بات سے بات

سیمل نے 'غیر افسانوی ادب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 4, 2006

  1. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    شروع اللہ کے نام سے جو خالق رازق اور مالک ہے۔۔۔۔

    واصف علی واصف
    ایک صوفی یا فلاسفر؟
    درویش یا دانشور؟
    معلّم یا لکھاری؟
    شاعر یا نثر نگار؟
    خطیب یا ادیب؟
    ایک عام انسان یا عام انسان کے روپ میں بہت خاص؟

    ایک انسان کی ذات میں اتنی جہتیں۔۔ایک دنیا میں اتنے جہاں آباد۔۔۔۔۔ایک کتاب کے سرورق کے پیچھے اتنے موضوع ۔۔۔بیک وقت اتنے کردار اور ان میں اتنی تکمیل کہ ایک روپ، ایک مضمون ، ایک زندگی دوسری پر اثر انداز ہوتی نظر نہیں آتی
    واصف علی واصف۔۔۔لفظوں کا ایک بحر بیکراں۔۔جس سے سیراب ہونے والے ہمیشہ مسرور رہے۔۔لفظوں کا ایسا استعمال کہ خود لفظ اپنے معنی کی وسعت پر نازاں رہے۔ شیکسپئر سے وارث شاہ تک ہر ایک کا حاصل چن چن کر لکھ ڈالا۔۔۔۔ پوچھنے والے جواب سنتے سنتے زندگی کی کئی گتھیاں سلجھا لیتے۔ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ نوازنے والے نے بے انتہا نوازا ہے۔۔۔ جو لفظ کہے انکی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔۔۔اور نا جانے کب تک سنائی دے۔۔۔کب تک لوگ اپنے اپنے مسائل کی پوٹلی باندھے ان الفاظ میں پناہ تلاش کریں گے ۔۔ نا جانے کتنی صدیوں تک؟
    یہ وہ لوگ ہیں جو زمین پر بہت مضبوط قدم جما کر چلتے ہیں۔ ایسی زندگی کے مالک کہ خود زندگی ان پر فخر کرتی ہے۔۔اور موت انہیں ایک ابدی زندگی دے کر امر ہو جاتی ہے۔۔۔۔
    “انعمت علیھم“ اور پھر یہ نعمت محدود نہ رکھی بلکہ اس میں سے خلق خدا کا بھی حصہ رکھا۔۔۔ جتنا کسی نے پوچھا۔۔۔۔
    واصف علی واصف۔۔
    سرخ رومی ٹوپیوں کے ساتھ رقص کرنے والی ایک روح۔۔۔ اور ذہن ایک فلسفی کا، ایک لکھاری کا ۔۔۔اور دل نور کا۔۔۔۔
    ایک ایسی شخصیت کہ جس کے بارے میں اگر بہت زیادہ الفاظ بھی استعمال کروں تو بھی میرے احاطہ تحریر میں نہیں آ سکتی۔۔اور الفاظ پھر بھی کم لگتے ہیں۔۔۔۔
    المختصر۔۔یہ کہ ۔۔۔
    کرن کرن سورج میں واصف علی واصف خود لکھتے ہیں

    “کسی کتاب کے تعارف میں کیا کہا جا سکتا ہے کہ کتاب خود لکھنے والے کا تعارف ہوتی ہے“

    اور مجھے امید ہے کہ بات سے بات آپ کو واصف علی واصف کا تھوڑا بہت تعارف ضرور دے گی۔۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    1-غم کتنا ہی سنگین ہو نیند سے پہلے تک ہے۔

    2- کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کر سکے۔

    3- مرنے کا بعد زندہ ہونے کی خوشی صرف اسی شخص کو ہو سکتی ہے جو اس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو۔ جو اس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو تو اسے مرنے کا خوف نہیں ہوتا

    4-جوانی سولہ سال کی عمر کا نام نہیں، ایک انداز فکر کا نام ہے، ایک انداز زندگی کا نام ہے، ایک کیفیت کا نام ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص سولہ سال میں بوڑھا ہو اور ایک شخص ساٹھ سال میں جوان ہو۔

