بہت مشکل ہے !

بسم اللہ الرحمن الرحیم​
بہت مشکل ہے !​

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

ہم اپنی روز مرہ زندگی میں یہ جملہ اکثر بولتے اور سنتے ہیں ۔ كسى قانون پر عمل كرنا ہو، كوئى ناپسندیدہ كام كرنا ہو، یا جس بات پہ ہم دل سے راضى نہ ہوں، تو یہ جملہ منہ سے نکل جاتا ہے ۔

بعض اوقات دین اسلام کا كوئى حكم سن كر بھی ہم کہہ اٹھتے ہیں : " آج کے دور ميں ايسا ہونا بہت مشکل ہے "۔

یہ بات سن کر مجھے کئی سال پہلے پڑھی ہوئی ایک کتاب یاد آجاتی ہے ۔

کتاب کا نام ہے Struggling to Surrender اور لکھی ہے Jeffery Lang نے ۔یہ كتاب لائبريرى ميں اتفاقا ميرے ہاتھ لگی، (اور اس حسین اتفاق کے لیے اللہ کا شکر، کہ یہ بھی ایک نعمت ہے ) ۔چند صفحات دیکھنے پر اتنی دل چسپ لگی کہ میں نے اسے ایشو کروا لیا ۔

ڈاکٹر جیفری لینگ پی ایچ ڈی میتھمیٹکس ہیں ۔رومن کیتھولک عیسائی ماں کے بیٹے ، مگر خود خدا کے منکر atheist تھے ۔بچپن سے پڑھائی میں لائق ، عام امریکی نوجونوں کے برعکس سنجیدہ علمی انسان ۔ محض 27 برس کی عمر میں یونیورسٹی میں پڑھانے لگے ۔

پھر کیا ہوا کہ چالیس برس کی عمر کے بعد ایک بار بار آنے والے خواب Recurring Dream سے متعلق عجیب وغریب واقعات کے بعد ، اور بہت جستجو، تحقیق اور برسوں مطالعے کے بعد اسلام لے آئے ۔

اسلام لا چکے تو نمازوں کی فکر ہوئی ۔سب نمازیں وقت پہ ہوتیں مگر فجر کا معاملہ ٹیڑھا تھا ۔46 برس سے سات بجے اٹھنے کی عادت تھی ۔پانچ بجے کیسے جاگتے ؟

کہتے ہیں : "میں نے الارم والی گھڑیاں لیں ۔ ایک گھڑی سب سے پہلے وقت پر الارم لگا کر سرہانے کے میز پر رکھی ہوتی ۔
دوسری پانچ منٹ بعد کے الارم پر سیٹ کر کے چند قدم دور ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی ہوتی تیسری واش روم کے دروازے کی دہلیز پر ۔

پہلا الارم سوئے سوئے ہاتھ مارنے سے بند ہو جاتا ، دوسرے کو بستر سے نکل کر بند کر کے واپس آکر لیٹ جاتے ، تیسرے الارم پہ واش روم کے دروازے تک چل کر جانے سے نیند اڑ جاتی ۔ اور اکثر وقت پہ وضو بھی ہو جاتا اور نماز بھی ۔"

میں نے یہ کتاب بار بار پڑھی ، ہر بار مجھے خود پر اپنی نادانی پر رونا آیا ۔

اسلام کی جس نعمت کو ڈاکٹر جیفری لینگ نے اتنے سالوں کی جدو جہد کے بعد حاصل کیا ، وہ میری جھولی میں اللہ تعالی نے میرے پہلے سانس سے پہلے ہی ڈال دی تھی کہ میرے والدین الحمد للہ مسلمان ہیں ۔

فجر کی نماز کی جس نعمت کو پانے کے لیے ڈاکٹر جیفری کو اتنی محنت کرنا پڑی میرے لیے وہ نعمت روز بانہیں پھیلائے میری دہلیز پہ آتی ہے ۔

ڈاکٹر جیفری کو جگانے والا کوئی نہ تھا ،
میرے والدین، باری باری محبت سے مجھے جگانے آتے ہیں ۔۔۔

ڈاکٹر جیفری کے علاقے میں کوئی مسجد نہ تھی کہ اذان کی آواز سے آنکھ کھلتی ۔۔۔
میرے گھر کے پاس پانچ مسجدیں ہیں جن کے موذن باری باری پکارتے ہیں :

الصلوہ خیر من النوم،الصلوہ خیر من النوم !
نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے !

مگر


عجیب بات ہے کہ


میرے لیے فجر کی نماز بہت مشکل ہے !!!!
 

ظفری

لائبریرین
جزاک اللہ ۔۔۔۔ آپ نے بہت ہی خوش اسلوبی سے فجر کی نماز کی طرف راغب کیا ہے ۔ اللہ ہم سب کو ایسے ہی احسن طریقے سے ہدایت و تلقین کے لیئے راستہ منتخب کرنے کی ہدایت فرمائے ۔ آمین
 

سویدا

محفلین
اچھی تحریر ہے نماز کی ترغیب کے ساتھ ساتھ کتاب اور مصنف پر تبصرہ بھی ہوگیا
یعنی تھری ان ون
 

نبیل

تکنیکی معاون
فجر کی نماز کے وقت جاگنا واقعی ایمان کی نشانیوں میں شمار ہوگا۔ :)
ویسے ایک مسجد کی طرف سے اذان کی آواز آنا تو ٹھیک ہے لیکن جب چار پانچ اذانیں وقفے وقفے سے آئیں تو جھلاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔
 

جاسم

محفلین
جزاک اللہ خیرا سسٹر
اللہ تعالٰی ہم سب کو دین اسلام کے ہر حکم پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈاکٹر جیفری کے اس واقعے سے مجھے یہ سبق ملا کہ انہیں کتنی جلدی اس چیز کا احساس ہو گیا کہ جو دین اسلام کی نعمت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے، اس اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے نماز ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس کی پابندی کے لیے انہوں نے کتنی کوشش کی، اور ایک میں ہوں ، جو اتنے عرصے میں بھی باقاعدگی سے نمازوں کا ہی خیال نہ رکھ سکا۔
یقینا مشکل کچھ بھی نہیں، یہ تو انسان کی اپنی قوت ارادی ہے۔ جو اسے مضبوط بناتی ہے۔
 
جزاک اللہ ۔۔۔۔ آپ نے بہت ہی خوش اسلوبی سے فجر کی نماز کی طرف راغب کیا ہے ۔ اللہ ہم سب کو ایسے ہی احسن طریقے سے ہدایت و تلقین کے لیئے راستہ منتخب کرنے کی ہدایت فرمائے ۔ آمین
واياك جزى اللہ۔ اللہ سبحانہ وتعالى ہم سب كو عمل كى توفيق دے۔
اچھی تحریر ہے نماز کی ترغیب کے ساتھ ساتھ کتاب اور مصنف پر تبصرہ بھی ہوگیا
یعنی تھری ان ون
كتاب تو بہت مفصل اور علمى اسلوب مين ہے۔ اس پر تبصرہ "بہت مشكل ہے" ۔
كتاب كا ربط :
http://www.pdfdownload.org/pdf2html...all.com/downloads/Struggling_to_Surrender.pdf
 
فجر کی نماز کے وقت جاگنا واقعی ایمان کی نشانیوں میں شمار ہوگا۔ :)
ویسے ایک مسجد کی طرف سے اذان کی آواز آنا تو ٹھیک ہے لیکن جب چار پانچ اذانیں وقفے وقفے سے آئیں تو جھلاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔
درست ۔اسى ليے ہمارے حبيب حضرت محمد صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا ہے كہ:
[ARABIC]إن أثقل صلاة على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر . ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا . [/ARABIC]
"فجر اور عشا كى نماز منافقوں پر سب سے زيادہ بھارى ( مشكل) ہوتى ہے۔ اور اگر ان كو پتہ چل جائے کہ ان دو نمازوں ميں كيا فوائد وبركات ہیں تو يہ گھٹنوں کے بل ، يا گھسٹتے رينگتے ہوئے بھی اس ميں شركت كريں۔"(بحواله : صحيح مسلم)
اللہ سبحانہ تعالى ہميں نفاق سے محفوظ فرمائے ۔اور ان نمازوں كے عظيم فوائد وبركات سميٹ لينے كى توفيق عطا فرمائے ۔

اگر مثبت پہلو تلاش كيا جائے تو كئى اذانيں بھی نعمت ہیں۔۔۔Blessing in disguise
پہلى اور دوسرى پر آنکھ نہ کھلے تو بعد میں كھل جائے۔
ايك بار ہم ايسے علاقے ميں تھے كہ جہاں اكلوتى اذان كى آواز بہت دور سے دھیمى سى سنائى ديتى تھی، اس اذان كا جواب دينا بہت مشكل تھا ، ہوا كے رخ بدلتے ہی آواز كھو جاتى تھی اور كوفت ہوتى تھی۔ جب واپس اپنے گھر آئے اور اتنے عرصے بعد يكايك اتنى سارى اذانيں بلند ہوتى سنيں تو خوشى كے مارے آنكھیں نم ہو گئیں اور روح سيراب ہوتى محسوس ہوئى۔
 

میم نون

محفلین
ماشاء اللہ، جزاک اللہ الخیر

آللہ آپکو ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور اسی طرح دین کی طرف راغب رکھے، آمین ثم آمین
 

شمشاد

لائبریرین
اصل میں بات یہ ہے کہ جو چیز مفت میں یا محنت کیئے بغیر مل جائے ہم اس کی اتنی قدر نہیں کرتے، جیسا کہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں، ہمارے اردگرد مساجد ہیں جہاں سے پانچوں وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ان نعمتوں کا صحیح معنوں میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
اصل میں بات یہ ہے کہ جو چیز مفت میں یا محنت کیئے بغیر مل جائے ہم اس کی اتنی قدر نہیں کرتے، جیسا کہ ہم پیدائشی مسلمان ہیں، ہمارے اردگرد مساجد ہیں جہاں سے پانچوں وقت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ان نعمتوں کا صحیح معنوں میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں پانچوں وقت باجماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمين ، بالكل درست ۔
ہم مسلم اكثريتى علاقوں کے پيدائشى مسلمان اس بات كا اندازہ نہيں كر سكتے كہ " السلام عليك " سے بات كى ابتدا كرنے والے انسانوں سے ملاقات بھی ايك نعمت ہے۔
جيفرى لينگ كا Recurrin Dream بھی نماز باجماعت سے متعلق تھا ليكن انہوں نے كبھی اسے نہیں ديكھا تھا اس ليے سمجھ نہ پائے۔
It was a tiny room with no furniture, and there was nothing on its grayish-white walls. Its only adornment was the predominantly red-and-white patterned carpet that covered the floor. There was a small window, like a basement window, above and facing us, filling the room with bril­liant light. We were in rows; I was in the third. There were only men, no women, and all of us were sitting on our heels and facing the direction of the window.

It felt foreign. I recognized no one. Perhaps I was in another country. We bowed down uniformly, our faces to the floor. It was serene and quiet, as if all sound had been turned off. All at once, we sat back on our heels. As I looked ahead, I realized that we were being led by someone in front who was off to my left, in the middle, below the window. He stood alone. I only had the briefest glance at his back. He was wearing a long white gown, and on his head was a white scarf with a red design. And that is when I would awaken.


اور بہت سالون بعد ايك روز ۔۔۔۔

We bowed down in prostration with our faces on the red-and-white carpet. It was serene and quiet, as if the sound had been turned off. And then we sat back on our heels again.

As I looked ahead, I could see Ghassan, off to my left, in the middle, below the window that was flooding the room with light. He was alone, without a row. He was wearing a long white gown and on his head was a white scarf with a red design.

The dream! I screamed inwardly. The dream exactly! I had forgotten it completely, and now I was stunned and frightened. Am I dreaming? I wondered. Will I awaken? I tried to focus on what was happening to determine whether I was asleep. A rush of cold flowed through my body, making me shudder. My God, this is real! Then the coldness subsided, succeeded by gentle warmth radiating from within. Tears welled up in my eyes​
.
سبحان اللہ وہ چھوٹی سى مختصر سى كتاب جو ہمارے گھروں ميں قيمتى غلافوں ميں الماريوں کے سب سے آخرى شيلف پر دھرى رہتی ہے اور كبھی کبھار اسے کھولنے كا موقع آتا ہے وہ ايك نو مسلم كے ليے كتنى بڑی نعمت ہے :
"
For those whom Islam has embraced, the greatest witness to God’s unremitting, pursuing, sustaining, and guiding love is the Qur’an. Like a vast magnificent ocean, it lures you deeper and deeper into its dazzling waves until you are swept into it. But instead of drowning in a sea of darkness, as described above, you find yourself immersed in an ocean of divine light and mercy. … as I read the Qur’an and prayed the Islamic prayers, a door to my heart was unsealed and I was immersed in an overwhelming tenderness. Love became more permanent and real than the earth beneath my feet; its power restored me and made it so that even I could feel love … I was happy enough to have found faith in a sensible religion. But I never expected to be touched by such intoxicating mercy​
."
اللہ اللہ ۔۔۔
 

تانیہ

محفلین
جزاک اللہ ام نورالعین جی
بہت زبردست اور دل کو چھو لینے والی تحریر ہے
اللہ تعالی ہم کو ہمیشہ ایمان اور اچھائی کے رستے پہ چلائے پانچ وقت کا پکا نمازی بنائے اور ہمیشہ اپنی رضا عطا فرمائے۔۔۔۔آمین
 

جاسم

محفلین
سبحان اللہ وہ چھوٹی سى مختصر سى كتاب جو ہمارے گھروں ميں قيمتى غلافوں ميں الماريوں کے سب سے آخرى شيلف پر دھرى رہتی ہے اور كبھی کبھار اسے کھولنے كا موقع آتا ہے وہ ايك نو مسلم كے ليے كتنى بڑی نعمت ہے :
"
For those whom Islam has embraced, the greatest witness to God’s unremitting, pursuing, sustaining, and guiding love is the Qur’an. Like a vast magnificent ocean, it lures you deeper and deeper into its dazzling waves until you are swept into it. But instead of drowning in a sea of darkness, as described above, you find yourself immersed in an ocean of divine light and mercy. … as I read the Qur’an and prayed the Islamic prayers, a door to my heart was unsealed and I was immersed in an overwhelming tenderness. Love became more permanent and real than the earth beneath my feet; its power restored me and made it so that even I could feel love … I was happy enough to have found faith in a sensible religion. But I never expected to be touched by such intoxicating mercy

اللہ اکبر
اللہ ہمارے دلوں کے دروازے بھی کھول دے۔ آمین۔
 
جزاک اللہ ام نورالعین جی
بہت زبردست اور دل کو چھو لینے والی تحریر ہے
اللہ تعالی ہم کو ہمیشہ ایمان اور اچھائی کے رستے پہ چلائے پانچ وقت کا پکا نمازی بنائے اور ہمیشہ اپنی رضا عطا فرمائے۔۔۔۔آمین

واياك، آمين ، بہت شكريہ تانيہ جى ۔

تحرير تو وقتى جوش كے تحت ايك بار لكھی جا سكتى ہے ليكن فجر كے ليے روز جاگنا ہوتا ہے اور مجھ جيسے غير مستقل اور متلون مزاج افراد كے ليے اقبال مسجد شب بھر كا تذكرہ كر گئے :

مسجد تو بنادى شب بھر ميں ايماں كى حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں ميں نمازى بن نہ سكا !​

جس روز ذرا موسم اچھا ہوتا ہے بجائے شكر ادا كرنے كے ، الٹا غفلت ہو جاتى ہے اور فجر قضا ہو جاتى ہے۔ اللہ جانے وہ كيسے خوش نصيب تھے جن كى عمر بھر نماز تو كيا جماعت قضا نہ ہوتى تھی؟
 

مقدس

لائبریرین
ام نور العین سس آپ کی یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد آئی فیل آشیمیڈ۔۔ بیکاز میں اپنی فجر کی نماز مس کر جاتی ہوں۔۔ ان شاء اللہ آئی ول ٹرائی مائی بیسٹ ٹو کیپ اپ ود اٹ ناؤ

میں نے یہ بک ڈھوندنے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے یہاں لائبریری سے اس کا اردو ورژن تو مل گیا ہے انگلش نہیں۔۔
 
جى مقدس اس كا اردو ترجمہ يہاں "سرتسليم خم" كے نام سے ديكھا ہے۔

يہ ليجیے اس كا انگريزى نسخہ، جو آپ ڈاؤنلوڈ كر سكتى ہیں
(کاپی رائٹ کتاب کا لنک حذف۔ ایسے لنک دینا ممنوع ہیں۔ قیصرانی)
ان شاء اللہ آئی ول ٹرائی مائی بیسٹ ٹو کیپ اپ ود اٹ ناؤ
وفقك الله تعالى سسٹر اگر نماز سوتے ميں قضا ہو تو جب بھی آنكھ كھلے تبھی پڑھ لينى چاہیے اور پليز پليز سسٹر ميرے ليے بھى با عمل ہونيكى دعا كيجیے گا ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
واياك، آمين ، بہت شكريہ تانيہ جى ۔

تحرير تو وقتى جوش كے تحت ايك بار لكھی جا سكتى ہے ليكن فجر كے ليے روز جاگنا ہوتا ہے اور مجھ جيسے غير مستقل اور متلون مزاج افراد كے ليے اقبال مسجد شب بھر كا تذكرہ كر گئے :

مسجد تو بنادى شب بھر ميں ايماں كى حرارت والوں نے​
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں ميں نمازى بن نہ سكا !​

جس روز ذرا موسم اچھا ہوتا ہے بجائے شكر ادا كرنے كے ، الٹا غفلت ہو جاتى ہے اور فجر قضا ہو جاتى ہے۔ اللہ جانے وہ كيسے خوش نصيب تھے جن كى عمر بھر نماز تو كيا جماعت قضا نہ ہوتى تھی؟
نماز کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آپ کے وقت کے استعمال کو باقاعدہ بناتی ہے۔ اگر آپ عشاء کی نماز کے بعد زیادہ دیر تک نہ جاگیں تو آپ خود بخود صبح کی نماز کے وقت اٹھ جائیں گی۔ آزما کر دیکھ لیجئے
 
Top