بہوؤں کے لیے بچت منصوبہ

عندلیب

محفلین
بہوؤں کے لیے بچت منصوبہ

خواتین پر جب فضول خرچی کا الزام لگے تو وہ ناراض ہوجاتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین فضول خرچ بھی بہت ہوتی ہیں خریداری کا معاملہ تو الگ ہے گھر کی آرائش ، خانہ داری اور بچوں کی اخراجات کے حوالے سے بھی خواتین کا ہاتھ کھلا ہوتا ہے مہنگائی اتنے عروج پر پہنچ چکی ہے کہ اگر بچت کا فی الفور پروگرام نہ بنایا گیا تو مسائل بڑھتے چلے جائیں گے بجٹ کنٹرول کرنے کے لئے خاتون خانہ کو بھی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اس حوالے سے بہوؤں کو مشورہ ہے کہ کھانا پکانے سے لے کر بلز کی ادائیگی تک کے تمام معامالات پر توجہ دیں ذیل میں بہوؤں کے لیے کچھ تجاویز اور نصیحتیں پیش ہیں امید ہے کہ کار گار ثابت ہوں گی۔

سب سے پہلے تو بہوؤں کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے بناؤ سنگھار اور ملبوسات کے معاملہ کو کنٹرول کریں ہر بار بازار جاکر پسند کا لباس لپ اسٹک ، چوڑیاں جیولیری خریدنا ٹھیک نہیں جس اشیاء کا ذخیرہ کر رکھا انہیں استعمال میں لائیں۔
دوسری اہم بات فون کالز کو کنٹرول کرنا ہے بہوؤں کی اپنی بہنوں ، بھائیوں اور سہیلیوں کو اتنی لمبی فون کالز ہوتی ہیں کہ کیا پوچھو موبائل کارڈ تو 2 دن میں ہی ختم ہوجاتا ہے لینڈ لائن کے بل پر بھی موبائل نمبرز کی بھر مار اف اب شوہر بے چارے کو غصہ آئے گا ناں ، بہوؤں میں ایس ایم ایس کرنے کا رجحان کم ہوتا ہے کیونکہ بولنے کی تشفی جو کرنی ہوتی ہے بس لمبی لمبی کالز کرتی جاتی ہیں تو بہوؤ ! اس عادت پر قابو کرو ، یہ شوہر کے ذہنی سکون اور بچت کے لیے ضروری ہے ، غور کریں کہ فون کالز پر آپ صرف ادھر ادھر کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتی ہیں کیوں نہ اپنے گھر کے سکون اور اچھے مستقبل پر توجہ دیں۔ خاص طور پر نئی نویلی بہو اپنے میکے والوں کی خاطر مدارات اور تحفے تحائف دینے کے حوالے سے خاص فراخدل واقع ہوتی ہیں یہ عادت اتنا پختہ ہوجاتی ہے کہ شوہر کا ہاتھ تنگ ہوجاتا ہے اب اگر مالی معیشت کے اعتبار سے خاطر مدارات میں کمی آجائے تو میکے والے ناراض ہوتے ہیں اس لئے شروع ہی سے اعتدال کی عادت اپنائی جائے۔

بہوئیں ایک اضافہ خرچہ کی صورت میں کرتی ہیں ان کے لئے ہر اہم موقع پر جشن منانا لازمی ہوتا ہے ایسی خوشیوں پر بڑے بڑے اخراجات کر کے مستقبل کی خوشیوں کے راستے بند کرنا کہاں تک درست ہے؟
دوسروں کی تقریبات میں جانے کے لئے نئے ملبوسات سلوانا بھی بلا وجہ کا خرچہ ہے خواتین کہتی ہیں کہ یہ سوٹ تو فلاں فنکشن میں پہنا تھا سب نے دیکھا ہے اس لئے اب نیا سلواؤں گی اس طرح تقریبات کے ملبوسات کا ڈھیر ہوجاتا ہے اور وہ عام دنوں میں تو پہنے نہیں جاتے اور پھر فیشن بدل جائے یا سائز چھوٹا ہوجائے تو بے کار سمجھے جاتے ہیں کوشش کریں کہ جو کپڑے پہے سے موجود ہی انہیں ہی تقریبات میں استعمال کریں۔

بجلی کے بل کو کنٹرول کرنے کے لیے بلاوجہ لائٹس جلانے سے پرہیز کریں جس کمرے میں کوئی نہیں بیٹھا وہاں کی لائٹ بند کردیں بچوں کو کمپیوٹر اور ٹی وی کے زیادہ استعمال کی عادت نہ ڈالیں بلکہ کچھ اور کھیلوں کی طرف راغب کریں۔
کام والی صرف اس صورت میں رکھیں کہ جب آپ کو زیادہ ضرورت ہو کیونکہ کام والی گھریلو خواتین کے لیے فضول خرچی کا ذریعہ بن جاتی ہے کیونکہ خواتین کو اس کی مدد کی عادت ہوتی ہے وہ چھوٹے موٹے کام بھی اسی سے کرواتی ہیں سبزی وغیرہ خریدنا ہو لہسن پیاز چھیلنا ہوتو کام والی سے خدمات لی جاتی ہے اور ان اضافی خدمات کے پیسے بھی روز کے روز دئیے جاتے ہیں یوں پتہ بھی نہیں چلتا اور پیسے مہینے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔

عائشہ بنت گلزار
 
Top