ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی

زرقا مفتی

محفلین
اہلِ بزم
تسلیمات
ایک تازہ غزل پیش کر رہی ہوں آپ کی آرا کا انتظار رہے گا
والسلام
زرقا

ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی
سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں
سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل
تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو
کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے
حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر
ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی

چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
 

الف عین

لائبریرین
غزل یوں تو بہت اچھی ہے زرقا۔ لیکن مجھ سے یہی متوقع ہوتا ہے کہ میں خامہوں کی نشان دہی کروں۔ اور میں یوں بھی لگی لپٹی نہیں رکھتا کہ کوئی تخلیق اگر میری نظر سے گزر جانے کے بعد میرے مشوروں سے مزید بہتر ہو جائے تو سب کو خوشی ہی ہوگی۔ مجھے تو اور بھی زیادہ۔۔
مطلع میں ایطاء ہے۔ اگر ردیف وہی ہوتی کہ سارے اشعار کے قوافی ہوتے: بندگی، دل لگی، یعنی آخر میں ’گی‘ تو درست تھا۔ لیکن ابھی بقیہ قوافی میں محض ’ی‘ مشترک ہے۔ اس قاعدے سے مطلع میں ’گی‘ کا استعمال غلط ہے۔ مرے خیال میں پہلےمصرعے میں زندگی کی جگہ کوئی دوسرا لفظ لایا جا سکتا ہے، نغمگی‘ کا لفظ دوسرے مصرعے میں نا قابلِ علیحدگی ہے۔ جیسے
ترے سخن نے کہاں سے یہ سرخوشی پائی۔ محض مثال کے طور پر۔ سر خوشی معنوں کے لحاظ سے فٹ نہیں‌ہوتا۔
آخری دو اشعار میں بھی اسقام ہیں:
نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم
اماں ملی نہ کہیں، نہ ہی آشتی پائی
’نہ ہی‘ میں تقطیع ’نا ہی‘ ہو رہی ہے جسے کچھ لوگ جائز سمجھتے ہیں، مجھے پسند نہیں۔ اور اگر جائز مانا بھی جائے تو املا ’نا‘ ہوگی، ’نہ‘ نہیں۔
یوں کہیں تو:
اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی
یا
اماں ملی ہی کہیں اور نہ آشتی پائی

چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ ہم نے اس دفعہ
بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی
پہلے مصرعے میں دفعہ‘ بطور فعلن آ رہا ہے۔ حالاں کہ اس میں ’ع‘ نہ بولی جاتی ہے نہ تقطیع کی جاتی ہے۔ اسے "دفا‘ ہی باندھا جاتا ہے۔
اس کو محض اس طرح کرنے سے سقم دور ہو جاتا ہے:
چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے
درمیانی اشعار بہت خوب ہیں زرقا۔ بطور خاص گلاب لہجے اور حریف جذبے کی ترکیبیں بہت پسند آئیں۔ یہ دونوں اشعار بھی زبردست ہیں۔
 

زرقا مفتی

محفلین
اعجاز صاحب
آپ کے تبصرے کے لئے بے حد ممنون ہوں
آپ بے لاگ تبصرہ کرتے ہیں اس سے ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے
ورنہ رسمی واہ واہ سے سخن میں بہتری کے امکانات معدوم ہو جاتےہیں


پہلے شعر کی کوئی متبادل صورت سوچتی ہوں

آخری دو اشعار کے لئے آپ ک درج ذیل تجاویز پسند آئیں


اماں ملی کہیں ہم کو نہ آشتی پائی


چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے

اس لئے غزل میں قطع برید کر رہی ہوں

والسلام
زرقا
 

سیفی

محفلین
بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم
جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

[/size][/center]

مجھے عموما نئے شعرا کا کلام اس لئے اچھا نہیں لگتا کہ اس میں اچھوتے خیال کی بجائے صرف مصرعہ سازی ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ شعر مجھے بہت ہی اچھا لگا ہے۔ جو اپن اندر ایک پورا مضمون سموئے ہوئے ہے۔
 
Top