بھارت کے ساتھ دوستی کے لئے حد سے آگے بڑھنے والوں کے لئے پڑھنے کی چیز۔

آج کل بھارت کے ساتھ دوستی کے لئے کچھ لوگ حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور اس کے لئے حد سے آگے بڑھتے ہوئے قائداعظم کے بارے میں بھی غیر حقیقی باتیں کر رہے ہیں ان لوگوں کو اور عوام کو معروف مؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود کا مندرجہ ذیل کالم پڑھنا چاہئے تاکہ اصل حقائق سے واقف ہوسکیں۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=148759
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ قائداعظمؒ سے محبت یا عقیدت کا تقاضا ہے کہ ان کی تقاریر پڑھی جائیں اور ان کے حوالے سے کوئی بات بھی لکھنے سے قبل اس کی تصدیق کرلی جائے۔ تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق کے تقاضے پورے کئے جائیں اور جو بات بھی کہنی یا لکھنی ہے اسے اپنے صحیح تناظر میں بیان کیا جائے کیونکہ محض چند لفظوں کا حوالہ کبھی کبھار منفی نتائج کی راہ ہموار کرتاہے اور قارئین یا ناظرین کو کنفیوز کرتا ہے جس کے سائے قائداعظمؒ کی شخصیت او ر عظمت پر پڑتے ہیں۔
میں اس مختصر کالم میں دو تین اہم باتوں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں اور یہ وضاحت اس پس منظر کے بغیر نامکمل رہے گی۔ میں نے وطن عزیز کے کئی دانشوروں، لکھاریوں، اینکرپرسنوں اور ایڈیٹروں کو یہ بات کہتے سنا اور پڑھا ہے کہ قائداعظمؒ ہندوستان سے امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات چاہتے تھے۔ اب یہی بات میرے دیرینہ دوست جناب حسین حقانی نے اپنے 20نومبر کےکالم میں لکھی ہے۔ حقانی صاحب سے میرے تعلقات دہائیوں پرانے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ تعلقات نظریاتی وسیاسی اختلافات اور گلے شکوئوں کے باجود نبھتے رہے ہیں۔ قائداعظمؒ نے اس خواہش کااظہار کب کیا؟ان کے الفاظ کیا تھے؟ اور پھر یہ خواہش کیونکر پایہ ٔ تکمیل تک نہ پہنچی؟ اسے سمجھنا ضروری ہے لیکن وضاحت کرنے سے قبل خلوص نیت سے یہ لکھنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے نہ وسیع مطالعے کاشرف حاصل ہے اور نہ ہی میں اپنے الفاظ کو آخری الفاظ سمجھتا ہو۔ میری رائے ایک طالب علم کی جستجو ہے جس سے اختلاف آپ کا حق ہے۔
مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ جو معزز خواتین و حضرات قائداعظمؒ کے حوالے سے یہ بات کہتے ہیں مجھے یقین کی حد تک گمان ہے کہ انہوں نے قائداعظمؒ کا یہ انٹرویو پڑھا ہی نہیں، محض سنی سنائی پر حاشیہ آرائیاں ’’فرما‘‘ رہے ہیں۔ برادرم حقانی نےلکھا ہے کہ ایک دستاویز کےمطابق انہوں نے امریکی سفیر سے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات امریکہ کینیڈاجیسے ہونے چاہئیں۔ میں نے ابھی تک حقانی صاحب کی کتاب نہیں پڑھی اس لئے مجھے اندازہ نہیں کہ وہ کس دستاویز کاحوالہ دے رہے ہیں البتہ قائداعظمؒ کی تقاریر، بیانات اور قائداعظمؒ پیپرز میں اس خواہش کاحوالہ صرف ایک انٹرویو میں ملتاہے جو انہوں نے قیام پاکستان سےتقریباً آٹھ ماہ قبل 13دسمبر 1946کو امریکن براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو دیا تھا۔ امریکی عوام کے نام پیغام میںانہوں نے کہا تھا کہ ہم ہندوستان کی تقسیم چاہتے ہیں کیونکہ ہندوئوں اور مسلمانوں کی آزادی کے مسئلے کا یہی عملی حل ہے اور پھرکہا مجھے یقین ہے کہ ہندوستان پاکستان دوست ہمسایہ ہوں گے جس طرح کینیڈااور امریکہ اور کئی دوسرے ممالک نارتھ اور سائوتھ امریکہ میں ہیں۔
الفاظ ملاحظہ فرمایئے:
".....Governments of Hindustan and Pakistan, which I am confident will settle down as friends and neighbours like Canada and The United States and other sovereign states both in North and South America."
(بحوالہ خورشید یوسفی ’’قائداعظمؒ کی تقاریر ، بیانات‘‘ (انگریزی) جلد IV ص 2475)
اول تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ بیان تقسیم ہند سے قبل کا ہے، بعد کا نہیں۔ یقیناً قائداعظمؒ ہندوستان سے دوستانہ ہمسایہ تعلقات کاخواب دیکھ رہے تھے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ تلخ حقائق نے ان کے خواب کو چکناچور کردیا اور ان کی سوچ کو بدل دیا۔ تفصیل کتاب کا موضوع ہے۔ کالم میںصرف حوالےاوراشارے دیئے جاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلا جھٹکا کانگریس کی جون 1947 کی قرارداد تھی جس کی روح آج بھی زندہ ہے۔ اس قرادادمیں کانگریس نے تقسیم کو اس یقین کے ساتھ تسلیم کیا تھا کہ ایک دن پاکستان پھرہندوستان میں مل جائے گا۔ چنانچہ ہندوستانی قیادت آزادی کے فوراً بعد پاکستان کو ناکام بنانےاور ختم کرنے کے درپے رہی۔ اس سلسلے کی اہم کڑی پاکستان کے حصے کی رقم دینے سے انکار تھا تاکہ پاکستان کامالی طور پر گلا گھوٹنا جاسکے۔ اسی طرح فوجی اور دوسرے ساز و سامان کی تقسیم میں بھی بے انصافی کی گئی جس کی تفصیلی چوہدری محمد علی کی کتاب ’’ظہورِ پاکستان‘‘ میں موجود ہے۔دونوں نوزائیدہ ریاستوں کے تعلقات میں جنگی قسم کی تلخی جوناگڑھ، حیدرآباداور کشمیر کے حوالے سے پیدا ہوئی۔ جوناگڑھ اور حیدرآباد کے حکمران پاکستان سے الحاق چاہتے تھے، ہندوستان نے فوجی طاقت کے ذریعے ان پر قبضہ کرلیا۔ کشمیر مسلمان اکثریتی ریاست ہے جس کے عوام پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ ہندوستان نے کشمیر کے حکمران سے معاہدے کا سہارالے کر وہاں اپنی فوجیں اتار دیں۔ الاسٹر لیمب کی انگریزی کتاب "Kashmir: The disputed legacy" میں تحقیق سے ثابت کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوجیں مہاراجہ کشمیر کے (Instrument of accession) پر دستخط کرنے سےپہلے سری نگرمیں پہنچ چکی تھیں۔ اس حوالے سے مائونٹ بیٹن کا کرداراور بائونڈری کمیشن کی بے انصافیاں دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کا بیج بوگئیں۔ وسیع پیمانے پر ہجرت بھی پاکستان کی نئی حکومت اور مملکت کو مسائل کے بوجھ تلے دبانے کی سازش تھی۔ کم لوگوںکو علم ہے کہ علامہ اقبالؒ کے تصور ِ پاکستان اور قائداعظمؒ کے نظریہ ٔ پاکستان میں ہجرت شامل نہیں تھی۔ قائداعظمؒ نےاپنی ایک تقریر میں واضح کیاہے کہ وہ تبادلہ آبادی کے خلاف تھے جبکہ گاندھی اس پر بضد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل قائداعظمؒ محمد علی جناح نے کئی مواقع پر کہاکہ ہندوستان پاکستان کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کاخواب ٹوٹ چکا تھا اور تلخ حقائق نےانہیں سوچ بدلنے پرمجبور کر دیاتھا۔اس کی واضح جھلک قائداعظمؒ کے خط بنام کلیمنٹ ایٹلی، وزیراعظم برطانیہ میں بھی ملتی ہے۔ وزیراعظم برطانیہ ایٹلی نے قائداعظمؒ کوشکریے کا خط لکھا تواس کے جواب میں قائداعظمؒ نے یکم اکتوبر 1947 کو اپنے خط میں لکھا ’’مجھے یہ لکھتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے دشمن ہماری ریاست کو اپاہج (cripple) کرنے کے لئے ہمارے راستے میں مشکلات کھڑی کر رہے ہیں......حیران کن بات یہ ہے کہ ہندوستان کے چوٹی کے لیڈران بار بار اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان کو بہرحال ہندوستان یونین میں واپس آنا ہوگا۔ پاکستان کبھی ایسا نہیں کرے گا۔‘‘ (جناح بنام ایٹلی مورخہ یکم اکتوبر 1947۔ قائداعظمؒ پیپرز)
اس ضمن میں یہ ذکر بھی مناسب ہوگا کہ گاندھی نے پاکستان یاترا کی اجازت چاہی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہ پاکستان سے ہجرت کرنے والے ہندوئوں کو لے کر پاکستان آئیں گے اور انہیں اپنی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کےلئے کہیں گے۔ بقول رابرٹ پائن یہ گاندھی کی زندگی کی آخری اورعظیم ترین مہم تھی۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمایئے:
The life and death of Mahatma Gandhi, By Robert Payne. London, p,567
جب گاندھی کاخط پاکستان کابینہ میں اجازت اور منظوری کے لئے پیش ہوا تو قائداعظمؒ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس کی تفصیل In Quest of Jinnah edited by Sharif ul Mujahid کے صفحہ نمبر 207 پر درج ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔
Gandhi had sent a letter to the Pakistan government asking if he could visit the country. Many members thought..... he should be received. Jinnah replied that as Governor General, he would veto the decision (P.207)
قائداعظمؒ بحیثیت گورنر جنرل کابینہ کے فیصلے کوویٹو کرنے کے مجاز تھے چنانچہ انہو ں نے گاندھی کی پاکستان یاترا کی مخالفت کی۔ قائداعظمؒ بہرحال ٹھنڈے مزاج کےمدبر سیاستدان تھے لیکن اس موقع پر وہ اس حد تک جذباتی ہوگئے کہ کابینہ کی میٹنگ پر صدارت کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اس سے قبل کہ میں گاندھی کو پاکستان آتے ہوئے دیکھوں، مجھے اٹھاکر سمندر میں پھینک دو۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ جب قائداعظمؒ نے سرکاری دورےپر مارچ 1948میں مشرقی پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو ہندوستا ن میں ’’لینڈ‘‘ کرنے سے انکار کر دیا۔ مسرت زبیری کی کتاب Voyage through history کے صفحہ 154 پر اس کی تفصیل موجود ہے۔ مسرت زبیری سول سرونٹ تھے جب قائداعظمؒ کے دورے کی فائل ان کے پاس آئی تو تجویز کیاگیا کہ BOAC سے چودہ ہزار پونڈ پر طیارہ چارٹر کرلیا جائے کیونکہ گورنر جنرل کا ڈیکوٹا ایک اڑان میں ڈھاکہ نہیں پہنچ سکتا اور سفر بھی خطرناک ہے۔ قائداعظمؒ نے لکھا کہ میرے ملک کا خزانہ اس خرچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ڈیکوٹا کے فیول ٹینک کے ساتھ د وسرا ٹینک لگایا گیا کیونکہ قائداعظمؒ نے فیول لینے کے لئے ہندوستان کی سرزمین پر لینڈ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ قائداعظمؒ نے مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران تقاریر میں کھل کر ہندوستان پر تنقیدکی، اسے ملک کے اندر انتشارپھیلانے، اپنے زرخریدایجنٹوں کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے اور توڑنے کے الزامات دیئے اور کہا کہ ہندوستان مشرقی بنگال کو ہندوستان یونین میں واپس لانے کی سازش کر رہا ہے۔ انہوں نے صوبائیت کےپھیلتے زہر پرغم اور اندیشوں کااظہار کیا اور عوام کو ملک دشمن عناصر کے خلاف متنبہ کیا۔ میری گزارش ہے کہ قائداعظمؒ کی ڈھاکہ والی 21مارچ 1948کی تقریر کو غور سے پڑھیں تو آپ کو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور آج کے افغانستان اور بلوچستان میں ہندوستانی کارروائیوں کی سمجھ آئے گی۔ حکومت پاکستان اعلان کر چکی کہ بلوچستان کی بغاوت میں ہندوستان ملوث ہے اور اس کے شواہد بھی دستیاب ہیں۔
مختصر یہ کہ قیام پاکستان سے قبل قائداعظمؒ بلاشبہ ہندوستان سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں تھے۔ یہی ان کا ویژن تھا لیکن ہندوستانی قیادت نے پاکستان مخالف سازشوں اور کارروائیوں سے قائداعظمؒ کے خواب کو چکناچور کردیا۔ محترم حقانی صاحب کے دوسرے نقاط پر انشا اللہ اگلے کالم میں لکھوں گا۔
 

x boy

محفلین
بہت شکریہ
اللہ آپ کو جزا دے ،۔ پاکستان کے سیکولر یا وہ اسلامی لوگ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں سے اسلامی تعلیم حاصل کر نے کے بعد ہر جگہہ یہی کہنے لگتے ہیں کہ پاکستان دوقومی نظریہ کی وجہ سے نہیں بنا۔ 100 میں 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں میں پٹی پڑی ہوئی ہے اور اسلام میں میں ہر چیز جائز ہے ان کی نگاہ اور ابلیسی فکر اورخیال میں۔
ان آوارہ لوگوں ، بے راہ روی کے اداکاروں کی بھرمار ٹی وی چینلز ہیں۔
 
بہت شکریہ
اللہ آپ کو جزا دے ،۔ پاکستان کے سیکولر یا وہ اسلامی لوگ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں سے اسلامی تعلیم حاصل کر نے کے بعد ہر جگہہ یہی کہنے لگتے ہیں کہ پاکستان دوقومی نظریہ کی وجہ سے نہیں بنا۔ 100 میں 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں میں پٹی پڑی ہوئی ہے اور اسلام میں میں ہر چیز جائز ہے ان کی نگاہ اور ابلیسی فکر اورخیال میں۔
ان آوارہ لوگوں ، بے راہ روی کے اداکاروں کی بھرمار ٹی وی چینلز ہیں۔
جیو ٹی وی پر، آفتاب اقبال، حسن نثار اور نجم سیٹھی ایسے لوگوں کی بدترین مثال ہیں جو قیام پاکستان کو ایک طرح کا دھوکہ سمجھتے ہیں۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
بہت شکریہ
اللہ آپ کو جزا دے ،۔ پاکستان کے سیکولر یا وہ اسلامی لوگ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں سے اسلامی تعلیم حاصل کر نے کے بعد ہر جگہہ یہی کہنے لگتے ہیں کہ پاکستان دوقومی نظریہ کی وجہ سے نہیں بنا۔ 100 میں 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں میں پٹی پڑی ہوئی ہے اور اسلام میں میں ہر چیز جائز ہے ان کی نگاہ اور ابلیسی فکر اورخیال میں۔
ان آوارہ لوگوں ، بے راہ روی کے اداکاروں کی بھرمار ٹی وی چینلز ہیں۔
ایک سوال معلوماتِ عامہ کے لئے: یہ جن 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں پر پٹی کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو امریکہ یورپ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں؟ اور ٹی وی چینلز پر جن لوگوں کی بھرمار کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے ساری زندگی اسی ملک میں گزاری ہے؟
ضروری نہیں کہ اگر آپ ایک اسلامی ملک میں تعلیم یا روزگار کے لئے گئے ہیں تو آپ محب وطن ہیں اور وہ جو یورپ امریکہ تک گئے ہیں وہ پاکستان یا نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگتے ہیں۔
 

x boy

محفلین
ایک سوال معلوماتِ عامہ کے لئے: یہ جن 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں پر پٹی کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو امریکہ یورپ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں؟ اور ٹی وی چینلز پر جن لوگوں کی بھرمار کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے ساری زندگی اسی ملک میں گزاری ہے؟
ضروری نہیں کہ اگر آپ ایک اسلامی ملک میں تعلیم یا روزگار کے لئے گئے ہیں تو آپ محب وطن ہیں اور وہ جو یورپ امریکہ تک گئے ہیں وہ پاکستان یا نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگتے ہیں۔
آپ کیا چاہتی ہیں کہ میں مزید لکھوں؟
 
ایک سوال معلوماتِ عامہ کے لئے: یہ جن 55 فیصد لوگوں کی آنکھوں پر پٹی کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو امریکہ یورپ سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں؟ اور ٹی وی چینلز پر جن لوگوں کی بھرمار کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے ساری زندگی اسی ملک میں گزاری ہے؟
ضروری نہیں کہ اگر آپ ایک اسلامی ملک میں تعلیم یا روزگار کے لئے گئے ہیں تو آپ محب وطن ہیں اور وہ جو یورپ امریکہ تک گئے ہیں وہ پاکستان یا نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگتے ہیں۔
ایک بات تو یقینی ہے کہ بالکل درست طور پر تو یہ بتانا شاید ممکن نا ہو کہ کتنے فیصد لوگ نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگے ہیں لیکن کچھ نا کچھ لوگ یقیناً مغربی ممالک کی آب و ہوا سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان سے زیادہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں مشرف کے منحوس دور سے سرکاری سطح پر نظریہ پاکستان کی نفی کا جو سلسلہ چلنا شروع ہوا اس کے نقصانات زیادہ ہوئے۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
ایک بات تو یقینی ہے کہ بالکل درست طور پر تو یہ بتانا شاید ممکن نا ہو کہ کتنے فیصد لوگ نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگے ہیں لیکن کچھ نا کچھ لوگ یقیناً مغربی ممالک کی آب و ہوا سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان سے زیادہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں مشرف کے منحوس دور سے سرکاری سطح پر نظریہ پاکستان کی نفی کا جو سلسلہ چلنا شروع ہوا اس کے نقصانات زیادہ ہوئے۔
بالکل ایسا ہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے کونسپریسی تھیوری کی جتنی عملی مثالیں میں نے پاکستان میں دیکھی ہیں شاید ہی کسی اور جگہ رہتے ہوئے اتنا بہتر سمجھ سکتی۔
اور ہمیں اس بات کو بھی سمجھنے کی شدت سے ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان کے بارے میں منفی خیالات کوئی باہر سے اٹھا کر نہیں لایا۔ ہم پاکستانی خود ہی اس پراپیگنڈہ کے خالق اور پھیلانے والے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر کسی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا رویہ ہی ہمیں شدت پسند بناتا ہے۔ نہ تو سارے مڈل ایسٹ یا مسلم ممالک میں رہنے والے فرشتے ہیں اور نہ ہی مغربی ممالک جانے والے ملک دشمن۔
 
بالکل ایسا ہی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے کونسپریسی تھیوری کی جتنی عملی مثالیں میں نے پاکستان میں دیکھی ہیں شاید ہی کسی اور جگہ رہتے ہوئے اتنا بہتر سمجھ سکتی۔
اور ہمیں اس بات کو بھی سمجھنے کی شدت سے ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان کے بارے میں منفی خیالات کوئی باہر سے اٹھا کر نہیں لایا۔ ہم پاکستانی خود ہی اس پراپیگنڈہ کے خالق اور پھیلانے والے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر کسی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا رویہ ہی ہمیں شدت پسند بناتا ہے۔ نہ تو سارے مڈل ایسٹ یا مسلم ممالک میں رہنے والے فرشتے ہیں اور نہ ہی مغربی ممالک جانے والے ملک دشمن۔
میں تقریباً دس سال سے زائد عرصہ سے مڈل ایسٹ میں رہ رہا ہوں اور یہاں کے لوگ کتنے فرشتے ہیں اور کس طرح کے فرشتے ہیں مجھے کافی اندازہ ہوا ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
ایک بات تو یقینی ہے کہ بالکل درست طور پر تو یہ بتانا شاید ممکن نا ہو کہ کتنے فیصد لوگ نظریہ پاکستان کی نفی کرنے لگے ہیں لیکن کچھ نا کچھ لوگ یقیناً مغربی ممالک کی آب و ہوا سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان سے زیادہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں مشرف کے منحوس دور سے سرکاری سطح پر نظریہ پاکستان کی نفی کا جو سلسلہ چلنا شروع ہوا اس کے نقصانات زیادہ ہوئے۔

قائداعظم کے حوالے سے دھاگہ ہے تو میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کچھ کہنے کی جسارت کروں کہ ایک دو قومی نظریہ ہےاور دوسرا نظریہِ پاکستان ۔ میرا خیال ہے ہم ان دونوں میں تفریق نہیں کر پاتے اور اس کو ایک ہی نظریہ سمجھتے ہیں ۔ دو قومی نظریہ ایک تاریخی حقیقت بن کر سامنے آیا اور مسلمانوں نے اس کو بنیاد بنا کر تسلیم کیا اور پھر جہدجہد کر کے 1947 میں پاکستان حاصل کرلیا ۔ایک قوم انڈیا میں رہ گئی اور ہم ایک قوم بن کر پاکستان آگئے ۔
اس حوالے سے دراصل اب ہم کو دو قومی نظریے کی تفہیمِ نو کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جس طرح ہم نے 1947 میں دو قومی نظریئے کوDefined کیا تھا مگر اب ہم پاکستان بننے کے بعد اس طرح سے ڈیفائن نہیں کر پائیں گے ۔ دو قومی نظریہ اب کوئی ریفرینس رہ نہیں گیا ہے ۔ دو قومی نظریہ آزادی کا سبب بنا تھا اب آزادی کے بعد ہمیں ایک نئی سوشل تھیوری بنانی چاہیئے ۔ اب دو قومی نظریہ ہماری سوشل تھیوری نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ دو قومی نظریئے اگر اب کہیں سے اٹھے گا تو وہ اقلیتیوں کی جانب سے اٹھے گا ۔ دو قومی نظریہ ہمارا بحثیت اقلیت کے ایک سیاسی اور مذہبی موقف تھا۔ جو ہم نے بخیرو خووبی حاصل کر لیا ۔جبکہ ” نظریہ ِپاکستان ” بعد کی پیداوار ہے ۔ نظریہ پاکستان ، جسے اسلام کے مطابق کہا جاتا ہے ۔ بلکل غلط ہے ۔ بلکہ یہ اسلام کی ایک خاص Interpretation سے جُڑا ہوا ہے ۔ اور وہ ہے نظریہ اسلامی ریاست ۔ مسلمانوں کے ہاں ریاست مدینے میں وجود میں آگئی تھی ۔ اور اس ریاست میں سب کے حقوق مساوی تھے ۔ اور حقوق کی ان مساوات کی نوعیت یہود قبائل میں بھی یکساں تھی ۔ اور وہ ریاست بطور نظریہ نہیں تھی ۔ تیرہ سو سالوں میں مسلمانوں نے ہمیشہ ریاست بطور فلاحی ریاست پر زور دیا ۔ اور ہمارے جتنے بھی مفکرین گذرے ہیں وہ ایسی ہی ریاست پر زور دیتے رہے ہیں ۔ جس میں انسانیت کی فلاح مقصود ہو ۔ مگر بیسویں صدی میں ایسے نظریات کی بھرمار ہوگئی کہ ایسی ریاست پر زور دیا جانے لگا جو انسانیت کے بجائے نظریے کے حوالوں پر زور دیتیں ہوں ۔ اور یہ نظریات اسلام کی ایک Interpretation کے تحت وجود میں آئیں ۔ جس میں ایک نظریاتی گروہ نے انسان اور نظریہ کا مقابلہ پیدا رکھا ہے دراصل جاگیرداروں کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہوگئی تھی ۔ " اس مقصدکے لیئے ایک انجمنِ تحفظِ حقوقِ زمینداران بمطابق شرعیہ نامی ایک تنظیم بنی تھی ۔ جس کے صدر جناب نوابزادہ نصراللہ تھے ۔ اور اس وقت جاگیرداروں کے حقوق کے لیئے علماء سے کتابیں لکھوائیں گئیں تھیں ۔ مولوی نے وہاں مداخلت نہیں کی جہاں اقدار مجروع ہورہے تھے ۔ اگر ا سمیں جاگیرداری کے خلاف کوئی عمل ہورہا تھا تو اس میں کہاں سے دینی اقدار مجروع ہورہے تھے ۔
" ریاست بطور نظریہ " اسلام میں کبھی معترف نہیں ہوئی ۔ ریاست بطور نظریہ اس بیسویں صدی کا واقعہ ہے ۔ اس سے پہلے شاہ ولی اللہ (رح ) ، امام غزالی ( رح ) ، ابنِ خلدون جیسے مفکرین اور عالموں کے ہاں ریاست بطور نظریہ کا تصور نہیں ملتا ۔ شاید میری اس بات سے کئی ذہنوں میں یہ سوالات اٹھتے ہوں کہ قرآن کے بہت سے احکامات ہیں جو اجتماعیت سے ہیں ۔ ریاست سے ہیں ۔ اگر ریاست کا کوئی وجود لانا مطلوب نہیں ہے تو ان احکامات کا اطلاق کہاں ہوگا ۔ ؟
اس بات کو اس پہلو سے دیکھیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو اس وقت دنیا میں دو ابرہیمی مذہب پہلے ہی سے موجود تھے ۔ ایک یہود اور دوسرا نصاریٰ مذہب ۔ یہودی کی Perception یہ تھی کہ ریاست ایک مذہب ہے ۔ اور جبکہ نصاریٰ کی Perception یہ تھی کہ مذہب ایک گرجا ہے ۔ مگر رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسلم معاشرہ تشکیل دیا ۔۔ جو ریاست مسلمانوں نے قائم کی اس میں انسانی حوالوں کو ہمیشہ سامنے رکھا گیا ۔ ریاست کو کلمہ پڑھانے کی پہلے کبھی بات نہیں کی گئی اور ایک خاص بات کہ جب ہم آئیڈیالوجی کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ہمیشہ مغرب ہی ہوتا ہے ۔ اور مغرب ہمیشہ تنہائی کامعاشرہ رہا ہے ۔ مغرب نے اب جاکر جنگِ دوم کے بعد اپنا عیسائی اور یہودی مسئلہ حل کیا ہے ۔ وہ کسی دوسرے کو قبول نہیں کرتے اور زبان پر لڑجاتے تھے ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انہوں نے اسی بنیاد پر بےتحاشہ جنگیں آپس میں لڑیں ہیں ۔ جب ہم نظریاتی بنیاد پر کسی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں تو وہ فرد کے ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتی ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کا معاشرہ ہمیشہ قابلِ تسخیر رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
 

ابن عادل

محفلین
قائداعظم کے حوالے سے دھاگہ ہے تو میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کچھ کہنے کی جسارت کروں کہ ایک دو قومی نظریہ ہےاور دوسرا نظریہِ پاکستان ۔ میرا خیال ہے ہم ان دونوں میں تفریق نہیں کر پاتے اور اس کو ایک ہی نظریہ سمجھتے ہیں ۔ دو قومی نظریہ ایک تاریخی حقیقت بن کر سامنے آیا اور مسلمانوں نے اس کو بنیاد بنا کر تسلیم کیا اور پھر جہدجہد کر کے 1947 میں پاکستان حاصل کرلیا ۔ایک قوم انڈیا میں رہ گئی اور ہم ایک قوم بن کر پاکستان آگئے ۔
اس حوالے سے دراصل اب ہم کو دو قومی نظریے کی تفہیمِ نو کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جس طرح ہم نے 1947 میں دو قومی نظریئے کوDefined کیا تھا مگر اب ہم پاکستان بننے کے بعد اس طرح سے ڈیفائن نہیں کر پائیں گے ۔ دو قومی نظریہ اب کوئی ریفرینس رہ نہیں گیا ہے ۔ دو قومی نظریہ آزادی کا سبب بنا تھا اب آزادی کے بعد ہمیں ایک نئی سوشل تھیوری بنانی چاہیئے ۔ اب دو قومی نظریہ ہماری سوشل تھیوری نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ دو قومی نظریئے اگر اب کہیں سے اٹھے گا تو وہ اقلیتیوں کی جانب سے اٹھے گا ۔ دو قومی نظریہ ہمارا بحثیت اقلیت کے ایک سیاسی اور مذہبی موقف تھا۔ جو ہم نے بخیرو خووبی حاصل کر لیا ۔جبکہ ” نظریہ ِپاکستان ” بعد کی پیداوار ہے ۔ نظریہ پاکستان ، جسے اسلام کے مطابق کہا جاتا ہے ۔ بلکل غلط ہے ۔ بلکہ یہ اسلام کی ایک خاص Interpretation سے جُڑا ہوا ہے ۔ اور وہ ہے نظریہ اسلامی ریاست ۔ مسلمانوں کے ہاں ریاست مدینے میں وجود میں آگئی تھی ۔ اور اس ریاست میں سب کے حقوق مساوی تھے ۔ اور حقوق کی ان مساوات کی نوعیت یہود قبائل میں بھی یکساں تھی ۔ اور وہ ریاست بطور نظریہ نہیں تھی ۔ تیرہ سو سالوں میں مسلمانوں نے ہمیشہ ریاست بطور فلاحی ریاست پر زور دیا ۔ اور ہمارے جتنے بھی مفکرین گذرے ہیں وہ ایسی ہی ریاست پر زور دیتے رہے ہیں ۔ جس میں انسانیت کی فلاح مقصود ہو ۔ مگر بیسویں صدی میں ایسے نظریات کی بھرمار ہوگئی کہ ایسی ریاست پر زور دیا جانے لگا جو انسانیت کے بجائے نظریے کے حوالوں پر زور دیتیں ہوں ۔ اور یہ نظریات اسلام کی ایک Interpretation کے تحت وجود میں آئیں ۔ جس میں ایک نظریاتی گروہ نے انسان اور نظریہ کا مقابلہ پیدا رکھا ہے دراصل جاگیرداروں کو اپنی بقاء کی فکر لاحق ہوگئی تھی ۔ " اس مقصدکے لیئے ایک انجمنِ تحفظِ حقوقِ زمینداران بمطابق شرعیہ نامی ایک تنظیم بنی تھی ۔ جس کے صدر جناب نوابزادہ نصراللہ تھے ۔ اور اس وقت جاگیرداروں کے حقوق کے لیئے علماء سے کتابیں لکھوائیں گئیں تھیں ۔ مولوی نے وہاں مداخلت نہیں کی جہاں اقدار مجروع ہورہے تھے ۔ اگر ا سمیں جاگیرداری کے خلاف کوئی عمل ہورہا تھا تو اس میں کہاں سے دینی اقدار مجروع ہورہے تھے ۔
" ریاست بطور نظریہ " اسلام میں کبھی معترف نہیں ہوئی ۔ ریاست بطور نظریہ اس بیسویں صدی کا واقعہ ہے ۔ اس سے پہلے شاہ ولی اللہ (رح ) ، امام غزالی ( رح ) ، ابنِ خلدون جیسے مفکرین اور عالموں کے ہاں ریاست بطور نظریہ کا تصور نہیں ملتا ۔ شاید میری اس بات سے کئی ذہنوں میں یہ سوالات اٹھتے ہوں کہ قرآن کے بہت سے احکامات ہیں جو اجتماعیت سے ہیں ۔ ریاست سے ہیں ۔ اگر ریاست کا کوئی وجود لانا مطلوب نہیں ہے تو ان احکامات کا اطلاق کہاں ہوگا ۔ ؟
اس بات کو اس پہلو سے دیکھیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو اس وقت دنیا میں دو ابرہیمی مذہب پہلے ہی سے موجود تھے ۔ ایک یہود اور دوسرا نصاریٰ مذہب ۔ یہودی کی Perception یہ تھی کہ ریاست ایک مذہب ہے ۔ اور جبکہ نصاریٰ کی Perception یہ تھی کہ مذہب ایک گرجا ہے ۔ مگر رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسلم معاشرہ تشکیل دیا ۔۔ جو ریاست مسلمانوں نے قائم کی اس میں انسانی حوالوں کو ہمیشہ سامنے رکھا گیا ۔ ریاست کو کلمہ پڑھانے کی پہلے کبھی بات نہیں کی گئی اور ایک خاص بات کہ جب ہم آئیڈیالوجی کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ہمیشہ مغرب ہی ہوتا ہے ۔ اور مغرب ہمیشہ تنہائی کامعاشرہ رہا ہے ۔ مغرب نے اب جاکر جنگِ دوم کے بعد اپنا عیسائی اور یہودی مسئلہ حل کیا ہے ۔ وہ کسی دوسرے کو قبول نہیں کرتے اور زبان پر لڑجاتے تھے ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انہوں نے اسی بنیاد پر بےتحاشہ جنگیں آپس میں لڑیں ہیں ۔ جب ہم نظریاتی بنیاد پر کسی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں تو وہ فرد کے ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتی ہے ۔۔جبکہ مسلمانوں کا معاشرہ ہمیشہ قابلِ تسخیر رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
میں اس پوری تحریر کو سمجھ نہیں پایا ۔ یہاں کئی بات حیران کن ہیں ۔ نہایت تعجب انگیز!!!!!
مثلا یہ بات حیرت انگیز ہے کہ دوقومی نظریہ حصول مقصد کے لیے تھا اور اب ہمیں اس کی تشکیل نو کرنی ہوگی ۔ گویا دوسرے الفاظ میں اس وقت حصول مقصد کے لیے جو راہ اختیار کی گئی وہ ٹھیک تھی لیکن اب وہ روایت فرسودہ ہے لہذا اس سے دامن چھڑایا جائے اور جو امانت ہمیں ملی نہایت قربانیوں کے بعد جسے کسی خاص مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور ہمیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے وہ دی گئی المیہ یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو اپنی منشاء کے مطابق نہ پاکر اس مقصد کو اپنی منشاء کے مطابق ڈھال لیں ۔
دوسری بات جس پر ہم حیران ہیں کہ دوقومی نظریہ اقلیتی سوچ کی پیداوار ہے ۔ لہذا اس کا مطالبہ اقلیتوں کی طرف سے ہی ہوگا ۔ اس انداز فکر پر ہم کیا کہیں ! گویا پاکستان میں جئے سندھ ، بلوچ آزادی تحریک ، جناح پور تحریک اور دیگر اس قسم کی سوچ کے حامل لوگ نظریہ پاکستان کے علمبردار ہیں ؟؟؟ اور اگر اقلیت آپ کے خیال میں عیسائی ،یہودی اور ہندومذہب کے ماننے والوں کا نام ہے تو ان کی طرف سے یہ مطالبہ چہ معنی دارد ؟؟؟
تیسری بات جو باعث تعجب ہے وہ ہے نظریہ اور ریاست ہے ۔ یہ بیسویں صدی کا نظریہ ہے ۔ یا للعجب !!! صاحب تحریر نے اپنی اس بات کو خود محسوس کیا اور سوال بھی اٹھایا کہ پھر احکامات (بالخصوص فوجداری احکامات ) کا کیا ہوگا ؟ لیکن وہ خود اس کا تسلی بخش جوا ب نہ دے پائے ۔مثلا انہوں نے فرمایا کہ آپ ٖ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم معاشرہ تشکیل دیا ۔ گویا مسلم معاشرہ حکومت کے بغیر کسی چیز کا نام تھا جو انسانیت کی بنیاد پر چل رہا تھا ۔ یہ انتہائی عجیب وغریب منطق ہے ۔
پھر یہ کہنا کہ ''ریاست کو کلمہ پڑھانے بات کبھی نہیں کی گئی''۔جہاں ریاست کی تخلیق ،تشکیل اور ترویج ہی حالت اسلام یعنی کلمہ گو حالت میں ہوئی ہو وہاں یہ بات بے محل ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والے شخص سے کہے کہ چونکہ اس نے کسی سے کلمہ نہیں پڑھا لہذا یہ کلمہ گو نہیں ۔ ۔
ایک اور بات یہ کہ صاحب تحریر نے فرمایا '' جب ہم نظریاتی بنیاد پر کسی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں تو وہ فرد کے ارتقاء میں ایک رکاوٹ بن جاتی ہے ''۔ جبکہ وہ پہلے کہہ چکے کہ ''اب آزادی کے بعد ہمیں ایک نئی سوشل تھیوری بنانی چاہیئے ''۔ ان دونوں میں کیا تطابق ہے وہی واضح کرسکتے ہیں ۔ لیکن سوال اہم ہے کہ اگر ہم نظریاتی بنیادوں پر معاشرے کو تشکیل نہ دیں تو کس بنیاد پر معاشرہ تشکیل دیں ۔ کیا لسانی ،علاقائی ، مذہبی، نسلی ، قومیتی، جغرافیائی بنیادوں پر جو معاشرے تشکیل دیے جاتے ہیں ۔ وہ نظریاتی نہیں ہوتے ۔ اور اگر آپ کا مطلب سیکولر ازم کی بنیادوں پر معاشرہ تشکیل دینا ہے تو کیا وہ نظریہ نہیں ہے ۔؟
میں آپ کی اس بات کی تائید کروں گا کہ ''ایک خاص بات کہ جب ہم آئیڈیالوجی کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ہمیشہ مغرب ہی ہوتا ہے''۔ لیکن تائیدی پس منظر یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں آئیڈیالوجی یا نظریہ حیات کے تصور کی کبھی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ انگریز کی ضرورت تھی مسلم تو اول تاآخر اسلام تھا وہ اٹھتا تھا تو اسلامی طریقے سے اور اس کے بعد تجارت ،معیشت ، حکومت ،جرم وسزا، بین الاقوامی معاملات الغرض زندگی کے ہر پہلو سے اسلام اس کی رہنمائی کرتا اور وہ اس کے سائے میں زندگی بسر کرتا ۔ اس کی بے عملی کے باعث انگریز غالب ہوا تب وہ تھیوکریسی کے زخموں سے بہتر ہوکر اپنے لیے نیا نظریہ تشکیل دے چکا تھا ۔ اور اس میں مذہب کی کوئی جگہ نہ تھی ۔ افسوس اس پر ہے کہ نادانوں نے اپنے مذہب کو بھی اسی پر قیاس کیا اور آخرت کے ساتھ دنیا بھی ڈبو دی ۔
اسلامی نظریہ ایک طرح سے مغربی نظریہ کی اصطلاح کے مدمقابل ایک اصطلاح ہے ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے حوالے یہ اصطلاح بھی صحیح طرح جچتی نہیں ۔ اسلام کو اللہ نے ۔ دین کہا ہے ۔ اور دین کی تشریح آپ مختلف تفاسیر میں دیکھ سکتے ہیں ۔
میں درخواست گذار ہوں کہ ایسی بحثوں میں مولوی کو بیچ میں نہ لائیں ۔ ہم نے جب اسلام کو تھا ما تو ترقی کی ہزار سالہ تاریخ اس کی گواہ ہے اور جب اسے چھوڑا تو خوا ر ہوئے پچھلے تین چار سو سال کی تاریخ گوہ ہے ۔ سوال یہ ہے کیا مولوی ہی برا ہے ؟ سوال یہ ہے جب معاشرے کا ہرطبقہ زندگی پستی وتنزل کا شکار ہو ، جب طبقہ امراء رزالت وکمینگی کی حد تک عیش ومستی میں ڈوبا ہو اور معاشرہ ذلت ومسکنت کی تمام حدیں پامال کرچکا ہو تو کیا صرف مولوی ہی ہر مسئلے کا سبب ہے ؟ مولوی پچھلے دوتین سو سال بلکہ اس سے بھی پہلے سے ایوانوں سے دور ، گوشہ نشینی کی سی کیفیت سے دوچار ہے ۔ اور قیام دیوبند کے بعد تو اس نے حکومت سے لاتعلق ہو کر صرف حفاظت اسلام کو اپنا ہدف بنایا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی اس نے کتنی حکومتیں بنالیں ؟؟؟لیکن پھر بھی مولوی ہی سب سے زیادہ بدنام ۔وہ ہمدردی کا مستحق تو ہوگا کوسنوں کا نہیں ۔خدا کی قسم ! اس تمام صورتحال کے باوجود خلوص دل سے صرف مولوی کو اصل ذمہ دار سمجھتے ہیں تو میری طرف سے بھی اسے کوس دیں ۔
 

