اقتباسات بھوک اور بھکاری!

سید فصیح احمد نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 11, 2014

  1. سید فصیح احمد

    سید فصیح احمد لائبریرین

    مراسلے:
    3,178
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اندھا بھکاری:کھڑکی کب کھلے گی؟
    منی:جب مسافر کھانا کھا چکیں گے۔
    اندھا بھکاری:مسافر کب کھانا ختم کریں گے؟
    منی:جب کھڑکی کھلے گی۔

    اندھا بھکاری:جب کھڑکی کھلے گی۔۔۔ کب کھڑکی کھلے گی؟میں کچھ نہیں جانتا۔ منی تو کیا کہہ رہی ہے۔۔۔ جب سے میری آنکھوں میں روشنی نہیں رہی، مجھے وقت پر بھیک کی روٹی بھی کوئی نہیں لا دیتا۔ منی کی اماں کیا تمہارے پاس تھوڑی سی روٹی بھی نہیں ہے۔ ہاں نہیں ہو گی۔۔۔ میں اندھا ہوں۔۔۔ بوڑھا ہوں۔۔۔ اپنی گستاخ بیٹی کا محتاج ہوں۔

    بھکارن:صبر کرو، اب تھوڑی دیر میں بی بی کھڑکی کھولے گی۔ پھر تمہیں پیٹ بھر کھانا ملے گا۔ آج سرائے میں بہت سے مسافر آئے ہیں میں تو ہر روز دعا مانگتی رہتی ہوں کہ سرائے مسافروں سے بھری رہے تا کہ ان کی پلیٹوں سے بہت سا جھوٹا کھانا ہمارے لئے بچ جایا کرے۔

    منی:لیکن اماں بعض مسافر تو اتنے پیٹو ہوتے ہیں کہ پلیٹیں بالکل صاف کر دیتے ہیں اور کھانا تو ذرا بھی نہیں بچتا۔ ایسے موقع پر اگر بی بی سچ مچ مہربان نہ ہو تو۔۔۔

    بھکارن:بری باتیں منھ سے نہ نکال، وہ سب کا والی ہے۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔ آج کتنی تیز سردی ہے۔ منی آگ ذرا تیز کر دے۔
    (الاؤ کی لکڑیاں ادھر ادھر کرتی ہے۔)

    منی:یہ چیڑ کی لکڑیاں دھواں زیادہ دیتی ہیں آگ کم۔

    بھکارن:تو جنگل سے کاؤ کی لکڑیاں چن کر لایا کر، میں نے تجھ کئی بار سمجھایا ہے۔

    منی:ماں ، کاؤ کا جنگل بہت گھنا ہے۔ مجھے ڈر معلوم ہوتا ہے۔

    بھکارن:باؤلی ہوئی ہے۔ ڈر کا ہے کا؟

    اندھا بھکاری:منی دیکھ، ابھی کھڑکی کھلی کہ نہیں۔ یہ کون آ رہے ہیں؟

    منی:مسافر ہیں ، سرائے کے اندر جا رہے ہیں۔ اچھا میں جا کر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوتی ہوں۔ ابا، امید ہے کہ اب کے کچھ نہ کچھ ضرور ہی ہو گا۔ (چلی جاتی ہے۔)

    بھکارن:تم نے سنا۔ منی کو کاؤ کے جنگل میں لکڑیاں چننے سے ڈر لگتا ہے۔

    اندھا بھکاری:ہاں منی جوان ہو گئی ہے۔

    بھکارن:تم اس کا بیاہ کیوں نہیں کر دیتے۔

    اندھا بھکاری:اس قصبے میں تو کوئی ایسا بھک منگا ہے نہیں یہ سنا ہے کہ شہروں کے بھک منگے بڑے امیر ہوتے ہیں مجھے ایک دفعہ سرائے کا ایک مسافر بتا رہا تھا کہ اس نے ایک دفعہ اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک شہر میں ، مجھے اس شہر کا نام یاد نہیں رہا۔ بھلا سا نام تھا۔ایک بھک منگا رہتا تھا جب وہ مرا تو منی کی اماں ، ساٹھ ہزار روپیہ چھوڑ کر مرا۔ساٹھ ہزار روپیہ کتنا ہوتا ہے۔ تمہیں معلوم ہے؟

    بھکارن:نہیں۔ پر میں سوچتی ہوں کہ میری منی کو بھی کوئی ایسا ہی بھک منگا مل جائے۔

    اندھا بھکاری:تم نے تو میری بات نہیں مانی۔ وہ بنیا پانسو روپئے دیتا تھا، اسی کے پلے باندھ دیتے۔منی کی زندگی بھی سدھر جاتی اور ہم بھی۔

    بھکارن:تم کیا کرتے ان پانسو روپئے

    اندھا بھکاری:ان پانسو روپئے سے میں پھر ایک قطعہ زمین خرید لیتا۔ گائیں رکھتا، بھیڑ بکریاں۔ میرا ایک چھوٹا سا خوبصورت گھر ہوتا۔ کچی مٹی کا بنا ہوا۔ کھڑیا مٹی سے تپا ہوا۔ منی کی اماں ، تجھے کیا معلوم ہے کہ بھکاریوں کی ٹولی میں داخل ہونے سے پہلے میں ایک کسان تھا۔
    ____________________________________________________________________________________
    کرشن چندر کے ڈرامے "سرائے کے باہر" سے اقتباس۔

    مکمل ڈرامہ مطالعہ کے لیئے یہاں دستیاب ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • غمناک غمناک × 1
  2. سید فصیح احمد

    سید فصیح احمد لائبریرین

    مراسلے:
    3,178
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ٹیگ نامہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    خوب لکھتے تھے کرشن چندر رواں دواں زندگی کے سچے رنگ بھرے دکھ
    اک اچھا انتخاب
    بہت دعائیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,858
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بڑھا کے پیاس مری اس نے ہاتھ کھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ مصرع یہی ہے نا؟ سید فصیح احمد !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. سید فصیح احمد

    سید فصیح احمد لائبریرین

    مراسلے:
    3,178
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    استاد محترم آپ جانتے تو ہیں میرا حافظہ کس قدر کمزور ہے :) :) ۔۔۔۔ آپ نے لکھا ہے تو یقیناً یہی ہو گا ۔۔ لیکن استاد محترم پیاس باقی رہنا برکاتِ سفر میں شمار نہیں ہوتی ؟ :) :)
     
  6. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    افسانہ نگار کا افسانہ بک گیا مگر بھکاری بھوکا ہی رہا ۔
    ویسے میرے تجربے میں ایسا آیا ہے کہ رب کریم ہر طبقے میں شامل محنتی ایماندار لوگوں کے کبھی نہ کبھی دن بدل ہی دیتا ۔ا ن کی نسل میں خوشحالی آہی جاتی ہے ۔ مگر بھکاری جو اللہ کے گھر میں بھی جہاں بادشاہ و گدا اللہ سے سوال کرتے ہیں یہ بھکاری وہاں بھی بندوں سے سوال کرتے ہیں ان کی نسل میں خوشحالی نہیں آتی ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    کافی افسانوی سی بات کردی آپنے۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  8. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,572
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اردو ادب کا گمشدہ عطر
    لاجواب شراکت
    سلامت رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر