ایک نظم اصلاح کی غرض سے پیش ہے،'' گُل اور کلی'' اساتذہ توجہ فرماءیں

کلی اور گُل
سُنو گل باز آ جاؤ
کلی کو نوچنا اچھا نہیں ہے
کلی ہے پیرہن تیرا
تُو اُس کا
اُسے نوچے گا تُو جو برہنہ کر دے گا ظالم
سمجھ کہ برہنہ خود بھی رہے گا

محمد اظہر نذیر
 

متلاشی

محفلین
کلی اور گُل
سُنو گل باز آ جاؤ
کلی کو نوچنا اچھا نہیں ہے
کلی ہے پیرہن تیرا
تُو اُس کا
اُسے نوچے گا تُو جو برہنہ کر دے گا ظالم
سمجھ کہ برہنہ خود بھی رہے گا
محمد اظہر نذیر
برادرم محمد اظہر نذیر صاحب گو کہ میری یہ اوقات تو نہیں مگر مجھے یہ نظم بحر میں نہیں لگ رہی ۔۔۔۔! میرا خیال ہے آپ نے آزاد نظم کہی ہے۔۔۔۔؟
 
برادرم محمد اظہر نذیر صاحب گو کہ میری یہ اوقات تو نہیں مگر مجھے یہ نظم بحر میں نہیں لگ رہی ۔۔۔ ۔! میرا خیال ہے آپ نے آزاد نظم کہی ہے۔۔۔ ۔؟

جی یہ بحر بزج مثمن سالم میں ہے
افاعیل جس کے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ہیں

س نو گل با
ز آ جا ءو
ک لی کو نو
چ نا اچ چا
ن ہیں ہے

امید ہے کہ ٹھیک ہی ہو گی، باقی اساتذہ کا انتظار کرتے ہیں
خاکسار
اظہر
 

مغزل

محفلین
اظہر میاں رسم الخط مت بدلا کیجے صوری حسن متاثر ہوتا ہے مراسلے کا ۔ میں نے درست کردیا ہے ۔
نظم کے اوزان خطا ہو رہے ہیں ۔ متلاشی صاحب نے بھی نشاندہی کی ہے ۔۔
اوزان کے علاوہ بھی مضمون کھَل رہا ہے ۔۔ جس پر اساتذہ کرام بات کریں گے ۔
 
محترم جناب مغل صاحب، عرض یہ ہے کہ مضمون اُس آیت پر باندھا ہے کہ جس میں مالک کاءنات فرماتا ہے کہ تُم اپنی عورتوں کا لباس ہو، اور وہ تمہارا۔ اب میں نے اس کے قریب ترین استعارہ یا علامت تلاش کی تو اپنی صلاحیت جو قلیل ہی ہے اُردو میں، کو استعمال کرتے ہوے مجھے پھول یعنی گُل اور پتی یعنی کلی کا تعلق اس سے مطابقت رکھتا لگا۔
اگر گل اپنی ہی کلی کو نوچ دے، گویا بے لباس کر دے، تو خود کہاں پردہ میں رہے گا، بعینہ ہی ایسے جیسا کہ مرد اپنی عورت کی تذلیل کرے اور خود بچا رہ جاءے۔
اوزان آزاد طرز پر مزکور بالا بحر سے لیے ہیں
امید کرتا ہوں کہ اغلاط کی نشاندہی کیجیے گا ، چاہے وہ خیال میں ہیں، یا اوزان میں
 

متلاشی

محفلین
جی یہ بحر بزج مثمن سالم میں ہے
افاعیل جس کے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ہیں

س نو گل با
ز آ جا ءو
ک لی کو نو
چ نا اچ چا
ن ہیں ہے

امید ہے کہ ٹھیک ہی ہو گی، باقی اساتذہ کا انتظار کرتے ہیں
خاکسار
اظہر
برادرم یہ لفظ ہزج ہے یا بزج ۔۔۔۔؟ میں نے ہزج پڑھا ہے کہیں ۔۔۔۔!
 

مغزل

محفلین
محترم جناب مغل صاحب، عرض یہ ہے کہ مضمون اُس آیت پر باندھا ہے کہ جس میں مالک کاءنات فرماتا ہے کہ تُم اپنی عورتوں کا لباس ہو، اور وہ تمہارا۔ اب میں نے اس کے قریب ترین استعارہ یا علامت تلاش کی تو اپنی صلاحیت جو قلیل ہی ہے اُردو میں، کو استعمال کرتے ہوے مجھے پھول یعنی گُل اور پتی یعنی کلی کا تعلق اس سے مطابقت رکھتا لگا۔
اگر گل اپنی ہی کلی کو نوچ دے، گویا بے لباس کر دے، تو خود کہاں پردہ میں رہے گا، بعینہ ہی ایسے جیسا کہ مرد اپنی عورت کی تذلیل کرے اور خود بچا رہ جاءے۔
اوزان آزاد طرز پر مزکور بالا بحر سے لیے ہیں
امید کرتا ہوں کہ اغلاط کی نشاندہی کیجیے گا ، چاہے وہ خیال میں ہیں، یا اوزان میں

پیارے صاحب مضمون کو کھینچ تان کر زبردستی باندھنے سے ہی ایسا ہوتا ہے جسے ’ معانی در بطنِ شاعر‘ کہا جاتا ہے کہ بعد ازاں وضاحت کرنی پڑ جائے ۔
دیکھیے گل یعنی پھول کھلی ہوئی کلی کی ہی شکل ہے یعنی پہلے کلی ہوگی اور ایک خاص عمر گزرنے کے بعد پھول یا گل بن جائے گی ۔ اب ایسا کیسے ممکن ہے کہ
میں پھول اپنی پرانی حالت میں جا کر کلی کو کو نوچتا پھرے ؟ بس اس طرف غور کیجے تو اپنی نظم کے نقائص سے آگاہ ہوجائیں گے۔۔ باقی منصب اساتذہ کا ہے ۔ والسلام
 
پیارے صاحب مضمون کو کھینچ تان کر زبردستی باندھنے سے ہی ایسا ہوتا ہے جسے ’ معانی در بطنِ شاعر‘ کہا جاتا ہے کہ بعد ازاں وضاحت کرنی پڑ جائے ۔
دیکھیے گل یعنی پھول کھلی ہوئی کلی کی ہی شکل ہے یعنی پہلے کلی ہوگی اور ایک خاص عمر گزرنے کے بعد پھول یا گل بن جائے گی ۔ اب ایسا کیسے ممکن ہے کہ
میں پھول اپنی پرانی حالت میں جا کر کلی کو کو نوچتا پھرے ؟ بس اس طرف غور کیجے تو اپنی نظم کے نقائص سے آگاہ ہوجائیں گے۔۔ باقی منصب اساتذہ کا ہے ۔ والسلام

محترم صرف اپنی معلومات کی غرض سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر برا نہ محسوس کریں تو،
کیا پتیاں پھول کا لباس نہیں ہوتیں؟ اور کیا عورت مرد کا لباس نہیں ہوتی؟ مرد کا عورت کہ تزلیل کرنا کیا ایسا ہی نہیں ہے کہ کوءی شخص بھرے مجمع میں لباس اُتار پھینکے؟
اور کیا یہ مشابہ نہیں ہو گا کہ کوءی پھول اپنی ہی پتیاں اُتار پھینکے؟
یہاں کلی سے مراد پھول کی پتی ہے ، کیا ایسا غلط ہے؟
میری استدعا ہے کہ برا مانے بغیر میری اصلاح کی غرض سے جواب دیجیے گا
 

مغزل

محفلین
محترم صرف اپنی معلومات کی غرض سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر برا نہ محسوس کریں تو،
کیا پتیاں پھول کا لباس نہیں ہوتیں؟ اور کیا عورت مرد کا لباس نہیں ہوتی؟ مرد کا عورت کہ تزلیل کرنا کیا ایسا ہی نہیں ہے کہ کوءی شخص بھرے مجمع میں لباس اُتار پھینکے؟
اور کیا یہ مشابہ نہیں ہو گا کہ کوءی پھول اپنی ہی پتیاں اُتار پھینکے؟
یہاں کلی سے مراد پھول کی پتی ہے ، کیا ایسا غلط ہے؟
میری استدعا ہے کہ برا مانے بغیر میری اصلاح کی غرض سے جواب دیجیے گا
ارے میں کیوں برا منانے لگا میرے بھیا۔ ( محمد اظہر نذیر )
دیکھیے گل یعنی پھول کھلی ہوئی کلی کی ہی شکل ہے یعنی پہلے کلی ہوگی اور ایک خاص عمر گزرنے کے بعد پھول یا گل بن جائے گی ۔ اب ایسا کیسے ممکن ہے کہ پھول اپنی پرانی حالت میں جا کر کلی کو کو نوچتا پھرے ؟ پھول کی پتی ، کلی کی پتی یعنی پنکھڑیاں ایک ہی شے ہے ۔ آپ انہیں الگ الگ معانی میں لے رہے ہیں سو یوں درست نہیں ہے ۔ پھول اپنی پنکھڑیاں یا پتیاں اتارے پھینکے گا تو بھائی باقی بقچہ ہی بچتا ہے جو پھول کا حصہ تو ہوتا ہے پھول نہیں ۔۔ یعنی بقچہ (زیرہ دانے کی گھنڈی یا بیضہ دانی) اور پتیاں مل کر پھول یا کلی کہلاتے ہیں ۔ پھول کی نوخیز شکل کلی کہلاتی ہے ، یعنی کتخدائی اور نا کتخدائی پھول اور کلی کی دو عمری حوالے سے شکلیں ہیں سو ایک وقت میں دوعمروں کی دسترس اور حیثیت بعید از عقل اور خلاف ِ واقعہ ہے ۔۔۔ باقی مرد اور عورت کے حوالے سے آپ کی بات صد فیصد درست ہے ۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ امیدہے وضاحت ہوچلی ہوگی ۔ یا کہیے تو مزید وضاحت کردوں گا۔ والسلام
 

الف عین

لائبریرین
محمود کی بات درست ہے۔ کلی اور پھول کا رشتہ نو عمری اور بزرگی کا تو ہو سکتا ہے، لیکن مرد عورت کا نہیں۔ آیت تو درست ہے، (غلط کیسے ہو سکتی ہے؟) لیکن اس کا انطباق درست نہیں۔
تکنیکی طور پر درست ہے، اگر چہ’ کہ‘ کا یہ وزن میں پسند نہیں کرتا۔ اب وارث کے زور دینے پر قبول تو کر لیتا ہوں، مگر ناگواری کے ساتھ۔ اس کے علاوہ ’برہنہ‘ کے تلفظ بھی دو طرح مستعمل ہیں۔ بَر ہَنَہ، بر وزن فاعلن÷ فاعلان، اور برِہ نہ (ہ ساکن)۔ بہت سے اساتذہ، بشمول والد مرحوم موخر الذکر کو پسند کرتے تھے۔
 

مغزل

محفلین
محمود کی بات درست ہے۔ کلی اور پھول کا رشتہ نو عمری اور بزرگی کا تو ہو سکتا ہے، لیکن مرد عورت کا نہیں۔
آیت تو درست ہے، (غلط کیسے ہو سکتی ہے؟) لیکن اس کا انطباق درست نہیں۔
تکنیکی طور پر درست ہے، اگر چہ’ کہ‘ کا یہ وزن میں پسند نہیں کرتا۔ اب وارث کے زور دینے پر قبول تو کر لیتا ہوں، مگر ناگواری کے ساتھ۔
اس کے علاوہ ’برہنہ‘ کے تلفظ بھی دو طرح مستعمل ہیں۔ بَر ہَنَہ، بر وزن فاعلن÷ فاعلان، اور برِہ نہ (ہ ساکن)۔ بہت سے اساتذہ، بشمول والد مرحوم موخر الذکر کو پسند کرتے تھے۔
شکریہ بابا جانی ، سراپا سپاس ہوں
 

محمد وارث

لائبریرین
اگر چہ’ کہ‘ کا یہ وزن میں پسند نہیں کرتا۔ اب وارث کے زور دینے پر قبول تو کر لیتا ہوں، مگر ناگواری کے ساتھ۔

اعجاز صاحب کہ اور نہ کا دو ہجائی وزن یعنی فع مجھے بھی پسند نہیں ہے، فقط نوآموز دوستوں کیلیے اس روا سمجھتا ہوں لیکن ساتھ ہی امید کرتا ہوں کہ جب وہ بیان پر کچھ عبور حاصل کر لیں تو پھر انہیں ان کے اصل وزن ہی میں باندھیں :)
 

زلفی شاہ

لائبریرین
محمود کی بات درست ہے۔ کلی اور پھول کا رشتہ نو عمری اور بزرگی کا تو ہو سکتا ہے، لیکن مرد عورت کا نہیں۔ آیت تو درست ہے، (غلط کیسے ہو سکتی ہے؟) لیکن اس کا انطباق درست نہیں۔
تکنیکی طور پر درست ہے، اگر چہ’ کہ‘ کا یہ وزن میں پسند نہیں کرتا۔ اب وارث کے زور دینے پر قبول تو کر لیتا ہوں، مگر ناگواری کے ساتھ۔ اس کے علاوہ ’برہنہ‘ کے تلفظ بھی دو طرح مستعمل ہیں۔ بَر ہَنَہ، بر وزن فاعلن÷ فاعلان، اور برِہ نہ (ہ ساکن)۔ بہت سے اساتذہ، بشمول والد مرحوم موخر الذکر کو پسند کرتے تھے۔
سر جی یہ تو معلوم ہو گیا کہ برہنہ کو فعولن کے وزن پر باندھنا چاہئے لیکن دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا برہنہ کو فاعلن کے وزن پر باندھا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ شعراء اس کو نا پسند تو نہیں کرتے؟
 
Top