تبسم بجھ گئے سب اِدھر اُدھر کے چراغ ۔ صوفی تبسم

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2015

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,872
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بجھ گئے سب اِدھر اُدھر کے چراغ
    پھر بھی روشن ہیں چشمِ تر کے چراغ

    کیوں لگاتے ہو حسرتوں کا سراغ
    کیوں جلاتے ہو تم سحر کے چراغ

    کون اٹھ کر گیا ہے محفل سے
    بجھ گئے میرے بام و در کے چراغ

    دل کی تاریکیاں نہ دور ہوئیں
    جگمگائے بہت نظر کے چراغ

    شبِ ہجراں کا ساتھ کیا دیتے
    سو گئے شامِ مختصر کے چراغ

    نقش تھے میری جبّہ سائی کے
    بن گئے رہ گزر کے چراغ

    پھر چراغاں ہوا ہے داغوں کا
    پھر فروزاں ہیں میرے گھر کے چراغ

    کیا فسوں تھا ترے تبسؔم کا
    مسکرائے نظر نظر کے چراغ​
     

اس صفحے کی تشہیر