1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

ایک مرحوم دوست کی یاد میں - فاخر ہریانوی

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 30, 2013

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    موت نے وہ جامِ مدہوشی تجھے بھر کر دیا
    خونِ جاری کو رگوں میں جس نے پتھر کر دیا
    کھا گئی کس کی نظر عہدِ جوانی میں تجھے
    لے گئی موت اُس سمندر کی روانی میں تجھے
    جس کی تہ سے ڈوب کر کوئی بشر ابھرا نہیں
    کوئی کتنا ہی شناور ہو مگر ابھرا نہیں

    حُسنِ رنگیں کار کا اعجاز مردہ ہو چکا
    پھول ڈالی پر کھلا، کھل کر فسردہ ہو چکا
    کر دیا تقدیر نے باطل فسانہ شوق کا
    درہم و برہم ہوا سب کارخانہ شوق کا
    بھرتے بھرتے عمر کا پیمانہ آخر بھر گیا
    رہ گیا افسوس باقی، مرنے والا مر گیا

    ہاؤ ہو کا شور ہے میخانۂ ایام میں
    ہے شرابِ زندگی تھوڑی بہت ہر جام میں
    پی رہے ہیں رند لیکن محتسب کا ڈر بھی ہے
    پاک دامانی کا بھی دعویٰ ہے دامن تر بھی ہے

    ناچتی پھرتی ہیں شکلیں اس تماشا گاہ میں
    ہو رہا ہے جشنِ شادی زندگی کی راہ میں
    ہنس رہی ہے موت لیکن یہ تماشا دیکھ کر
    زندگی اور زندگی کا شور و غوغا دیکھ کر

    جانتا ہوں میں زمانے کا یہی دستور ہے
    آدمی مجبور ہے تو موت بھی مجبور ہے
    برق ہے موجود ہر اک آشیانے کے لیے
    اٹھتی ہیں دریا میں لہریں بیٹھ جانے کے لیے
    کر رہی ہے ہر سحر پیشین گوئی رات کی
    موت کے اجزا سے ہے ترکیب موجودات کی
    خشک ہو جاتا ہے دریاؤں میں پانی خود بخود
    بند ہو جاتی ہے چشموں کی روانی خود بخود
    باغِ ہستی میں عنادل کا ترنم کچھ نہیں
    جیبِ غنچہ میں یہاں بیش از تبسم کچھ نہیں
    رنگ انساں کیا بدلتا ہے زمانے کی طرح
    ایک دن پس جائے گا چکی کے دانے کی طرح
    موت کی طغیانیوں میں زندگی رہتی نہیں
    آسماں پر جب ہوں بادل چاندنی رہتی نہیں
    چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات ہے
    ہے اگر قائم ہمیشہ تو اُسی کی ذات ہے
    موت کا آنا اٹل ہے عمر کی بنیاد سست
    مانتا ہوں میں کہ یہ بھی ٹھیک ہے وہ بھی درست
    لیکن اِس سے دل کی کچھ تسکین تو ہوتی نہیں
    خاک میں بھی مل گیا موتی تو کیا موتی نہیں
    چل دیا تو دل میں تیری یاد باقی رہ گئی
    اِس شکستہ ساز میں فریاد باقی رہ گئی
    (فاخر ہریانوی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    بھرتے بھرتے عمر کا پیمانہ آخر بھر گیا
    رہ گیا افسوس باقی، مرنے والا مر گیا

    چل دیا تُو، دِل میں تیری یاد باقی رہ گئی
    اِس شکستہ ساز میں فریاد باقی رہ گئی

    چار دن کی چاندنی ہے پھراندھیری رات ہے
    ہے اگر قائم ہمیشہ تو اُسی کی ذات ہے


    تشکّر شیئر کرنے پر
    بہت خوش رہیں :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,462
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    پسندیدگی کے لیے ممنون ہوں شاہ صاحب۔ :)
    یہ نظم مولانا تاجور نجیب آبادی کی مرتب کردہ کتاب 'مدائح و مراثی' سے منتخب کی گئی ہے جس میں ایسی کئی دیگر نظمیں شامل ہیں۔ آپ اس پوری کتاب کا یہاں سے مطالعہ کر سکتے ہیں:
     
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر