فیض ترانہ ۔۔

حجاب

محفلین
دربارِ وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے

کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں، سر بھی بہت

چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

اے ظلم کے ماتو لب کھولو، چپ رہنے والو چپ کب تک

کچھ حشر تو اِن سے اُٹھے گا۔ کچھ دور تو نالے جائیں گے ( فیض )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

جہانزیب

محفلین
بہت اچھی غزل ہے، ویسے لگتا یوں‌ ہے حالات وہیں‌ کے وہیں‌ ہی ہیں جہاں‌فیض‌ چھوڑ‌ گئے تھے ۔
 

سارا

محفلین
فیض احمد فیض کا ترانہ

دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے' کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو ' وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالیں جائیں گے

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں' اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جوم کے اُٹھے ہیں ' تنکوں سے نہ ٹالیں جائیں گے

کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالیں جائیں گے

اے ظلم کے مارو لب کھولو 'چپ رہنے والو چُپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالیں جائیں گے۔۔


فیض احمد فیض'
 
Top