برائے اصلاح : غزل ۔۔۔ الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ : از : محمد ذیشان نصر ؔ

متلاشی

محفلین
اپنی ایک اور تازہ غزل بغرض اصلاح پیش ہے ۔۔۔!​
الفت میں بھی ہم رکھتے ہیں معیار الگ​
اپنی چاہت کے ہیں سب افکار الگ​
اک شہرِ محبت ہے کوچۂِ دل میں​
ہیں خریدار الگ واں بازار الگ​
شایاں نہیں ہم کو یہ طور طریقے​
اظہارِ مودّت کے ہیں اقدار الگ​
انکارِ وفا کے بھی ہیں اور سلیقے​
اقرارِ محبت کے بھی اطوار الگ​
یوں تو چمن اور بھی ہیں دنیا میں مگر​
گلزارِ محبت کے ہیں انوار الگ​
ہیں زمانے میں حسیں گھر بار کئی پر​
کوچہ ِٔ جاناں کے درو دیوار الگ​
اہلِ محبت کی نہیں شان یہ ہرگز​
ہو گفتار الگ اور کردار الگ​
اندازِ بیاں گرچہ بہت خاص نہیں​
کہتے ہیں کہ ذیشاں کے ہیں اشعار الگ​
محمد ذیشان نصر​
 

الف عین

لائبریرین
کاپی پیسٹ کر لیا ہے، لیکن ذرا ایک بار تم ہی اس کی تقطیع کر کے دیکھ لو ذیشان۔ رباعی کی بحر ہی تم نے کیوں چنی، اس کی خاص وجہ۔ یا اگر کوئی اور بحر ہے، تو کچھ مصرع بحر سے خارج ہیں۔ اس غزل میں رباعی کی 24 بحروں میں سے کتنی استعمال میں آئی ہیں، یہ بھی وارث جیسے ماہر فن ہی کہہ سکتے ہیں۔ میں ٹھہرا جاہل آدمی۔
 

متلاشی

محفلین
کاپی پیسٹ کر لیا ہے، لیکن ذرا ایک بار تم ہی اس کی تقطیع کر کے دیکھ لو ذیشان۔ رباعی کی بحر ہی تم نے کیوں چنی، اس کی خاص وجہ۔ یا اگر کوئی اور بحر ہے، تو کچھ مصرع بحر سے خارج ہیں۔ اس غزل میں رباعی کی 24 بحروں میں سے کتنی استعمال میں آئی ہیں، یہ بھی وارث جیسے ماہر فن ہی کہہ سکتے ہیں۔ میں ٹھہرا جاہل آدمی۔
استاذ گرامی مجھے تو بحروں کا اتنا علم نہیں ۔۔۔!
بقول وارث صاحب !
’’ اسے عرفِ عام میں میر کی بحر ہندی کہا جاتا ہے اور سب سے موٹی نشانی اس کی یہ کہ کسی بھی سببِ خفیف کو سببِ ثقیل میں توڑا جا سکتا ہے۔‘‘

میں نے اسے جس طرح سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی فعلن کی بحر کے کسی بھی رکن کے سببِ خفیف کو سببِ ثقیل میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔۔! یعنی کسی بھی 2 کو 11 میں توڑا جا سکتا ہے ۔۔۔
اس لحاظ سے استاذ گرامی یہ بحر بنیادی طور پر فعلن کی پانچ رکنی بحر ہے مگر مختلف مصرعوں میں مختلف جگہ پر کسی سببِ خفیف کو سببِ ثقیل میں توڑا گیا ہے ۔۔۔ تقطیع یوں ہو گی ۔۔۔!

الفت ۔۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
میں بھی ہم فَعِلن ۔۔۔۔211
رکھتے ہیں ۔۔۔ فع فَ عِ۔۔۔ 112
معیا۔۔۔۔فعلن ۔۔۔ 22
رالگ ۔۔ فَعِلن ۔۔۔ 211

اپنی ۔۔۔ فعلن ۔۔۔ 22
چاہت ۔۔فعلن۔۔ 22
کے ہیں سب ۔۔ فَعِلن۔۔۔۔ 211
افکا۔۔۔ فعلن۔۔۔ 22
رالگ۔۔۔ فَعِلن ۔۔۔ 211

اور سارے مصرعے اسی طرح ہیں ۔۔۔!
 

الف عین

لائبریرین
دوسری جگہ ایک پیغام لکھا ہے، اسے تو دیکھ ہی لیا ہو گا۔ ایسی نا مانوس بحروں میں تجربات سے پرہیز کرو۔ خاص کر جب مطلع ہی کسی اور مانوس بحر میں تقطیع ہوتا ہو تو۔۔ یہاں رباعی کی بحر میں، تو پھر قاری کا دھیان محض اسی بحر میں جاتا ہے، جب تک کہ شاعر خود تقطیع نہ کرے۔ ہاں پہلا ہی مصرع اگر بغیر زحافات کے سیدھا میر کی بحروں میں آ جائے تو کسی کو یہ اشکال نہیں ہوتا۔ بہر حال میری غلطی کی نشان دہی کا شکریہ۔میں رجوع کرتا ہوں۔
 
آج اس لڑی سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ الف عین متلاشی یہ واضح ہو کہ بڑے استاد جی نے جو بات کہی وہ غلط نہیں بلکہ بالکل درست ہے۔ پہلا مصرع جو کہ رباعی کے وزن میں ہے۔ اور ذیشان بھائی نے جس طرح تقطیع فرمائی وہ بالکل غلط ہے۔ پہلا مصرع رباعی کے وزن میں ہے اور غزل کو رباعی کے اوزان میں ہی مکمل ہونا ضروری ہے۔
 
Top