بے حس خاموشی

loneliness4ever

محفلین
بے حس خاموشی
س ن مخمور

کل بھی یہ درد عام تھا افسوس آ ج بھی اس درد کو عام کیا ہوا ہے اور کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کل بھی سبب تھے اور جوآج بھی اس درد کی وجہ بنے ہوئے ہیں جس نے معاشرے میں جیون کی رسی تھا مے ہر اس جان کو تکلیف میں مبتلا کیا رکھا ہے جو احساس کے نازک تاروں سے نہایت مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے جس کی احساس کے اس جال سے واحد نجات بار ِجان کو گرا دینے ہی میں ہے، مگر یہ کام تو اپنے وقت ہی پر ہونا ہوتا ہے اور یوں منزل تلک پہنچنے کے سفر میں قدم قدم پر یہ لوگ اس ہی درد سے دو چار رہتے ہیں ، جس درد نے کئی گونجتی آوازوں کا گلا گھونٹ دیا ہے اور شہر ِاحساس میں کتنے ہی جنازوں کا اہتمام کیا رکھا ہے۔ مراد ِکلام پڑھنے والے کی وہ خاموشی ہے جس نے لکھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ شہر بے مراد میں تنہا ہے ، یا کسی ایسے نگر میں ہے جہا ں کے لوگ اس کی زبان نہیں جانتے ،یا پھر مفاد پرستوں کے اس نگر میں قاری بھی مطلب پرست ہو چلا ہے۔ ایک سکوت طاری ہے جو لکھنے والے کو آہستہ آہستہ خاموشی کے گہرے سمندر میں اتار دیتا ہے۔

کون جانے کتنے آنسو آنکھ سے گرتے ہیں ، شیشئہ دل جانے کتنے ٹکڑوں میں ٹوٹتا ہے، کتنے چاند رتجگوں کا شمار کرتے ہیں تب کہیں جا کر لفظ ہاں ایک لفظ کا وجود ہوتا ہے جس کے عقب میں احساس کرب کی بھٹی میں جانے کب تلک جلا ہوتا ہے، اور پڑھنے والے کی خاموشی امیدوں میں دھڑکتے لفظوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ یاد رہے یہاں خاموشی کی بات ہو رہی ہے، اور خاموشی سے مراد صرف خاموشی ہے تعریف اور تنقید نہیں۔میں اس گفتگو کو طوالت سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں اس لئے گفتگو کا دائرہ انٹر نیٹ پرموجود مختلف فورمز تک ہی محدود کر رہا ہوں، اور یہ لکھتے ہوئے دل دکھی ہے کہ فورمز پر جابجا لکھاری کو خاموشی کا سامنا ہے ، مختلف کھیل اور دیگر تفریح کی لڑیوں ( تھریڈز ) پر نہ صرف خوب آمد ہوتی ہے عوام کی ، بلکہ بات چیت کی بھی خوب محفل جمی رہتی ہے، مگر حیف صد حیف لکھنے والے کے مضامین پر خاموشی راج کرتی دیکھی گئی ہے۔اور یہ خاموشی بلا آخر قلم کی جان لے لیتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خاموش عفریت کو پالنے والوں کو جگایا جائے انٹر نیٹ پر قاری کوسوں دور خاموش بیٹھ کر جب لکھنے والے پرمنفی اثر ڈال سکتے ہیں تو اس مفلس کی جھولی میں اپنے چند الفاظ ڈال کر، اس کے لکھے پر اظہار ِخیال کر کے اس کو امید اور لگن سے مالا مال بھی کر سکتے ہیں ۔ برُی تحریر کو بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے، اور بہتر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ اس لکھے کے حاصل کو سمجھا جائے اور اپنے موجودہ اور آنے والے وقت کو بھیانک خاموشی سے بچایا جائے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
@lonliness4ever

امجد اسلام امجد کی خوبصورت نظم آپ کے نام:


کرو، جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
کرو، جو بات کرنی ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
باقی سب کو تو رہنے ہی دیجے۔ میری سُنیے۔

