تلادس کی آدم خور شیرنی (جم کاربٹ)

تلادس کی آدم خور شیرنی
جم کاربٹ
١٩٢٩ء میں بل بیز اور ہام ویولین الموڑا اور نینی تال کے بالترتیب ڈپٹی کمشنر تھے۔ دونوں کے ضلعوں میں آدم خور شیروں نے ہراس پھیلا رکھا تھا۔ الموڑا میں تلادس کی آدم خور اور نینی تال میں چوکا کا آدم خور شیر حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے۔
میں نے ویولین سے وعدہ کر رکھا تھا کہ پہلے اس کے ضلع کا آدم خور شیر ہلاک کروں گا۔ لیکن وہ موسم سرما میں زیادہ سر گرم عمل نہ ہوتا تھا۔ لہذا میں نے ویولین کی رضامندی حاصل کر کے تلادس کی آدم خور شیرنی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
مجھے اپنی تیاری میں زیادہ وقت نہ لگا اور میں چار اپریل کو اپنے چھ ملازموں اور ضروری سامان کے ہمراہ تلادس کی سمت چل پڑا۔ ہم نے کاٹھ گودام تک چودہ میل کا سفر پیدل طے کیا اور شام کو وہاں سے گاڑی میں بیٹھ کر دوسرے دن دوپہر کے قریب تنک پور پہنچ گئے۔ وہاں مجھے ایک پیش کار ملاجس نے بتایا کہ ایک دن پہلے تلا دس کی آدم خور نے ایک لڑکا ہلاک کر دیا تھا اور ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق دو جوان بھینسے چمپاوت کے راستے تلا دس روانہ کر دیے گئے ہیں۔ میں اور میرے آدمی تازہ دم ہونے اور کھانے پینے سے فارغ ہو کر کالا ڈھونگا کی سمت چل پڑے جو وہاں سے چوبیس میل کے فاصلے پر تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ شام تک کالا ڈھونگا پہنچ جائیں۔
دن قدرے گرم تھا۔ تنک پور سے روانہ ہونے کے بعد ہم نے سولہ میل کا سفر بڑے اچھے موڈ میں طے کر لیا۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ آس پاس کوئی گاؤں نہ تھا۔ آخر ہم نے کھلے میدان میں رات بسر کرنے کے لیے خیمے وغیرہ کھول دیے۔ سولہ میل پیدل چلنے سے جسم تھک گیا تھا۔ بستر پر لیٹتے ہی نیند نے مجھ پر غلبہ پا لیا۔
صبح ہوئی تو ناشتہ کرنے کے بعد ہم باقی سفر طے کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ اب ہمارے سامنے آٹھ میل کا دشوار گزر پہاڑیوں کا سفر تھا۔ اگرچہ اس سفر میں ہمیں کئی ایک تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن گردو پیش کے مناظر اس قدر دلفریب تھے کہ ان کے سبب ہر تکلیف دور ہو جاتی۔ دوپہر کے قریب ہم کالا ڈھونگا پہنچ گئے۔ رات بھی ہم نے وہیں بسر کی۔
اگلے دن ابھی سفیدۂ سحر نمودار نہ ہوا تھا کہ ہم کالا ڈھونگا سے اگلی منزل کی سمت چل پڑے۔ ہمارا موجودہ راستہ ہمیں کالا ڈھونگا اور چوکا سے گزار کر ان پہاڑیوں کے پیندے کی طرف لے گیا۔ جس کی دوسری سمت ہماری منزل تھی۔ یعنی تلادس کی آدم خور شیرنی کی شکار گاہ۔ پہاڑیوں کے پیندے میں ہم دو گھنٹوں تک آرام کے لیے رک گئے۔ وہاں ہم نے اپنا دوپہر کا کھانا کھایا اور چار ہزار فٹ کی بلندی چڑھنے کے لیے تیاری کرنے لگے۔