ظفری

لائبریرین
۔
میں آپ کی اس بات کی تائید کروں گا کہ ''ایک خاص بات کہ جب ہم آئیڈیالوجی کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ہمیشہ مغرب ہی ہوتا ہے''۔ لیکن تائیدی پس منظر یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں آئیڈیالوجی یا نظریہ حیات کے تصور کی کبھی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ انگریز کی ضرورت تھی مسلم تو اول تاآخر اسلام تھا وہ اٹھتا تھا تو اسلامی طریقے سے اور اس کے بعد تجارت ،معیشت ، حکومت ،جرم وسزا، بین الاقوامی معاملات الغرض زندگی کے ہر پہلو سے اسلام اس کی رہنمائی کرتا اور وہ اس کے سائے میں زندگی بسر کرتا ۔ اس کی بے عملی کے باعث انگریز غالب ہوا تب وہ تھیوکریسی کے زخموں سے بہتر ہوکر اپنے لیے نیا نظریہ تشکیل دے چکا تھا ۔ اور اس میں مذہب کی کوئی جگہ نہ تھی ۔ افسوس اس پر ہے کہ نادانوں نے اپنے مذہب کو بھی اسی پر قیاس کیا اور آخرت کے ساتھ دنیا بھی ڈبو دی ۔
آپ نے یہ بات کردی اس کے بعد کیا بات رہ جاتی ہے ۔ مغرب کو ایک طرف رکھ کر آپ گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کے اعتراضات کے جوابات دے سکتا ہوں ۔ بصورتِ دیگر ایک مخصوص سوچ کیساتھ ( چاہے میری ہو ) بحث میں الجھنا میرا خیال ہے کہ وقت کا ضیاع ہوگا ۔
 
ڈاکٹر صفدر محمود کے کالم کا دوسرا حصہ
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=149458

