بہتان غالب پر۔۔

غالب کی فارسی زبان میں کارکردگی کی وجہ سے اس پر یہ بہتان مشہور ہے کہ "غالب نا واقف اردو بود"۔

وداع و وصل جداگانہ لذتی دارد
ہزار باز برو صد ہزار بار بیا

جناب یہ شعر غالب کا ہے لیکن میں اپنی ناچیز نظر میں اسے فارسی کے نامور شاعر مولانا رومی کے اشعار سے زیادہ رواں جانتا ہوں۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
غالب کی فارسی زبان میں کارکردگی کی وجہ سے اس پر یہ بہتان مشہور ہے کہ "غالب نا واقف اردو بود"۔

وداع و وصل جداگانہ لذتی دارد
ہزار باز برو صد ہزار بار بیا

جناب یہ شعر غالب کا ہے لیکن میں اپنی ناچیز نظر میں اسے فارسی کے نامور شاعر مولانا رومی کے اشعار سے زیادہ رواں جانتا ہوں۔
ماشاءاللہ اچھی اطلاع دی ہے

ویسے یہ ان بے شمار اشعار (غالبؔ کے) میں سے ایک ہے جو مجھ پر "میں عدم سے بھی پرے ہوں" والی کیفیت طاری کر دیتے ہیں

قسم لے لیں جناب !! میں نے یہ بہتان آج آپ سے سنا۔ کہیں اس کے بانی آپ خود تو نہیں؟

ورنہ میری معلومات کے مطابق تو اردو دنیا غالب کی نثر کے آگے ہاتھ باندھے سر جھکائے دم بخود کھڑی ہے
کس کی اتنی مجال کہ اس با کمال پر بہتان طرازی کرے

کوئی پاگل ہی ہو سکتاہے

اور پاگلوں کی بات پر کان دھرنا عقلمندوں کا شیوہ نہیں

کیا خیال ہے محمود احمد غزنوی سائیں
 

عاطف بٹ

محفلین
چھوٹا غالب سائیں، یہ واقعی کہا جاتا ہے کہ غالب اردو سے ناواقف تھے۔ یہ بات تو آپ کے علم میں ہوگی ہی کہ لسانی معاملات میں سند کے طور پر غالب کا شعر کبھی بھی نہیں پیش کیا جاتا اور نہ ہی اسے مستند مانا جاتا ہے۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
کلکتہ کے مدرسہ عالیہ میں غالبؔ کے اعزاز میں منعقد کیا گیا مشاعرہ یاد کریں
جب غالبؔ نے سند میں شیخ سعدیؒ کا نام لیا اور ملا لوگ کہنے لگے"اس بارے میں حضرت قتیل کا یہ قول ہے"
جواب میں مرزاصاحب نے برافروختہ ہو کر فرمایا :۔ "میں فرید آباد کے کھتری بچے کے قول کو نہیں مانتا"

یہی مصیبت میرے ساتھ ہے
میں مولانا حالی اور جناب علامہ شبلی کے قول کے سامنے بھلا کیوں کسی کی سننے لگا؟

خود غالبؔ ہی کا دعوٰی ملاحظہ ہو

جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی؟"
گفتہ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ "یوں"

اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی، کہ اردو کو رشک فارسی بنانے والے کی اردو پر شک۔۔۔۔۔۔
اللہ کی شان ہے اور کیا کہہ سکتا ہوں

مگر کیا آپ بھی ایسوں کی بات مان لیتے ہیں؟
غالبؔ نے اگر اپنی شاعری کو پرشکوہ بنانے کی لاشعوری یا شعوری کوشش میں فارسی تراکیب جڑ دیں
تو کیا اس کو ان کی اردو کی کمزوری مان لیا جائے؟
ھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھا

میر ؔ بھی کیا سادہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
میں نے بھی یہ بہتان پہلی مرتبہ سنا ہے۔۔۔ ۔ہوکتا ہے کہ بہتان لگانے والے جس اردو کی بات کر رہے ہوں، وہ ولی دکّنی کے زمانے کی اردو ہو :D
اگر جدید اردو کی بات بھی ہو تب بھی اس میں "فسانہ عجائب" کو کس کھاتے میں رکھا جائے گا؟
فسانہ آزاد والی اردو بھی تو آج کل نہیں بولی جاتی

بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب سر سید احمد خان اور حالی کے توسط سے غالبؔ کے مرید ہیں
اور اولادِ اردو سند ماننے کو تیار نہیں

اگر غالبؔ کو ان کے فارسی زدہ دیوان کی وجہ سے اس لسٹ سے خارج کیا جا رہا ہے تو علامہ اقبال کی عربی فارسی زدہ شاعری کو بھی کیا ؟؟؟؟

میں ابھی تک حیران ہوں ، کہ آخر وہ کون سا اردو دان ہوگا جسے غالب کی نثرمیں اردو نظر نہیں آتی
 
کلکتہ کے مدرسہ عالیہ میں غالبؔ کے اعزاز میں منعقد کیا گیا مشاعرہ یاد کریں
جب غالبؔ نے سند میں شیخ سعدیؒ کا نام لیا اور ملا لوگ کہنے لگے"اس بارے میں حضرت قتیل کا یہ قول ہے"
جواب میں مرزاصاحب نے برافروختہ ہو کر فرمایا :۔ "میں فرید آباد کے کھتری بچے کے قول کو نہیں مانتا"

یہی مصیبت میرے ساتھ ہے
میں مولانا حالی اور جناب علامہ شبلی کے قول کے سامنے بھلا کیوں کسی کی سننے لگا؟

خود غالبؔ ہی کا دعوٰی ملاحظہ ہو

جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کہ ہو رشکِ فارسی؟"
گفتہ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ "یوں"

اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی، کہ اردو کو رشک فارسی بنانے والے کی اردو پر شک۔۔۔ ۔۔۔
اللہ کی شان ہے اور کیا کہہ سکتا ہوں

مگر کیا آپ بھی ایسوں کی بات مان لیتے ہیں؟
غالبؔ نے اگر اپنی شاعری کو پرشکوہ بنانے کی لاشعوری یا شعوری کوشش میں فارسی تراکیب جڑ دیں
تو کیا اس کو ان کی اردو کی کمزوری مان لیا جائے؟
ھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھاھا

میر ؔ بھی کیا سادہ ہیں۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
اگر ہم ان چرندیات کو مانتے تو دھاگے کا نام بہتان ہی کیوں کر رکھتے محترم؟؟
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
اگر ہم ان چرندیات کو مانتے تو دھاگے کا نام بہتان ہی کیوں کر رکھتے محترم؟؟
میں اتنا الو ہوتا تو بجائے زبردست ریٹ کرنے کے یہاں اودھم مچا چکا ہوتا:ROFLMAO:
مگر دھاگے کا عنوان سب بتا رہا ہے

اور یہ جس تبصرےکو آپ نے اپنے لیے سمجھا ہے وہ آپ کیلئے نہیں:)
عاطف خالد بٹ سائیں کی بات کا جواب تھا
 

عاطف بٹ

محفلین
میں اتنا الو ہوتا تو بجائے زبردست ریٹ کرنے کے یہاں اودھم مچا چکا ہوتا:ROFLMAO:
مگر دھاگے کا عنوان سب بتا رہا ہے

اور یہ جس تبصرےکو آپ نے اپنے لیے سمجھا ہے وہ آپ کیلئے نہیں:)
عاطف خالد بٹ سائیں کی بات کا جواب تھا
@چھوٹا غالب سائیں، یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ اردو زبان و ادب کے اساتذہ، محققین اور ناقدین کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر غالب کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے:
اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کر
کون لاسکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست​
اب ان لوگوں کا کہنا ہے کہ 'ناعاقبت اندیش' غلط ہے اور صحیح اصطلاح 'عاقبت نااندیش' ہے۔ اسی طرح کی اور بہت سی مثالیں دی جاتی ہیں اس ضمن میں۔​
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
@چھوٹا غالب سائیں، یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ اردو زبان و ادب کے اساتذہ، محققین اور ناقدین کہتے ہیں۔
مثال کے طور پر غالب کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے:
اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کر​
کون لاسکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست​
اب ان لوگوں کا کہنا ہے کہ 'ناعاقبت اندیش' غلط ہے اور صحیح اصطلاح 'عاقبت نااندیش' ہے۔ اسی طرح کی اور بہت سی مثالیں دی جاتی ہیں اس ضمن میں۔​

چھڈو سرکار
اتنے ہی اردو دان ہوتے تو غالبؔ کی جگہ انہی کا نام ہوتا
ویسے تمام اساتذہ کے کلام میں ایسے نمونے ملتے ہیں ۔ علم صرف کی زبان میں ایسی چیزوں کو "شاذ" کہا جاتا ہے
غالبؔ کی تو عادت تھی اٹکھیلیاں کرنے کی، انہوں نے اور بھی بہت سی چیزوں سے کھلواڑ کیا ہے
صرف یہی دیکھ لیں کہ انہوں نے ہر اس کام کے الٹ کیا جو کہ عوام کا رواج اور عام روش تھی
دہلی کے شرفا سر منڈاتے تھے اور داڑھی رکھتے تھے
مگر غالبؔ شیو کراتے تھے اور زلفیں بھی ماشاءاللہ تھیں
جب داڑھی میں سفید بال آئے تو داڑھی بڑھا لی اور سر منڈادیا
غالبؔ کی تو ساری زندگی مثال ہے، دریا کے دھارے کے الٹ تیرنے کی

لیکن مزے کی بات یہ کہ

غالب کی یہ اٹکھیلیاں اور الٹ پسندی صرف دیوان میں ملتی ہے
خطوط کی زبان ایسی شستہ اور رواں ہے کہ مانو بہتے چلے جاؤ ساتھ۔ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بھی غالب لکھتے تھے

وہی زبان پھر سر سید احمد خان اور مولانا حالی نے اپنائی
مکمل طور پر پیروی تو نہ کر سکے مگر خوب نبھایا

میرؔ :۔ کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
باتاں ہماریاں
میں بھی کبھو ، کسو کا
 

عاطف بٹ

محفلین
چھڈو سرکار
اتنے ہی اردو دان ہوتے تو غالبؔ کی جگہ انہی کا نام ہوتا
ویسے تمام اساتذہ کے کلام میں ایسے نمونے ملتے ہیں ۔ علم صرف کی زبان میں ایسی چیزوں کو "شاذ" کہا جاتا ہے
غالبؔ کی تو عادت تھی اٹکھیلیاں کرنے کی، انہوں نے اور بھی بہت سی چیزوں سے کھلواڑ کیا ہے
صرف یہی دیکھ لیں کہ انہوں نے ہر اس کام کے الٹ کیا جو کہ عوام کا رواج اور عام روش تھی
دہلی کے شرفا سر منڈاتے تھے اور داڑھی رکھتے تھے
مگر غالبؔ شیو کراتے تھے اور زلفیں بھی ماشاءاللہ تھیں
جب داڑھی میں سفید بال آئے تو داڑھی بڑھا لی اور سر منڈادیا
غالبؔ کی تو ساری زندگی مثال ہے، دریا کے دھارے کے الٹ تیرنے کی

لیکن مزے کی بات یہ کہ

غالب کی یہ اٹکھیلیاں اور الٹ پسندی صرف دیوان میں ملتی ہے
خطوط کی زبان ایسی شستہ اور رواں ہے کہ مانو بہتے چلے جاؤ ساتھ۔ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بھی غالب لکھتے تھے

وہی زبان پھر سر سید احمد خان اور مولانا حالی نے اپنائی
مکمل طور پر پیروی تو نہ کر سکے مگر خوب نبھایا

میرؔ :۔ کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
پچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
باتاں ہماریاں
میں بھی کبھو ، کسو کا
میں آپ سے متفق ہوں مگر میر بھائی کے جو حوالے آپ نے دئیے ہیں وہ اس ذیل میں نہیں آتے سائیں! :)
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
میں آپ سے متفق ہوں مگر میر بھائی کے جو حوالے آپ نے دئیے ہیں وہ اس ذیل میں نہیں آتے سائیں! :)
شکر ہے وہ حصہ ارسال کر چکا تھا ورنہ وہ بھی واپڈا کی بھینٹ چڑھ جاتا

چلیں بات وہیں سے شروع کرنے سے پہلے مجھے ایک ضمانت دیں
کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہونگے
میرے ساتھ یہ تماشا شروع سے ہی ہوتا چلا آ رہا ہے (تفصیلی ذکر انشاءاللہ خود نوشت میں)
جس سے اختلاف کر لوں وہ ساری دوستیاں بھلا کے منہ پھلا کے یہ جا وہ جا

نایاب سائیں اور عینی سس سے اختلاف ہوا روح پر تو پھر "ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے"
پھر عادت سے مجبور میں نے قرۃ کے اشعار کی اصلاح بھی کر ڈالی ۔ پھر تو مہر ہی لگ گئی جیسے
اب نتیجہ یہ ہے کہ نایاب ، زحال مرزا، قرۃ مجھ سے کچھ کھنچے کھنچے سے رہتے ہیں

اور میں آپ سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتا (میرا مطلب ہے آپ کی یاری سے)

جواب حاضر ہے
 

عاطف بٹ

محفلین
شکر ہے وہ حصہ ارسال کر چکا تھا ورنہ وہ بھی واپڈا کی بھینٹ چڑھ جاتا

چلیں بات وہیں سے شروع کرنے سے پہلے مجھے ایک ضمانت دیں
کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہونگے
میرے ساتھ یہ تماشا شروع سے ہی ہوتا چلا آ رہا ہے (تفصیلی ذکر انشاءاللہ خود نوشت میں)
جس سے اختلاف کر لوں وہ ساری دوستیاں بھلا کے منہ پھلا کے یہ جا وہ جا

نایاب سائیں اور عینی سس سے اختلاف ہوا روح پر تو پھر "ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے"
پھر عادت سے مجبور میں نے قرۃ کے اشعار کی اصلاح بھی کر ڈالی ۔ پھر تو مہر ہی لگ گئی جیسے
اب نتیجہ یہ ہے کہ نایاب ، زحال مرزا، قرۃ مجھ سے کچھ کھنچے کھنچے سے رہتے ہیں

اور میں آپ سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتا (میرا مطلب ہے آپ کی یاری سے)

جواب حاضر ہے
چھوٹاغالبؔ ، میں نے پہلے دن آپ سے کہا تھا کہ 'انشاءاللہ آپ مجھے نبھانے والوں میں سے پائیں گے!' اور میں بات کا کتنا کھرا ہوں اس کا اندازہ آپ کو انشاءاللہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوجائے گا۔
زرخیز ذہن کے حامل لوگوں کے درمیان علمی اختلافات ہوتے ہیں اور انہی اختلافات سے تو ان کی زرخیز دماغی کا پتا چلتا ہے۔ اگر آپ کوئی بدھو اور میں کوئی گھامڑ ہوتا تو یقیناً ہمارے مابین کبھی بھی کوئی اختلاف علمی بنیاد پر نہ ہوتا!
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ میں غالب کے عاشقوں میں سے ہوں۔ اس کے ثبوت کے طور پر ایک بہت اہم بات بتاسکتا ہوں مگر اس کا ذکر پھر کبھی سہی۔
اب جو بھی دل میں ہے کھل کر کہئے!!!
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
خالد بِھرا !!
مجھے پتا تھا کہ یہ اس ذیل میں نہیں آتے، مگر جیسا کہ
بات اردو کی ہو رہی تھی
اس لیے میں جواب میں اردو زبان سے ہی مثالیں لایا

کیا یہ تماشا نہیں کہ جس ترکیب کے بہانے غالبؔ کی اردو دانی سے انکار کیا گیا، وہ فارسی کی ہے
اور غالبؔ کی فارسی پر شک کرنا ۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کلکتہ کے مشاعرے کا
(مگر غلطی میری اپنی ہے مجھے تفصیل لکھنی چاہیے تھی)
کلکتہ کے مشاعرے میں جو غزل غالب نے پڑھی تھے اس کی ردیف خفت تھی اور قافیہ عصا وغیرہ

لکیر کے فقیر لوگوں نے اعتراض کیا کہ "عصاخفت" کوئی ترکیب نہیں
جواب میں مرزا غالبؔ گلستانِ سعدی سے "در حملہ اول عصائے شیخ خفت" کو سند لائے

اب کے قتیل کا قول پیش کیا گیا
غالب بھلا کہاں مانتے تھے قتیل سٹیل وغیرہ کو۔ وہ تو ہندوستان میں امیر خسرو کے علاوہ کسی کو فارسی دان شاعر نہیں مانتے

باقی واقعہ اوپر ذکر ہو چکا ہے

دوسری سند

غالبؔ نے اپنے بچپنے میں ایک فارسی غزل جب استاد شیخ معظم صاحب کو دکھائی جس کی ردیف" کو، چہ" تھی
تو انہوں نے کہا یہ مہمل ہے ، اور درست نہیں
کچھ عرصے بعد غالبؔ ان کے سامنے ظہوری کی ایک غزل لائے جس کی ردیف "کو، چہ" تھی
شیخ معظم صاحب حیران ہوئے اور کہا تم کہا کرو، فارسی سے تم کو فطری نسبت ہے

اب برہانِ قاطع والا فساد ذہن میں لائیے

300 سال سے وہی لغت ہندوستان میں رائج تھی
مگر اس کی غلطیاں کس نے درست کیں ؟ غالبؔ نے

اور اسی غالبؔ کی فارسی ترکیب پر اعتراض کر کے اس کی اردو دانی سے انکار کیا جا رہا ہے

مزید میں اپنی ٹیچر سے ڈسکس کر کے کل تک جو بات ہوگی وہ بھی شیئر کروں گا
ابھی تک میرے ذہن میں اتنا ہی
 

