تقطیع میں حروف کے اسقاط کا مسئلہ

شاہد شاہنواز نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 14, 2013

  1. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    تقطیع میں کون سے حروف ساقط ہوتے ہیں اور کون سے نہیں، اس کے بارے میں خصوصا کچھ الفاظ کے حوالے سے میری رائے قائم ہوچکی ہے جس پر میں بڑی سختی سے کاربند ہوں۔۔ مثلا

    1۔ لفظ "کہ" کو یک حرفی رکھا جائے نہ کہ دو حرفی۔
    2۔ "یا" کا الف نہیں گرا سکتے۔۔
    3۔ پہ کی مثال بھی کہ کی طرح ہے، یعنی پے نہیں کرسکتے، یک حرفی ہونا ضروری ہے۔۔

    میرا سوال یہاں یہ ہے کہ درج بالا باتیں عروض کی کون سی کتاب میں لکھی ہیں اور اگر میں غلط ہوں تو میری اصلاح کی جائے ۔۔


    محترم محمد یعقوب آسی صاحب۔۔۔
    محترم الف عین صاحب۔۔۔
    عزیز بھائی مزمل شیخ بسمل
    برادر فاتح ۔۔۔
    محمد اسامہ سَرسَری
    محمد بلال اعظم
    محمد اظہر نذیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  2. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,079
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    یعقوب آسی صاحب کی کتاب میں بہ تفصیل ذکر ہے عروض کا۔
    ہمارا تو سادہ طریقہ ہے الفاظ بول بو ل کر لمبے چھوٹے مصوتے کا سراغ لگا لیتے ہیں۔ جہاں چھوٹا مصوتہ (شارٹ واؤل) وہاں الف، ہ، یا کچھ بھی اس کو تحریر میں ظاہر کرنے والا حرف ہو وہ "گر" جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد اظہر نذیر

    محمد اظہر نذیر محفلین

    مراسلے:
    1,818
    جھنڈا:
    Qatar
    موڈ:
    Angelic
    بڑی نوازش کہ آپ نے اس قابل سمجھا، کتاب کا حوالہ شائد نہ دے سکوں مگر پروفیسرحمید اللہ شاہ ہاشمی صاحب کی کتاب تھی
    فارسی اور اُردو میں جو حروف گرائے جا سکتے ہیں اُن کے مجموئے کو آسانی کے لئے '' ہو نیا '' کہہ لیجئے یعنی ہ، و، ن، ی اور ا
    عربی میں ایک حرف کا اضافہ ہو جاتا ہے '' ل'' یہ مکتوبی غیر ملفوضی جو ی اور ا کے بعد آتا ہےمگر بولنے میں نہیں آتا، گویا اب '' ہو لینا'' ہ، و، ل، ی، ن، ا
    مثال یوں دیکھ لیجئے کہ
    اناالحق اس میں تقطیع میں انلحق وزن شمار ہو گا
    اور لام کا گرانا دیکھئے
    بالضرور جب وزن ہو گا تو بضضرور
    باقی اساتذہ کا انظار کرتے ہیں :angel: چھوٹا منہ بڑی بات ہو گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد اظہر نذیر

    محمد اظہر نذیر محفلین

    مراسلے:
    1,818
    جھنڈا:
    Qatar
    موڈ:
    Angelic
    کچھ حروف ایسے ہیں جن کا گرانا یا نا گرانا شاعر کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے
    میں یہ سمجھا ہوں کہ شعری ضرورت کے تحت جو بھی صوتی تاثر اُبھر رہا ہو اُسی کو مد نظر رکھتے ہوئے استعمال کر لینا چاہئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    گویا "کہ" کو "کے" کرنا بعض اوقات جائز بھی ہوتا ہے۔۔۔
     
  6. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اس سلسلے میں استادِ محترم آسی صاحب، فاتح بھائی اور مزمل بھائی بہت بہتر بتا سکتے ہیں۔۔ انہی کا انتظار کرتے ہیں۔
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک سادہ اصول یہ بھی یاد رکھیں کہ عربی فارسی کا آخری لفظ نہیں گرایا جاتا
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید اِجلاؔل حسین

    سید اِجلاؔل حسین محفلین

    مراسلے:
    152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جس تصنیف نے مجھ جیسے جاہل کو اس قابل کر دیا کہ شعر کہہ سکے وہ یہ ہے: URDU METER: A PRACTICAL HANDBOOK
    الحمدللہ اب تقطیع کی غلطیاں بہت کم ہوتی ہیں۔

     
    • زبردست زبردست × 1
  9. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    در اصل الفاظ کے اسقاط کا مسئلہ
    یہ معاملہ میں زیادہ تر شاعر کی صوابدید پر چھوڑ دینے کا قائل ہوں۔ میرے نزدیک اولٰی یہ ہے کہ اسے یک حرفی ہی رکھا جائے۔ بعض اوقات برا نہیں لگتا تو باندھنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

