برائے اصلاح: ہائے! کیا رنگ تھے ستمگر کے

عاطف ملک

محفلین
استادِ محترم الف عین ،دیگر اساتذہ اور محفلین کی خدمت میں اصلاح و تنقید کیلیے پیش ہے:

ہائے! کیا رنگ تھے ستمگر کے
خوئےِ عقرب تھی، طور اژدر کے

عینِ فطرت تھا آتشِ سیال
اور بدن پر غلاف مرمر کے

مجھ کو نہلا گئے لہو میں مرے
وہ جو بھیدی تھے میرے ہی گھر کے

پشت سے میری پونچھ لو، یارو!
اشکِ پُر خون چشمِ خنجر کے

موجِ وحشت کی رہ میں آن پڑا
ہائے پھوٹے نصیب پتھر کے

بن گیا ہوں میں تیرا آئینہ
دیکھ لے اب تو اک نظر بھر کے

چشمِ پر شوق وا دمِ آخر
کون جانے حجاب کب سرکے

قلبِ بسمل کے خوں چکاں ریشے
منتظر اب بھی دیدِ نشتر کے

داغ جن کے ہیں قلبِ عاطف پر
سنگ ہیں وہ جناب کے در کے
 

عاطف ملک

محفلین
باقی تو ٹھیک لگ رہی ہے غزل، لیکن مرمر کے غلاف سمجھ میں نہیں آئے!!
استادِ محترم،
کہنا تو یہ چاہ رہا تھا کہ "وہ" اپنی اصل میں گرم دہکتا لاوا ہے لیکن اوپر "مر مر" کی تہیں چڑھائے ہوئے ہے۔
مرمر سے خوبصورتی اور ٹھنڈک کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے :-(
خوبصورت غزل۔ داد قبول فرمائیے۔

ہماری صلاح
بہتر روانی کے لیے
موجِ وحشت کی راہ میں آیا​
کرسکتے ہیں
بہت شکریہ استادِ محترم!
دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔میرا خیال یہ ہے کہ اپنی مرضی کے برخلاف راہ میں آن پڑا۔۔۔۔۔راہ میں آیا سے شاید مرضی کا عنصر شامل ہو جائے گا :)
اتنی مختصر مدت میں گریٹ ٹرانسفارمیشن . ویری ویل ڈن ...
:battingeyelashes:
ہر رنگ میں لاجواب ہو عاطف میاں۔سلامت رہیں بھیا۔
بہت شکریہ عدنان بھائی :redheart::redheart::redheart:
 
مجھ کو نہلا گئے لہو میں مرے
وہ جو بھیدی تھے میرے ہی گھر کے
بہت خوب۔۔۔اس پہ مجھے ایک پنجابی شعر یاد آگیا۔۔
تیرے نال محبتاں کادیاں تیرے نال ہے کادی جنگ،
سانوں باہر کسے نہیں چھیڑیا سانوں اندروں وجے ڈھنگ۔۔
 
بہت خوب۔۔۔اس پہ مجھے ایک پنجابی شعر یاد آگیا۔۔
تیرے نال محبتاں کادیاں تیرے نال ہے کادی جنگ،
سانوں باہر کسے نہیں چھیڑیا سانوں اندروں وجے ڈھنگ۔۔
مجھے یہ لگتا ہے کہ مندرجہ بالا شعر اور
مجھ کو نہلا گئے لہو میں مرے
وہ جو بھیدی تھے میرے ہی گھر کے
ہم معنی نہیں ہیں۔
 
Top