نایاب

لائبریرین
شکر ہے وہ حصہ ارسال کر چکا تھا ورنہ وہ بھی واپڈا کی بھینٹ چڑھ جاتا

چلیں بات وہیں سے شروع کرنے سے پہلے مجھے ایک ضمانت دیں
کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہونگے
میرے ساتھ یہ تماشا شروع سے ہی ہوتا چلا آ رہا ہے (تفصیلی ذکر انشاءاللہ خود نوشت میں)
جس سے اختلاف کر لوں وہ ساری دوستیاں بھلا کے منہ پھلا کے یہ جا وہ جا

نایاب سائیں اور عینی سس سے اختلاف ہوا روح پر تو پھر "ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے"
پھر عادت سے مجبور میں نے قرۃ کے اشعار کی اصلاح بھی کر ڈالی ۔ پھر تو مہر ہی لگ گئی جیسے
اب نتیجہ یہ ہے کہ نایاب ، زحال مرزا، قرۃ مجھ سے کچھ کھنچے کھنچے سے رہتے ہیں

اور میں آپ سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتا (میرا مطلب ہے آپ کی یاری سے)

جواب حاضر ہے
میرے محترم بھائی
زیادہ گمان رکھنے سے احتیاط بہتر
کیونکہ اکثر گمان غلط ہوتے ہیں ۔
ایسے ہی جیسے آپ نے یہ گمان تحریر فرمائے ،
آپ جتنے محترم اختلاف سے پہلے تھے اتنے ہی محترم اب بھی ہیں ۔
آپ نے تو " دوستی یاری " کو بہت ہلکے معنوں میں لیا ہے ۔
اور جس کیفیت کو آپ نے "کھنچے کھنچے " سے تشبیہ دی ہے ۔ یہ بھی آپ کا وہم ہے ۔
میں اپنی حد تک یہ کہہ سکتا ہوں کہ " اب آپ سے براہ راست بات کرتے کوئی تبصرہ کرتے احتیاط ضرور کرتا ہوں "
کیونکہ آپ کسی بھی تنقیدی اور اختلافی لفظ کو براہ راست اپنی ذات پر اک حملہ تصور کر لیتے ہیں ۔
اور کوئی میری بات سے دکھ پائے ناراض رہے یہ تو مجھ سے برداشت ہی نہیں ۔
سو آپ سے دلی معزرت کہ میرے کسی اختلاف نے آپ کے ذہن میں یہ وہم ابھارا کہ
"تے ٹٹ گئی تڑک کر کے ۔
جانے کیوں " ایویں لڑن بہانے لبھنا ایں "
 

عاطف بٹ

محفلین
چھوٹاغالبؔ سائیں، غالب کی زبان دانی پر اور بھی بہت سے اعتراضات ہیں مگر ان اعتراضات کے باوجود قدرت نے جو مقام و مرتبہ اس درویش کو بخشا ہے وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
میرے محترم بھائی
زیادہ گمان رکھنے سے احتیاط بہتر
کیونکہ اکثر گمان غلط ہوتے ہیں ۔
ایسے ہی جیسے آپ نے یہ گمان تحریر فرمائے ،
آپ جتنے محترم اختلاف سے پہلے تھے اتنے ہی محترم اب بھی ہیں ۔
آپ نے تو " دوستی یاری " کو بہت ہلکے معنوں میں لیا ہے ۔
اور جس کیفیت کو آپ نے "کھنچے کھنچے " سے تشبیہ دی ہے ۔ یہ بھی آپ کا وہم ہے ۔
میں اپنی حد تک یہ کہہ سکتا ہوں کہ " اب آپ سے براہ راست بات کرتے کوئی تبصرہ کرتے احتیاط ضرور کرتا ہوں "
کیونکہ آپ کسی بھی تنقیدی اور اختلافی لفظ کو براہ راست اپنی ذات پر اک حملہ تصور کر لیتے ہیں ۔
اور کوئی میری بات سے دکھ پائے ناراض رہے یہ تو مجھ سے برداشت ہی نہیں ۔
سو آپ سے دلی معزرت کہ میرے کسی اختلاف نے آپ کے ذہن میں یہ وہم ابھارا کہ
"تے ٹٹ گئی تڑک کر کے ۔
جانے کیوں " ایویں لڑن بہانے لبھنا ایں "
دیکھا ، دیکھا
میں نے پہلے ہی کہا تھا

یہ حضرت تو بس سنانے کے بہانے ڈھونڈ رہے تھے
میں اللہ اکبر کہا نہیں اور انہوں ایک رکعت میں ایک سیپارہ پڑھ دیا:laugh:

شاہ جی انسان بننا ہے کہ نہیں؟:angry:
 
Top