آپ نے یہ تحریر اگست 24، 2014 کو یہاں پیش کی۔ میری نظر سے نہیں گزری۔

پھر 21 اکتوبر کو اس تحریر تک رسائی کی سبیل ہوئی۔۔۔! تو ہم نے اسے فرصت کے وقت کے لئے اُٹھا رکھا۔

آج 25 اکتوبر یعنی تقریباً دو ماہ کے بعد اس تحریر پر میں تبصرہ کرنے کے قابل ہوا (بلکہ مجھے توفیق ہوئی)۔

میں کوئی بہت مصروف بندہ بھی نہیں ہوں نہ کوئی پہاڑ توڑنے کا کام کرتا ہوں لیکن پھر بھی مصروفیات ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا کا سب سے مصروف بندہ میں ہی ہوں۔ :) :)

بہرکیف کسی نہ کسی طرح آج ہم اس تحریر تک پہنچ گئے اور آپ کے دل کی بات ہم تک پہنچ گئی۔

یعنی یہ تحریر ضائع نہیں گئی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے یہ تحریر پڑھی ہو اور اُنہیں اچھی بھی لگی ہوں لیکن تبصرہ بوجوہ نہ ہو پایا ہو۔

سو ہماری رائے میں ادبی شخصیت کو حساس ہونا چاہیے لیکن اپنے موضوعات کے بارے نہ کہ اپنے قاری کے بارے میں۔

ہم بھی جو اُلٹی سیدھی کبھی کبھی لکھتے ہیں تو ہمیں اکثر و بیشتر اُن لوگوں سے فیڈ بیک نہیں ملتی جن سے ہمیں توقع ہوتی ہے لیکن ایک دن اچانک کوئی بالکل انجان شخص آپ سے اس تحریر کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم تو سمجھے تھے کہ 'وہ تحریر' حوادثِ زمانہ کی نذر ہو گئی لیکن ہم سب کچھ سمجھتے ہی کہاں ہیں۔ :)

بہرکیف کافی کچھ لکھ گیا ۔

آپ سے درخواست ہے کہ محفل پر آتے رہیے، لکھتے رہیے اور اپنی تحریروں میں نکھار پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ایک نہ ایک دن مستقل قاری بھی آپ کو میسر آ جائیں گے۔

اگر کوئی بات طبع نازک پر گراں گزری ہو تو پیشگی معذرت۔

خوش رہیے۔ شاد آباد رہیے۔ :) :)
 

محمداحمد

لائبریرین
ویسے آج کل لوگوں کو زبردستی تحریر پڑھوانے کا دور ہے آپ قارئین کو ٹیگ کر دیا کریں اگر بہتر سمجھیں تو۔
:) :) :)

کچھ عرصے میں اندازہ ہو جائے گا کہ کس کس کو ٹیگ کرنا چاہیے۔ :)
 

دوست

محفلین
ہمیں سات آٹھ برس ہو گئے ہیں بلاگ لکھتے۔ کبھی کبھار بہت ہی "دل لگا" کر تحریر لکھی ہو تو تعریفی تبصرے سننے کی بڑی آس ہوتی ہے۔ ورنہ عادت ہو گئی ہے کہ لوگ پڑھ کر لائیک ہی کر دیں تو بڑی بات ہو گی۔
تحریر پر تبصرے لینے ہیں تو سیاسی، مذہبی یا منتازعہ موضوع پر لکھیں اور دیکھیں کیسےمیٹھے پر مکھیوں کی طرح تبصرہ نگار گرتے ہیں۔
ورنہ صبر کرنے کی عادت ڈالیں۔
 

زبیر مرزا

محفلین
سنجیدہ سماجی اور نفسیاتی موضوعات ہوں صحت اور ماحولیات سے متعلق تحریر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم کتراتے ہیں - آپ نے ایک اہم بات کی نشاندہی کی ہے
اگرلکھنے والے کی کچھ حوصلہ افزائی کردی جائے تو اسے لکھنے کی مزید تحریک ملے کہ اس کو پڑھنے اور سمجھنے اولے ہیں-
 

زبیر مرزا

محفلین
ویسے آج کل لوگوں کو زبردستی تحریر پڑھوانے کا دور ہے آپ قارئین کو ٹیگ کر دیا کریں اگر بہتر سمجھیں تو۔
:) :) :)

کچھ عرصے میں اندازہ ہو جائے گا کہ کس کس کو ٹیگ کرنا چاہیے۔ :)
یہ کام آپ کیوں نہیں کرتے؟ آپ تو اپنا تازہ کلام بھی چھپا چھپا کے لکھتے ہیں اور بھیجتے ہیں :)
 

عبد الرحمن

لائبریرین
ویسے آج کل لوگوں کو زبردستی تحریر پڑھوانے کا دور ہے آپ قارئین کو ٹیگ کر دیا کریں اگر بہتر سمجھیں تو۔
:) :) :)

کچھ عرصے میں اندازہ ہو جائے گا کہ کس کس کو ٹیگ کرنا چاہیے۔ :)
قبلہ کی ہر تحریر کا ٹیگ احقر کو خاص طور پر ملا کرتا تھا۔ جناب خاص طور پر بندے کے کیفیت نامے میں پیغام چھوڑا کرتے تھے۔ اور ناچیز کی بھی بھرپور کوشش ہو تی تھی کہ تبصرہ کرنے میں دیر نہ لگائے۔ معلوم نہیں اتنی خوب صورت تحریر میری نظروں سے کیسے اوجھل ر ہی؟

بہت شکریہ احمد بھائی ! اس طرف متوجہ کرانے کا۔ اور اتنے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے مخمور بھائی کا بھی بے حد شکریہ ۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کھیل، سیاست اور بیکار کی لڑیوں پر شور ہنگامہ اور علم و ادب کی باتوں پر ایک سکوت شہرِ خموشاں۔۔۔
جب آپ کے معاشرے کا عمومی مزاج ہی کج روی کج بحثی اور صرف اپنے چوہدری پنے کی ہٹ برقرار رکھنے پر ہو تو اس میں ایسے شکوے کیا معنی۔ کون ہے جو اچھا پڑھے۔ اور پڑھ کر پھر لکھنے والے پرتنقید یا توصیف کے کچھ جملے تراشے۔ اس کی ضرورت کیا ہے۔ اس سے اس کو کیا حاصل ہوگا۔ کچھ بھی نہیں۔ اس پورے میں "میں" کا کیا ہوگا۔ کون کہے گا کہ یہ یار یہ بڑا تجزیہ نگار ہے۔ اس کے تجربے اور علمی حثیت کا کیا کہنا۔ اور ویسے بھی اگر ایسی لڑیوں میں ہی آیا جائے۔ تو پھر وہ جو اندر کی خوش گفتاری ہے۔ وہ کس طرح دنیا کو پتا چلے گی۔ :p
 

arifkarim

معطل
کھیل، سیاست اور بیکار کی لڑیوں پر شور ہنگامہ اور علم و ادب کی باتوں پر ایک سکوت شہرِ خموشاں۔۔۔
جو قوم کھیل اور سیاست کو بیکار سمجھتی ہے اسکا یہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے۔ علم و ادب پر تعمیری بحث و مباحثہ بھی تب ہی ہوسکتی ہے جب قوم سیاسی طور پر زندہ اور کھیل کے میدان میں عروج پر ہو۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
جو قوم کھیل اور سیاست کو بیکار سمجھتی ہے اسکا یہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے۔ علم و ادب پر تعمیری بحث و مباحثہ بھی تب ہی ہوسکتی ہے جب قوم سیاسی طور پر زندہ اور کھیل کے میدان میں عروج پر ہو۔
اور اس طرح کے مراسلے وجود میں آتے ہیں جب بات کو سمجھے بغیر ہر دھاگے کو سیاسی سمجھ کر مراسلہ کرنے آجایا جاتا ہے۔
 

عینی مروت

محفلین
بے حس خاموشی
س ن مخمور

کل بھی یہ درد عام تھا افسوس آ ج بھی اس درد کو عام کیا ہوا ہے اور کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کل بھی سبب تھے اور جوآج بھی اس درد کی وجہ بنے ہوئے ہیں جس نے معاشرے میں جیون کی رسی تھا مے ہر اس جان کو تکلیف میں مبتلا کیا رکھا ہے جو احساس کے نازک تاروں سے نہایت مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے جس کی احساس کے اس جال سے واحد نجات بار ِجان کو گرا دینے ہی میں ہے، مگر یہ کام تو اپنے وقت ہی پر ہونا ہوتا ہے اور یوں منزل تلک پہنچنے کے سفر میں قدم قدم پر یہ لوگ اس ہی درد سے دو چار رہتے ہیں ، جس درد نے کئی گونجتی آوازوں کا گلا گھونٹ دیا ہے اور شہر ِاحساس میں کتنے ہی جنازوں کا اہتمام کیا رکھا ہے۔ مراد ِکلام پڑھنے والے کی وہ خاموشی ہے جس نے لکھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ شہر بے مراد میں تنہا ہے ، یا کسی ایسے نگر میں ہے جہا ں کے لوگ اس کی زبان نہیں جانتے ،یا پھر مفاد پرستوں کے اس نگر میں قاری بھی مطلب پرست ہو چلا ہے۔ ایک سکوت طاری ہے جو لکھنے والے کو آہستہ آہستہ خاموشی کے گہرے سمندر میں اتار دیتا ہے۔

کون جانے کتنے آنسو آنکھ سے گرتے ہیں ، شیشئہ دل جانے کتنے ٹکڑوں میں ٹوٹتا ہے، کتنے چاند رتجگوں کا شمار کرتے ہیں تب کہیں جا کر لفظ ہاں ایک لفظ کا وجود ہوتا ہے جس کے عقب میں احساس کرب کی بھٹی میں جانے کب تلک جلا ہوتا ہے، اور پڑھنے والے کی خاموشی امیدوں میں دھڑکتے لفظوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ یاد رہے یہاں خاموشی کی بات ہو رہی ہے، اور خاموشی سے مراد صرف خاموشی ہے تعریف اور تنقید نہیں۔میں اس گفتگو کو طوالت سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں اس لئے گفتگو کا دائرہ انٹر نیٹ پرموجود مختلف فورمز تک ہی محدود کر رہا ہوں، اور یہ لکھتے ہوئے دل دکھی ہے کہ فورمز پر جابجا لکھاری کو خاموشی کا سامنا ہے ، مختلف کھیل اور دیگر تفریح کی لڑیوں ( تھریڈز ) پر نہ صرف خوب آمد ہوتی ہے عوام کی ، بلکہ بات چیت کی بھی خوب محفل جمی رہتی ہے، مگر حیف صد حیف لکھنے والے کے مضامین پر خاموشی راج کرتی دیکھی گئی ہے۔اور یہ خاموشی بلا آخر قلم کی جان لے لیتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خاموش عفریت کو پالنے والوں کو جگایا جائے انٹر نیٹ پر قاری کوسوں دور خاموش بیٹھ کر جب لکھنے والے پرمنفی اثر ڈال سکتے ہیں تو اس مفلس کی جھولی میں اپنے چند الفاظ ڈال کر، اس کے لکھے پر اظہار ِخیال کر کے اس کو امید اور لگن سے مالا مال بھی کر سکتے ہیں ۔ برُی تحریر کو بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے، اور بہتر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ اس لکھے کے حاصل کو سمجھا جائے اور اپنے موجودہ اور آنے والے وقت کو بھیانک خاموشی سے بچایا جائے۔

محفل میں آپکو دیکھ کر خوشی ہوئی مخمور بھائی۔۔ :)
بلاشبہ سوچ کے بہت سے در وا کرتی ہوئی تحریر لکھی ہے ۔۔۔اور حساس دلوں کی آواز۔۔۔۔۔
لیکن لکھاری کو مفلس نہ کہیں ۔۔ بہت قیمتی خیالات کاسرمایہ رکھتا ہے۔اب کوئی سراہے،نہ سراہے کم از کم اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہنا چاہیے،شاید بہت دیر بعد کوئی "خاموشی سے اس تحریر سے وہی سبق پالے جو ایک لکھاری کے دل کی آواز ہے تو سمجھیں حق ادا ہو گیا
 

محمداحمد

لائبریرین
سنجیدہ سماجی اور نفسیاتی موضوعات ہوں صحت اور ماحولیات سے متعلق تحریر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم کتراتے ہیں - آپ نے ایک اہم بات کی نشاندہی کی ہے
اگرلکھنے والے کی کچھ حوصلہ افزائی کردی جائے تو اسے لکھنے کی مزید تحریک ملے کہ اس کو پڑھنے اور سمجھنے اولے ہیں-

حیرت ہے کہ آپ نے سیاست کے شعبے کو گھاس نہیں ڈالی۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ کام آپ کیوں نہیں کرتے؟ آپ تو اپنا تازہ کلام بھی چھپا چھپا کے لکھتے ہیں اور بھیجتے ہیں :)

دراصل شاعر لوگ کافی بدنام ہوتے ہیں اور شعراء کا جو عمومی تصور ہمارے ہاں بنتا ہے وہ بھی یہی ہے کہ سامع آگے آگے بھاگ رہا ہے اور شاعر غزل کی تلوار لے کر پیچھے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ :)

ہم چونکہ دوست بنانے میں کافی پیچھے ہیں تو سوچتے ہیں کہ اس چکر میں دوستوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ o_O سو پہلے دوست بناتے ہیں اور پھر معصوم سا منہ بنا کر کہتے ہیں کہ غزل سنیں گے، :) اب ہمارے دوست اتنی تو مروت کر ہی لیتے ہیں سو کسی نہ کسی طرح گاڑی چل رہی ہے ہماری بھی۔ :) :p

ویسے تفنن برطرف اپنی پوسٹ پر ٹیگ کرنا واقعی عجیب لگتا ہے ہاں البتہ گفتگو کی خواہاں لڑیوں میں ضرور دوستوں کو ٹیگ کیا کرتا ہوں میں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
قبلہ کی ہر تحریر کا ٹیگ احقر کو خاص طور پر ملا کرتا تھا۔ جناب خاص طور پر بندے کے کیفیت نامے میں پیغام چھوڑا کرتے تھے۔ اور ناچیز کی بھی بھرپور کوشش ہو تی تھی کہ تبصرہ کرنے میں دیر نہ لگائے۔ معلوم نہیں اتنی خوب صورت تحریر میری نظروں سے کیسے اوجھل ر ہی؟

بہت شکریہ احمد بھائی ! اس طرف متوجہ کرانے کا۔ اور اتنے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے مخمور بھائی کا بھی بے حد شکریہ ۔

بہت شکریہ قبلہ :)
 

قیصرانی

لائبریرین
بے حس خاموشی
س ن مخمور

کل بھی یہ درد عام تھا افسوس آ ج بھی اس درد کو عام کیا ہوا ہے اور کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کل بھی سبب تھے اور جوآج بھی اس درد کی وجہ بنے ہوئے ہیں جس نے معاشرے میں جیون کی رسی تھا مے ہر اس جان کو تکلیف میں مبتلا کیا رکھا ہے جو احساس کے نازک تاروں سے نہایت مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے جس کی احساس کے اس جال سے واحد نجات بار ِجان کو گرا دینے ہی میں ہے، مگر یہ کام تو اپنے وقت ہی پر ہونا ہوتا ہے اور یوں منزل تلک پہنچنے کے سفر میں قدم قدم پر یہ لوگ اس ہی درد سے دو چار رہتے ہیں ، جس درد نے کئی گونجتی آوازوں کا گلا گھونٹ دیا ہے اور شہر ِاحساس میں کتنے ہی جنازوں کا اہتمام کیا رکھا ہے۔ مراد ِکلام پڑھنے والے کی وہ خاموشی ہے جس نے لکھنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ شہر بے مراد میں تنہا ہے ، یا کسی ایسے نگر میں ہے جہا ں کے لوگ اس کی زبان نہیں جانتے ،یا پھر مفاد پرستوں کے اس نگر میں قاری بھی مطلب پرست ہو چلا ہے۔ ایک سکوت طاری ہے جو لکھنے والے کو آہستہ آہستہ خاموشی کے گہرے سمندر میں اتار دیتا ہے۔

کون جانے کتنے آنسو آنکھ سے گرتے ہیں ، شیشئہ دل جانے کتنے ٹکڑوں میں ٹوٹتا ہے، کتنے چاند رتجگوں کا شمار کرتے ہیں تب کہیں جا کر لفظ ہاں ایک لفظ کا وجود ہوتا ہے جس کے عقب میں احساس کرب کی بھٹی میں جانے کب تلک جلا ہوتا ہے، اور پڑھنے والے کی خاموشی امیدوں میں دھڑکتے لفظوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ یاد رہے یہاں خاموشی کی بات ہو رہی ہے، اور خاموشی سے مراد صرف خاموشی ہے تعریف اور تنقید نہیں۔میں اس گفتگو کو طوالت سے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں اس لئے گفتگو کا دائرہ انٹر نیٹ پرموجود مختلف فورمز تک ہی محدود کر رہا ہوں، اور یہ لکھتے ہوئے دل دکھی ہے کہ فورمز پر جابجا لکھاری کو خاموشی کا سامنا ہے ، مختلف کھیل اور دیگر تفریح کی لڑیوں ( تھریڈز ) پر نہ صرف خوب آمد ہوتی ہے عوام کی ، بلکہ بات چیت کی بھی خوب محفل جمی رہتی ہے، مگر حیف صد حیف لکھنے والے کے مضامین پر خاموشی راج کرتی دیکھی گئی ہے۔اور یہ خاموشی بلا آخر قلم کی جان لے لیتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خاموش عفریت کو پالنے والوں کو جگایا جائے انٹر نیٹ پر قاری کوسوں دور خاموش بیٹھ کر جب لکھنے والے پرمنفی اثر ڈال سکتے ہیں تو اس مفلس کی جھولی میں اپنے چند الفاظ ڈال کر، اس کے لکھے پر اظہار ِخیال کر کے اس کو امید اور لگن سے مالا مال بھی کر سکتے ہیں ۔ برُی تحریر کو بہتری کی جانب لے جایا جاسکتا ہے، اور بہتر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ اس لکھے کے حاصل کو سمجھا جائے اور اپنے موجودہ اور آنے والے وقت کو بھیانک خاموشی سے بچایا جائے۔
میرا خیال ہے کہ لکھنا اپنی سوچ کا اظہار ہوتا ہے، یہ سوچے بنا کہ لوگ اگر اس پر داد و تحسین پیش کریں یا اس پر تنقید کریں :)
 

محمداحمد

لائبریرین
کھیل، سیاست اور بیکار کی لڑیوں پر شور ہنگامہ اور علم و ادب کی باتوں پر ایک سکوت شہرِ خموشاں۔۔۔
جب آپ کے معاشرے کا عمومی مزاج ہی کج روی کج بحثی اور صرف اپنے چوہدری پنے کی ہٹ برقرار رکھنے پر ہو تو اس میں ایسے شکوے کیا معنی۔ کون ہے جو اچھا پڑھے۔ اور پڑھ کر پھر لکھنے والے پرتنقید یا توصیف کے کچھ جملے تراشے۔ اس کی ضرورت کیا ہے۔ اس سے اس کو کیا حاصل ہوگا۔ کچھ بھی نہیں۔ اس پورے میں "میں" کا کیا ہوگا۔ کون کہے گا کہ یہ یار یہ بڑا تجزیہ نگار ہے۔ اس کے تجربے اور علمی حثیت کا کیا کہنا۔ اور ویسے بھی اگر ایسی لڑیوں میں ہی آیا جائے۔ تو پھر وہ جو اندر کی خوش گفتاری ہے۔ وہ کس طرح دنیا کو پتا چلے گی۔ :p

"خوش گفتاری" :p

من میں غم کے پھول کھلیں تو لفظ مہکنے لگتے ہیں
دل آنگن بھی دیکھا ہوتا تم نے خوش گفتاروں کا

:)
 
Top