کیسی بدفال منہ سے نکالتی ہو کہ خدا پناہ میں رکھے۔ اللہ نہ کرے کہ کسی بھلے مانس اشراف کی بہو بیٹی گھر سے نکلے۔

    نعیمہ: جب سے اس نماز روزے کا چرچا ہمارے گھر میں ہوا ہے، بھلمنساہٹ اور شرافت سب گئی گذری ہوئی۔ اب آئی تو دو چار دن رہ کر ہر ایک کا رنگ ڈھنگ دیکھنا۔ نہ وہ زمین رہی نہ آسمان۔ گھر کا باوا آدم ہی کچھ بدل سا گیا ہے۔ نہ وہ ہنسی ہے، نہ وہ دل لگی ہے، نہ چرچے ہیں، نہ وہ مذاق ہے، نہ وہ چہچہے ہیں۔ گھر میں ایک اداسی سی چھائی رہتی ہے۔ ورنہ ابھی ایک مہینے کا مذکور ہے کہ محلے کی عورتیں تمام تمام دن بھری رہتی تھیں۔ کوئی گیت گا رہی ہے، کوئی کہانی کہہ رہی ہے۔ یہ ہمسائی عجوبہ، کچھ اس طرح کی زندہ دل ہیں کہ ہر روز نئی نئی نقلیں کر کر کے سب کو ہنساتے ہنساتے لٹا لٹا دیتی تھیں۔ اب کوئی گھر میں آ کر تھوکتا بھی نہیں۔ گھر ہے کہ کم بخت اکیلا پڑا بھائیں بھائیں کیا کرتا ہے۔

    صالحہ: آخر اس کا سبب کیا؟

    نعیمہ: سبب تمہاری خالہ جان اور حمیدہ کے ابا جان کی بدمزاجی۔ کسی کو کیا غرض، کیا مطلب کہ اپنے کام کاج کا ہرج کرے اور پرائے گھر میں آ کر بیٹھے۔ کیا لوگوں کے گھروں میں بیٹھنے کی جگہ نہیں؟ لوگوں کی خاطر داری ہوتی تھی، محبت سے ان کے ساتھ پیش آتی تھیں، لوگ دوڑے آتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ ہر وقت منہ کپے کی طرح پھولا رہتا ہے۔ غیر آدمی کیوں برداشت کرنے لگے۔ سب کے سب چلتے پھرتے نظر آئے۔ ابا جان کے اچھے ہونے پر ڈومنیوں نے سینکڑوں ہی پھیرے کئے۔ سب ہی نے کہا۔ ہمسائی عجوبہ نے منتیں کیں، ہاتھ جوڑے، ایک نہ مانی۔ آخر رہ رت جگا تو خاک بھی نہ ہوا، نگوڑے مسجد کے ملانوں کو بلا کر کھلا دیا۔ اب تو بوا، دن رات نماز کا وظیفہ ہے۔ وہ دیکھو تخت پر نماز کا چیتھڑا بچھا رہتا ہے۔ وضو کا کلہڑا کیا مجال کہ کسی وقت پاس سے الگ ہو جائے۔ کام کاج سے فارغ ہوئیں تو یا نماز پڑھنے کھڑی ہوئی گئیں یا کتاب پڑھنے بیٹھ گئیں۔ ایک حمیدہ کٹنی ان کو ایسی مل گئی ہے کہ اور ان کو اکسایا کرتی ہے۔ میرا بس چلے تو کتیا کو ایسا ماروں ایسا ماروں کہ یاد کرے۔

    صالحہ: اے ہے، حمیدہ تو نگوڑی ایسی غریب اور بھولی لڑکی ہے کہ میں نے آج تک کوئی اس کی شرارت کی بات دیکھی کیا سنی بھی نہیں اور تم کو تو اتنا چاہتی ہے کہ کاہے کو کوئی بہن کسی بہن کو چاہے گی۔ رمضان کی بات مجھ کو اب تک نہیں بھولی۔ تم کو تو یاد ہوگا کہ اخیر عشرے میں میں نے اس کو بلوا بھیجا تھا۔ گھر میں سبھی کو افطاری تقسیم ہوتی تھی، اس کو بھی حصہ ملتا تھا۔ بچہ سمجھ کر ہر چیز میں سے کچھ کچھ زیادہ دے دیتے تھے مگر اس کو منہ پر رکھنا قسم تھا۔ لوگ کھاتے اور یہ منہ دیکھتی۔ بہتیرا سمجھاتے کہ بھائی یہ کیا بری عادت ہے۔ چیز ہوتے سہاتے تم نہیں کھاتیں۔ مگر یہ اللہ کی بندی چکھتی تک بھی تو نہیں تھی۔ پہلے مجھ کو خیال ہوا کہ شاید خست کی وجہ سے نہیں کھاتی۔ مگر میں نے پوچھا تو کہنے لگی: "آپا بغیر کوئی چیز میرے حلق سے نہیں اترتی۔" دیکھو، دن بھر تمہارے لڑکے کے لئے رہتی ہے اور لڑکے کو بھی کچھ ایسا آرام ملتا ہے کہ کیسا ہی پھڑکتا ہو، اس کی گود میں گیا اور چپ اور تمہاری کیا خصوصیت ہے، ہر ایک سے اسی طرح محبت سے ملتی ہے۔ میں تو تم سے سچ کہوں، مجھ کو تو بہت ہی پیار آتا ہے۔ جب آتی ہوں خوب بھینچ بھینچ کر کئی دفعہ گلے لگاتی ہوں۔

    نعیمہ: جس کو دیکھتی ہوں، حمیدہ کا ہی کلمہ بھرتا ہے اور میری یہ کیفیت ہے کہ اس کو دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اترتا ہے۔

    صالحہ: اچھی، کیوں؟

    نعیمہ: مجھ کو اماں جان سے اسی نے برا بنوایا۔ ورنہ آج تک تو کبھی ہوں بھی نہیں کہا تھا، یا آج چھوٹتے کے ساتھ، نہ بات نہ چیت، مجھ کو تھپڑ کھینچ مارا۔ خیر الٰہی، حمیدہ بندی، تجھ کو انہی ہاتھوں سے اماں جوتیاں ماریں تب میرے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے اور جیسی تو آج کل سر چڑھی ہے، ویسی ہی نظروں سے گرے تب میرے دل کی مراد بر آئے۔

    صالحہ: خالہ اماں نے تم کو تھپڑ مارا؟ یہ کب اور کیوں؟

    نعیمہ: آج صبح ذرا کی ذرا لڑکا حمیدہ کو دے کر میں ہاتھ منہ دھونے چلی گئی۔ تم کہتی ہو کہ بھانجے پر فدا ہے۔ لڑکے کو روتا ہوا زمین پر پٹک دیا۔ اس کو اتنا بھی ترس نہ آیا کہ ابھی پسلی کے دکھ سے مر مر کے بچا ہے، یوں جو زمین پر بٹھائے دیتی ہوں، ایسا نہ ہو کہ اس کی صبح کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    ٹھنڈی ہوا لگ جائے اور پھر بیمار پڑے۔ پس اتنا قصور میرا ضرور ہے کہ میں نے ہولے سے حمیدہ کو ہاتھ لگایا۔ ہاتھ کا لگانا تھا کہ وہ فیلہائی دھڑام سے تخت پر گر پڑی۔ کہیں ذرا سی خراش آ گئی۔

    صالحہ: کیا کہوں، مجھ کو تو یقین نہیں آتا کہ حمیدہ اور بھانجے کو بے سبب روتا ہوا زمین پر بٹھا دے اور خالہ جان حمیدہ کی طرف ہو کر تم کو ماریں۔ بھلا جاؤں خالہ جان سے پوچھوں؟

    نعیمہ: حمیدہ کے بٹھا دینے کا سبب میں بتاؤں۔ ان کی نماز قضا ہوتی تھی اور ان کی اماں جان اس بات پر بگڑیں کہ میں نے نماز کو کیوں برا کہا۔

    صالحہ: پھر تم نے نماز کو برا کہا تھا؟

    نعیمہ: کہا تھا اور اب بھی کہتی ہوں۔ اماں کو تو کچھ نہیں کہا۔ نماز کو برا کہنا ان کو برا کیوں لگا؟

    صالحہ: بھلا کوئی آدمی تمہارے ماں باپ کو برا کہے تو تم کو برا لگے یا نہ لگے؟

    نعیمہ: اماں جان کو کوئی شوق سے برا کہے، مجھ کو ذرا برا لگنے ہی کا نہیں۔

    صالحہ: آج سے یا سدا سے؟

    نعیمہ: (مسکرانے لگی اور بولی) کم بخت بے حیا ہنسی کو دیکھو کہ خود بہ خود چلی آتی ہے۔ نہ بوا، ایسی باتیں ہم سے نہ کرو۔

    صالحہ: کیا خوب۔ میں تمہارے غصے سے نہیں ڈرتی۔ بہت کرو گی تو خالہ جان نے تم کو ایک طمانچہ مارا ہے، تم مجھ کو دو طمانچے مار لینا۔ لیکن اماں باوا کا اتنا پاس نہیں تھا کہ تو سسرال والوں سے لڑیں کیوں؟

    نعیمہ: بات بات میں ناحق کوئی برا کہا کرے تو جی نہ جلے؟

    صالحہ: میں یہ کب کہتی ہوں کہ نہ جلے۔ لیکن خالہ جان نے نماز کا پاس کیا اور ان کو تمہاری بات بری لگی تو بے جا کیا ہوا؟

    نعیمہ: تو کیا نماز ان کی اماں ہے یا نانی ہے؟

    صالحہ: جن کو ایمان ہے ان کو ماں سے بڑھ کر پیاری اور نانی سے زیادہ عزیز ہے۔

    نعیمہ: تو کیا میں تمہارے نزدیک بے ایمان ہوں؟

    صالحہ: خدا کے فضل سے میں تو بے ایمان نہیں ہوں مگر رہتے سہتے کون ہوئے۔۔۔ تم؟

    نعیمہ: بھلا ایمان سے کہنا، تم نے میری کون سی بات بے ایمانوں کی سی دیکھی؟

    صالحہ: ایمان سے مت کہلواؤ۔

    نعیمہ: نہیں، تمہیں خدا کی قسم، بھلا کوئی بات تو بتاؤ۔

    صالحہ: پھر برا تو نہیں مانو گی؟

    نعیمہ: سچی بات میں برا ماننے کی کیا وجہ؟

    صالحہ: سچ اور ایمان کی بات تو یہ ہے کہ تمہارے قول و فعل کوئی بھی ایمان داروں کے سے نہیں اور مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت تم خود ہی بتا دو کہ میں فلانا کام ایمان والوں کا سا کرتی ہوں۔ کھانا، پینا، سونا، گھر کا کام دھندا، بچوں کا پالنا، یہ تو دنیا میں برے بھلے سب ہی کیا کرتے ہیں۔ بھلا ایک کام تو ایسا بتاؤ جس سے تمہارا ایمان دار ہونا پہچانا جائے۔

    نعیمہ: بھلا دنیا میں تمہارے نزدیک کوئی بھی ایمان دار ہے یا نہیں؟

    صالحہ: کیوں نہیں۔ اللہ کے بندے سینکڑوں ہزاروں۔

    نعیمہ: بھلا میں بھی کسی کا نام سنوں۔

    صالحہ: دو کیوں جاؤ، یہ تمہاری ہی گلی میں ایک حضرت بی رہتی ہیں، جن کے نواسے بھائی علیم کے ساتھ مدرسے میں پڑھنے جاتے ہیں۔ بس ایمان دار ان کو کہتے ہیں۔ دیکھو تو، کیا نیک زندگی ہے۔

