بظاہر یہ جو تصویرِ جہاں معلوم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ پروفیسر انور جمیل

محمد مسلم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 27, 2011

  1. محمد مسلم

    محمد مسلم محفلین

    مراسلے:
    222
    غزل
    بظاہر یہ جو تصویر جہاں معلوم ہوتی ہے
    مرے اعمال ہی کی ترجماں معلوم ہوتی ہے
    سنائی ہے جو رودادِ قفس تو نے مجھے ہمدم
    ارے یہ تو مری ہی داستاں معلوم ہوتی ہے
    قدم اٹھنے لگے ہیں خود بخود اب جانبِ مقتل
    محبت آج کچھ کچھ مہربان معلوم ہوتی ہے
    وصالِ یار کا پھر سے یہ کس نے تذکرہ چھیڑا
    شہادت کی تمنا پھر جواں معلوم ہوتی ہے
    وضو کرلو لہو سے گر نمازِ عشق پڑھنی ہے
    گنہگارو! مجاہد کی اذاں معلوم ہوتی ہے
    پس دیوارِ زنداں درد سے کس نے پکارا ہے؟
    کسی بسمل کی یہ شیریں زباں معلوم ہوتی ہے
    بچھڑنا قافلے سے تو ہلاکت ہے مسافر کی
    اٹھو انورؔ صدائے کارواں معلوم ہوتی ہے ۔

    شاعر: پروفیسر انور جمیل
    گورنمنٹ ڈگری کالج چشتیاں
     

اس صفحے کی تشہیر