تخلیق کائنات کیلئے کسی خدا کی ضرورت نہیں : اسٹیفن ہاکنگ

arifkarim نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 5, 2010

  1. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    مشہور طبیعات اور ہیئت دان اسٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب کی اشاعت سے قبل یہ خبر حیرت انگیز ہے:
    http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2010/09/100902_universe_without_god.shtml
    اسٹیفن ہاکنگ کے چاہنے والے ہر ملک و قوم و مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ کائنات خدا کی تخلیق ہے، یہ ایمان شریعت ابراہیمی ؛ یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں یکساں ہے۔ شاید اسی لئے کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا سائنسدان محض اپنے مذہب کی وجہ سے سائنسی مشاہدہ معائنہ سے حاصل شدہ علوم کو آگے نہیں بتلا سکتا۔ جبکہ ایک دہریہ کو ایسا کرنا میں کوئی دقت نہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس دن سائنس ہمارے بنیادی ایمانوں کو چیلنج کرے گی، اس دن کیا ہم ان دہریوں کے آگے، سائنس کے نام پر گھٹنے ٹیک دیں گے؟
    یاد رہے کہ سائنس میں کچھ بھی ’’منتخب‘‘ کرنے کی اجازت نہیں کہ جو میرے ایمان و مرضی کے مطابق ہے اسپر یقین کر لوں اور جو نہیں ہے اسکو رد۔ سائنس مشاہدہ معائنہ سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا سکتی ہے۔ بنیاد محض ظاہری اور قابل قبول اثبوتوں کی ہے۔ اگر آپ اسٹیفن ہاکنگ کی ماضی میں تصنیف شدہ علوم کو قبول کر لیں کہ وہ ہمارے ایمان کو ضرر نہیں پہنچاتے بلکہ الٹا تصدیق کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی میں جدید علوم کو رد کر دیں کیونکہ وہ ہمارے جدی پشتی علوم کے برخلاف ہیں تو آپ سائنس کے پیچھے نہیں چل سکتے۔
    یوں بعد کا رونا بیکار ہے کہ مسلمان سائنس میں آگے کیوں نہ بڑھے، بڑھتے کیسے، انہیں تو مذہبی عقائد پر تنقید کا حق ہی نہیں ہے ۔
     
  2. خواجہ طلحہ

    خواجہ طلحہ محفلین

    مراسلے:
    1,691
    کیا خدائے پاک نے دنیا کا نظام ایک خود کار طریقے پر نہیں چھوڑ رکھا ہے؟
    جیسے کھانا نہیں کھاو گے تو بھوک لگے گی۔ کھاو گے توہضم ہوگا۔بغیر دیواروں ستوں کے چھت کھڑی نہیں کرسکو گے۔
    مطلب کیا رب کائنات نے ایک نظام طے نہیں کر رکھا ہے؟ جس کے مطابق تخریب اور تعمیر کا عمل ازخود چل رہا ہے۔؟ جسے سنت الہی کہا جاتا ہے
    یعنی ہاکنگ کا کہنا ہے کہ کائنات وجود میں آنے سے پہلے کچھ اور وجود میں آچکا تھا؟
     
  3. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    بالکل۔ پرانا نظریہ تخلیق کائنات کا غالباً یہ تھا کہ خلا، وقت اور ہیئت بگ بینگ دھماکے کیساتھ وجود میں آئے۔ اور اس دھماکہ کے وجود کے پیچھے کوئی سوپر نیچرل قوت کارفرما تھی۔ جبکہ اب نظریہ تبدیل ہو گیا کہ دھماکہ سے قبل ہی قوانین قدرت یعنی کشش ثقل کام کر رہی تھی، اور یہی اس کی وجہ بنی۔ اب آجاکر سوئی وہیں اٹک گئی کے آخر ان قونین قدرت کا خالق کون ہے؟ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    کور چشمی کے سوا کچھ نہین۔
    صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ​
     
    • متفق متفق × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,314
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    خدا کو ماننے یا نہ ماننے کی رائے دینا سائنسدانوں کا کام نہیں یہ سٹیفن ہاکنگ کا ذاتی نظریہ ہے جو وقت کے ساتھ تبدیل ہو گیا۔ خدا کے وجود کو سمجھنے کے لئے انسان فلسفہ اور تاریخ کا محتاج ہے نہ کہ سائنسدانوں کا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 1
  6. خواجہ طلحہ

    خواجہ طلحہ محفلین

    مراسلے:
    1,691
    لیکن ہاکنگ نے خدا کے وجود سے انکار نہیں کیا ہے جیسا کہ تھریڈ کے عنوان سے لگ رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,619
    موڈ:
    Cheerful
    یار کیوں سائنس کی مٹی پلیت کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہو؟ ہاکنگ کا بیان بحثیت ایک فرد اس کا بیان ہے۔ کوئی سائنسی تھیوری نہیں۔ سائنسی تھیوری اپنی اصولوں کے تحت پرکھی جاتی ہے۔ کسی کے مذہبی بیان سے نہیںِ۔
    جہاں تک آپ کے ایمان کو چیلنج کرنے کی بات ہے تو اس کے لئے آپ کو سائنس کی ضرورت نہیں۔ آدھی دنیا تو آپ نے دجال بنا رکھی ہے۔ :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,619
    موڈ:
    Cheerful
    اگر بھیجے پر تھوڑا مزید غور کرنے کا گناہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں ہونے والا ہر واقعہ کسی نا کسی طبعی عوامل کے مرہون منت ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کی کوئی نہ کوئی توجہیہ ہوتی ہے۔ جب تک یہ توجہیہ معلوم نہیں ہوتی ہم اسے "معجزہ" کہتے ہیں۔ جب معلوم ہوجائے تو ہم سائنس کہتے ہیں۔ بگ بینگ کا واقعہ بھی کسی نا کسی فطری قانون اور توجہیہ کا مرہون منت ہوگا۔ اس پر یقین رکھنے سے خدا کا انکار نہیں ہوجاتا۔
    ورنہ اگر خدا کا انکار بذریعہ سائنس کرنا ہے تو اس کے لئے بگ بینگ کے بکھیڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ بچے کی پیدائش کا عمل ہی کافی ہے جس میں آسمان سے پریاں اور فرشتے اتر کے بچہ ماں کو نہیں دے جاتے بلکہ ایک پورا حیاتیاتی عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔
    امید ہے کہ سائنس کے بارے میں کچھ تشفی ہوگئی ہوگی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    تو پھر کس چیز کا۔؟ خدا کے وجود کی بنیاد کچھ تو ہوگا۔ جسکو ہم انسان سمجھ سکیں۔ اگر خدا کا تصور محض ہماری فطرت کا حصہ ہے تو دنیا میں جو ہزاروں دہریے بکھرے پڑے ہیں، وہ کس زمرے میں آتے ہیں؟
     
  10. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    انکار کی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے ایک طرف یہ کہتا ہے کہ وہ نیوٹن کے زمانہ کے فلسفہ کو جھٹلاتا ہے :
    اور دوسری ہی طرف خدا کے وجود کے امکانات کو مسترد بھی نہیں کرتے:
    یاد رہے کہ تمام ابراہیمی مذاہب کے عقائد کے مطابق خدا کائنات کا خالق ہے۔ اب جبکہ ہاکنگ کی سائنسی تھیوریوں کے مطابق کائنات کے وجود کیلئے کسی خدا کی ضرورت نہیں تو پھر باقی کیارہ گیا؟ قوانین قدرت کا خالق کون؟
     
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,832
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اس سائنسی تھیوری کی تفصیل جو خدا کو کائنات کی تخلیق سے مسترد کرتی ہے، پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ باقی جہاں تک ہاکنگ کی ذاتی رائے کا سوال ہے تو اسکی ذاتی رائے بھی سائنسی مشاہدہ معائنہ کے بعد ہی طے ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ خواب آگیا اور رائے قائم ہو گئی :)
    خدا کا انکار سائنس سے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کسی دہریے سے بات کر لیں، وہ محض لاجک سے اپنے تئے وجود خدا کو جھٹلا دے گا۔
    یہاں بات محض اس معاملہ پر ہو رہی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، کیونکہ سائنس اول سے قبل والی اسٹیٹ کو سمجھ نہیں پاتی۔ کیونکہ کسی چیز کا وجود میں آنےسے قبل کسی اور چیز کا پہلے سے ہونا ضروری ہے۔ اور ہاکنگ اسی نتیجہ پر پہنچا ہے۔ یوں اتم سے کائنات کی تخلیق والا فلسفہ رد کر دیا گیا ہے۔
     
  12. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,809
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یارو، کیا ہمارے پاس اللہ کا قرآن نہیں؟
    تخلیق کائنات قرآن کریم کے بڑے موضوعات میں ہے۔ اور جگہ جگہ انسان کو فکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے، تخلیق کے مراحل بھی ماثور ہیں۔

    تو پھر سٹیفن ایسے مباحث کا کیا حاصل؟ جانے دیجئے!!۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  13. خواجہ طلحہ

    خواجہ طلحہ محفلین

    مراسلے:
    1,691
    یہ بات تو عارف کریم کی پہلی پوسٹ سے بھی ثابت ہے۔اور اس کی وضاحت کرنے کی میں نے بھی کوشش کی ہے۔ کہ ہاکنگ کا نظریہ خدا کا انکاری نہیں ہورہا بلکہ وجود کائنات کے لیے کوئی توجہیہ پیش کرناچاہ رہا ہے۔ بس تھریڈ کے عنوان سے ایسا محسوس ہورہا ہے۔
     
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,314
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    قبلہ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ سائنس، قوانینِ فطرت سے بحث کرتی ہے،خدا کیا ہے اور کیسا ہے یہ سائنس کا میدان ہی نہیں ہے۔ الہٰیات پر بحث، فلسفہ اور تاریخ کرتے ہیں اس کے لئے آپ کو مذہب کی تاریخ اور فلسفےکا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ایک ہی مذہب میں مختلف قسم کے خدا کا ادراک کیا جاتا ہے مثلاً اسلام میں ہی ایک خدا وہ ہے جو کائنات سے ہٹ کر وجود رکھتا ہے اور ایک خدا وہ ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے جسے بہت سے وحدت الوجودی مانتے ہیں۔
     