    نعیمہ: میں تو ان کو دن بھر سیتے ہی دیکھتی ہوں۔

    صالحہ: سچ ہے، مگر خدا کے واسطے غریب غربا کے کپڑے مفت اور امیروں کے مزدوری پر۔ لیکن جتنی سلائی ہوتی ہے سب اللہ کے نام پر دے دیتی ہیں، ایک پیسہ اپنے اوپر خرچ نہیں کرتیں۔ یہ عمر اور کڑاکے کے جاڑوں میں پہر رات رہے سے اٹھ کر خدا کی عبادت۔ گھر میں نوکر نہیں چاکر نہیں، اپنے ہاتھوں سارے گھر کا کام کاج اور اس پر نماز کی یہ پابندی کہ نماز تہجد تک قضا نہیں ہونے پاتی۔ محلے میں کتنی لڑکیوں کو انہوں نے پڑھنا لکھنا سکھایا، کتنوں کو حیوان سے آدمی بنایا اور حسبتہ اللہ، بے غرض، بے مطلب۔

    میں نے اپنی آنکھوں دیکھا ہے کہ مسجد کے کوئی پندرہ بیس مسافر دونوں وقت روٹی پکوانے کو آٹا بھیج دیتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے سب کا آٹا گوندھنا، گھر سے دال سالن جو کچھ وقت پر موجود ہو، دینا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ سالن نہیں بچا آپ روکھی ہی روٹی کھا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ بے چارے مسافر اکثر جوار باجرے کا آٹا لے آتے ہیں، وہ تو آپ رکھ لیتی ہیں اور اپنے گھر سے ان کو گیہوں کی روٹی بھیج دیتی ہیں۔ ایک دن باجرے کی روٹی، وہ بھی روکھی، بیٹھی کھا رہی تھیں۔ نوالہ حلق سے نہیں اترتا تھا۔ ہر ہر لقمے کے بعد پانی پینے کی ضرورت ہوتی تھی۔ میں جو جا نکلی تو مجھ کو دیکھ کر کہنے لگیں: "بیٹا مجھ کو باجرے کی روٹی بہت بھاتی ہے۔ کچھ ایسی سوندھی میٹھی اور خستہ ہوتی ہے کہ سبحان اللہ۔

    ایک طالب علم نے ان سے گاڑھے کی مرزائی سلوائی اور شاید وہ پہلا ہی کپڑا تھا کہ اس بے چارے کو سلوانے کا اتفاق ہوا۔ اس واسطے کہ جب وہ شخص کپڑے لے کر دروازے پر آیا تو حضرت بی صاحب نے اس سے کہا کہ بیٹا اپنی پرانی مرزائی بھیج دو کہ اس کو دیکھ کر قطر کر لوں، تو اس نے نہایت حسرت کے ساتھ کہا کہ مائی صاحب، میرے پاس مرزائی نہیں ہے۔ حضرت بی صاحب: "بیٹا، مرزائی نہ ہو تو انگرکھا ہی سہی۔ خیر، کچھ اٹکل تو مل جائے گی۔" طالب علم: انگرکھا بھی نہیں۔ مجبوراً اندر پردے میں حضرت بی صاحب نے اس سے پوچھ لیا کہ کمر کتنی ہے، چولی کتنی نیچی رہے گی، آستین کس قدر لمبی ہوگی۔ طالب علم نے بتایا۔ لیکن دیکھا تو کپڑا کمی کرتا تھا۔ تب طالب علم نے کہا کہ مائی صاحب جس طرح ہو سکے کھینچ تان کر اسی میں بنا دو اور آج نماز جمعہ سے پہلے ہی سی دو کہ الوداع کا دن ہے، میں جامع مسجد میں پہن کر جاؤں۔ غرض مرزائی سی گئی تو اس کے بدن پر ٹھیک نہ آئی۔ وہ بے چارہ مایوس ہو کر رو دیا اور اس ناامیدی میں حضرت بی پر انتا خفا ہوا کہ شاید گھر کی کوئی لونڈی پر بھی نہیں ہوتا۔ اندھی، بے وقوف، بے تمیز، پھوہڑ، بدسلیقہ، بے رحم، جو جو کچھ اس کے منہ میں آیا، بے دریغ کہہ ڈالا۔ باوجود یہ کہ گھر میں سب کو برا معلوم ہوا لیکن حضرت بی روتی جاتی تھیں اور الٹی اس کی استمالت کرتی تھیں۔ بڑے نواسے کا نیا تہ دوز چکن کا کرتہ اس کو دیا۔ لیکن اس نے اٹھا کر دور پھینک دیا اور کہا کہ مجھ کو بدن ڈھکنے کے واسطے کپڑے کی ضرورت ہے، یہ واہیات کپڑا میرے کس کام کا ہے، جس کو پہن کر آدمی ننگے کا ننگا۔ حضرت بی نے اپنے نواسوں کی تمام گھٹڑیاں کھول ڈالیں۔ خاصہ، تن زیب، ململ ڈھاکہ، پاٹن، ڈوریہ، رینگ، شبنم، نینوں، سینوں، سوزن کار، طرح طرح کے خوش وضع اور طرح دار کپڑے اس کو دکھائے اور ایک اس کو پسند نہ ہوا۔ کسی کو تو اس نے کہا: "مردوں کے استعمال کے قابل نہیں۔" کسی کی نسبت تجویز کیا کہ یہ متکبروں کی پوشاک ہے۔ آخر حضرت بی نے بازار سے کورا لٹھا منگوا، نماز جمعہ سے پہلے اس کی مرزائی تیار کی، تب وہ طالب علم ٹلا۔ حضرت بی کی طرح کوئی اپنا پتا مار لے تب ایمان کا دعوٰی کرے۔ اب تم خود غور کر لو کہ دن رات میں تم ایمان داروں کیسے کتنے کام کرتی ہو۔

    نعیمہ: ایک حضرت بی ایسی ہوئیں۔ بھلا کوئی دوسری عورت بھی اس مزاج کی اس شہر میں ہے؟

    صالحہ: چوں کہ تم اس طرح کے لوگوں سے نفرت رکھتی ہو، اس واسطے تم کو معلوم نہیں ورنہ شہر میں بہتیرے خدا کے نیک بندے پڑے ہیں۔ کہاں تک ان کے نام گنواؤں۔ ہے کیا، کوئی کم کوئی زیادہ۔ ایک میری ہی اماں ہیں، وہ بھی اپنے محلے کی حضرت بی ہیں۔

    نعیمہ: دو چار آدمی اس طرح کے ہوئے سہی۔ میں تو اپنی ہی جیسی عورتیں اکثر دیکھتی ہوں۔

    صالحہ: بے شک، دنیا میں نیک کم ہیں اور برے بہت۔

    نعیمہ: میں جانتی ہوں کہ عورتوں کے واسطے بہت نماز روزے کی کچھ ضرورت نہیں۔ بس ان کی یہی عبادت ہے کہ گھر کے کام کاج دیکھیں، بچوں کی خبر گیری کریں۔ ان کو خانہ داری کے بکھیڑوں سے اتنی فرصت کہاں ملتی ہے کہ نمازیں پڑھا کریں۔ مرد البتہ، نہ کھانے پکانے کی فکر، نہ بچوں کا جھگڑا، جتنی چاہیں عبادت کر لیں۔

    صالحہ: مردوں کو کمانے کا تھوڑا کام ہے کہ بے چارے دن دن بھر اسی میں لگے رہتے ہیں۔ محلے کے ڈبکیوں کو دیکھو کہ منہ اندھیرے جو کھٹا کھٹ شروع کرتے ہیں تو آدھی آدھی رات تک کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ پھر بھی جتنا خدا کا خیال مرد رکھتے ہیں، عورتیں کم بخت اس کا آدھا، پاؤ بھی نہیں رکھتیں۔

    نعیمہ: چاہے تم کچھ ہی کہو، عورت مرد کی برابری تو ہرگز نہ ہوگی۔ ضرور اللہ میاں نے عورتوں کے حق میں کچھ نہ کچھ آسانی رکھی ہوگی۔

    صالحہ: سبب؟

    نعیمہ: بھلا کہیں نگوڑی عورتوں سے محنت ہو سکتی ہے؟

    صالحہ: عبادت میں نہ چھپر اٹھانا ہے نہ لکڑیاں ڈھونی ہیں، کہ عورتیں کمزوری کا عذر اور نزاک کا حیلہ پیش کریں۔ بلکہ ایک حساب سے عورتوں کو زیادہ عبادت کرنی چاہیئے ۔ کیوں کہ اول تو عورتوں کو عبادت کی فرصت زیادہ ملتی ہے، دوسرے خدا کی نعمتوں سے عورتیں زیادہ حصہ پاتی ہیں۔ کھانے پینے میں مرد عورت سب برابر۔ کپڑے میں مرد بیچارے ایک حصہ تو عورتیں ویسے دس۔ نہ عورتوں کا ایک پائجامہ نہ مردوں کا ایک برس کا سارا برس اور یوں بھی عورتوں کی پوشاک عموماً عمدہ اور بیش قیمت ہوتی ہے بہ نسبت مردوں کے۔ بڑی رقم ہے زیور۔ عورتوں کو سونے کی کان میں قبر کھود کر گاڑ دو، تب بھی بس نہیں۔ مرد بے چارے، جو ثقہ اور وضع دار ہیں، چاندی کا چھلا تک بھی نہیں پہنتے۔ اس پر بھی عورتیں عبادت میں کمی کریں تو ان کی وہی کہاوت ہے، کھانے کو چچا اور کام کو ننھا بچہ۔

    نعیمہ: تم تو اچھی میری قسمت کی سچ مچ مولودی صاحب بن کر آئیں۔

    صالحہ: مولویوں کے درجے مولویوں کے ساتھ ہیں۔ میں بے چاری کس لائق ہوں۔ مولویوں کی جوتیوں کی برابری بھی نہیں کر سکتی۔

    نعیمہ: افسوس ہے کہ تم ہماری اماں کے یہاں پیدا نہ ہوئیں۔

    صالحہ: افسوس کی کیا بات ہے؟ بلکہ میں تو سمجھتی ہوں شکر کا مقام ہے۔

    نعیمہ: کیوں؟

    صالحہ: تم بتاؤ کہ تم نے کیا سمجھ کر افسوس کیا۔

    نعیمہ: میں نے تویہ سمجھ کر افسوس کیا کہ تم ہماری اماں کے یہاں ہوئی ہوتیں تو دونوں کو اچھا تھا۔ ہماری اماں تمہی جیسی بیٹی ڈھونڈھتی ہیں اور تم بھی امیر گھر پاتیں تو کھانا، کپڑا، زیور، نوکر، سبھی طرح کی خوشی تھی۔

    صالحہ: اگر اس خوشی کا یہی نتیجہ ہے کہ آدمی خدا کو بھول جائے تو میرے نزدیک یہ تمام فراغت، دنیا کا جنجال اور آخرت کا وبال ہے۔ کون چار دن کی خوشی کے واسطے ہمیشہ ہیشہ کی مصیبت مول ہے۔ مجھ کو خدا کے فضل سے پیٹ بھر روٹی اور تن بدن ڈھانک لینے کو کپڑا، رہنے کو مکان، لیٹنے کو چارپائی، پینے کو پانی، دم لینے کو ہوا، سب کچھ میسر ہے۔ میں نہیں جانتی کہ مجھ کو دنیا کی کوئی اور چیز بھی درکار ہے۔ سوائے اس کے تم نے پتھر یعنی سونا چاندی مجھ سے زیادہ اپنے اوپر لاد دلئے ہیں اور بوجھ کے صدمے سے کان تمہارے کٹے پڑتے ہیں، ناک تمہاری چھے گئی ہے اور تو کوئی فرق میں تم میں اور اپنے میں نہیں پاتی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ خدا نہ خواستہ تم کو کھانے کی تکلیف ہے، مگر صورت تمہاری یہ ہے کہ بدن پر بوٹی نہیں، ہاتھ پاؤں میں جان نہیں، ہر سال جلاب، ہر مہینے فصد، آئے دن دوا۔ مجھ کو دیکھو کہ خدا کے فضل سے تم سے دونی نہیں تو ڈیوڑھی میں شک بھی نہیں۔ ایک ہاتھ سے تمہارے دونوں ہاتھ پکڑ لوں تو بیوی صاحب سے ہلا بھی نہ جائے۔

    نعیمہ: بیماری بھی امیری کا تمغہ ہے۔ نگوڑے بھوکے، جن کے پیٹ کو روٹی میسر نہیں، وہ کیا بیمار پڑیں گے۔

    صالحہ: یہاں تمغے اور خلعت کا مذکور نہیں ہے، تکلیف اور آرام میں گفتگو ہے۔

    نعیمہ: جی تو خوش کر لو۔ لومڑی کو جب انگور نہیں ملتے تو وہ ان کو کھٹا کہا کرتی ہے۔

    صالحہ: اپنی اپنی سمجھ ہی تو ہے۔ تم میرے تئیں جانتی ہو کہ یہ تکلیف میں ہے اور میں کہتی ہوں کہ تم ایسے عذاب میں مبتلا ہو کہ خدا دشمن کو بھی نصیب نہ کرے۔ کھانے پینے کے عیش آرام جو تم کو میسر ہیں، ان کا نتیجہ تو یہ ہے کہ تم سدا کی دکھیا اور ہمیشہ کی روگی بن رہی ہو۔ رہا کپڑا، کچھ تم ہی اس کو پہن کر اپنے جی میں خوش ہوتی ہوگی۔ ابھی خالو جان یا بڑے بھائی آ جائیں تو سوائے اس کے کہ تم ان کے سامنے سے ہٹ کر بیٹھو اور کیا تبدیر ہے۔ رہا زیور جس کی زکوٰۃ نہ خیرات، اس سے بیڑیاں بہتر، طوق اور ہتھکڑی اچھی۔ بڑی خوشی محبت اور میل ملاپ کی ہوتی ہے۔ اس کا یہ حال ہے کہ تم ماں سے بری، حمیدہ کی دشمن، ساس سسروں سے بگاڑ، میاں سے نا موافقت، نوکر شاہی، لونڈیاں نالاں۔ اسی پر تم اپنے تئیں سمجھتی ہو کہ میں خوش ہوں۔ ابھی تم پڑی رو رہی تھیں یا ہنس رہی تھیں؟

    نعیمہ: سبحان اللہ آپ کیا آدمی ہیں۔ کیا گھروں میں کبھی لڑائی نہیں ہوتی؟ چار برتن پاس رکھ دیتے ہیں تو وہ بھی کبھی نہ کبھی کھڑکھڑا اٹھتے ہیں۔

    صالحہ: اگر ایسا ہی سمجھتیں تو اتنی بات کا بتنگڑ نہ بناتیں۔

    نعیمہ: میں نے کیا بات کا بتنگڑ بنایا؟

    صالحہ: تمہی اپنے دل میں سوچو۔ ماں کے ہاتھ لگانے پر یہ آفت۔ صبح سے اب تک آپ بھوکی مریں، سارے گھر کو بھوکا مارا۔ شاباش بوا، شاباش! لڑو ماں سے، روٹھو خدا سے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر