بخل کی مذمت۔۔۔( سلسلہ وار)

یاسر شاہ

محفلین
السلام علیکم
بخل کی مذمت میں اپنا یا اوروں کا علمی و شگفتہ مواد یہاں پیش کیا جا سکتا ہے تا کہ اس مرض کا علمی علاج ہو سکے یہی علمی علاج بعد میں عملی علاج کی صورت بھی اختیار کر لے گا ان شاء الله- ظاہر ہے جب تک کسی جسمانی مرض کی خرابی اور نقصان کا علم نہ ہو گا عملی طور پر اس سے بچنا بھی محال ہے جیسے کینسر کا سب کو علم ہے کہ اتنا موذی ہے کہ جان لے کر ہی چھوڑتا ہے تو عملی طور پر بھی اس سے بچنے کے لیے جان لڑا دی جاتی ہے اسی طرح باطنی امراض کی بھی مضرت کی جانکاری رکھنا مفید ہے تاکہ ان سے بچا جا سکے -
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
تعریف

بخل کیا ہے ؟

بخل کی جامع اور مختصر تعریف یہی ہے کہ شرعاً ،عادتاً اور مروّتاً جہاں خرچ کرنا ضروری ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے-

صرف شرعی فرائض و واجبات پہ خرچ کر دینا بخل سے نجات کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ متبع سنّت لوگ عادت اور مروّت کا کس طرح لحاظ کرتے ہیں یہ بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے -

مثلا شرعاً عید الاضحی کے دن قربانی کرنا واجب ہے مگر گوشت غریبوں میں تقسیم کرنا شرعاً واجب نہیں -کوئی چاہے تو سارا گوشت ڈیپ فریزر میں رکھ کرخود بھی کھا سکتا ہے -مگر ظاہر سی بات ہے یہ حرکت مروّت اور سلیم الطبع لوگوں کی عادت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بخل کہلائے گی -

اسی طرح بیوی کا علاج معالجہ بھی نان نفقے میں داخل نہ ہونے کے سبب شوہر پہ لازم نہیں مگر بیوی کو بیماری میں مرتا چھوڑ دینا بھی مروّت کے خلاف ہے اور بخیلی ہے -جیسے ایک صوفی صاحب جب بیوی بیمار پڑتی اور تو کچھ نہ کرتے سرھانے بیٹھ کر دم کرنا شروع کر دیتے، ایک دن بیگم نے پوچھا کہ سرتاج یہ کیا کر رہے ہیں ،بولے کہ نیک بخت دم کر رہا ہوں ،پوچھا گیا کہ کیا پڑھ رہے ہیں ،بتایا گیا کہ سورہٴ فاتحہ -بیگم بولیں :"سرتاج یہ دم تو میں اپنے پرخود کر لیتی ہوں،آپ باہر سے دوائی اور تازہ پھل لے آئیے "
 

یاسر شاہ

محفلین
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشادفرماتے ہیں :

ترجمہ: ’’اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔‘‘ (پ۴، آل عمران: ۱۸۰)

ترجمہ : (اللہ کو ایسے لوگ پسند نہیں ہیں) جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی ہدایت کرتے ہیں، اور جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں۔النساء، ۳۷


ترجمہ:کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے ﴿۱۰۰﴾(سورہٴ اسرا )
 

یاسر شاہ

محفلین
حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : دوخصلتیں ایسی ہیں کہ وہ کسی مومن میں جمع نہیں ہوسکتیں ، ایک تو بخل دوسری بدخلقی ۔(ترمذی)

خلیفہ ء رسول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا : جنت میں نہ تو دھوکہ باز داخل ہوگا، نہ بخیل اورنہ صدقہ کرکے احسان جتانے والا۔ (ترمذی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : سخی انسان اللہ تعالیٰ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، انسانوں سے قریب ہے، (جبکہ)جہنم سے دورہے اوربخیل انسان اللہ کریم سے دور ہے ، جنت سے دورہے ، انسانوں سے دورہے اورجہنم سے قریب ہے ، بے شک جاہل سخی اللہ کے نزدیک عابد بخیل سے زیادہ محبوب ہے۔(سنن ترمذی )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادمبارک نقل کرتے ہیں : بدترین عادتیں جو کسی انسان میں ہوں وہ دوہیں ، ایک وہ بخل جو بے صبر کردینے والا ہے ، دوسرے وہ بزدلی ہے جو جان نکال دینے والی ہو۔ (ابودائود )

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا : وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھالے اورپاس ہی اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ (شعب الایمان ، مشکوٰۃ )

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ھادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے ، پس وہ شخص سخی ہوگا، وہ اس کی ایک ٹہنی پکڑلے گا، جس کے ذریعے سے وہ جنت میں داخل ہوجائے گا، اوربخل جہنم کاایک درخت ہے جو شخص بخیل ہوگا وہ اس کی ایک شاخ پکڑلے گا، یہاں تک کہ وہ ٹہنی اسے جہنم میں داخل کر کے ہی رہے گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام’ ’ سخا‘‘ ہے سخاوت اسی سے پیدا ہوتی ہے اور دوزخ میں ایک درخت ہے جس کا نام ’’شح‘‘ہے، شح (بخل )اسی سے پیدا ہوا ہے، اس لیے شحیح(بخیل )جنت میں نہیں جائے گا۔(شعب الایمان : بیہقی ، مشکوٰۃ ،کنزالعمال )
 

یاسر شاہ

محفلین
ایک مفید آرٹیکل سے کچھ اقتباسات

بخل کے معنی: کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ لینے، اس کا حریص بننے اور دوسروں سے روک رکھنے کے ہیں۔ اور بخل میں ’’امساک‘‘ (یعنی کسی چیز کو روک لینا) اور ’’منع‘‘ خرچ نہ کرنے، عطا نہ کرنے کی صفات پائی جاتی ہیں، مزید براں بخیل احسان سے رکنے والا شخص ہے۔
بخل معنی کے لحاظ سے کرم کا عکس ہے۔ کرم کے معنی میں عطیہ، سخاوت اور خرچ کرنا شامل ہے جبکہ بخل میں نہ صرف روکنا بلکہ خرچ کی جگہ پر روک لینا مراد ہیں۔
امام راغب اصفہانی کا قول ہے: ’’بخل ان چیزوں کو روک رکھنے کا نام ہے جسے روکنے کا آپ کو کوئی حق نہ ہو‘‘۔
---------------
بخل اورشحّ میں فرق: بخل ہی کی شدید صورت شحّ ہے، بخل انسان دوسروں کے معاملے میں کرتا ہے تو شحّ اپنوں کے معاملے میں بھی بخیلی اور حرص کا نام ہے، جو بخل سے شدید تر ہے، بلکہ خود بخل کی بھی اصل جڑ وہی ہے۔ اسی صفت کی وجہ سے آدمی دوسروں کا حق ماننا اور ادا کرنا تو در کنار، اس کی خوبی تک کا اعتراف کرنے سے جی چراتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ اسی کو مل جائے، اور کسی کو کچھ نہ ملے۔ دوسروں کو خود دینا تو کجا، کوئی دوسرا بھی اگر کسی کو کچھ دے تو اس کا دل دکھتا ہے۔ اس کی حرص کبھی اپنے حق پر قانع نہیں ہوتی، بلکہ وہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے، یا کم ازکم دل سے یہ چاہتا ہے کہ اس کے گرد و پیش جو چیز بھی اچھی ہے اسے اپنے لئے سمیٹ لے، اور کسی کے لئے کچھ نہ چھوڑے-
---------------
بخیل کی نگاہ محض دنیا کی ظاہری دولت پر ہوتی ہے اسی لئے وہ خرچ شدہ مال کو تلف شدہ سمجھتا ہے اور جمع شدہ کو عزت وشرف کی علامت۔ ایک کہاوت ہے کہ : بند مٹھی سے مصافحہ ممکن نہیں۔بخیل اپنے مال پر زندگی لگا دیتا ہے لیکن زندگی ختم ہوتے ہی مال اسے چھوڑ دیتا ہے۔بخیل کی مثال اس پیاسے اونٹ کی سی ہے جس کی پیٹھ پر پانی لدا ہو۔
خرچ کرنے والے سر آنکھوں پر اور بخیل ذلیل ہوتے ہیں، سب سے اچھا خرچ اس شخص پر ہے جسے اس کی توقع نہ ہو۔