    5-سانس کی موت سے پہلے بہت سی موتیں ہو چکی یوتی ہیں، ہم سانس کو موت سمجھتے ہیں حالانکہ سانس تو اعلان ہے ان تمام موتوں کا جو آپ مر رہے ہیں

    6-جس انسان کی آنکھ میں آنسو ہیں وہ انسان اللہ سے بچ نہیں سکتا ا۔ انسان کا اللہ سے قریب ترین رشتہ آنسوؤں کا ہے

    7-غم چھوٹے آدمی کو تؤڑ دیتا ہے ۔ اگر غم میں غم دینے والے کاخیال رہے تو پھر انسان بہت بلند ہوجاتا ہے۔

    8-دنیا کے اندر سب سے بڑا انصاف یہ ہے کہ یہ دنیا گناہ کے متلاشی کے لئے گناہ دیتی ہے اور فضل کے متلاشی کو فضل دیتی ہے۔

    9-جس کو صداقت اور نیکی کا سفر کرنے کی خواہش ہے وہ جان لے کہ یہ منظوری کا اعلان ہے ۔ جس کو منظور نہیں کیا جاتا اس کو یہ شوق ہی نہیں ملتا۔

    10- جو بات آپ کے دل میں اتر گئی وہی آپ کا انجام ہے، اگر آپ کو موت آجائے تو جس خیال میں آپ مریں وہی آپ کی عاقبت ہے۔

    11-جو آدمی موت سے نہیں نکل سکتا وہ خدا سے کیسے نکل سکتا ہے۔

    12-اپنی ہستی سے زیادہ اپنا نام نہ پھیلاؤ، نہیں تو پریشان ہو جاؤ گے۔

    13- دور کا کوئی ایسا مقام نہیں ہے جو قریب نہ آسکے۔

    14-استعداد سے زیادہ کی تمنا ہلاکت ہے اور استعداد سے کم خواہش آسودگی ہے۔

    15- حق کیا ہے استعداد کے مطابق حاصل، احسان کیا ہے حق سے زیادہ حاصل، محرومی کیا ہے حق سے کم حاصل۔

    16-آنسو قرب کا ثبوت ہیں، جب روح کا روح سے وصال ہوتا ہے تو آپ کو آنسو آجاتے ہیں۔

    17-منافق وہ ہے جو اسلام سے محبت کرے اور مسلمانوں سے نفرت۔

    18-جس چیز کو ہم باعث عزّت سمجھ رہے ہٰن اس کی موجودگی میں لوگ ذلیل ہیں۔

    19-آپ کے سانس گنتی کے مقرر ہو چک ہیں ، نہ کوئی حادثہ آپ کو پہلے مار سکتا ہے، نہ کوئی حفاظت آپ کو دیر تک زندہ رکھ سکتی ہے۔

    20- جھوٹے معاشرے میں عزت کے نام سے مشہور ہونے والا آدمی دراصل ذلت میں ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  3. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    21-جائے تو چوبیس کھنٹے بعد وہ کائنات کو جوں کا توں واپس کر دے۔(یہ جملہ نا مکمل ہے اسکی تصحیح کی ضرورت ہے)

    22-دعا یہ کرو کہ اے اللہ جو تو نے دینا ہے وہ بغیر مانگے دے اور جو کچھ تو نے نہیں دینا اس کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔

    23-فانی کی محبت فنا پیدا کر دے گی ، باقی کی محبت بقا پیدا کرے گی۔ فانے کی محبت دل سے نکال دو تاکہ آپ کو بقا کا راستہ ملے۔

    24-معاشرکو انسان کو جنم دیتے ہیں اور انسان معاشرے کو جنم دیتا ہے۔

    25-جب آپ أپنے ماضی کو حال پر فوقیت دیتے ہیں تو آپ مذہبی آدمی بن جاتے ہیں ، جب مستقبل کو فوقیت دیتے ہیں تو پھر سائنسی آدمی ہو جاتے ہیں۔ سائنس ماضی سے نجات پاتی ہے جب کہ مذہب ماضی کی طرف رجوع کرتا ہے۔

    26-جو کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں وہ مرتے نہیں اور جو بے مقصد جیتے ہیں وہ جیتے نہیں۔

    27-وہ شخص مر گیا جو سکی کے دل میں نہ رہا۔آدمی کب مرتا ہے، جب دل سے اترتا ہے۔ زندہ کب ہوتا ہے جب دل میں اترتا ہے۔

    28-ایسا کوئی نہیں ملے گا جو اسلام کی ایسی تعریف پیش کرے جس سے سارے پاکستانی مسلمان ثابت ہو جائیں۔ نا ممکن ہے۔ آدھے لوگ تو ضرور کافر ثابت ہوتے ہیں۔

    29-مسلمان وہ ہے جو ہندو کی نگاہ میں مسلمان ہو۔

    30-ادب ہی قرآن کا حافظ ہوتا ہے، جس نے قرآن کا ادب کیا وہی قرآن کا حافظ ہے۔ اگر ادب نہ ہو تو سینے سے قرآن صاف ہو جائے گا۔

    31-پسندیدہ چیز سے جدائی موت پے۔ جن کی پسندیدہ
    چیزیں موت سے پرے ہیں ان کو مرنا آسان ہے۔ جن کی پسندیدہ چیزیں یہاں رہ جائیں گی ان کے لئے موت مشکل ہے۔

    32-غصہ ایسا شیر ہے جو تمہارے مستقبل کو بکرا بنا کر کھا جاتا ہے۔

    33-جس سے طاقت ملتی ہے اس سے کمزوری ملتی ہے۔ جس کو سیاست میں عزّت ملے گی اس کو سیاست میں ذلت ملے گی۔ جس کو دوست کی طرف سے عزت ملے گی اس کو دوست ہی کی طرف سے ذلت ملے گی اور جس کو اللہ کی طرف سے عزت ملی تو اسے عزت ہی ملے گی اور اگر ذلت ہے تو اللہ ہی کی طرف سے ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔

    34-اللہ تعالٰی کا تقرب جنت ہے اور اللہ تعالٰی سے دوری دوزخ ہے، عشق نبی (ص) جنت ہے اور عشق نبی (ص) سے دوری دوزخ ہے۔

    35- جب موت سے پہلے موت کا مقام سمجھ آجایے تو موت کے بعد ملنے والے انعام موت سے پہلے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    36-اگر تیری نسبت باقی کا ساتھ ہو گئی تو تو باقی ہو جاہے گا۔ اب تیری نسبت فانی کے ساتھ ہے، اس لیے تو فانی ہے۔فنا سے نسبت اٹھا کے بقا میں لگا دے تو سب آسان ہو جائے گا۔

    37-اگر تذبذب کو تسلیم میں داخل کر دو تو موت سے پہلے مرنے کی بات سمجھ میں آجائے گی۔

    38-تصورِ شیح کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بھی کام کر رہے ہیں اگر شیخ موجود ہوتا تو وہ اس کام کو کیسا کرنا پسند کرتا۔ یعنی ایسی کیفیت ہے کہ آپ جو بھی کام کر رہے ہیں، شیخ کی عدم موجودگی میں بھی اس کی مرضی کے مطابق ہو۔

    39-چور ضرورت کا نام ہے، بندہ اندر سے برا نہیں ہوتا۔ضرورت برا کرتی ہے اور ضرورت ہی نیک کرتی ہے۔ ضروررت نکال دو ، بندہ ٹھیک۔

    40-ہمارے ہاں وقت یہ ہے کہ جو علماء صاحبان ہیں ، وقت کے تقاضوں سے بے خبر ہین اور جو لوگ عظیم ہیں وہ احکام شریعت سے غافل نظر آتے ہیں۔

    41- دنیادار کے لئے جہاں صبر کا حکم ہے وہاں اللہ کے بندوں کو شکر کا حکم ہے۔

    42-جو تمہیں اچھا لگتا ہے، تم بھی اسے ضرور اچھے لگتے ہو۔

    43-کسی پسندیدہ چیز کے چھن جانے یا پھر کسی نا پسندیدہ چیز کے آجانے کو خوف کہتے ہیں۔

    44-جو شخص پر وقت ایک ہی خیال میں رہے، اسے نہ آنے والے واقعات کا ڈر ہے اور نہ ماضی میں ہونے والے عمل کا ۔

    45-ماضی اختیار سے باہر ہوتا ہے، مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے، حال کا لمحہ انتا اہم ہے کہ اس کے ذریعے ماضی بھی درست ہو سکتا ہے اور مستقبل بھی۔ گنہگار ماضی ، حال کی توبہ کر کے نیک بن جاتا ہے،آنے والے اندیشے حال میں توبہ کرنے سے بہتے ہو سکتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    46- اولاد کو زمانہ جدید کے مطابق تعلیم دو تاکہ رزق کم سکیں اور دین کی تعلیم دو تاکہ وہ برباد نہ ہو جائیں ۔

    47-قبر اس وقفے کا نام ہے جو مرنے اور اٹھائے جانے کے درمیان ہے۔ یہ “وقفہ“ ہے “مقام“ نہیں۔

    48-کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خوشی کا ساتھ گناہ کرے۔ گناہ بیماری کی طرح کہیں اسے لاحق ہو جاتا ہے۔

    49-گناہ ہر وہ عمل ہے جو تمہارے لئے نقصان دہ ہے۔

    50-جب تک یہ نہ پتہ ہو کہ آرزو صحیح ہے یا غلط تو اس کا پورا نہ ہونا بری بات نہیں۔ اچھی آرزو انعام ہے،چاہے پوری نہ ہو۔

    51-سب سے بھاری وہ دن ہے جب اعمال کے مطابق انصاف مل جائے گا اور سب سے آسان وہ دن ہے جب تمہیں ایسا انعام ملے جو تمہارا حق نہیں تھا۔

    52-جس دن کی رات آ گئی وہ دن اچھا تھا اور جس رات پر دن طلوع ہو گیا وہ رات اچھی تھی۔ اس دنیا میں کوئی رات ایسی نہیں جس پر دن طلوع نہ ہوا ہو۔

    53-دعا کرنے سے بہتر ہے کہ کسی دعا کرنے والے کو پالیا جائے۔

    54-تھوڑی دیر کے لئے اگر آپ اپنے آپ کو ایسا بنا لیں جیسے پیدا ہونے والا بچہ ہے یا مرنے والا انسان تو سکون پیدا ہو جائے گا۔

    55-غم یا پریشانی دراصل انسانی فیصلے اور اللہ کے حکم کے درمیان فاصلے کا نام ہے۔

    56-جس نے اپنی زندگی کو قبول کر لیا اس نے خدا کو مان لیا۔

    57- سوئی کا ناقے سے اونٹ گزر سکتا ہے مگر دنیا کی تمنا رکھنے والا خدا کی Range میں نہیں آسکتا۔

    58- اگر تمہیں زیورات کا شوق ہے تو پھر کان میں سوراخ تو ہو گا ۔

    59-باطن کا سفر یہ ہے کہ جہاں ایسا موقع آجائے کہ آپ دین میں جائیں یا دنیا میں تو وہاں اپنا دین محفوظ کر لیں۔

    60-وجود گھوڑا ہے اور روح اس کی سوار۔ گھوڑا لاغر نہیں ہونا چاہیے کہ روح بے چاری پریشان ہو جائے اور گھوڑا خود سر نہ ہو کہ روح کو گرا کر چلا جائے۔

    61-تنکے کو بھی حقیر نہ سمجھو ، ورنہ تمہاری آنکھ میں پڑ جائے گا۔

    62-سکون آپ کا علاوہ جگہ کا نام نہیں ، اسی جگہ کے اندر خوش ہونے کا نام ہے۔

    63-وہ شخص جو اپنے آپ کو ماحول سے بلند سمجھتا ہے، سکون نہیں پائے گا اور وہ شخص جو اپنے آپ کو ماحول سے نیچا سمجھتا ہے وہ بھی سکون نہیں پائے گا۔

    64-ایسا رزق جم میں زیادہ محنت بھی نہ کرنے پڑے اور جو حرام بھی نہ ہو، رزق کریم کہلاتا ہے۔

    65-جب تک انسان کا میلان یا رویہ(Attitude) درست نہ ہو، اس کی محنتیں درست نہیں ہوتیں۔

    66-اگر تیرے باپ کی شادی ہوئی تھی تو تیرے بھی ہوجائے گی۔ شادی پیسوں سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

    67-اگر تمہیں یہ پتہ چل جائے کہ تمہارا رزق اللہ کے پاس ہے تو پھر رزق کی تالاش نہ کرو بلکہ اللہ کی تلاش کرو جس کی پاس تمہارا رزق ہے۔

    68-مذہب ماضی کی آسانی کی طرف لے جاتا ہے اور سائنس مستقبل کی پیچیدگیوں کی طرف۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ سائنس سے آسانی حاصل کرتے جاؤ اور مذہب سے رجوع کرتے جاؤ۔

    69-جہاں دو راستے آتے ہیں وہاں سوچ آتی ہے، جس آدمی کے پاس راستہ ہی ایک ہو اسے سوچنے کی ضرورت یہ کوئی نہیں۔

    70-جب آپ کی زندگی سکون بحش ہو جائے گی تو آپ کو خودبخود سکون ملنا شروع ہوجائے گا۔

    71۔ بے سکونی تمنا کا نام ہے ۔جب تمنا تابع فرمان الٰہی ہو جائے تو سکون شروع ہو جاتا ہے۔

    72-کسی تنگ دل کا مال نہ کھاؤ، اس کے ہاں کھانا بھی نہ کھاؤ، تنگ دل انسان سے بچ کے رہو تو سکون مل جائے گا۔ سخی دل انسان سے ملا کرو،سخی دل سے اگر تم کچھ لے بھی لو گے تو وہ تمہارے لیے دعا کرے گا۔

    73-مرنے کے دو ہی طریقے ہیں، غم مل جائے یا خوشیاں چلی جائیں۔

    74-دشمن گھر میں آجائے یا دوست بھر سے چلا جائے، دونوں حالتوں میں مصیبت ہے۔

    75-مغربی تہذیب اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے ان کی کوئی لذت ایسی نہیں رہ گئی جو گناہ نہ ہو۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. جاویداقبال

    جاویداقبال محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

    بہت بہت خوب سمیل بہن بہت اچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ جزادے(آمین ثم آمین)


    سوری آئی ایم سوری ۔ مجھے علم نہیں تھا۔:lol::lol::lol:

    والسلام
    جاویداقبال
     
  6. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    76-جہاں آپ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں وہاں آزاد نہ ہونا،اور جہاں آزاد ہیں وہاں پر پابند نہ ہونا۔

    77-مغرب کے ساتھ مقابلہ اس وقت کرو جب آپ مشرق بن جاؤ۔

    78-اگر آپ یوسف (ع) ہیں تو آپ کے گیارہ بھائی بھی موجود ہیں جو بھائی کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں اور بھائی کے مرتبے کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں ۔سارا قرآن اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ جب اپنوں نے اپنوں کو دحوکہ دیا وہاں کوئی علاج نہیں ہو سکا۔

    79-جب تک آپکو اپنی تمنا کے منظور ہونے سے حاصل ہونے والی چیز کی ماہیت کا پتہ نہ ہو، اس وقت تک دعا نہ کرو۔

    80۔ بزرگوں نے اللہ کے فضل و کرم کو مانگنے کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ اللہ سے فضل و کرم نہ مانگو، جو کر رہا ہے وہ فضل و کرم ہے۔

    81-آجکل مفاد پرست کے پاس اپنے مفاد کا تحفظ سیاست کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔

    82-اپنی ہستی سے زیادہ کام کرنا ہلاکت ہے اور اپنی ہستی سے کم کام کرنا بد دیانتی ہے۔

