تری یاد من میں خوشی لے کے آئی------برائے اصلاح

الف عین
ظہیراحمدظہیر
محمد خلیل الرحمٰن
محمّد احسن سمیع :راحل:
-----------
تری یاد من میں خوشی لے کے آئی
وگرنہ غموں نے تھی محفل سجائی
-------
ترا پیار دل میں لئے منتظر ہوں
مجھے راس آئی نہ تیری جدائی
------
دلوں میں یہ چاہت خدا نے ہے ڈالی
محبّت کی خاطر ہے دنیا بنائی
--------
مجھے میرے رب کی جو قربت ملی ہے
اسی کی محبّت نے کی رہنمائی
-------------
امیدِ وفا تم نہ رکھنا کسی سے
تمہاری ہے فطرت میں گر بے وفائی
-------
مری جان چھوٹی غموں سے ہو جیسے
لگن تیری جب سے ہے دل کو لگائی
------
ترا پیار پا کر یوں لگتا ہے مجھ کو
ملی مجھ کو جیسے ہو ساری خدائی
---------
محبّت بناتی ہے انساں کو انساں
یہی ہے حقیقت سنو میرے بھائی
---------
نہ جانا کبھی دور نظروں سے میری
کبھی سہہ نہ پاؤں گا تیری جدائی
---------
جدائی میں تیری مرا حال سن لو
مرے دل پہ ہر دم اداسی ہے چھائی
------------
کرو شکر رب کا سدا اس پہ ارشد
خدا کی عطا سے محبّت جو پائی
-----------
 

الف عین

لائبریرین
معاف کیجئے گا ارشد بھائی آپ اپنی اغلاط سے سبق حاصل نہیں کر رہے! میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ نثر سے جتنا قریب مصرع ہو گا، روانی میں اتنا ہی اچھا ہو گا۔ آپ کے کئی مصرعوں میں یہی غلطی ہے جسے اسی ایکسرسائز سے دور کر سکتے تھے اگر آپ عمل کرتے۔ یعنی ہر ممکنہ متبادلات سامنے رکھ کر خود ہی دیکھتے۔
تھی محفل سجائی
خدا نے ہے ڈالی
ہے دنیا بنائی
ہے دل کو لگائی
ہو ساری خدائی
ہے چھائی
یہ سارے مصرع بہت آسانی سے درست ہو سکتے تھے!
مثلاً
دلوں میں یہ چاہت خدا نے ہے ڈالی
محبّت کی خاطر ہے دنیا بنائی
یوں بہتر ہو سکتا تھا
خدا نے ہی ڈالی ہے ہر دل میں چاہت
محبّت کی خاطر ہی دنیا بنائی
باقی اغلاط کا ذکر بعد میں، ممکن ہے کہ روایز کرنے پر یہ ختم ہو جائیں
 
تری یاد من میں خوشی لے کے آئی
وگرنہ غموں نے تھی محفل سجائی

ارشد بھائی ، جہاں "کر" استعمال ہوسکتا ہو وہاں اس کے بجائے "کے" استعمال مت کیا کیجئے ۔ ایسا کہنے میں کیا ہرج ہے:
تری یاد من میں خوشی لے کر آئی
 
Top