بہزاد لکھنوی بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے - بہزاد لکھنوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2013

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے
    (بہزاد لکھنوی)
    طبیعت کو افسردہ سا پارہا ہوں
    اِدھر جارہا ہوں، اُدھر جارہا ہوں

    وہ باتیں نہیں ہیں، وہ ہنسنا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    خدا جانے یہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے
    یہ محسوس کرتا ہوں کچھ کھو گیا ہے

    مجھے ہوش تک ہائے اپنا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    یہ آنکھوں میں کیوں اشک سے آرہے ہیں
    لبِ پُرشکن کیوں یہ تھرّا رہے ہیں

    ارے توبہ یہ میرا منشا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    جو ہونا تھی وہ ہوچکی میری خواری
    اب آؤ نہ آؤ یہ مرضی تمہاری

    مرا تم سے کوئی تقاضا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    کرے تم سے بہزاد کیا اب شکایت
    بُرا ہے مقدر بُری ہے یہ قسمت

    یہ کیا ہے جو قسمت کا لکھا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,613
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    ارے توبہ یہ میرا منشا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے


    بہت خوب ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت شکریہ عمر سیف صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    صائمہ شاہ صاحبہ، مدیحہ گیلانی صاحبہ اور ملک عدنان احمد صاحب ۔ نظم کی پسندیدگی کے لیئے آپ تینوں کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیئے۔۔
     
  5. ایمن نصیر

    ایمن نصیر محفلین

    مراسلے:
    2
    موڈ:
    Persnickety
    وااااہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ واہ کیا خوب مربع ہے

    طبیعت کو افسردہ سا پارہا ہوں
    اِدھر جارہا ہوں، اُدھر جارہا ہوں
    وہ باتیں نہیں ہیں، وہ ہنسنا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    خدا جانے یہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے
    یہ محسوس کرتا ہوں کچھ کھو گیا ہے
    مجھے ہوش تک ہائے اپنا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    یہ آنکھوں میں کیوں اشک سے آرہے ہیں
    لبِ پُرشکن کیوں یہ تھرّا رہے ہیں
    ارے توبہ یہ میرا منشا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    جو ہونا تھی وہ ہوچکی میری خواری
    اب آؤ نہ آؤ یہ مرضی تمہاری
    مرا تم سے کوئی تقاضا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے

    کرے تم سے بہزاد کیا اب شکایت
    بُرا ہے مقدر بُری ہے یہ قسمت
    یہ کیا ہے جو قسمت کا لکھا نہیں ہے
    بہت دن ہوئے تم کو دیکھا نہیں ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    فاتح الدین بشیر صاحب! شیئر کرنے کے لیئے شکریہ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,433
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوب جی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر