تحریک انصاف اور ممبر شپ مہم

محب علوی نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 10, 2012

  1. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں جاننا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کی ممبر شپ مہم کیسی جا رہی ہے۔

    اشتہار میں تو عمران نے اپنا پیغام بہت عمدہ طریقے سے دیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    محب ، عمران کی مہم میں اب میری دلچسپی بہت کم رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہی کرپٹ لوگوں کو نچلی سطح پر عہدے دئے گئے ہیں جو دوسری سیاسی جماعتوں میں بدمعاشی کے حوالے سے مشہور رہے ہیں۔ انٹلکچولز کو خصوصی اہمیت دینے کا کوئی شائبہ بھی نہیں ملتا۔ تیسری سب سے بڑی بات ہے ان کا منشور، جس کی بہت ساری شقوں پر وہ حالیہ عوامی حمایت کے بعد حکومت سے عمل کروانے کی پوزیشن میں تھے لیکن کروا نہ سکے یا کروانا نہیں چاہتے۔ مثال کے طور پر لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے حوالے سے وہ عوامی حمایت کا بہت اچھا استعمال کر سکتے تھے لیکن نہ کیا۔ پھر پٹرول کی بے جا مہنگائی اور اس پر حکومتی لیویز کی ظالمانہ شرح پر عوام کی آواز میں آواز ملا سکتے تھے لیکن یہ بھی نہ ہوا۔ دیگر بھی قریب آدھی درجن شقیں ہیں جو ان کے منشور میں تو ہیں لیکن ان پر ابھی سے پہلو تہی صاف دیکھی جا رہی ہے۔
    تحریک انصاف کا سونامی بھی عوام میں کوئی امید پیدا کرنے میں ابھی تک تو ناکام ثابت ہوا ہے ، مستقبل قریب میں عمران اگر کچھ اچھے فیصلے لیتا ہے تو شاید عوام کی امید بندھ سکے۔ اشتہارات میں البتہ اس نے "اب نہیں تو کب ۔۔۔۔۔ہم نہیں تو کون" کا جو نعرہ دیا ہے؛اس پر تب "ماضی میں" کوئی عمل ہوا نہ اب ہو رہا ہے اور نہ جانے کب ہو گا ۔
     
    • متفق متفق × 4
    • زبردست زبردست × 1
  3. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    اگر سیاسی جماعتیں مستقبل کے سنہرے خواب دیکھائیں اور عوام کے موجودہ مسائل کے لیے کچھہ نہ کریں تو ان کی باتیں محض نعرے ہی لگیں گی
    کوئی تحریک بجلی کے بحران پر چلائے کوئی بات کرے مہنگائی کی تو عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے کا اہل ہے
     
    • متفق متفق × 4
  4. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ساجد ، آپ جیسے زیرک اور معاملہ فہم سے میں عام فہم رائے سے ہٹ کر امید کرتا ہوں۔

    نچلی سطح پر کرپٹ لوگوں کو عہدے دیے گئے ہیں ، میں جانتا ہوں اونچی سطح پر بھی چند عہدے زیادہ صاف بندوں کو نہیں دیے گئے ہیں مگر اس کی ایک بڑی واضح وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ عمران نے میسر لوگوں سے ہی انتخاب کرنا ہے تو وہ بندے باہر سے تو برآمد نہیں کر سکتا ، اس لیے ایک حد تک اس کی اس مجبوری کو سمجھنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سربراہ ایماندار اور مخلص ہے تو وہ بے ایمان اور نا اہل لوگوں کو کسی بھی وقت فارغ کر سکتا ہے اور انہیں سیدھا بھی کر سکتا ہے اور یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ عمران میں یہ صلاحیت بخوبی موجود ہے۔

    دانشور طبقہ عموما کامیاب سیاستدان ثابت بھی نہیں ہوتا اس لیے اس بات کی ابھی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ عملی سیاست کے تقاضے کافی مختلف ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  5. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ساجد، آپ بھی موجودہ حکومت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ جس طرح انہوں نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کا مذاق اڑایا ہے اور زبانی کلامی عمل درآمد کے پکے وعدے کرکے جس طرح ٹالا ہے وہ میرے ، آپ کے اور عمران کے بھی سامنے ہے۔ اس لیے میں تو اس بات پر قطعا یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی اس خوش فہمی میں مبتلا ہوں کہ اس حکومت سے کسی طور کوئی اچھا کام کروا جا سکتا ہے خصوصا توانائی بحران ، مہنگائی ان کے لیے دیرپا منصوبہ بندی اور ریاضت کی ضرورت ہے مع اخراجات میں واضح کمی کے ساتھ ۔ واحد حل ان کے خلاف لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا اور الیکشن جیتنا ہے جس کی طرف عمران کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    آپ شاید تحریک انصاف کے حوالے سے یا موجودہ حالات کے حوالے سے قنوطیت کا شکار ہو رہے ہیں ورنہ لاہور ، کراچی کے فقید المثال جلسوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنے لوگ پر امید ہیں۔

    یہاں نیویارک میں میں نے تحریک انصاف کے جلسہ میں شرکت کی تھی جس میں عمران بھی نہیں تھا بلکہ کوئی بھی لیڈر موجود نہیں تھا پھر بھی تین چار سو لوگ موجود تھے اور لوگوں میں جوش اور ولولہ بھی تھا۔

    اشتہارات کے بعد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کتنے زیادہ ممبر بنانے میں تحریک انصاف کامیاب ہوتی ہے۔ اگر ممبران کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ تبدیلی کے واضح امکانات ہیں۔ اس کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی تب بھی آ سکتی ہے اگر کامیابی سے پارٹی میں کامیاب الیکشن منعقد ہو جائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    جی ، محب ، میں جانتا تھا کہ آپ میسر لوگوں والی بات ضرور کریں گے:)، میں بھی اس بات پر متفق ہوں لیکن غور کیجئے کہ تبدیلی یا انقلاب طاقت کے محور میں تبدیلی پیدا کئے بغیر نہیں آسکتا۔ یہ اصول معاشرے اور سائنس دونوں میں یکساں لاگو ہوتا ہے۔ پرانے اور برے لوگوں کو صرف رکنیت تک محدود رکھتے اور عہدے نئے اور ایماندار لوگوں کو بھی تو دئے جا سکتے تھے؟۔ کم از کم کچھ محوری تبدیلی کا آغاز تو دیکھنے کو ملتا۔ یہ کرپٹ لوگ اس قدر حیلہ ساز بلکہ پکے رنگ باز ہوتے ہیں کہ کینسر کی طرح سے اپنے پنجے اس طرح سے گاڑ لیتے ہیں کہ پارٹی اور سیاست دونوں کا ستیاناس ہو جایا کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ بھی انہی آکٹوپسز کا شکار ہو کر غیر مقبول ہو چکی ہیں۔ لہذا ماضی کے تجربے کی روشنی میں "مومن کو ایک سوراخ سے بار بار بار ڈسوانے سے" پہلے ہی سے خود کو بچانا چاہئے۔
    میں یہ نہیں کہتا کہ دانشور طبقہ میدان سیاست میں اترے۔ بلکہ اس کو پالیسی بنانے ، معاملات و مسائل کا درست تجزیہ کرنے ، بین الاقوامی تعلقات کی نوک پلک سنوارنے، معاشرے میں اپنے نظریات کے بہتر اور قابل عمل طریقوں سے نفوذ اور مختلف قسم کی غلط فہمیوں کو حکمت ودانش سے دور کرنے کے لئے ایک ایسا مقام حاصل ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ آپ ریاست ہائے متحدہ میں رہتے ہیں ، میری بات بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں کی سیاست میں تھنک ٹینکس کیا اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں تو اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ عوام میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ اگر ماجھے ساجھے کے نطریات اور سوچ پر مبنی سیاست بدلنی ہے تو اس پر غور کرنا ہو گا۔
    اب آئیں عوامی طاقت سے حکومت کو مسائل کے حل پر مجبور کرنے اور عوام پر ظلم سے باز رکھنے کی طرف۔ آپ یہاں "وال سٹریٹ پر قبضہ کرو" مہم کو ذہن میں لائیں تو ہزاروں الفاظ کے استعمال سے بہتر ہو گا۔ آخر کب تک ہم محض نعروں کی سیاست سے عوام کا استحصال کرنے والوں کو اپنے سروں پر سوار کرتے رہیں گے؟۔ عمران آج بھی اپنی سیاست کو ایکٹو اور با مقصد بنا لے تو عوام اس کے ساتھ ہوں گے۔
     
    • متفق متفق × 4
  8. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    لعنت بھیجو ، جناب ، اس نا اہل حکومت پر۔ جبکہ ملک شدید پریشانی اور مہنگائی میں ہے۔ سینکڑوں پاکستانی سپوت سیاچن گلیشئر میں دفن ہو گئے ہیں ۔یہ بے شرم نہایت ڈھٹائی سے بھارت یاترا پر بلاول کی سیاست کے لئے منتیں مانتے دکھائی دئے۔ ان پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ ان کو صرف عوامی طاقت کے ساتھ ایک سچے رہنما کی موجودگی میں قابو کیا جا سکتا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  9. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فکر نہ کریں ساجد، اس حکومت پر میں تو کب کی لعنت بھیج چکا ہوں بلکہ اس سے بھی آگے جا چکا ہوں ۔ جو لوگ بھی اب پیپلز پارٹی کی معاونت اور حمایت کرتے ہیں وہ میرے نزدیک عوام دشمن اور ملک دشمن ہیں۔ اس قدر واضح اور ڈھٹائی کے ساتھ کرپشن کے بعد بھی جو اس حکومت اور پارٹی کے ساتھ ہے وہ کسی لحاظ سے بھی کسی شک کے فائدہ کا حقدار نہیں۔

    میں تحریک انصاف کی حمایت اس وجہ سے بھی کر رہا ہوں تاکہ موجودہ اور قائم شدہ طاقت کے محوروں کو یہ پیغام جا سکے کہ کوئی نیا بندہ اور پارٹی ان کی جگہ لے سکتی ہے۔ لوگ ان سکہ بند اور روایتی جماعتوں کے علاوہ بھی کسی کے پلڑے میں اپنا وزن رکھ سکتے ہیں۔

    ایک بار چانس دے دیا جائے عمران کو ، اگر وہ کارکردگی نہ دکھائے تو اسے اگلی دفعہ رد کر دیں گے۔
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں متفق ہوں آپ کی اس بات سے اور پارٹی الیکشن والی بات کرکے عمران نے آپ کے انہی خدشات اور جائز تنقید کو تسلیم کیا ہے۔ اگر منصفانہ اور صحیح الیکشن پارٹی میں ہو جاتے ہیں تو پھر یہ گلہ آپ کا دور ہو جائے گا کیونکہ پھر تو لوگوں نے ہی منتخب کیا ہوگا ، عمران یا مرکزی انتظامی کمیٹی کا عمل دخل بہت کم رہ جائے گا۔

    دانشور طبقہ میں سے جہانگیر ترین موجود تو ہے جو کہ توانائی اور معیشت پالیسی بنا رہا ہے اور اس کی صلاحیتوں پر کم ہی کسی کو شک ہے۔
    جسٹس وجیہ الدین عدالتی دانشور ہیں۔


    ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں وال سٹریٹ قبضہ تحریک کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اس کے لیے ایک علیحدہ دھاگہ کھولتے ہیں۔ میں خود اس تحریک کا گواہ اور راوی ہوں اور میں نے براہ راست لوگوں کے تبصرے اور رائے سنی بھی ہے اور اس کے جلوس اور لوگوں کا جوش و ولولہ دیکھا بھی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس تحریک کے ساتھ بھی جو سلوک ہو رہا ہے وہ بہت ناشائستہ ہے اور جابرانہ ہے۔ لاتعداد گرفتاریاں اور منصوبہ بندی کے ساتھ ان کے قیام کو ختم کیا گیا اور حد سے زیادہ ناجائز تنقید بھی ہو رہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,724
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    اس سے تو یہ لگتا ہے کہ آپ سیاسی لیڈر نہیں بلکہ مسیحا کی تلاش میں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. زلفی شاہ

    زلفی شاہ لائبریرین

    مراسلے:
    4,001
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    میں کوئی صحافی نہیں اور نہ ہی دانشور ہوں لیکن میری ناقص عقل یہی کہتی ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحرانوں کے حل کے لئے عمران خان واحد چانس ہیں۔ آگے کیا ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ ہم عقل کے زور پر صرف اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تین بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں، مسلم لیگ نواز شریف گروپ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف۔ ان تینوں میں سے دو پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں ۔ پاکستان کے حالات مسلسل تنزلی کی طرف گئے ہیں۔ اس لئے تحریک انصاف سے ہی امید رکھی جاسکتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3
  13. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    محب ، باوجود اس کے کہ عمران کی اب تک کی کارکردگی پر مطمئن نہیں ہوں ابھی تک میرا ووٹ عمران کے حق میں ہے۔
    1: ابھی تک آزمایا نہیں گیا۔
    2:کوئی دوسری پارٹی تحریک انصاف کی متبادل نہیں ہے۔
    3: انتہائی اہم بات ہے کہ عمران بنیادی جمہوریتوں کے قیام کا وعدہ کر چکا ہے۔ جب کہ تمام دوسری پارٹیاں اس پر بات کرنے سے بھی کتراتی ہیں
    مؤخرالذکر بات ہی عمران کی حمایت کے لئے بڑا بھاری نکتہ ہے۔ اس پر اگر عمل ہوتا ہے تو پاکستانی سیاست میں کرپشن اور غیر ملکی مداخلت میں خاطر خواہ کمی ہو گی اور جمہوریت میں عام آدمی کو اس کا سیاسی حق ملے گا۔
    اس پر میں جلد ہی لکھوں گا کہ لوکل گورنمنٹس جمہوریت میں کیا اہمیت رکھتی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    عمران خان کے موجودہ حواری کامیاب سیاستدان تو واقعی ہیں لیکن ہم لوگ "سیاست" سے زیادہ "اخلاص" کے طلبگار ہیں۔ کیونکہ کامیاب سیاست دان تو موجودہ پارلیمان میں بھی موجود ہیں اور اُن کی کامیابی ہماری تباہی پر ہی منتج ہوئی ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  15. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سچی بات تو یہی ہے کہ پاکستان کو ایک مسیحا کی ہی ضرورت ہے سیاست دان تو اپنے مقاصد لے کر آتے ہیں اور ان کی ساری سعی و جد وجہد "اپنے" مقاصد کے حصول تک ہی محدود رہتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    صد فیصد متفق !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    پی پی پی اور ن لیگ سے تحریک انصاف کئی گنا اچھی ہے،باقی سب اپنی اپنی باریاں لگا رہے ہیں۔ اتنی دفعہ حکومت میں آ چکے ہیں جو پہلے کیا وہی اب کریں گے۔
     
    • متفق متفق × 6
  18. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں سیاسی لیڈر ہی کی تلاش میں ہوں اور ایک اچھے سیاسی لیڈر سے زیادہ مسیحا اور کون ہو سکتا ہے قوم کا۔
     
    • متفق متفق × 1
  19. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ساجد ، میں بھی عمران کےسارے اقدامات سے متفق نہیں اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے ، وہ بھی ایک انسان ہے اور غلطیوں سے سیکھ رہا ہے ۔ اس کی کارکردگی سے اگر مطمئن ہو جائیں تو پھر تو وہ اور بہت سی غلطیاں کرے گا۔

    اطمینان کرنے کا مطلب چھوٹ دینا ہوتا ہے سیاست میں اور چھوٹ ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے حکومتی معاملات میں۔

    بلدیاتی انتخابات کی سیاست باقی دونوں پارٹیوں کے وارے میں نہیں اس لیے اسے بالکل بھی پسند نہیں کرتی جبکہ اس کے بغیر بنیادی جمہوریت کے لوازمے پورے ہی نہیں ہوتے۔

    آپ کے لوکل گورنمنٹ سیاست پر مضمون کا انتظار رہے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    23,807
    اگلی بار؟ عمران خان نے تو محض 22 ماہ میں اپنی کارکردگی سے سب کی چیخیں نکال دی ہیں۔ (چیخوں کا سُن کر ایک منفی ریٹنگ آتی ہوگی)
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG][​IMG]
    عمران خان نے صرف 22 ماہ میں ملک کا یہ حال کر دیا ہے کہ عام بندہ بھی کہتا پھر رہاہے کہ اس سے تو وہ چور ہی اچھے تھے۔
    وہ چور ہی اچھے تھے
     

اس صفحے کی تشہیر