میں عرض کررہا تھا کہ زندگی خوابوں کا لامتناعی سلسلہ ہے۔ انسان خواب بنتا اور دیکھتا ہے اور پھر انہی خوابوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے چکنا چور ہوتے دیکھتا رہتا ہے۔ ہندوستان سے کینیڈا ،امریکہ جیسے تعلقات قائد اعظمؒ کا خواب تھا جس کا اظہار انہوں نے پاکستان کے قیام سے آٹھ ماہ قبل کیا تھا۔ قائد اعظم کا خواب یہ بھی تھا کہ پنجاب اور بنگال تقسیم نہ ہوں، کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو وغیرہ وغیرہ لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے بلکہ اس کے برعکس کئی مسلمان اکثریتی علاقے ہندوستان کو دے دئیے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد گیارہ مارچ کو سوئٹزر لینڈ کے صحافی ایرک سٹریف کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ہندوستان برتری کے زعم سے نجات حاصل کرلے ا ور پاکستان سے برابری کی سطح پر بات کرے تو اختلافات کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
اس انٹرویو میں قائد اعظم نے ایک بہت بڑی بات کہہ دی بلکہ مشترکہ دفاع کا اشارہ دے دیا۔ سوئس صحافی نے پوچھا کہ کیا ہندوستان اور پاکستان مل کر مشترکہ انداز سے غیر ملکی زمینی اور سمندری یلغار کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ قائد اعظم ؒکا جواب تھا کہ دونوں ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ بین ا لاقوامی معاملات میں ہمارے درمیان ہم آہنگی ہو اور دونوں ممالک مشترکہ طور پر غیر ملکی یلغار کا مقابلہ کریں لیکن اس کا سارا دارو مدار اس بات پر ہے کہ کیا ہندوستان اور پاکستان اپنے اختلافات کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ (بحوالہ خورشید یوسفی جلد چہارم ص2699) اس انٹرویو کے دس روز بعد انہوں نے ڈھاکہ میں جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی عزائم بے نقاب کئے اور واضح کیا کہ بھارت پاکستان کو توڑنے کے درپے ہے۔ میں اس پر گزشتہ کالم میں روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے اب دوسرے معاملے کی وضاحت کی طرف بڑھتے ہیں۔
قائداعظم ؒ کا بمبئی والا بنگلہ اور اس حوالے سے پاکستان میں ہندوستانی سفیر سے خط و کتابت کو ہمارے دانشوروں کا ایک گروہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت نہ صرف ہوا دیتا رہا ہے بلکہ ان کی من پسند توضیحات کرکے اور غیر منطقی نتائج بھی ا خذ کرتا رہا ہے اور قائد اعظمؒ بارے بدگمانی بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ قائد اعظمؒ کی زندگی جدوجہد اور کردار کو سامنے رکھیں اور سوچیں کہ کیا وہ کبھی پاکستان کو عارضی شے سمجھ سکتے تھے جس ملک کے قیام کے لئے انہوں نے زندگی وقف کردی، جس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے دہائیوں تک شب و روز محنت کی اور جس پودے کو انہوں نے اپنے خون سے سینچا کیا وہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی عارضی سمجھ سکتے تھے؟ پاکستان معرض وجود میں آچکا تھا ،لیاقت علی خان کی سربراہی میں حکومت بھی بن چکی تھی، پہلا بجٹ بلکہ نہایت شاندار حیرت کن بجٹ پیش کرنے پر دنیا مبارکیں دے چکی تھی
پاکستان اقوام متحدہ سے لے کر تمام عالمی اداروں تک کارکن بن چکا تھا اور دنیائے اسلام کا لیڈر تصور کیا جاتا تھا، کیا ایسے ملک کو کوئی شخص عارضی سمجھ سکتا تھا؟ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد کوئی دو درجن بار اعلان کیا کہ پاکستان بہرحال قائم رہے گا، پاکستان قائم و دائم رہے گا ہمارے دشمن ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے، اپنی عظیم جدوجہد اور طویل تناظر میں کیا یہ گمان بھی کیا جاسکتا ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو عارضی سمجھتے تھے؟ میرے نزدیک یہ بات اتنی بچگانہ اور احمقانہ ہے کہ اس پر غور کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔میں دوبارہ عرض کررہا ہوں کہ میں نے جناب حسین حقانی کی کتاب ابھی تک نہیں پڑھی اس لئے مجھے اندازہ نہیں کہ انہوں نے قائد اعظمؒ کے گھر کے حوالے سے یہ نتیجہ نکالا ہے یا نہیں لیکن پریس میں چھپنے والے مواد سے کچھ یہی تاثر ملتا ہے جس کی مجھے حقانی سے ہرگز توقع نہیں۔
یہ افسانہ دراصل شاخسانہ ہے ہندوستانی سفیر کے خط کا جو انہوں نے30جولائی 1948ء کو قائد اعظمؒ کے نام لکھا اور جس کا جواب قائد اعظم نے اپنی وفات سے پچیس دن قبل سولہ اگست 1948ء کو دیا۔ محترم حسین حقانی صاحب نےا پنی وضاحت(جنگ 20نومبر) میں لکھا ہے کہ قائداعظمؒ نے اپنی رہائش گاہ برائے فروخت امریکی سفیر کو پیش کی اور پھر کہتے ہیں کہ وہ ریٹائرڈ ہو کر بمبئی میں رہنا چاہتے تھے۔ تضاد واضح ہے کیونکہ اگر وہ بمبئی میں مستقل رہائش رکھنا چاہتے تھے تو انہوں نے اس گھر کو فروخت کرنے کی پیشکش کیوں کی؟ اور گھر بھی وہ جس سے قائداعظمؒ کو بے پناہ جذباتی لگائو تھا اور جس کی تعمیر انہوں نے بڑی چاہت اور محبت سے کروائی تھی۔ اس معاملے کے شواہد قائد اعظم پیپرز میں موجود ہیں جو ریسرچ سکالرز کے لئے سب سے بڑا اور معتبر خزانہ معلومات ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے ایک لابی قائد ا عظمؒ کے اس خط کو خوب اچھالتی رہی ہے اور قائد اعظم ؒ کی ذات بارے شکوک پیدا کرتی رہی ہے اگر اس خط کو قائد ا عظم کی زندگی بھر کی جدوجہد اور ان کی تقاریر و بیانات کے تناظر سے الگ کرکے پیش کیا جائے تو ’’مطلب براری‘‘میں سہولت رہتی ہے۔
اول تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قائد اعظم جون 1948ء سے بہت زیادہ علیل تھے، ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے، انہیں جان لیوا مرض اور اس کی شدت کا احساس ہوچکا تھا اور اس عرصے میں اپنی وفات گیارہ ستمبر1948ء تک وہ زیادہ تر کوئٹہ اور زیارت میں آرام فرماتے رہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب انسان عالم تنہائی میں بستر مرگ پر پڑا ہو تو اسے یاد ماضی بھی گھیر لیتی ہے اور پرانی محبتیں بھی شدت سے ستانے لگتی ہیں۔ دوسری بات یہ ذہن میں رکھیں کہ قائد اعظم کو بمبئی سے پیار تھا، بمبئی کے لوگوں نے مسٹر جناح کو جو’’عزتیں اور محبتیں‘‘ دی تھیں وہ کسی اور کا نصیب نہ بن سکیں۔ قائد اعظم نے اپنی ز ندگی کے بہترین سال بمبئی میں گزارے تھے جہاں عوام نے جوش محبت و عقیدت سے ان کی یادگار بھی تعمیر کردی تھی۔ ایسے جذباتی لگائو والے شہر میں کبھی کبھار جانا اور رہنا ایک انسانی خواہش تھی۔
یہ قائداعظمؒ کا اسی طرح کا خواب تھا جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔ ایک بات واضح کردوں کہ میں نے قائد اعظم کے خطوط اور دوسرا مواد کھنگالا ہے اور مجھے کہیں اس گمان کے شواہد نہیں ملے کہ وہ مستقل طور پر بمبئی شفٹ ہونا چاہتے تھے۔ دنیا ان کی ذہانت، قابلیت، منطقی فکر اور راست گوئی کو خراج تحسین ادا کرتی ہے۔ میری سمجھ سے یہ خیال بالا تر ہے کہ قائد اعظمؒ جیسا عظیم شخص جو بانی پاکستان تھا، نوزائیدہ مملکت کا گورنر جنرل تھا، اس نے مرتے دم تک اس عہدے پر متمکن رہنا تھا اور جس سے پاکستانی عوام شدید محبت اور عقیدت رکھتے تھے اور جس سے عوام و حکومت ہر معاملے میں رہنمائی مانگتے تھے وہ شخص اس ملک کو مستقل طور پر چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلا جاتا۔
قائد اعظم اور ہندوستانی ہائی کمشنر کے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ہائی کمشنر نے چودہ مئی1948ء کو قائد اعظم سے ملاقات کی اور حکومت ہند کی جانب سے ان کے گھر کوRequisitionکرنے کی اجازت چاہی کیونکہ حکومت اس گھر کو کسی غیرملکی قونصلیٹ کو الاٹ کرنا چاہتی تھی۔ قائد اعظم کا خیال تھا کہ گھر نہایت نفیس ہے اور یورپین طرز کا ہے ا س لئے اسے کسی ایسے شخص کو الاٹ کیا جائے جو اس کی نگہداشت کرسکے۔ ہندوستانی ہائی کمشنر کے بقول قائد اعظم نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جب حالات ٹھیک ہوجائیں تو وہ کسی روز وہاں جانا چاہئیں گے۔
اس خواہش کے پیش نظر یہ تجویز دی گئی کہ گھر کرائے پر دیتے ہوئے اس میں ضرورت پڑنے پر خالی کرنے کی شرط بھی شامل ہوگی۔16اگست1947ء کو قائد اعظمؒ نے اپنے جواب میں لکھا کہ حکومت ہند بے شک گھر کسی قونصلیٹ کو دے دے اگرچہ میری ترجیح امریکن قونصلیٹ ہے جو گھر کی بہتر نگہداشت کرسکیں گے۔
میں نے اس خط و کتابت کو اپنے سیاسی تناظر میں غور سے پڑھا ہے اور میری رائے میں اس سے کہیں بھی یہ عندیہ نہیں ملتا کہ قائد اعظم مستقل طور پر بمبئی شفٹ ہونا چاہتے تھے۔ اس خط سے صرف پانچ ماہ قبل جب قائد اعظم 21مارچ میں ڈھاکہ گئے تو انہوں نے طیارے میں فیول لینے کے لئے بھی ہندوستانی زمین پر اترنے سے انکار کردیا تھا اور اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال لیا تھا۔ گویا وہ سرکاری حیثیت میں ہندوستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنا چاہتے تھے لیکن ریٹائر ہو کر ذاتی حیثیت میں بمبئی وزٹ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور اپنے پرانے گھر میں رہ کر ماضی کی یادوں کو تازہ کرنا چاہتے تھے بشرطیکہ حالات ٹھیک ہوجائیں ۔اس سے اگر کوئی یہ نتیجہ نکالے کہ وہ پاکستان کو عارضی سمجھتے تھے تو اسے قائد اعظم ؒ پر بہتان سمجھنا چاہئے۔
اور ہاں مجھے یاد آیا14دسمبر1947ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا آخری اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک مسلم لیگ پاکستان کے لئے دوسری بھارت کے لئے بطور صدر مسلم لیگ قائد اعظم نے اس میں آخری دفعہ شرکت کی۔ اجلاس میں جمال میاں فرنگی نے تقریر کرتے ہوئے بھیگی پلکوں کے ساتھ کہا’’قائد اعظم ؒ ہم ہندوستان میں بے یارو مددگار رہ گئے ہیں، آپ وہاں آئیں ا ور ہماری قیادت فرمائیں‘‘۔قائد ا عظم کا جواب تھا’’مسلم لیگ نے مجھے گورنر جنرل منتخب کیا ہے تاکہ میں ملک کو بحران سے نکالوں اگر کونسل یہ فیصلہ کرے تو میں مستعفی ہو کر نتائج کی پرواہ کئے بغیر ہندوستان جانے کو تیار ہوں لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کب تک میری قیادت پر بھروسہ کئے بیٹھے رہیں گے؟ اگر میں مرجائوں تو آپ کیا کریں گے‘‘(بحوالہ مسلم لیگ کا دور حکومت از ڈاکٹر صفدر محمود صفحہ42) انسان بہرحال فانی ہے اور دنیا مقام فناء ہے۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں اور ملک قائم رہتے ہیں۔ نہ ہندوستان گاندھی نہرو کی وفات سے ختم ہوا اور نہ پاکستان قائد اعظم کی وفات سے۔ قائد اعظم نے مذکورہ خط سولہ اگست1948ء کو لکھا اور اپنے تمام خوابوں سمیت پچیس دن بعد گیارہ ستمبر کو جہان فانی سے رخصت ہوگئے کہ مٹی سے پیدا ہونے والا انسان بالآخر مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے
 

ابن عادل

محفلین
آپ نے یہ بات کردی اس کے بعد کیا بات رہ جاتی ہے ۔ مغرب کو ایک طرف رکھ کر آپ گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کے اعتراضات کے جوابات دے سکتا ہوں ۔ بصورتِ دیگر ایک مخصوص سوچ کیساتھ ( چاہے میری ہو ) بحث میں الجھنا میرا خیال ہے کہ وقت کا ضیاع ہوگا ۔
میں معذرت خواہ ہوں کہ مجھ میں بحث کرنے کی ہمت ہے نہ وقت ۔ بات صرف اعتراضات کی نہیں تضادات کی بھی تھی ۔ اور اگر آپ کے خیال میں آپ کی مذکورہ بالا بات میری تمام معروضات کےحوالے سے کافی ہے تو فبہا ۔
 
بہت سیر حاصل گفتگو اور انداز بھی مہذبانہ ۔
اللہ ہمیں یوں ہی ایک دوسرے کو علم سکھانے اور راہ دکھانے کا سبب بنائے رکھے اور شمع سے شمع جلائے رکھے ۔۔ آمین۔
 

ظفری

لائبریرین
میں اس پوری تحریر کو سمجھ نہیں پایا ۔ یہاں کئی بات حیران کن ہیں ۔ نہایت تعجب انگیز!!!!! ۔
میری لیئے یہ سطر اور بھی حیران کُن اور تعجب خیز ہے ۔
مثلا یہ بات حیرت انگیز ہے کہ دوقومی نظریہ حصول مقصد کے لیے تھا اور اب ہمیں اس کی تشکیل نو کرنی ہوگی ۔ گویا دوسرے الفاظ میں اس وقت حصول مقصد کے لیے جو راہ اختیار کی گئی وہ ٹھیک تھی لیکن اب وہ روایت فرسودہ ہے لہذا اس سے دامن چھڑایا جائے اور جو امانت ہمیں ملی نہایت قربانیوں کے بعد جسے کسی خاص مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور ہمیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے وہ دی گئی المیہ یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو اپنی منشاء کے مطابق نہ پاکر اس مقصد کو اپنی منشاء کے مطابق ڈھال لیں ۔
اس میں آپ نے کوئی استدلال پیش نہیں کیا۔ صرف ایک حجت اختیار کی ہے ۔ لیکن میرا پھر بھی ایک سوال ہے کہ جسے ہم دو قومی نظریہ کہتے ہیں ۔ وہ اصل میں کیا تھا ۔ کیا اس نظریہ کی بنیاد اس میں پنہاں نہیں تھی کہ ہندو اور مسلمان دو جدا قومیں ہیں ۔ اس بنیاد پر یہ حصول مدِ نظر رکھا گیا کہ مسلمانوں کے لیئے ایک نیا وطن ہونا چاہیئے ۔ علامہ اقبال کا اس پر شاندار خطاب تاریخ کے صفحات پر موجود ہے ۔ یہ نظریہ اس وقت کی جہت کو سامنے رکھ کر سمجھ تو آتا ہے مگر بعد میں یہ کیسے ایک روایت بن گیا ۔ یعنی پاکستان میں اب بھی دو قومی نظریہ لاگو ہوسکتا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ثابت کریں کہ اس کا اطلاق کیسے آپ ایک مسلم قوم پر کریں گے ۔ ؟
دوسری بات جس پر ہم حیران ہیں کہ دوقومی نظریہ اقلیتی سوچ کی پیداوار ہے ۔ لہذا اس کا مطالبہ اقلیتوں کی طرف سے ہی ہوگا ۔ اس انداز فکر پر ہم کیا کہیں ! گویا پاکستان میں جئے سندھ ، بلوچ آزادی تحریک ، جناح پور تحریک اور دیگر اس قسم کی سوچ کے حامل لوگ نظریہ پاکستان کے علمبردار ہیں ؟؟؟ اور اگر اقلیت آپ کے خیال میں عیسائی ،یہودی اور ہندومذہب کے ماننے والوں کا نام ہے تو ان کی طرف سے یہ مطالبہ چہ معنی دارد ؟؟؟
اس اقتباس کی پہلی سطر ظاہر کر رہی ہے آپ نے اس نظریے کو اپنے سوچ کے مطابق اقلیتوں سےنتھی کردیا ۔ میرا خیال ہے آپ نے میرا پورا مراسلہ " غور "سے پڑھا نہیں ہے ۔ جو بھی اعتراضات آپ نے اٹھائے ہیں ۔ وہ کسی بھی پہلو سے میری کسی بات کا احاطہ کرتے نظر نہیں آرہے ۔آپ جب بھی " دو قومی نظریہ " ( میں نے دو قوم کہا ہے ) کے حوالے سے بات کریں گے ۔ تو ان تین لفظو ں میں واضح تاثر موجود ہے کہ دو مختلف قوموں کی بات ہو رہی ہے ۔ لہذا جب آپ اس دو قومی نظریہ کو کسی تحریک کا محرک بنائیں گے تو دوسری قوم کہاں سے لائیں گے ۔ میرا خیال ہے " دو قومی نظریہ " کوئی اتنی بھی ثقیل اردو نہیں ہے کہ اس کو سمجھنے میں کسی دشواری کا سامنا ہو ۔ اور اندازِ فکر کے جملے لیکر آخری سوالیہ نشانات تک واقعی میں یہ کہنے پر مجبو رہوں کہ یہ تقریباً تمام باتیں ہی حیران کن اور تعجب خیز ہیں کہ دو قومی نظریئے سے آپ نے نظریہ پاکستان کی طرف چھلانگ لگادی ۔ آپ کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ آپ نے کیا بات شروع کی تھی اور کہاں ختم کردی ۔
تیسری بات جو باعث تعجب ہے وہ ہے نظریہ اور ریاست ہے ۔ یہ بیسویں صدی کا نظریہ ہے ۔ یا للعجب !!! صاحب تحریر نے اپنی اس بات کو خود محسوس کیا اور سوال بھی اٹھایا کہ پھر احکامات (بالخصوص فوجداری احکامات ) کا کیا ہوگا ؟ لیکن وہ خود اس کا تسلی بخش جوا ب نہ دے پائے ۔مثلا انہوں نے فرمایا کہ آپ ٖ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم معاشرہ تشکیل دیا ۔ گویا مسلم معاشرہ حکومت کے بغیر کسی چیز کا نام تھا جو انسانیت کی بنیاد پر چل رہا تھا ۔ یہ انتہائی عجیب وغریب منطق ہے ۔
پھر یہ کہنا کہ ''ریاست کو کلمہ پڑھانے بات کبھی نہیں کی گئی''۔جہاں ریاست کی تخلیق ،تشکیل اور ترویج ہی حالت اسلام یعنی کلمہ گو حالت میں ہوئی ہو وہاں یہ بات بے محل ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والے شخص سے کہے کہ چونکہ اس نے کسی سے کلمہ نہیں پڑھا لہذا یہ کلمہ گو نہیں ۔
میرا خیال ہے آپ کو میرا پورا مراسلہ ایک بار پڑھنے کی ضرورت ہے ۔
پہلے نظریہ اور ریاست کا آپس میں باہمی تعلق بیسویں صدی سے پہلے ثابت کریں ۔ دوئم مسلم معاشرے تشکیل دینے سے مراد یہ ہے کہ جب ایک ریاست میں ننانوے فیصد مسلم بستے ہوں ۔ تو وہاں آپ قسم کس قسم کی ریاست تخلیق کرنے کے لیئے اقدام اٹھائیں گے ۔ یعنی مجھے تو یہ منطق ہی سمجھ نہیں آئی کہ ایک مسلمان معاشرے کو آپ اسلامی ریاست کیسے بنا سکتے ہیں ۔ یعنی ایک ریاست میں ایک حکومت ہے اور وہاں ایک شوری یا پارلیمنٹ ہے ۔ اس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے تو وہاں آپ اسلام سے متصادم کیا کام کریں گے ۔ظاہر ہے پارلیمنٹ وہی قوانین اور اصول مرتب کرے گی ۔ جو شریعت کے مطابق ہونگے۔ یعنی آپ اس سے ہٹ کر کوئی اور طریقہ اسلام کےنفاذ کے لیئے اختیار کریں گے تو وہ کیا ہوگا ۔ ظاہر ہے پارلیمنٹ موجود ننانوے فیصد مسلمانوں کو پھر سے تو کلمہ نہیں پڑھائے گے ۔ میں نے اس ضمن میں ریاست کو کلمہ پڑھانے کی بات کی تھی ۔ آپ نے تو میرے پورے مراسلے کو تہہ نہس کردیا ۔ یعنی کسی بھی استدلال کو کہیں بھی صحیح طور پر سمجھا نہیں ۔

معافی چاہتا ہوں ۔ باقی اعتراضات کی نوعیت بھی بلکل یہی ہے کہ اس کو کلی طور پر صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا ۔ شاید اس کی وجہ میری امریکہ میں رہائش اور امریکی جھنڈا ہے ۔ اسی لیے میں نے مغرب کو ایک طرف رکھ کر بحث میں حصہ لینے کی درخواست کی تھی ۔
 
Top