ایک شعر

بیٹھے بٹھائے غلطی سے ایک شعر لکھ دیا ہے.
اساتذہ اور دیگر شعراء ذرا پوسٹ مارٹم کر دیں.

لیا ہے فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
 
اسی شعر کی ایک شکل اور کچھ یوں بنی ہے

لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں میں

اساتذہ اور شعراء سے توجہ کی درخواست. :)
 
بیٹھے بٹھائے غلطی سے ایک شعر لکھ دیا ہے.
اساتذہ اور دیگر شعراء ذرا پوسٹ مارٹم کر دیں.
لیا ہے فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
اسی شعر کی ایک شکل اور کچھ یوں بنی ہے
لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں میں
اساتذہ اور شعراء سے توجہ کی درخواست. :)

تابش بھائی ، جب بیٹھے بٹھائے یوں ہی شعر ہونے لگیں تو سمجھئے کہ اب آپ گئے کام سے ! :):):)

دوسرا والا ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ چونکہ بات ورق کی ہے اس لئے یہاں تہہ دار کے بجائے تہہ شدہ کا محل ہے ۔ تہہ دار کے معنی تو کچھ اور ہیں جو آپ جانتے ہی ہیں ۔ اور اس میں دونوں مصرعے زیادہ مربوط نہیں ۔ پہلا شعر بہتر ہے ۔ فیض لینا ویسے تو ٹھیک ہے لیکن فیض اٹھانا یا فیض پانا فصیح ہے۔
ویسے آپ کے اس شعر سے ہمیں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی جو مشاعرے کے بعد کئی اور بازیاب غزلیات کے ساتھ محفل پر پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس غزل کامطلع کچھ یوں ہے:
کب سے لگی ہےاُس کی نشانی کتاب میں
کاغذ مُڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں

باقی پھر ۔ :):):)
 

محمد وارث

لائبریرین
پہلا شعر بہتر ہے۔ تہہ شدہ ورق کو کھولنا یقینی اور حتمی طور پر اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ کسی نے واقعی ہی فیض پایا ہے یا درس لیا ہے۔ لیکن کتاب کا صفحہ موڑنا حتمی طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا یعنی فیض اٹھا رہا تھا اور اس نے صفحہ موڑا، دوبارہ فیض پانے کے لیے۔
 
تابش بھائی ، جب بیٹھے بٹھائے یوں ہی شعر ہونے لگیں تو سمجھئے کہ اب آپ گئے کام سے ! :):):)

دوسرا والا ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ چونکہ بات ورق کی ہے اس لئے یہاں تہہ دار کے بجائے تہہ شدہ کا محل ہے ۔ تہہ دار کے معنی تو کچھ اور ہیں جو آپ جانتے ہی ہیں ۔ اور اس میں دونوں مصرعے زیادہ مربوط نہیں ۔ پہلا شعر بہتر ہے ۔ فیض لینا ویسے تو ٹھیک ہے لیکن فیض اٹھانا یا فیض پانا فصیح ہے۔
ویسے آپ کے اس شعر سے ہمیں اپنی ایک پرانی غزل یاد آگئی جو مشاعرے کے بعد کئی اور بازیاب غزلیات کے ساتھ محفل پر پوسٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔ اس غزل کامطلع کچھ یوں ہے:
کب سے لگی ہےاُس کی نشانی کتاب میں
کاغذ مُڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں

باقی پھر ۔ :):):)
جزاک اللہ ظہیر بھائی خصوصی توجہ کا.
مجھے خود کھٹک رہا تھا دوسرا شعر. اب اطمینان ہو گیا.

پہلے مصرع کی یہ صورتیں بھی ہو سکتی ہیں
ہے پایا فیض کسی نے تو زندگی سے مری
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
لیا ہے درس کسی نے تو زندگی سے مری

کون سی صورت بہتر رہے گی؟


آپ کے مزید کلام کا انتظار رہے گا. :)
 
پہلا شعر بہتر ہے۔ تہہ شدہ ورق کو کھولنا یقینی اور حتمی طور پر اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ کسی نے واقعی ہی فیض پایا ہے یا درس لیا ہے۔ لیکن کتاب کا صفحہ موڑنا حتمی طور پر اس بات کی نشانی ہے کہ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا یعنی فیض اٹھا رہا تھا اور اس نے صفحہ موڑا، دوبارہ فیض پانے کے لیے۔
جزاک اللہ وارث بھائی.
پہلے مصرع جی کچھ مزید صورتیں مندرجہ بالا پوسٹ میں لکھی ہیں، آپ کے نزدیک کون سی مناسب رہے گی؟
 

محمد وارث

لائبریرین
جزاک اللہ وارث بھائی.
پہلے مصرع جی کچھ مزید صورتیں مندرجہ بالا پوسٹ میں لکھی ہیں، آپ کے نزدیک کون سی مناسب رہے گی؟
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
یہ مصرع زیادہ رواں لگ رہا ہے، حشو اور تعقید لفظی سے بھی صاف ، اب اس کو مصرع ثانی کے ساتھ دیکھیں تو

کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں

یہاں کسی کی تکرار ہو گئی ہے لیکن بری نہیں لگ رہی :)

 
کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
یہ مصرع زیادہ رواں لگ رہا ہے، حشو اور تعقید لفظی سے بھی صاف ، اب اس کو مصرع ثانی کے ساتھ دیکھیں تو

کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں

یہاں کسی کی تکرار ہو گئی ہے لیکن بری نہیں لگ رہی :)

اگر کسی کتاب کی جگہ "کتابِ ہست" کر دوں تو کیا یہ ترکیب درست ہے؟
 
ایک لجھن ہے یہاں پر.
کتابِ زیست ایک فرد کی زندگی کو کہا جاتا ہے نہ کہ دنیا کو؟
میں یہاں کتاب کو دنیا سے تشبیہ دینا چاہ رہا ہوں.
 

La Alma

لائبریرین
بہت خوب .خیال بہت عمدہ ہے .
کتابِ عشق کا تہہ دار اک ورق ہوں م

کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری
کسی کتاب کا موڑا ہوا ورق ہوں میں

کسی کتاب ذرا عمومی مفہوم لئے ہوئے ہے.
یوں کر کے دیکھ لیں "کسی " کی تکرار سے بھی بچ جائیں گے اور عمومیت بھی ختم ہو جائے گی .
شعر کی موجودہ صورت بھی ٹھیک ہے .

کسی نے فیض اٹھایا ہے میرے لفظوں سے
کتاب ِ عشق کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
 
بہت خوب .خیال بہت عمدہ ہے .





یوں کر کے دیکھ لیں "کسی " کی تکرار سے بھی بچ جائیں گے اور عمومیت بھی ختم ہو جائے گی .
شعر کی موجودہ صورت بھی ٹھیک ہے .

کسی نے فیض اٹھایا ہے میرے لفظوں سے
کتاب ِ عشق کا موڑا ہوا ورق ہوں میں
جزاک اللہ بہن.
ابھی تو موجودہ صورت ہی بہتر لگ رہی ہے.
 
Top