حسرت موہانی بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس ۔ حسرت موہانی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 12, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس
    اب ہوں میں اور بے دلی کی ہوس

    کہ رہے دل نہ بے قراریِ دل
    عاشقی ہو نہ عاشقی کی ہوس

    وہ ستمگر بھی ہے عجیب کوئی
    کیوں ہوئی دل کو پھر اسی کی ہوس

    پھرتی رہتی ہے آدمی کو لئے
    خوار دنیا میں آدمی کی ہوس

    دونوں یکساں ہیں بے خودی میں ہمیں
    فکرِ غم ہے نہ خمریِ کی ہوس

    واقفِ لذّتِ جنوں جو ہوا
    نہ رہی اس کو آگہی کی ہوس

    ان کو دیکھا ہے جب سے گرمِ عتاب
    آرزو کو ہے خود کشی کی ہوس

    کر سکیں بھی تو ہم فقیر ترے
    نہ کریں تاجِ خسرویِ کی ہوس

    ہجرِ ساقی کے دور میں حسرت
    اب نہ مے ہے نہ مے کشی کی ہوس

    (مولانا حسرت موہانی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,328
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    شکریہ سخنور۔ اس شعر کا دوسرا مصرع سمجھ نہیں آیا۔ خمری کیا چیز ہے؟
    دونوں یکساں ہیں بے خودی میں ہمیں
    فکرِ غم ہے نہ خمریِ کی ہوس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    خمری ۔ خرما کی ایک قسم جس سے عمدہ شراب تیار ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب جناب سخنور صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر