بیادِ ابوالکلام آزاد:: شورش کاشمیری

فہد اشرف

محفلین
بیاد ابوالکلام آزاد نور اللہ مرقدہ

دیدہ ورانِ دیں کا نشاں تھا ابوالکلام

ہندوستاں کی روحِ رواں تھا ابوالکلام

لذت کشانِ بادۂ ایثار زندہ باد
اس انجمن کا پیرِ مغاں تھا ابوالکلام

تھرا گئے تھے زلّہ ربایانِ سلطنت
معجز نگار و شعلہ بیاں تھا ابوالکلام

اس سر زمیں کے منبر و محراب ہیں گواہ
بتخانۂ وطن میں اذاں تھا ابوالکلام

تھے اس پہ واشگاف سیاست کے پیچ و خم
اک شہ دماغ و سیف زباں تھا ابوالکلام

جہد و غزا کو ناز تھا اس کے وجود پر
تیغِ اصیل و تیغِ رواں تھا ابوالکلام

اربابِ اقتدار کی ہیبت سے بے نیاز
طاعت گزار ربِ جہاں تھا ابوالکلام

لاریب اک عطیۂ قدرت تھی اس کی ذات
قلب و نگہ کا سر نہاں تھا ابوالکلام

شورش جنہیں تھا اس کی بصیرت سے اختلاف
وہ اب سمجھ رہے ہیں کہاں تھا ابوالکلام

(آغا شورش کاشمیری)

 
آخری تدوین:

ابن توقیر

محفلین
تھرا گئے تھے زلّہ ربایانِ سلطنت
معجز نگار و شعلہ بیاں تھا ابوالکلام
جہد و غزا کو ناز تھا اس کے وجود پر
تیغِ اصیل و تیغِ رواں تھا ابوالکلام
لاریب اک عطیہء قدرت تھی اس کی ذات
قلب و نگہ کا سر نہاں تھا ابوالکلام
ایک اور جگہکلیات شورش کاشمیری ص 1801 تا 1802 کے حوالے سے درج بالا اشعار بھی ملے ہیں۔
 

ابن توقیر

محفلین
خوب
یہ اشعار بھی شامل کر دیتا ہوں، لیکن یہ ’زلہ ربایان‘ کیا ہوتا ہے؟
اس کے حقیقی مفہوم کے لیے تو وارث بھائی یا حسان خان کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی۔اشعار شامل کرنےوالے محترم سے پوچھا ہے اگر دستیاب ہوئے تو وہ بھی بتاسکتے ہیں۔
 

فہد اشرف

محفلین
آخری تدوین:

ابن توقیر

محفلین

حسان خان

لائبریرین
مجھے تو املے کی غلطی لگ رہی ہے کیونکہ زلہ لفظ لغت میں مل نہیں رہا ممکن ہے اصل لفظ ظلہ ہو۔ محمد وارث بھائی حسان خان صاحب سے بھی تصدیق کروا لیتے ہیں
'زَلّہ' اور 'زَلّہ ربا' دونوں فارسی کی فرہنگوں میں موجود ہیں۔ زَلّہ بچی کچھی غذا کو کہتے ہیں، یا غذا کے اُن ریزوں کو جو طعام کے بعد بچ جاتے ہیں۔ زَلّہ رُبایانِ سلطنت سے اُن افراد کی جانب اشارہ ہے جو شاعر کی نظر میں سلطنت کے نمک خور، بلکہ خوانِ سلطنت کے ریزہ خور تھے۔
 

فہد اشرف

محفلین
'زَلّہ' اور 'زَلّہ ربا' دونوں فارسی کی فرہنگوں میں موجود ہیں۔ زَلّہ بچھی کچھی غذا کو کہتے ہیں، یا غذا کے اُن ریزوں کو جو طعام کے بعد بچ جاتے ہیں۔ زَلّہ رُبایانِ سلطنت سے اُن افراد کی جانب اشارہ ہے جو شاعر کی نظر میں سلطنت کے نمک خور، بلکہ خوانِ سلطنت کے ریزہ خور تھے۔
بہت شکریہ حسان خان صاحب
 
Top