بوتل

حسن داور سراج نے 'پسندیدہ مزاحیہ تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2017

  1. حسن داور سراج

    حسن داور سراج محفلین

    مراسلے:
    139
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مشترکہ کاروبار تو شاید چل سکتا ہو ، مشترکہ فریج سراسر خسارے کا سودا ہے
    اب دیکھو ناں !!! ملک صاحب بوہری بازار کی سب سے مہنگی پلاسٹک کی دکان سے …. ایک انتہائ کنجوس میمن سے لڑ بھڑ کر ….. 65 روپے کی پلاسٹک بوتل 60 روپے میں خرید لائے
    بلڈنگ کی پہلی منزل پر نصب ڈسپنسر سے اس میں فلٹر واٹر بھرا اور فریج میں لا کر رکھ دی
    اگلے روز بوتل غائب تھی
    ملک صاحب کو پہلا شک عنایت مسیح پر ہوا مگر لجپالی کی کالی چادر اوڑھ کر پھر صدر چلے گئے- نئ بوتل خریدی ، پھر 60 روپے کا ڈالر برانڈ کَٹ والا کالا مارکر خرید کر بوتل پر جلّی حروف میں لکھا
    ملکیّت از ملک ممتاز صاحب آف چوُہا سیّدن شاہ – چکوال
    تین چار روز کے بعد رات گئے پانی پینے اٹھے تو بوتل پھر غائب تھی- ایک سراغ رساں نے بتایا کہ رانڑاں صاحب کے مہمان آئے تھے ، ان کے ہاتھ میں دیکھی گئ ہے
    رانڑاں صاحب سے پوچھا تو بولے
    ھم لائے ضرور تھے …. مگر واپس رکھ دی تھی
    پر کِتّھے ؟؟؟
    ملک صاحب پھر …. پھر ….پھر صدر گئے- نئ بوتل خریدی- پھر امپریس مارکیٹ سے 10 روپے کا پیلا اے فور سائز کاغذ لیا- ریگل سے 80 روپے کی ٹرانسپیرنٹ ٹیپ لی اور بوتل پر سربمہر یہ کتبہ لکھا
    یہ بوتل ملک ممتاز صاحب آف چوُہا سیّدن شاہ چکوال کی ملکیّت ہے- حامل ھذہ کی اجازت کے بغیر اس بھانڈے کو ہاتھ یا مونہہ لگانا سختی سے منع ہے
    ملک صاحب کے بقول یہ بوتل ہفتہ بھر چلی پھر چلتے چلتے جانے کہاں نکل گئ- سلامت مسیح کا اقبالی بیان ہے کہ آخری بار قادری صاحب کو اس سے وضو فرماتے دیکھا گیا – کیونکہ بلڈنگ میں اس روز پانی نہیں آ رہا تھا
    اللہ اکبر
    ملک صاحب قادری صاحب کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکے ہیں- مگر مشکل یہ ہے کہ ملزم پرانی سبزی منڈی جا کر چھُپ گیا ہے- تبلیغی سفر سے سوموار کو واپسی ہے
    ان کا نمبر بھی بند مل رہا ہے
    اس وقت ملک صاحب تین چار آپشنز پر غور فرما رہے ہیں
    ہر روز بلڈنگ کی 40 سیڑھیاں اتر کر ڈسپنسر کی ٹُوٹی سے ” بُک” میں پانی پیا جائے
    گراؤنڈ فلور پر رہائش کی درخواست محکمہ متعلقہ کے گوش گزار کی جائے
    نئ بوتل خرید کر اس پر جلّی حروف میں ” سلامت مسیح” لکھ کر فریج میں رکھ دی جائے

    آپ کا کیا مشورہ ہے ؟؟



    ازقلم … ظفر اقبال محمّد
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    2,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    سیدھا سیدھا لکھ دو۔۔۔
    سلامت مسیح کا صفائی کا پانی۔۔۔
    پھر کوئی منہ نہ لگائے گا!!!
     
  3. عثمان قادر

    عثمان قادر محفلین

    مراسلے:
    662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    پھر بھلے سلامت مسیح ہی بوتل کو منہ لگاتا پھرے ۔۔۔ اپنی سمجھ کر
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    2,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    مسیح کو تو پتا ہے کہ میری نہیں ہے۔۔۔
    وہ بھی سوچتا ہوگا کہ پتا نہیں کیسا پانی ہے!!!
     
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی مدیر

    مراسلے:
    11,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہو سکتا ہے کہ پچھلی بوتلیں بھی سلامت مسیح کے پاس ہوں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اگر یہ "وقوعہ" انڈیا میں ہوتا تو شاید پھر بوتل کے اوپر سلامت علی لکھا ہوتا! :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
    • متفق متفق × 2
  7. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    2,317
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cool
    یہ انڈیا والا لطیفہ اس انڈین کے سمجھ میں نہیں آیا :talktohand:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  8. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    پاکستان میں بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کھانے پینے میں اچھوت اچھات کا مسئلہ ہے، مثال کے طور پر اگر مسیحی مسلمانوں کے کسی برتن کو ہاتھ بھی لگا لیں تو وہ ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہندو بھی دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ یہی کچھ کرتے ہیں بلکہ جہاں تک میرے علم میں ہے وہ نہ صرف دوسرے مذاہب بلکہ اپنے ہی مذہب کی چھوٹی ذاتوں والے کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

    اوپر والے لطیفے نما کثیفے میں یہ کہانی چل رہی ہے کہ کسی صاحب کی پانی والی بوتل چوری ہو جاتی تھی سو ان کو مشورہ دیا گیا کہ بوتل کے اوپر لکھ دو کہ یہ بوتل سلامت "مسیح" کی ہے پھر کوئی اُس کو ہاتھ لگانے کا بھی نہیں سوچے گا۔ اسی طرح اگر ہندوستان میں اگر کسی ہندو کی بوتل چوری ہو رہی ہوتی تو اس کو بھی شاید یہی مشورہ دیا جاتا لیکن نام کا صرف ایک حصہ بدل جاتا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  9. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی مدیر

    مراسلے:
    11,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ہمارے گھر مسیحی خاتون برتن دھوتی ہے۔ اور اب یہ ناپاک سمجھنے والا رجحان کم ہو رہا ہے۔
    لیکن یہاں وہی کہانی چل رہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کہنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اس خود ساختہ لطیفے میں ایک طرح سے اقلیتوں کی دل آزاری ہے اور لکھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریتی ملک میں وہ اقلیتوں کی دل آزاری کر سکتے ہیں تو ان کو سوچنا چاہیئے کہ ان کے ہم مذہب بہت سے ملکوں میں خود اقلیت میں ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3
  11. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میرے کالج کے ایف ایس سی کے دن تھے، ایک پروفیسر صاحب کے ہاں کمیسٹری پڑھنے جاتا تھا وہیں گھر میں انہوں نے پریکٹیکلز کے لیے ایک لیب بھی بنا رکھی تھی، اس لیب کا ہیلپر ایک مسیحی تھا، بیچارے کے چائے کے برتن اور پانی کا گلاس سب علیحدہ تھے، ایک دن انہی پروفیسر صاحب سے ملنے کالج کے نائب پرنسپل صاحب آئے وہ بھی مسیحی تھے ان کے لیے اعلیٰ قسم کی کراکری نکالی گئی، چلے گئے تو وہ پروفیسر صاحب خود ہی اپنی بیوی کے "ڈبل سٹینڈرڈ" پر دیر تک گفتگو فرماتے رہے!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • غمناک غمناک × 2
  12. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    2,317
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cool
    اب یہ چیز بہت کم رہ گئی ہے، ہم لوگ پانی کی بوتل ہی نہیں ٹفن بھی شئیر کر کے کھاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اچھی بات ہے، پاکستان میں بھی یہ رجحان کم ہو رہا ہے، میں بھی کئی سال بلکہ دہائیاں قبل اپنے کالج کے مسیحی دوستوں کے ساتھ اسی طرح کھاتا پیتا تھا لیکن افسوس ابھی بھی یہ رجحان باقی ہے۔ میں نے کچھ ماہ قبل اپنے کچھ دفتری کولیگز کی شکایت سنی کہ میس کے برتنوں کو مسیحی کیوں ہاتھ لگاتے ہیں!

    ویسے اس کہانی کا لب لباب یہی تھا اور میں نے بھی اسی تناظر میں بات کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  14. عثمان قادر

    عثمان قادر محفلین

    مراسلے:
    662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    مطلب جو پہلے اٹھاتا رہا اس کو نہیں پتا تھا کہ یہ بوتل اس کی نہیں؟؟
     
  15. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    2,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    نام مسیح لکھا ہے اور بوتل مسیح کی نہیں ہے۔۔۔
    اب لازماً اس کو شک ہوگا کہ یہ پانی میں نے نہیں بھرا ۔۔۔
    نجانے کیسا پانی ہے۔۔۔
    بس یہی سوچ کر منہ نہیں لگائے گا۔۔۔
    ویسے آپ سلامت مسیح کے وکیل صفائی تو نہیں ہیں نا!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  16. عثمان قادر

    عثمان قادر محفلین

    مراسلے:
    662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    نہیں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ "چور" پکڑا جائے۔۔۔۔۔
    ویسے اگر بوتل پر سلامت مسیح لکھا ہو گا تو وہ سمجھے گا شاید یہ بوتل کسی نہایت ہی خدا ترس بندے نے میرے لیے رکھی ہے ۔۔۔۔۔
    اللہ سب کی بوتلوں کی حفاظت فرمائے آمین
     
  17. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    2,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    لیکن جب دوسرا جملہ دیکھے گا۔۔۔
    صفائی کا پانی تو۔۔۔
    ٹھٹک جائے گا۔۔۔
    کہ پتا نہیں کیسا پانی ہے!!!
     
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    چھوڑیں ساری باتیں، اوپر لکھ دیں "صفائی کا کڑوا پانی"۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    2,699
    جھنڈا:
    Pakistan
    اگر ایسا ہی کچھ لکھنا ہے تو یہ لکھ دیں۔۔۔
    صفائی کا تیزاب!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    20,221
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ حشو میں شمار ہوگا، یعنی "صفائی کا"، ایسی صورت میں خالی تیزاب ہی لکھ دیں تو کافی ہے!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2

اس صفحے کی تشہیر