بخیل کی بخیلی صرف مال تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایسا شخص اپنے تمام تصرفات میں بخل ہی برتتا ہے، محبت اور شفقت کے اظہار میں، مسکراہٹ بکھیرنے میں، تسلی وتشفی دینے میں، گویا بخیل دینے کے ہر عمل سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔عمر گزرنے کے ساتھ انسان کے بہت سے عیوب چھٹ جاتے ہیں لیکن بخل پہلے سے بڑھ کر جوان ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بھی بخیل کہا جو ان کا ذکر آنے پر درود نہیں بھیجتا۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’البخیل، من ذکرت عندہ فلم یصلّ علیّ‘‘۔ رواہ الترمذی
بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
بخل ایسا مرض ہے کہ وہ دینے کے ہر عمل پر کاٹ لگاتا ہے، اگرچہ وہ چند کلمات کے ذریعہ اظہارِ محبت ہی ہو۔
بخل کے بارے میں اسلام کی اتنی واضح ہدایات کا نتیجہ ہے کہ مسلمان امت بحیثیت قوم سب سے بڑھ کر فیاض اور فراخ دل ہیں۔
اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن، واعوذبک من العجز والکسل، واعوذبک من الجبن والبخل، واعوذبک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔
 

یاسر شاہ

محفلین
حکایت ١:"مر جائیں کسی دے نال کم نا آئیں "

امام ابن جوزی رح نے اپنی تصنیف "صید الخاطر " میں ایک کنجوس بڑھیا کی عجیب حکایت بیان کی ہے جوعبرت کے لیے کافی ہے ،مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک بڑھیا بستر مرگ پہ تھی -اس کی ملکیت میں دو تین سونے کے سکّے تھے - حد درجہ کنجوس اور مکھی چوس تھی لہٰذا سوچنے لگی کہ میں اگر مرگئی تو یہ دولت وارثوں کی ہو جائے گی کیوں نہ تینوں سکّے نگل جاؤں ،نہ ترکہ رہے گا نہ وراثت تقسیم ہو گی- ممکن ہے کہیں سے سن رکھا ہو:"مر جائیں کسی دے نال کم نا آئیں " -خیال آتے ہی چھپ چھپا کر تینوں سکّے نگل گئی -ممکن ہے کچھ دن اور جی جاتی، سکّوں کا نگلنا تھا کہ کچھ ہی دیر میں مر گئی -عزیز و اقارب نے رو دھو کر تجہیز و تدفین کر دی -کچھ دن گزرے جب غم ذرا ہلکا ہوا تو وارثوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں کہ بڑھیا کے سونے کے سکّے آخر گئے کدھر ؟ -ڈھونڈھ مچی لیکن سراغ ندارد -اسی تلاش بسیار میں سال گزر گیا ،ایک دن ایک نیک رشتے دار کو خواب میں اشارہ ہوا کہ قبر کھودی جائے -عمل کیا گیا ،عزیز و اقارب جمع ہوئے اور قبر کھودی گئی -دیکھتے کیا ہیں کہ بڑھیا کا کھال گوشت سب ختم ہوگیا ہے ایک ڈھانچہ ہے جس کے اندر سے تین سونے کے سکّے چمک رہے ہیں -
 

یاسر شاہ

محفلین
کنجوس کا ولیمہ

کنجوس کا ولیمہ تھا وہ دوستوں کے بیچ
پھر پھر کے پوچھتا تھا کسے پانی چاہیے ؟
تنگ آ کے ایک شوخ نے آخر یہ کہہ دیا
پانی گلے میں پھنس گیا بریانی چاہیے​
 

یاسر شاہ

محفلین
آپ کنجوس ہیں تو رہیے بھلے
پوت بھی مکھی چوس نکلیں گے

لطیفہ

ایک شخص نے اپنے کنجوس پڑوسی سے پوچھا :"ارے کیا ہو گیا ،اتنے لال پیلے کیوں ہو رہے ہو ؟"
کنجوس نے جواب دیا -"میرے چھوٹے بیٹے نے آج نیا جوتا پہنا تھا ،میں نے اس سے کہا تھا تھا کہ سیڑھی پر ایک کے بجائے دو قدم طے کر کے اوپر جانا تاکہ جوتے کا تلوا کم سے کم گھسے ،لیکن وہ کمبخت دو کی بجائے تین قدم چڑھنے لگا ،نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی پتلون پھٹ گئی -"
 

یاسر شاہ

محفلین
حکایت
ایک بخیل آدمی نے کہیں زمین میں خزانہ گاڑھ رکھا تھا ،روزانہ زمین کھود تا اورخزانہ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا - کسی چور نے بھانپ لیا، ایک دن وہ چپ چاپ آیا اور چھپ چھپا کر خزانہ اڑا لے گیا -اگلے دن جب کنجوس وہاں پہنچا اور زمین کھود کر دیکھا تو خزانہ ندارد -خوب رویا اور واویلا کیا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت - پڑوسی نے جب غم کی وجہ دریافت کی تو بخیل نے سارا ماجرا کہہ سنایا -پڑوسی بھی دانا تھا کہنے لگا دیکھو بھلے مانس !تم نے تو نہ خزانہ نکالنا تھا، نہ خرچ کرنا تھا تو غم کیسا؟،یہی فرض کر لو کہ خزانہ وہیں گڑھا ہوا پڑا ہے اور خوش رہو -
 

یاسر شاہ

محفلین
حکایت :بخل مانعِ نشر و اشاعتِ دین

ایک اللہ والے عالمِ ربانی کی مجالست میں ایک عالم کا واقعہ سنا کہ جو حضرت کے مرید بھی تھے۔کسی گاؤں کی مسجد میں حضرت نے انھیں دین کی نشر واشاعت کی ذمہ داری سونپی ہوئی تھی۔حضرت جب وہاں تشریف لے گئے تو لوگوں کا ہجوم امنڈ آیا ۔بہت سے لوگوں نے حضرت کا بیان سنا اور خوب فیض حاصل کیا۔حال احوال لینے پر انھیں یہ جان کر دکھ ہوا کہ عالم، جو کہ اسی مسجد کے امام بھی تھے،کے بیان میں دو تین لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھتا۔چنانچہ لوگوں سے معلوم کیا کہ کیا وجہ ہے ، اتنے بڑے مدرسے سے فارغ عالم سے دین کا فیض کیوں نہیں حاصل کرتے ، ایک دیہاتی بوجھ بجھکڑ یوں گویا ہوا کہ مولوی صاحب تقریر تو لمبی کرتے ہیں مگر ان کے پاس ایک میٹھے پانی کا کنواں ہے، اس کے پاس کسی کو پھٹکنے نہیں دیتے۔جب سب چلے گئے تو اللہ والے عالم ربانی نے امام صاحب سے استفسار کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے جس پہ انھوں نے عرض کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ تبلیغ اپنی جگہ کنواں اپنی جگہ۔حضرت نے انھیں سمجھاتے ہوئے فرمایا جس کا حاصل یہی تھا کہ اگر آپ اللہ جل شانہ کو دل میں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دل بڑا کیجیے۔یہ شعر بھی پڑھا :

يا مكن با پيل باناں دوستی
يا بنا كن خانه ای در خورد پيل !
[ سعدی ]
مطلب یا ہاتھی بان سے دوستی مت کرو یا گھر اتنا بڑا بناؤ کہ وہ ہاتھی سمیت اندر آسکے

اور یہ کہ دین کی نشر واشاعت انبیاء و اولیاء کے طریق پہ کرنی چاہیے ۔تمام انبیا کی یہ سنت رہی ہے کہ اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے ،اولیاء کا دستر خوان بھی عوام کے لیے وسیع ہوتا تھا اور عام لنگر چلتا تھا۔انھیں یہ حدیث بھی سنائی قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’المومن یالف و یولف ولا خیر فیمن لا یالف و خیرالناس انفعھم للناس
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت کی جاتی ہے ۔اور اس بندے میں کوئی بھلائی نہیں جو لوگوں سے الفت نہ رکھے اور لوگ اس سے الفت نہ رکھیں ۔۔۔۔اور لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع رساں ہو۔۔۔۔۔(صححہ البانی رحمہ اللہ ، وقال رواہ عن جابر بالصحۃ) جس پہ امام صاحب نے عرض کی کہ حضرت میں عالم ہوں اور عوام کو چاہیے کہ پہلے مجھ سے الفت کریں پھر میں ان سے کروں جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ بتائیے حدیث میں کیا ترتیب آئی ہے پہلے الفت کرنے کی تلقین ہے یا الفت کیے جانے کی ۔بولے الفت کرنے کی تب فرمایا بس یہی چاہیے کہ آپ سب کے لیے سراپا الفت بن جائیں۔
تبلیغ میں بھی جو لوگ اللہ والوں سے جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دل کشادہ رکھتے ہیں اور عوام کا اکرام کرتے ہیں ان سے عوام کو خوب دینی فیض پہنچتا ہے۔اوپر کے واقعے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جب عالم کو بھی کسی اللہ والے کی رہنمائی کی ضرورت ہے تو غیر عالم کو تو بدرجہ اتم اس استفادہ کی ضرورت ہے۔جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی ذات میں ہی انجمن ہیں تو یہی ہوتا ہے کہ انجمن موٹی ہوتی جاتی ہے اور ذات بے فیض رہتی ہے۔توندیں پھیلتی ہیں ,دین نہیں پھیلتا۔
 

یاسر شاہ

محفلین
حکایت:
اکثر المیوں سے لطیفے جنم لیتے ہیں۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ آدمی ہو تو کنجوس مگر شہرت چاہے سخیوں والی، چنانچہ لطیفہ یہ ہے ۔
ایک عزیز بتا رہے تھے کہ دیہات میں کسی متعلق کے ہاں جانا ہوا ۔میزبان نے پر تپاک استقبال کیا اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہنے لگے آپ کے لیے اپنا پیارا دیسی مرغا پکواتے ہیں اور یہ کہہ کر مرغے کی طرف لپکے جو بر آمدے میں گھوم رہا تھا۔میزبان پیچھے پیچھے مرغا آگے آگے ۔مرغا پہلے تو ادھر ادھر بھاگا پھر دیوار پھلانگ کر گھر سے باہر نکل گیا۔میزبان نے بچے کو دوڑایا کہ پکڑ لاؤ مرغے کو, مگر جو کام باپ سے گھر کے اندر نہ ہوا بچے سے باہر خاک ہونا تھا چنانچہ تھوڑی دیر میں منھ لٹکا کر بیٹا واپس لوٹ آیا۔آخر میزبان نے عذر پیش کیا کہ مرغا حرامی ہے بھاگ گیا ،آپ کے لیے سبزی پکاتے ہیں،یوں بھنڈی اور دال سے مہمانوں کی خاطر تواضع کی گئی۔
میں نے اپنے عزیز سے کہا :"بھلے مانس! بدگمانی کیوں کرتے ہو ،ممکن ہے وہ مرغا پکانے کی بات خلوص سے کرتے ہوں" ۔تو فرماتے کیا ہیں "بھئی!مرغا پکڑنے کو مجھے کہتے تو میں فوراً پکڑ لیتا،وہ بھاگے ہی اس ڈھیلی چال سے تھے کہ مرغا جُل دے کر نکل گیا"

حاصل یہ ہوا کہ میزبان کی سخاوت کی شہرت کیا ہوتی کوبکو ان کی کنجوسی اور چالاکی کی بات پھیل گئی۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
ہمارے محلے (جہاں اکثر لوگوں کے گھر پانچ پانچ مرلوں پر مشتمل ہیں) میں ایک بوڑھا اور بڑھیا ایک دس مرلہ کے گھر میں رہتے تھے۔ اڑوس پڑوس سے سنتے تھے کہ یہ بوڑھا اچھا خاصا مالدار ہے لیکن اس کو کچھ خرچ کرتے ہوے ہم نے نہ دیکھا تھا۔ الٹا وہ جب بھی گھر سے نکلتا تو جہاں بھی کہیں اسے کوئی اینٹ ملتی وہ اٹھا کر گھر لے جاتا کئی سالوں تک یہ اینٹ والی واردات تو ہم دیکھتے رہے۔ جب وہ بوڑھا فوت ہوا تو اس کے گھر میں جا کر دیکھا تو وہ اتنی اینٹیں جمع کر چکا تھا جس سے بآسانی دو کمرے بنائے جا سکتے تھے۔ پھر اس کے اس گھر اور گاؤں میں زمینیں تھیں جس پر اس کے بعد اس کے بھتیجوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ کیونکہ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اور اس بوڑھے کی وفات سے قبل اس کی بیوی بھی وفات پا چکی تھی۔
 
Top