یہ چار ہزار فٹ کی چڑھائی اس قدر مشکل تھی کہ اس سے پہلے مجھے اور میرے آدمیوں کو اس قسم کا کوئی تجربہ نہ ہوا تھا۔ ہم تھوڑا سا چل لیتے اور پھر سانس لینے رک جاتے۔ آخر سورج غروب ہونے کے قریب ہم ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب پہنچے۔ چوکا میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم اس گاؤں کو نظر انداز کر دیں تو بہتر ہو گا۔ کیونکہ وہاں آدم خور شیر با قاعدگی سے آیا کرتا تھا۔ چونکہ ہم بے حد تھکے ہوئے تھے اور رات بھی سر پر پہنچ گئی تھی۔ لہذا آدم خور کی پروا نہ کرتے ہوئے ہم اس گاؤں کی سمت چل پڑے۔ گاؤں صرف دو گھروں پر مشتمل تھا۔ وہ لوگ ہمیں دیکھ کر بڑے خوش ہوئے۔ رات کے کھانے کے بعد گاؤں والوں نے میرے ملازموں کے رہنے کا بندوبست کیا اور میں خود ایک چشمے کے کنارے خیمہ نصب کر کے اور اپنی طرف سے ہر طرح سے محفوظ ہو کر سوگیا۔
صبح کے وقت مجھے معلوم ہوا کہ اس گاؤں کا نام تمالی تھا اور اس گاؤں کے باشندے کئی برس سے آدم خور شیر کے ہاتھوں سخت پریشان تھے اور بہت سا جانی نقصان برداشت کر چکے تھے۔ اس گاؤں میں آدم خور شیر کا آخری شکار ایک عورت تھی جو اس نے ایک ماہ پہلے ہلاک کی تھی۔ وہ عورت دوسری عورتوں کے ہمراہ کھیتوں میں کام کر رہی تھی کہ آدم خور اسے اٹھا کر لے گیا۔ لوگوں نے شیر کے ڈر کے مارے کھیتوں میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ اپنا روز مرہ کا سامان خریدنے کے لئے تنک پور جانے سے بھی گھبرانے لگے تھے۔ دیہاتیوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں تھالی میں ہی ٹھہر جاؤں کیونکہ شیر وہاں باقاعدہ چکّر لگاتا رہتا ہے اور اس طرح اسے ہلاک کرنے کا موقع مجھے مل جائے گا۔
جن لوگوں نے آپ پر اعتماد کیا ہو انہیں ایک آدم خور شیر کے رحم و کرم پر چھوڑ جانا آسان نہیں ہوتا۔ بہرحال انہوں نے میری بات مان لی۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں اپنی پہلی فرصت میں وہاں ضرور آؤں گا۔وہاں سے روانہ ہو کر میں اس گاؤں کی سمت چل پڑا جہاں شیر نے آخری انسانی شکار کیا تھا۔ روانہ ہونے سے پہلے میں اپنے آدمیوں سے کہہ کر آیا تھا کہ میں راستے میں نشانات لگاتا جاؤں گا اور وہ سامان باندھ کر چل پڑیں اور ان نشانات کی مدد سے میرے پیچھے پیچھے چلے آئیں۔
کوئی چار میل مغرب کی سمت چلنے کے بعد جنگل کی سڑک شمال کی سمت مڑ گئی تھی اور وادی کے سر پر سے گزرتی تھی۔ وادی کے نیچے شفاف پانی کی ایک ندی بہہ رہی تھی۔ ندی سے گزر کر میں جب دوسرے کنارے پر آیا تو میرے سامنے ہموار زمین کا ایک قطعہ پھیلا ہوا تھا جس کے آخر پر ایک گاؤں تھا۔ چند لڑکیاں گاؤں سے ندی کی سمت آ رہی تھیں۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو جذباتی ہو کر چلانے لگیں، "صاحب آگیا! صاحب آگیا!"
یہ خبر جلد ہی گاؤں کے گھر گھر میں پھیل گئی۔ جب میں گاؤں پہنچا تو مردوں، بچوں اور عورتوں کے ایک ہجوم نے مجھے گھیر لیا۔
گاؤں کے نمبردار سے معلوم ہوا کہ گاؤں کا نام تلا کوٹ تھا اور دو دن پہلے چمپاوت سے ایک پٹواری آیا تھا اور اس نے میری آمد کی اطلاع گاؤں میں پہنچا دی تھی۔ چنانچہ گاؤں والوں کو معلوم تھا کہ میں آدم خور شیر کو شکار کرنے کے لئے آ رہا ہوں۔ پٹواری کی آمد سے تھوڑی دیر بعد آدم خور شیر نے گاؤں کی ایک عورت کو ہلاک کر دیا تھا اور ڈپٹی کمشنر الموڑا کے حکم کے مطابق لاش کے بچے کچھے حصّوں کو اٹھایا نہیں گیا تھا۔ اس صبح میری آمد کی توقع پر گاؤں والوں نے چالیس آدمیوں کی ایک پارٹی لاش کے بچے کچھے حصّوں کو دیکھنے اور ان کے قریب کوئی مچان تیار کرنے کے لیے بھیج رکھی تھی۔ گاؤں کا نمبر دار ابھی مجھے یہ اطلاعات بہم پہنچا رہا تھا کہ آدمیوں کی پارٹی واپس گاؤں آ گئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں فقط عورت کے دانت ہی ملے تھے۔ باقی سارا جسم شیر کھا چکا تھا۔ حتی کہ اس کے کپڑے بھی غائب تھے۔ جب میں نے پوچھا کہ شیر نے عورت کو کس جگہ ہلاک کیا تھا تو ایک سترہ سالہ لڑکا جو اس پارٹی میں شامل تھا میرے قریب آیا اور کہنے لگا کہ وہ مجھے اس جگہ پر لے چلنے کو تیار ہے۔ وہ جگہ گاؤں کے دوسرے طرف تھی۔لڑکا میرے آگے آگے تھا اور میں لڑکے کے پیچھے پیچھے تھا اور میرے پیچھے مردوں، بچوں اور عورتوں کا ایک ہجوم تھا۔ گاؤں کے دوسری طرف پہنچ کر لڑکے نے کوئی ایک ہزار فٹ دور اور پندرہ ہزار فٹ نیچے کی سمت جھاڑیوں کے ایک جھنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آدم خور شیر نے اس کی ماں کو وہاں ہلاک کیا تھا۔ پھر اس نے ندی کے کنارے ایک پیپل کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اس کی ماں کے دانت اسے وہاں سے ملے تھے۔ شیر کے متعلق اس نے فقط اتنا کہا کہ اسے نہ تو اس نے اور نہ ہی کسی دوسرے آدمی نے دیکھا تھا اور نہ ہی اس کی آواز سنی تھی۔
ان لوگوں کی ہمّت و شجاعت نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے جو کسی آدم خور کے علاقے میں رہتے ہوئے بھی بڑے دل گردے سے زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔ اس لڑکے کا نام ڈونگر سنگھ تھا اور اس کے حوصلے اور جرات نے مجھے بڑا متاثر کیا تھا۔ ڈونگر سنگھ نے کئی سال آدم خور شیر کے خوف میں گزارے تھے۔ ابھی ایک گھنٹہ پیشتر اس نے اپنی ماں کی لاش کا بچا کچھ حصّہ دیکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ بڑی بہادری سے مجھے ایسے علاقے میں لے جانے کے لیے تیار ہو گیا جہاں آدم خور شیر موجود ہو سکتا تھا۔
ہجوم کو اپنے پیچھے چھوڑ کر ابھی ہم کوئی چار سو گز چلے ہوں گے کہ ہمارے سامنے چند مربع گز کا ایک ہموار قطعہ آگیا۔ جہاں سے راستہ دو حصّوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ ایک حصّہ تو دائیں طرف گہرے نالے کی طرف چلا گیا تھا اور دوسرا پہاڑی کے ساتھ ساتھ آگے کو بڑھ رہا تھا۔ ڈونگر سنگھ ٹھہر گیا اور نالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے سرگوشی کے عالم میں مجھے بتایا کہ اس جگہ شیر نے اس کی ماں کو کھایا تھا۔ میں نے ڈونگر سنگھ سے کہا کہ وہ وہیں ٹھہرے تاکہ میں اکیلا ندی کے کنارے شیر کے پنجوں کے نشان دیکھ آؤں۔ جونہی میں نے بولنا بند کیا ڈونگر سنگھ پیچھے کی طرف مڑا اور پہاڑیوں کے اوپر دیکھنے لگا۔ جب میں نے بھی اس طرف دیکھا تو مجھے پہاڑیوں کے اوپر مردوں کا ایک ہجوم دکھائی دیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں کچھ دیر پہلے میں اور ڈونگر سنگھ کھڑے تھے۔ ڈونگر سنگھ نے ایک ہاتھ سے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دوسرا ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ کر کوئی آواز سننے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ اپنا سر بھی ہلاتا جا رہا تھا۔ آخر وہ میری طرف پلٹ کر کہنے لگا، "میرا بھائی کہتا ہے کہ اس نے ہمارے نیچے ویران کھیتوں میں کسی سرخ چیز کو دھوپ میں بیٹھے دیکھا ہے۔"
(جاری ہے)
 
تلادس کی آدم خور شیرنی ہلاکت کے بعد
tallades.jpg
 

قیصرانی

لائبریرین
میرا خیال ہے اس کا عنوان چمپاوت کی آدم خور شیرنی تھا
اور میں اسی عنوان سے کافی پہلےزمانہ طالب علمی میں پڑھ چکا ہوں
انیس الرحمان بھائی کچھ وضاحت کریں کہ اس کا اصل عنوان کیا ہے؟
چمپاوت کی آدم خور شیرنی کا ذکر کماؤں کے آدم خور میں ہے جبکہ تلہ دیس کی آدم خور شیرنی ٹمپل ٹائیگر اینڈ ادر مین ایٹرز آف کماؤں سے ہے
 
میرا خیال ہے اس کا عنوان چمپاوت کی آدم خور شیرنی تھا
اور میں اسی عنوان سے کافی پہلےزمانہ طالب علمی میں پڑھ چکا ہوں
انیس الرحمان بھائی کچھ وضاحت کریں کہ اس کا اصل عنوان کیا ہے؟
تلادس ہی ہے۔
ویسے قیصرانی بھائی نے تین کتابوں کا ترجمہ کیا ہے۔
1۔ "Temple Tiger & More Maneater of Kumaon"
2۔ "Maneater of Kumaon"
3۔ "Nine Maneater & One Rogue"
اس کے علاوہ "My India" کے بھی چند اسباق کا ترجمہ کیا ہے۔
میں سوچ رہا تھا آپ والی پوسٹ کر دوں۔
چمپاوت کی آدم خور شیرنی کا ذکر کماؤں کے آدم خور میں ہے جبکہ تلہ دیس کی آدم خور شیرنی ٹمپل ٹائیگر اینڈ ادر مین ایٹرز آف کماؤں سے ہے
متفق۔۔
 

قیصرانی

لائبریرین
نایاب بھائی قیصرانی بھائی نے پوری کتاب کا ترجمہ کیا تھا۔ اس لیے میں نے اس کی ٹائپنگ روک دی تھی۔
قیصرانی بھائی کتاب کا لنک شیئر کر دیں۔
میرا مشورہ ہے کہ اگر ترجمہ کر چکے ہیں تو پھر لازمی پوسٹ کر دیں۔ اس طرح ورائٹی ہو جائے گی۔ یہ چیز زیادہ اچھی رہتی ہے :)
 
Top