پروین شاکر ::::: بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا ::::: Parveen Shakir

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 29, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزلِ
    [​IMG]
    بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا
    اِس زخم کو ہم نے کبھی سِلتے نہیں دیکھا

    اِک بار جسے چاٹ گئی دُھوپ کی خواہش
    پھر شاخ پہ اُس پھول کو کِھلتے نہیں دیکھا

    یک لخت گِرا ہے، تو جڑیں تک نِکل آئیں
    جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

    کانٹوں میں گِھرے پُھول کو چُوم آئے گی، لیکن
    تِتلی کے پَروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

    کِس طرح مِری رُوح ہری کر گیا آخر
    وہ زہر جسے، جسم میں کِھلتے نہیں دیکھا

    پروین شاکر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. Zubair Hashmi

    Zubair Hashmi محفلین

    مراسلے:
    16
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    شاندار
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    عمدہ جناب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت نوازش جناب !
    :)
     

اس صفحے کی تشہیر