    اس معاملے میں بھی کسی ایک رائے پر توقف درست نہیں۔

    پہ کو اگر دو حرفی ہی باندھنا ہے تو ”پر“ کیوں نہ باندھا جائے؟ پہ کو پے کرنے کی ضرورت ہی نہیں اس لئے اسے ایسے باندھنے سے مکمل احتراز ضروری ہے۔

    واقعی اہم سوال ہے! ایک بات یہ ضرور یاد رکھ لیں کہ شاعری صرف عروض کا نام نہیں ہے۔ عجمی عروض اور تقطیع کا عمل صوتیات پر مبنی ہے، اس لئے شاعر کو ضرور ہے کہ وہ اپنی زبان کے استاد شعرا کا کلام قرات کرے اور سمجھے کہ کس لفظ کو کہاں کس طرح باندھا گیا ہے۔ اب دیکھیں ہمارے یہاں ہائے مختفی کا بطورِ حرف کوئی وجود نہیں (بحوالہ بابائے اردو مولوی عبد الحق) بلکہ اس کا کام اپنے سے پہلے حرف کو مفتوح کرنا یا بتانا ہے۔ اب بعض شعرا اس پر سختی سے قائم ہیں کہ ہائے مختفی کو الف بنانا جائز نہیں۔ لیکن بوقت ضرورت اساتذہ نے بنایا بھی ہے۔ کچھ شعرا نے چند الفاظ جیسے نہ، کہ وغیرہ میں یہ قید لگائی ہے اور باقی الفاظ کو اس قید سے آزاد کردیا (مجھے یہ بات کچھ منطقی نہیں لگتی) تو آپ کو جیسے آسانی لگے اسی راہ کو اختیار کریں۔ بس صوتی طور پر لفظ برا محسوس ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے۔

    اوپر محمد اظہر نذیر صاحب نے ماسٹر حمید اللہ ہاشمی صاحب کے حوالے سے جو بات لکھی اسے تھوڑی تصحیح کی ضرورت ہے۔ تفصیل یوں ہے کہ تقطیع میں صرف ان حروف کو گرایا جاتا ہے جو ملفوظی بھی ہوں اور مکتوبی بھی۔ جو حروف غیر ملفوظی ہیں انہیں گرانے کا کوئی سبب ہی نہیں کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً بالکل میں ”الف“ کا کوئی وزن نہیں کہ یہ غیر ملفوظی ہے اور گرانے کے لئے اس حرف کا وزن ہونا ضروری ہے یعنی اس حرف کا کم از کم ملفوظی ہونا ضروری ہے۔ یہی معاملہ دو چشم والی ھ کا ہے کہ اس کا سرے سے وزن موجود ہی نہیں اس لئے ہم اسے کبھی شمار ہی نہیں کرتے کہ گرانے کی نوبت آئے۔
    لفظ کے آخر سے الف، واؤ اور ی کو عام طور پر گرانے کا اصول یہ ہے کہ اگر یہ حروف لفظ میں زائد ہیں تو انہیں گرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر اصلی ہیں تو انہیں شمار کرنا چاہئے۔ مثلاً عام ہندی برج بھاشا یا سنسکرت کے الفاظ میں جو الف ہے وہ گرانا مکروہ ہے۔ جیسے گھوڑا، بکرا، چھوٹا، لمبا وعلیٰ ہذٰاالقیاس۔ مگر اب اتنی محنت کون کرے کہ اصلی اور زائد حروف میں تمیز ہو سکے؟ اس کے لئے بہتر راستہ یا حیلہ کہیں کہ معتبر اور مستند شعرا کا کلام زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔
    مزید کچھ کہنے سے گریز کروں گا کہ ابھی استاد محترم محمد یعقوب آسی بھی آتے ہونگے۔
    والسلام۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    مزید کچھ کہنے کو رہا بھی تو نہیں، جناب مزمل شیخ بسمل صاحب۔ ہاں عنوان میں ’’الفاظ‘‘ کے اسقاط پر میں ضرور چونکا تھا۔ پڑھا تو جانا کہ بات ’’حروف‘‘ کی ہو رہی ہے۔
    آپ کے کہے کو صاد کرتا ہوں۔ لازمی نہیں کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کے لئے مطبوعہ حوالہ موجود ہو، یہ جو کچھ ہم یہاں لکھ رہے ہیں یہ بھی تو طباعت ہی کی ایک صورت ہے۔ اب تو انٹرنیٹ پر ہونے والی اشاعتوں کے حقوق کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  11. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    وقت کے ساتھ ساتھ جوں جوں شعری اصناف میں نئی چیزیں آتی گئیں، علم عروض بھی وسیع اور متنوع ہوتا گیا۔
    عربی فارسی عروض میں ہم مربع، مسدس اور مثمن کے علاوہ کوئی بحر نہیں دیکھتے۔ پھر بات معشر (دس رکنی) پر پہنچی، اور بارہ رکنی، سولہ رکنی اب مانوس ہیں۔
    سوالات تو مزید بھی ہیں: معرٰی نظم میں ایک مصرعے کا وزن ہوتا ہے بیت (دو مصرعے، یا، جوڑا جوڑا) ضروری نہیں۔ آزاد نظم میں وہ ایک مصرع بھی ٹوٹ جاتا ہے، کچھ حصہ ایک سطر میں توباقی اگلی سطر میں۔ ان کے لئے کوئی حتمی اصول ابھی تک تو وضع (یعنی باضابطہ طور پر اشاعت پذیر) نہیں ہوا ، یا کم از کم میرے علم میں نہیں۔ یہاں کتابی حوالے کہاں سے لائیں گے؟
    بات وہی ہے جو مزمل شیخ بسمل صاحب! آپ نے کی کہ جمالیات کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا، صواب دید تو شاعر کی ہے قاری اور ناقد بھی بحث سے کلی طور پر خارج نہیں۔آپ کی ’’نہ‘‘، ’’کہ‘‘، ’’پہ‘‘ والی باتیں بہت مناسب ہیں۔ خاص طور پر یہ بات کہ اگر ’’پہ‘‘ کو دو حرفی پڑھنا ٹھہرا تو پھر سیدھا سیدھا ’’پر‘‘ لکھئے اور پڑھئے۔ ’’ہ‘‘ کے چکر میں کیا پڑنا!۔
    دعاؤں کا طالب ہوں۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  12. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ایک بات اسی تناظر میں پہلے کہیں ہوئی تھی، ذہن میں تازہ ہو گئی، آپ کو بھی شریک کر لوں۔
    فارسی میں کچھ اسماء کی املاء دو، دو طرح درست مانی جاتی ہے: کاہ، کَہ؛ گاہ، گَہ؛ راہ، رَہ؛ کوہ، کُہ؛ ذرا واضح کر دوں: گاہے، گہے؛ کوہسار، کہسار؛ شاہانہ، شہانہ؛ راہ بر، رہبر؛ وغیرہ
    سوال یہ تھا کہ ’’گاہے‘‘ کی الف کو اور ’’کوہسار‘‘ کی واو کوگرایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ صاحب! اس کو لکھ کر گرانا کیا ضروری ہے؟ سیدھا سیدھا ’’گہے‘‘ لکھئے، اور ’’گہے‘‘ پڑھئے، کوہسار لکھ کر واو گرانے کی بجائے ’’کہسار‘‘ لکھئے۔

    برائے توجہ جناب مزمل شیخ بسمل صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  13. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت آداب استاد محترم!
     
  14. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ نے درست فرمایا۔ در اصل میں ان دونوں صورتوں کو دو مختلف لفظ سمجھتا ہوں۔ جیسے ماہ اور مہ، شاہ اور شہ، تیرا اور ترا، میرا اور مرا وغیرھم۔ اگر آپ نے لفظ تیرا لکھا ہے اور محل ترا کا تھا تو در حقیقت آپ کا شعر وزن سے خارج ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    لفظی سطح پر تو ظاہر ہے یہ مختلف ہیں۔ اس لئے جب ان کی دو، دو صورتیں موجود ہیں تو وہی لکھئے جو عروضی تقاضے کو نبھائے۔ متفق ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,752
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بہت اچھا تجزیہ ہے ۔۔۔ ایک نکتے کی جانب اشارہ کیا جانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔امید ہے دخل در معقولات نہ سمجھا جاءے گا۔وہ یہ کہ معتل حروف کے اسقاط کے اصول و قواعد کو بغیر مثال کے بیان کرنا واقعی بہت مشکل اور واضح کرنا ناممکن ہو گا ۔اور الفاظ و محاورات کے برتاؤکی مناسبت کے بغیر کسی مشورے یا قاعدے کی جامد تعمیم اکثر اوقات مفید نہیں ہوگی ۔۔۔ مثلاً بال جبریل میں ڈاکٹر اقبال کی ذیل کی تکرار صورت میں ایک ے کو دوسری ے سے متفاوت کیا گیا ہے باندھا گیا ہے اسے اگر تسلیم کیا جاءے تو یہی شکل الف پر لاگو کی جاسکتی ہے ۔۔۔
    پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
    اُودے اُودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
     
  17. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    معذرت خواہ ہوں کہ سوال تو میں نے درست ہی کیا ہے ، عنوان میں "تقطیع میں حروف" کی بجائے الفاظ ہوگیا ہے۔۔۔

    آپ کی قیمتی آراء سے بہت کچھ جاننے کو ملا۔۔۔

    بے حد شکریہ۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  18. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    718
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    کیا" گلی " میں یا کا اسقاط جائز ہے ؟ یا یہ بھی سنسکرت، برج بھاشا یا ہندی کے ان الفاظ میں سے ہے جس کی یا اصلی ہے ؟
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,576
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ن
    اگر روانی متاثر نہ ہو رہی ہو تو کیا جا سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. امیر حمزہ سلفی

    امیر حمزہ سلفی محفلین

    مراسلے:
    3
    میں طالب علم ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ لفظ ماجرا کے آخر میں جو الف ہے کیا اسے گرایا جا سکتا ہے یا نہیں کوئی بھائی رہنمائی فرمائے، شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر