بے پر کی

کبھی کبھی کچھ لکھنے کو جی کرتا ہے۔ پر کیا؟ کچھ بھی۔۔۔۔۔۔ بغیر سر پیر کے۔

پیش خدمت ہے بے پر کی !!!

غور کیجئے اس عنوان پر! دو دو حروف کی تین جوڑیاں۔۔۔۔۔ اگر انہیں فورم کے تلاش انجن سے تلاش کرنے کی کوشش کریں تو جواب آئے گا کہ تلاش کے لئے دئے گئے الفاظ بہت مختصر ہیں۔ :) ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے کسی پر دار کے پر کتر کر ہوا میں اڑا دئے ہوں۔

پر کترنے پر یہ شعر یاد آگیا۔۔

خط کبوتر کس طرح لے جائے بام یار پر
پر کترنے کے لئے ہیں قینچیاں دیوار پر

جس کا حل یہ بتایا گیا۔۔

خط کبوتر اس طرح لے جائے بام یار پر
پر ہی پر نامہ لکھے ہوں پر کٹیں دیوار پر


پر یہاں کچھ لکھنے سے پہلے دس بار سوچ لیجئے گا کہ کہیں آپ کا نوشتہ پر دار تو نہیں ہو گیا۔ :grin: :grin: :grin:
 
انسان کی تلاش!

آیئے آج آپ کو انسان کی تعریف بتاتا ہوں۔

انسان نام ہے ایسی چڑیا کا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ (نہیں خیر چڑیا تو نہیں)
انسان نام ہے ایسے جانور کا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ (نہیں کچھ تو فرق ہوگا انسان اور جانور میں)
انسان نام ہے ایسے ذی روح کا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ (نہیں بے جان بھی تو ہو سکتا ہے)
پھر شاید
انسان نام ہے ۔۔۔۔ ایسی ۔۔۔ چیز کا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ (نہیں یہ بھی نہیں کبھی کبھی نا چیز بھی تو ہوتا ہے)
پھر ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔
انسان نام ہے۔۔۔۔۔۔ نام ہے ۔۔۔۔

چلو کسی انسان سے پوچھتے ہیں۔ :)
 
استاد محبوب نرالے عالم!

آج رات خواب میں میری ملاقات استاد محبوب نرالے عالم سے ہو گئی۔ انہوں نے اپنے تازہ ترین کلام (مطلب فوراً والے) سنانے شروع کر دئے۔ جن میں سے عربا کے اشعار تو بھول گیا ہاں چند بند فارسا کے یاد رہ گئے ہیں سماعت فرمائیے۔۔۔


سندگی با کہ رمی حال
نہ گوید نہ شند
رنجبا داشت ھمی لال
نہ گوید نہ شند
شب دیجور کا مہتاب
نہ گوید نہ شند
زا بہی راست خرنجال
نہ گوید نہ شند

اس کے بعد نیند اتنی گہری ہو گئی کہ خواب بھی نظر آنا بند ہو گئے۔ :)

(یہ واقعی بے پر کی ہے کہیں مفہوم نکالنے نہ بیٹھ جائیے گا)
 
اگر گانوں پر کاپی رائٹ نہ ہو تو کیا حالت ہو سکتی ہے کسی گانے کی، سماعت فرمائیں۔۔۔۔

1:
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
صبح اٹھ کے دونوں نے گلوکوز پی ہے

2:
ٹوٹ گئی چوڑی کلیّاں میں
اور ہاتھ زخمی ہو گئے

3:
میرے محبوب قیامت ہو گی
اور سبھی ذی روح مر جائیں گے

4:
خدا کرے کی قیامت ہو اور تو آئے
اسی کے ساتھ جہنم رسید ہو جائے

5:
روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناؤں پیا
ڈنڈا لیکے پیٹوں یا پتھر برساؤں پیا

یہ تو چند مثالیں تھیں اور جانے کیا کیا ہو جاتا۔۔۔۔
 

سارہ خان

محفلین
اگر گانوں پر کاپی رائٹ نہ ہو تو کیا حالت ہو سکتی ہے کسی گانے کی، سماعت فرمائیں۔۔۔۔

1:
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
صبح اٹھ کے دونوں نے گلوکوز پی ہے

2:
ٹوٹ گئی چوڑی کلیّاں میں
اور ہاتھ زخمی ہو گئے

3:
میرے محبوب قیامت ہو گی
اور سبھی ذی روح مر جائیں گے

4:
خدا کرے کی قیامت ہو اور تو آئے
اسی کے ساتھ جہنم رسید ہو جائے

5:
روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناؤں پیا
ڈنڈا لیکے پیٹوں یا پتھر برساؤں پیا

یہ تو چند مثالیں تھیں اور جانے کیا کیا ہو جاتا۔۔۔۔


:grin::grin::grin:
 
کھانا

"کھانا" اسم بھی ہے اور مصدر بھی۔۔۔ (اور اگر "کھا۔۔۔ نا" کہہ دیا جائے تو امر بالتاکید بھی ہے)
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ، "ابے! کھانا کھانا ہے تو کھا نا"۔

کچھ کھانے کے لئے جیتے ہیں کچھ جینے کے لئے کھاتے ہیں، جبکہ کچھ تو خانہ پری کے لئے کھاتے ہیں۔
بہتیرے کھانوں کی کھدائی کرتے ہیں تاکہ کھانے کے لئے کھانا پا سکیں۔
ویسے کھانے کئی اقسام کے ہوتے ہیں، اور کھانے والوں کی قسمیں اور بھی کثرت سے پائی جاتی ہیں۔
مثلاً ایک کھانا تو وہ ہوتا ہے جو بھوک کو مٹاتا ہے، توانائی اور تندرستی کا باعث ہوتا ہے۔
جبکہ کچھ لوگ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جنکے کھانے سے روزہ بھی نہیں ٹوٹتا مثلاً جوتا، مار، گالیاں وغیرہ وغیرہ۔
حتیٰ کہ ان چیزوں کے کھانے کے بعد آدمی کے پاس جو لازمی شئے ہوتی ہے (جو کہ یقیناً غصہ ہے بشرطیکہ لب انتہائی شیریں نا ہوں) اسے پی جانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

ویسے اس تبصرے سے کہیں آپ یہ مفہوم نہ اخذ کر لیں کہ روزہ بہت مضبوط شئے ہے جو ان جھٹکوں کو برداشت کر سکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں اتنی لطیف اور زود ہضم ہوتی ہیں کہ روزہ متاثر ہونے سے قبل ہی ہضم (زائل) ہو جاتی ہیں، اور جنھیں ہضم نہیں ہوتیں وہ جواباً گالیاں دے کر اپنا روزہ توڑ بیٹھتے ہیں۔

کچھ معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کھانے کی مقدار سے زیادہ کہنے کا انداز اسکی کثرت کو ظاہر کرتا ہے، مثلاً
"باپ رے! کمبخت پوری کی پوری ایک چپاتی کھا گئی اور ایک میں بیچارہ ہوں کہ پانچ تندوریاں، تین پراٹھے اور تھوڑی سی بریانی کھا کے سنت کے مطابق خالی پیٹ دسترخوان سے اٹھ گیا۔"

کہتے ہیں کی الگ الگ کھانے انسانی بدن کے مختلف حصوں پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں، چنانچہ سود خوروں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کی انکی توند بہت تیزی سے باہر نکلتی ہے (پر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر صاحب توند کو سود خور سمجھا جائے)۔ منطق کی اصطلاح میں "عموم خصوص مطلق" سمجھ لیجئے کہ ہر لڈو مٹھائی ہوتا ہے پر ہر مٹھائی لڈو نہیں۔

کھانا کہا کر کام ہے سب کا۔
شکر کریں سب اپنے رب کا۔
 

تعبیر

محفلین
واہ واہ کیا خوب بے پرکی اڑاتے ہو۔ آئندہ بھی اڑاتے رہنا :)

مجھے گانوں والا بہت پسند آیا اور اسکے بعد کھانا

استاد محبوب نرالے عالم! والا البتہ اُڑ گیا :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
کبھی کبھی کچھ لکھنے کو جی کرتا ہے۔ پر کیا؟ کچھ بھی۔۔۔۔۔۔ بغیر سر پیر کے۔

پیش خدمت ہے بے پر کی !!!

غور کیجئے اس عنوان پر! دو دو حروف کی تین جوڑیاں۔۔۔۔۔ اگر انہیں فورم کے تلاش انجن سے تلاش کرنے کی کوشش کریں تو جواب آئے گا کہ تلاش کے لئے دئے گئے الفاظ بہت مختصر ہیں۔ :) ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے کسی پر دار کے پر کتر کر ہوا میں اڑا دئے ہوں۔

پر کترنے پر یہ شعر یاد آگیا۔۔

خط کبوتر کس طرح لے جائے بام یار پر
پر کترنے کے لئے ہیں قینچیاں دیوار پر

جس کا حل یہ بتایا گیا۔۔

خط کبوتر اس طرح لے جائے بام یار پر
پر ہی پر نامہ لکھے ہوں پر کٹیں دیوار پر


پر یہاں کچھ لکھنے سے پہلے دس بار سوچ لیجئے گا کہ کہیں آپ کا نوشتہ پر دار تو نہیں ہو گیا۔ :grin: :grin: :grin:

میں نے مندرجہ بالا اشعار اس طرح سن رکھے ہیں
خط، کبوتر کس طرح لے جائے بامِ یار پر
پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر

خط کبوتر اس طرح لے جائے بامِ یار پر
خط پروں پہ ہو تحریر اور پرکٹیں دیوار پر
 
واہ واہ کیا خوب بے پرکی اڑاتے ہو۔ آئندہ بھی اڑاتے رہنا :)

مجھے گانوں والا بہت پسند آیا اور اسکے بعد کھانا

استاد محبوب نرالے عالم! والا البتہ اُڑ گیا :)

ہا ہا ہا ہا ہا۔
شکریہ اپیا :)

استاد محبوب نرالے عالم کا قصہ ابن صفی کے قارئین کو ہی سمجھ میں آئے گا۔ یہ ایک ایسے کردار ہیں جو گلی محلوں میں چورن جیسی چیزیں پیچتے ہیں اور چورن کے لئے تو ان کا ایک مخصوص فرمودہ بھی ہے جو یہ ناک سکوڑ کر منھ اوپر اٹھا کر ایک سانس میں سناتے ہیں۔ یوں ہی الٹے سیدھے عربا (عربی) اور فارسا (فارسی) کے اشعار کہتے ہیں جن کا کوئی مفہوم اور مطلب نہیں ہوتا۔ بس دیکھنے میں عربی اور فارسی جیسے لگتے ہیں۔ اور اردو تو ایسی بولتے ہیں کے بڑے بڑے ادیبوں کے نانا جان قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں، خصوصاً تب جب آس پاس کسی صنف نازک کی مہک موجود ہو۔

ویسے یہ کردار بہت کم منظر عام پر آیا ہے پر جب بھی آیا ہے تو پورے جلوے میں۔ غالباً عمران سیریز کے پاگلوں کی انجمن اور ڈاکٹر دعا گو میں عمران نے انہیں کافی استعمال کیا ہے۔

ویسے اگر کوشش کی جائے تو اس پر دار کردار پر انتہائی شاندار بے پر کی اڑائی جا سکتی ہے۔ :)
 
میں نے مندرجہ بالا اشعار اس طرح سن رکھے ہیں
خط، کبوتر کس طرح لے جائے بامِ یار پر
پر کترنے کو لگی ہیں قینچیاں دیوار پر

خط کبوتر اس طرح لے جائے بامِ یار پر
خط پروں پہ ہو تحریر اور پرکٹیں دیوار پر

کیا رکھا ہے ان باتوں میں اب تو کبوتروں والا سلسلہ بھی ختم ہو گیا جو کہ حد درجہ رومانٹک تھا۔ نئے زمانے میں تو یہ شعر کچھ یوں ہونا چاہئے۔

میل یاہو کس طرح لے جائے ان کے ان بکس میں
سپیم بلاک کرنے کو ہیں فائروال نیٹ ورکس میں

اب اس کا حل تو کوئی ہیکر ہی بتا سکتا ہے۔ خیر میں بھی بتا سکتا ہوں پر بتا دوں تو مجھ اور آپ میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ (مذاق)
 
استاد محبوب نرالے عالم کی روح

دورِ لفیف کی سب سے نازک اور خم گزیدہ وراثقت یہی ہے کہ لعارزات و مراشفات کا مرحوق سطحِ منعور سے کوسوں نیچے جا چکا ہے۔ اب ضروری ہے کہ سفولیات و فواش کا نئے سرے سے توخص عمل میں لایا جائے۔۔۔۔۔۔

ابھی روح سے کلام جاری تھا کہ کسی نے گدگدی لگا دی اور میں طلسم سے باہر آ گیا۔
 
ترمیم شدہ!
اونٹ کے منہ میں آدھا زیرہ ۔۔۔۔!!
یہ محاورہ تب بولا جاتا ہے جب "اونٹ کے منہ میں زیرہ" والا محاورہ کسی شئے کی قلت مقدار کو بیان کر پانے میں ناکام ہو جائے۔۔۔۔۔
یوں تو اس مقصد کے لئے "دال/آٹے میں نمک برابر" بھی استعمال کر سکتے ہیں (بشرطیکہ غلطی سے آٹے کی جگہ سمندر نا کہہ بیٹھیں) پر یہ فقرہ تب اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے جب مخاطب نمک کے معاملے میں بسیار خور واقع ہوا ہو یا دوسرے الفاط میں نمک گزیدہ ہو۔۔۔ مثلاً ہمارے ایک رفیق جو یوں کہتے ہیں کی "کھانے میں خواہ نمک روٹی ہی کیوں نہ ہو پر نمک ضرور ہو۔۔۔۔!!"


غور سے دیکھئے کہیں یہ مضمون پر دار تو نہیں ہو گیا۔ :grin:
 
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بسوں ٹرینوں اور دوسرے پبلک مقامات پر بیٹھنے کے لئے بنے سیٹوں پرسے اگر کسی کو اٹھ کر کہیں جانا پڑ جائے تو اپنا رومال ڈال دیتے ہیں، یہ بتانے کے لئے کہ کوئی اسے استعمال نہ کرے یہ میری ہے!

خدا جانے کیا بات ہے کہ ایسے کسی موقعے پر کسی کو اپنی بیوی کے اوپر رومال ڈالتے آج تک نہیں دیکھا۔ :grin:
 
ہاں کسی قدر پر دار تو ہو گئی ہے پھر بھی پردہ داری سے تو بہتر ہی ہے۔ :)

کسی اور کی جانب سے کوئی بے پر کی اڑتی ہوئی یہاں تک نہیں آئی پتہ نہیں لوگوں کو بغیر پر کے اڑانا نہی آتا یا یا کسی قسم کے بے پر کی پردہ داری میں کوشاں ہیں۔ بے پر کی اڑانے میں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ موضوع کا لحاظ، جملوں کی ترتیب، معنویت اور مقصد غرض اس طرح کی دیگر آلام مصائب سے آزاد ہوتے ہیں۔ اور خدا نخواستہ ان میں سے کوئی بلائے نا گہانی کی مانند نازل بھی ہو جائے تو بقول شاعر پر کترنے کے لئے ہیں قینچیاں ۔۔۔۔ ۔۔۔
 
Top