    83-کبھی بادشاہ بننے کے لئے دعا نہ کرنا ورنہ دعا کے ذریعے حاصل ہو جانے والی بادشاہی کے اندر اگر کوئی ظلم اور تلخی ہوئی تو اس کے ذمہ دار تم ہو گے۔

    84-ہر دن کی قیامت ہو روز شام کو ہو جاتی ہے۔

    85-زندہ رہنا چاہو تو موت قیامت ہے اور مرنا چاہو تو زندگی قیامت ہے۔

    86- ایک آدمی دلیری سے سچ بات کرنے لگ جائے تو باقیوں کا چھپا ہوا سچ ظاہر ہو جائے گا۔

    87-دین سے اس طرح محبت کرو جس طرح دنیا دار دنیا سے کرتا ہے۔

    88-اگر زندگی کا کیا ہوا “حاصل“ آخرت میں کام نہیں آنا تو اس حاصل کو محرومی کہو۔

    89-ہر آدمی اپنے سے زیادہ دانا کے سامنے بے وقوف ہے اور آپ کو آپ سے بڑا دانا ہمیشہ ملے گا۔

    90-بہت سارے سوالات سے نکل کر جب آدمی ایک سوال میں داخل ہوتا ہے تو اس کا سفر واضح ہو جاتا ہے۔

    91-دانائی دانا کی تابعداری ہے۔

    92-جب تک اپنے آپ کو اللہ کے آگے پوری طرح جوابدہ نہ پاؤ، کسی انسان کو اپنے سامنے جوابدہ نہ کرنا۔

    93-جو اقتدار میں ہیں وہ جاننے والے نہیں اور جو جاننے والے ہیں وہ اقتدار سے باہر ہیں۔

    94-جب تک کوئی آپ سے نہ پوچھے مبلغ نہ بنو۔

    95-ہم ہر دن کا ماتم کرنے ہیں اور ہر صبح کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

    96-جن لوگوں نے اپنی زندگی میں اللہ کو یاد رکھا، لوگوں نے ان کی زندگی کے بعد بھی ان کو یاد رکھا۔

    97-خودی کسی شے کا وہ جوہر خاص ہے جس کے نہ ہونے سے
    وہ شے نہیں ہوتی۔

    98-قائم ذات سے محبت کرو گے تو تم بھی قائم ہو جاؤ گے۔

    99-غرور اس صفت کو کہتے ہیں جو مٹ جائے یا مٹ سکے۔

    100-اللہ کا جلوہ اگر طور کے درخت سے بول سکتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ انسان سے نہ بول سکے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  7. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    101-جو شخص کہتا ہے کہ میں کل خوش ہو جاؤں گا، وہ کبھی خوش نہیں ہو گا۔

    102-سخی تب سخاوت کر سکے گا جب سائل بھی موجود ہو۔

    103-اچھے عمل کی یاد کو ایک برا لفظ ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتا ہے۔

    104-کسی کو اس کے حق سے زیادہ دینا احسان کہلاتا ہے۔

    105-سائل بخیل کو سخی بنانے کے لیے آتا ہے۔

    106-جب مذکور تک پہنچ جاؤ تو پھر ذکر نہ کرنا۔

    107- اگر صاحب مرتبہ شخص لوگوں کی خدمت میں مصروف ہو تو سمجھو کہ اس کا یہ مرتبہ انعام ہے۔

    108-گداگر وہ ہوتا ہے جوہر روز ایک مقام پر ایک جیسی صدا لگاتا ہے۔

    109-جانوروں اور انسانوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جانوروں کو نہ ماضی کی یاد رہتی ہے اور نہ مستقبل کا خیال۔

    110-سورج کو نمایاں ہونے کے لئے تاریکی درکار ہے۔

    111-جتنے عظیم لوگ تھے وہ غیر عظیم زمانوں میں آئے۔

    112-جس کو آپ یاد کر رہے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی صورت میں آپ کو یاد کر رہا ہے۔

    113-جھوٹا آدمی اگر سچ بھی بولے تو وہ سچ بے اثر ہو جائے گا۔

    114-علم اور عمل کے درمیان فاصلہ کم کرنا شریعت بھی ہے اور ولایت بھی۔

    115-اگر مرتبہ مل جائے اور استعداد نہ ہو تو اس سے بڑی آزمائش کوئی نہیں۔

    116-خوراک تھوڑی کھائیں تو طاقت ملے گی خوراک زیادہ کھائیں تو طاقت چھن جائے گی

    117-اگر علم امل کا شاہد نہ ہو تو وہ علم حجاب اکبر ہے۔

    118-اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں بھولنے کی صفت دی ہے ورنہ ایک غم ہمیشہ کے لیے غم بن جاتا۔

    119-نااہل کو اہلیت کا مقام مل جائے تو اس کی جاب بھی خطرے میں ہوگی اور ایمان بھی۔

    120-مفید چیز مقدار میں بڑھ جائے تو غیر مفید ہو جاتی ہے۔

    121-گناہگار کا گناہ عاجزی پیدا کر رہا ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔

    122-چھوٹی نیکی کو کبھی چھوٹی نیکی نہ سمجھنا اور چھوٹے گناہ کو کبھی چھوٹا گناہ نہ سمجھنا۔

    123-اگر یہ پتہ ہو کہ تھوڑی دیر بعد سب بکرے ذبح ہو جائیں گے تو اب کیا لڑنا۔

    124-آج اتنا مشکل دور ہے کہ اس مین نیکی نہیں ہو سکتی پھر بھی مساجد بھری پڑی ہیں۔

    125-بدی کا موقع ہو اور بدی نہ کرو تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔

    126-اللہ کے خوف سے اپنی زندگی سے وہ کام نکال دو جا اللہ کے خوف کا باعث ہو سکتا ہے۔

    127-اگر ایک ہاتھ اللہ کے لئے رکھ دو تو سارا عجود ہی اللہ کے لئے ہو جائے گا۔

    128-دو راستوں میں سے ایک چننا پڑتا ہے دعا کرو کہ ایک ہی راستے کا سفر ملے۔

    129-پیسہ آتا ہے غرور دینے کے لئے اور جاتا ہے مسکینی دے کر۔

    130-آپ کی قیامت اس دن آجائے گی جس دن آپ نہیں ہوں گے۔

    131-دعا کرو تم اس عبادت سے بچ جاؤ جس میں اللہ کا قرب نہ ملے۔

    132-شیطان اس لئے شیطان بنا کہ اس نے عبادت کو تو ناما لیکن معبود کو نہ مانا۔

    133-اگر اللہ معاف کر دے تو گناہ کیا ہے؟ اگر اللہ نا منظور کر دے تو نیکی کیا ہے؟

    134-اگر آپ نے کسی کو قبول نہیں کیا تویہ سمجھ لیں کہ کسی نے آپ کو قبول نہیں کیا۔

    135-اپنے آپ کو بد نصیب کہنے کے گناہ سے بچتے رہو۔

    136-ہم خیال لوگ ہم خیال ہو جائیں تو سفر آسان ہو جاتا ہے۔

    137-عبادت سے مکمل تزکیہ نفس نہیں ہوتا بلکہ عبادت سے خطرہ نفس ٹل جاتا ہے۔

    138-لوگوں سے الگ رہ کر سوچو گے تو لوگوں سے الگ سوچ مل جائے گی۔

    139-اپنے پر غرور بھی نہ کرو اور اپنے تحقیر بھی نہ کرو۔

    140-عبادت نجات تک پہنچاتی ہے اور عشق نبی (ص) تک پہنچاتا ہے۔

    141-بیٹا میرے بعد گھر میں ایسے رہنا جس طرح میری موجودگی کے وقت رہتے ہو۔

    142-انسان کے پاس جتنے امکانات ہیں وہ سب کے سب اس لئے بھی نہیں پورے ہو سکتے کہ زندگی کے اپنے ٹھہرنے کے امکانات کم ہیں۔

    143- دو منصوبوں پر کام یکسوئی سے محرورم کر دیتا ہے۔

    144-ہمارا ہونا کس کام کا اگر ہمارے نہ ہونے کا کسی کو کچھ فرق نہ پڑے۔

    145-بولنے والی زبان سننے والے کان کی محتاج ہے۔

    146-جوشخص دعا کا طالب ہے ،وہ خدا کا طالب ہے۔

    147-الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا۔

    148-ہر آغاز کا ایک انجام ہوگا اور ہر انجام کسی آغار پر منتج ہو گا۔

    149-انسان کو انسانوں پر رعب جمانے ار انہیں جھڑکی دینے کا کوئی حق نہیں ۔ یہ نقلی استحقاق صرف غرور نفس کا دھوکا ہے اور غرور کسی انسان میں اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ بد قسمت نہ ہو۔

    150-ضمیر کی آواز نہ تو ظاہری زبان سعے دی جا سکتی ہے اور ہی ان کانوں سے سنائی دے سکتی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  8. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,831
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    منافقت
    منافقت انسان کو اللہ کے قرب سے دور کردیتی ہے۔ منافق وہ شخص ہے جو اسلام سے پیار کرے اور مسلمانوں سے نفرت۔ منافق وہ بھی ہے جس کے ظاہر و باطن میں فرق ہو ، خلوت جلوت میں فرق ہو ، جس کی باتیں سچی ہوں اور وعدے جھوٹے ہوں۔ جو دشمنوں کے ساتھ ہنس ہنس کر بات کرے اور دوستوں کی ہنسی اڑاے۔ جو محسنوں کے ساتھ وفا نہ کرے۔ جو انسان کا شکریہ ادا نہ کرے اور خدا کی تعریفیں کرے۔ جو امانت کی حفاظت نہ کرسکے ۔ جس کو اپنے سے بہتر کوئی انسان نظر نہ آے۔ جو اپنے دماغ کو سب سے بڑا دماغ سمجھے، جو یہ نہ سمجھ سکے کہ اللہ جب چاہے مکڑی کے کمزور جالے سے بھی ایک طاقتور دلیل پیدا کر سکتا ہے۔
    از واصف علی واصف​
     
    • زبردست زبردست × 3
  9. سیمل

    سیمل محفلین

    مراسلے:
    139
    151-دس کروڑ غلام ملسمان آزاد مملکت حاصل کر گئے اور آج دس کروڑ آزاد مسلمان اس مملکت اور اس کی حفاظت کرنے کا حق ادا نہیں کر رہے۔

    152-جب تک ہم والدین کے گھر میں رہتے ہیں، ہم خوش رہتے ہیں اور جب شو مئی قسمت قسمت اسی مکان میں ماں باپ ہمارے گھر میں رہنے لگیں تو ہم اچھا محسوس نہیں کرتے۔

    153-ہر انسان کو ہر جلوہ نظر نہیں آتا اور جنہیں کچھ نظر آتا انہیں بھی بس ایک حد تک آشنائی ہوتی ہے۔

    154-عجائبات دہر میں سب سے بڑا عجابہ انسانی آنکھ ہے۔

    155-کہانی سنانے والا کائی نہ ہو ، تو بھی کہانی خود کہانی سناتی رہتی ہے۔

    156-تذبذب اس مقام کو کہتے ہیں جہاں آگے جانے کی ہمت نہ ہو اور واپس جانا ممکن نہ ہو۔

    157-انسان اپنا بہت کچھ بدل سکتا ہے حتّٰی کہ اپنی شکل بھی تبدیل کر سکتا ہے لیکن وہ فطرت نہیں بدل سکتا ۔

    158-کامیاب معاشرہ وہی ہے کہ چپکے سے فرائض ادا ہوتے رہیں اور چپکے سے ہی حقوق ادا ہوتے رہیں۔

    159-عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جو درد کے صحراؤں میں بیٹھ کر دنیا کو گلستان کی خبر دیتے ہیں۔

    160-اللہ کا راستہ مومن کے دل کے دروازے سے شروع ہوتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  10. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    لاجواب پر حکمت شراکت
     

اس صفحے کی تشہیر