  15. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    ہر علم کی انتہا خدا کے وجود پر ہی ہوتی ہے۔ ۔۔سائنس تو ابھی تک ایک ذرے کی حقیقت نہیں جان پائی۔ جہاں تک سٹیفن ہاکنگ کا یہ کہنا کہ وہ خدا کے وجود کا انکاری نہیں لیکن کائنات کو اسکی تخلیق نہیں سمجھتا، یہ محض ایک بے تکی سی بات ہے۔ لیکن اس میں سے بھی ایک تُک نکالا جاسکتا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ تخلیق ایک تدریجی عمل ہے جو ہر مسلسل جاری ہے۔ ۔ لیکن جب کچھ نہیں تھا اس حالت سے جو بھی شئے پہلے پہل ظاہر ہوئی وہ الخالق کی تخلیق نہیں تھی بلکہ البدیع کا ابداع تھا (جسکو سمجھنے سے سائنس ہمیشہ عاجز ہی رہے گی) اور اسکے بعد تخلیق کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ۔۔شائد سٹیفن ہاکنگ کی یہی مراد ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. زیف سید

    زیف سید محفلین

    مراسلے:
    224
    اصل میں سٹیِون (1) ہاکنگ اور اس قبیل کے دوسرے سائنس دانوں کا کہنا یہ ہے کہ بگ بینگ سے لے کر اب تک کائنات کے ارتقا میں جو بھی طبعی مظاہر پیش آئے ہیں ان کی سائنسی توجیہ ممکن ہے، یعنی وہ سائنسی کلیوں کی مدد سے سمجھے جا سکتے ہیں، اور ان میں کسی خارجی قوت (یعنی خدا) کی دخل اندازی کے شواہد نہیں ملتے۔سائنس نے ایسے مظاہرِ فطرت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جو پہلے کسی مافوق الفطرت قوت کی عمل داری مانے جاتے تھے، مثال کے طور پر سورج گرہن، چاند گرہن، بجلی کا چمکنا، زلزلے، طوفان، بیماریاں، وغیرہ۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا سے لے کر اب تک کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کو سائنس کے قوانین کی مدد سے سمجھا نہ جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دانوں میں دہریوں کا تناسب عام عوام کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔موقر سائنسی جریدے نیچر کے ایک سروے کے مطابق دنیا کے بڑے سائنس دانوں میں سے صرف سات فی صد خدا پر یقین رکھتے ہیں۔

    ویسے میں ذاتی طور پر فرخ صاحب کی بات سے متفق ہوں کہ خدا کے وجود سے متعلق بحث سائنس نہیں بلکہ فلسفے کے زمرے میں آتی ہے۔

    زیف

    (1) سٹیفن نہیں، سٹیِون، اصلاح کر لیجیئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    سائنسی توجیہہ یقیناّ ممکن ہوگی اس بات مین کلام نہیں ہے لیکن علتِ اولیٰ ہمیشہ ساءنس کی نظر سے اوجھل ہی رہے گی۔ مثلاّ یہ جو گریوٹی اور ویک فورس وغیرہ کی بات کی جاتی ہے انکا منبع آخر کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ سائنسدان جو کائنات میں 4 قوتوں کو اصل ِ اصول مانتے ہیں وہ ان چاروں کو ایک ہی قوت کا شاخسانہ قرار دے دیں گے اور دے چکے ہیں غالباّ۔ ۔ ۔لیکن دس لاکھ کا سوال یہ ہے کہ وہ قوت کہاں سے پھوٹ پڑی آخر؟:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,619
    موڈ:
    Cheerful
    انسانی علم کا ارتقاء جاری و ساری ہے۔ آپ کے دس لاکھ کے سوال کا جواب بھی کبھی مل جائے گا۔ ہاں۔۔علم اور دریافت کی کوئی حد نہیں۔ جب دس لاکھ کا سوال حل ہوگا تو دس ملین کا سوال آن کھڑا ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,619
    موڈ:
    Cheerful
    میرے خیال سے یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ بہت سے سائنس دان اس "مذہبی خدا" پر ایمان نہیں رکھتے جس کا تصور مذاہب عالم میں ہے۔ تاہم جزوی خدائی صفات والی کسی ابدی حقیقت پر بہت سے سائنس دان بھی گمان رکھتے ہیں۔
     
  20. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,381
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    واہ جی! اس خبر پر تو دنیا بھر کے لوگ ایسے ٹوٹ پڑے ہیں جیسے (نعوذ باللہ) خدا کا وجود سٹیفن ہاکنگز کے نظریات کا محتاج ہو۔
    ویسے ایک بات میں نے نوٹ کی ہے کہ کئی بار لوگ خدا پر قدرت کے قوانین کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ قوانینِ قدرت بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7

اس صفحے کی تشہیر