ایک سوال انشاء کی غزل کے بارے میں

جناب محترم الف عین صاحب، محمد ریحان قریشی صاحب، ابن انشاء کی اس غزل کے بارے میں ذرا رہنمائی فرمائیے، یہ کس بحر میں ہے؟

دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں
ہم سے عجب ترا درد کا ناتا، دیکھ ہمیں مت بھول میاں
اہلِ وفا سے بات نہ کرنا، ہوگا ترا اصول میاں
ہم کیوں چھوڑیں ان گلیوں کے پھیروں کا معمول میاں
یونہی تو نہیں دشت میں پہنچے، یونہی تو نہیں جوگ لیا
بستی بستی کانٹے دیکھے، جنگل جنگل پھول میاں
یہ تو کہو کبھی عشق کیا ہے ؟ جگ میں ہوئے ہو رُسوا بھی؟
اس کے سِوا ہم کُچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں
نصب کریں محرابِ تمنّا، دیدہ و دل کو فرش کریں
سُنتے ہیں وہ کُوئے وفا میں آج کریں گے نزول میاں
سُن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ، نکالی نہر
ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے ہو کیوں طُول میاں
کھیلنے دیں انہیں عشق کی بازی، کھیلیں گے تو سیکھیں گے
قیس کی یا فرہاد کی خاطر کھولیں کیا اسکول میاں
انشاء جی کیا عذر ہے تم کو، نقدِ دل و جاں نذر کرو
روپ نگر کے ناکے پر یہ لگتا ہے محصول میاں
 

فرخ منظور

لائبریرین
غلط ہو گیا۔ یہ
بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف
فعْل فعولن فعلن فعلن فعْل فعولن فعْل فَعَل
اور سارے اشعار اسی بحر میں ہیں۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
اسی بحر میں کلام
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے (غزل) - میر تقی میر
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے (غزل) - جرأت
لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا میخانہ ہے (غزل) - میرا جی
ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی (غزل) - جون ایلیا
 

فرخ منظور

لائبریرین
اس کتاب میں کونسی خاص بات ہے؟

اس کا پیش لفظ پڑھ لیں کچھ اندازہ ہو جائے گا۔
اردو کا اپنا عروض
ڈاکٹر گیان چند جین
پیش لفظ
آمدو آورد کے اعتبار سے کسی قوم کی موسیقی کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ فطری سطح پر لوک سنگیت ہوتا ہے اور سب سے زیادہ صنعت آمیز استادی موسیقی موسیقی میں جذبہ خیال بسانے کے لیے الفاظ کا سہارا لے کر شعر کہے جاتے ہیں جس طرح استادی موسیقی کی لے بندی کے لیے سر اور تال کی بنا پر مختلف راگ بنائے گئے اسی طرح شاعری کے بولوں کو مض۔بوط کرنے کے لیے عروض کافن اختراع کیا گيا عروض وسیلہ ہے شاعری مقصود کسی قوم کا عروض اس قوم کی موسیقی احساس ترنم کا آئينہ دار ہوتا ہے قوم کے احساس موزونیت کے سب سے کھرے نشاں گر لوک گيت، بعض موزوں کہاوتیں اور بچوں اور بے پڑھوں کی تک بندیاں ہوتی ہیں اہل اردو میں یہ سب ہندوستان اوزان میں ہیں۔
اردو شاعری کے قدیم مستند نمونے دکن میں ملتے ہیں جہاں دو ایک صدی تک زیادہ تر عوامی یا ہندی اوزان میں شاعری کی گئی نظامی کی مثنوی کدم راؤ پدم راؤ مستشنی ہے کہ یہ عربی فارسی وزن میں ہے بعد میں فارسی کے اثر سے عربی فارسی اوزآن آتے کئے۔ اردو زبان عرب و عجم و ہند کے مشترکہ مزاج کی نمائندہ ہے لیکن اردو عروض میں محض عرب و عجم کا فن پایا جاتا ہے ہندوستان کی کوئی نمائیندگی نہیں ۔ اردو کے ماہرین عروض فارسی عروض میں نہ کوئی نئی بحر شامل کی نہ کسی بحر میں ترمیم کی جب کہ فارسیوں نے عربی عروض میں یہ عمل کیا تھا واضح ہو کہ ایرانیوں کا مزاج موسیقی عربی موسیقی سے مختلف ہے اور اس کا اظہار ابتدائی فارسی شاعری میں ہوتا ہے۔ حبیب اللہ غضنفر نے انپی کتاب "اردو کاعروض" میں فارسی شعرا کے لیے متعدد اشعار درج کئے ہیں جن کے لیے وہ کہتے ہیں۔

"یہ صرف تیسری اور چوتھی صدی کے شعرا کے کلام سے کچھ نمونے پیش کئے گئے ہیں۔ اگر ان اشعار کی تعطیع کی جائے گي تو معلوم ہو گا کہ عربی عروض کے قواعد سے یہ اشعار ناموزوں ہیں۔"
وجہ صاف ہے کہ ایرانیوں کاموسیقیانہ مزاج عربوں سے مختلف تھا جس پر عربی عروض تھوپ دیا گيا۔ یہی کیفیت اردو کی ہے گجری اور دکنی کے صوفی شعرا میں پیشتر کا کلام فارسی عروض کے لحاظ سے غیر موزوں ؛ہے لیکن وہ ہندوستان مزاج کے مطابق ہے۔ بہرحال آہستہ آہستہ اردو کے مزاج میں فارسی عروض اس طرح در آتا گيا کہ اب وہ اہل اردو کے شعری مزاج کا جزو لاینفک ہو گيا ہے ۔ عروض سے بالکل ناواقف شعرا ان عربی اور فارسی اوزان مین بے عیب شعر کہتے ہیں اس سے یہ غلط فہیمی نہ ہو کہ اردو شعرا نے عربی فارسی عروض کو جیسے کا تیسا قبول کر لیا ہے۔ انھوں نے عربی فارسی کے بہت سے اوزان کو رد کیا ہے ان اووان میں مجوزہ بہت سی آزادیوں کو قبول نہیں کیا۔ اور متعدد نئے اوزان شامل کئے ہیں افسوس یہ ہے کہ عروضیوں کو ان کی خبر نہیں۔ اردو عروض جامد رہا۔ شاعری آگے بڑھ گئی ۔ عروض نے شعرا کے اجتہادات کی گرفت نہیں کی۔
لغت بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ موجودہ لغات کو سامنے رکھ کر ان کی مدد سے ایک نئی لغت وضع کر لی جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ادب کو کھنگال کر اس سے الفاظ و مفاہیم لیئے جائيں جیسا کہ اردو لغت بورڈ کراچی کر رہا ہے عروضی کتاب لکھنے کا بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ مروجہ کتابوں کو سامنے رکھ کر ایک نئي کتاب لکھ دی جائے صحیح تر طریقہ یہ ہوگا۔ کہ عربی فارسی عروضی کے صرف انھیں حصوں کر لیا جائے جو اردو کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں۔ اہم تر کام اضافوں کا ہوگا۔ اردو شاعری میں مسلسل ہیتی تجربے ہوتے رہے ہیں عروض کو ان سب کو شناخت کر کے اپنے اندر شامل کر لینا چاہیے مجھے ان اہل مکتب پر رحم آتا ہے جو عروض کو مقصود بالذات سمجھتے ہیں جو اردو شاعری کو عربی فارسی عروض کا حلقہ بگوش بنانا چاہتے ہیں جن کی دستار فضیلت کا سب سے رنگين پھول یہ بحث ہے کہ فلاں وزن مین فلاں مقام پر فلاں زحاف آ سکتا ہے کہ نہیں انھیں جاننا چاہیے کہ عروض کو شاعری کی متابعت کرینی ہے شاعری کو عروض کی نہیں کوئی بڑا عروضی بڑا شاعر نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوتا تو محقق طوسی فارسی کے اور سحر عشق آبادی جدید اردو کے سب سے بڑے شاعر ہوتے۔
میں نے ایک ابتدائی کوشش کی ہے کہ اردو عروض کو ارودو شاعری کے سفر میں شریک کروں اسے عربی فارسی کا مثنی نہ رہنے دوں۔ میں نے آخر الذکر کے ان اوزان کو شامل نہیں کیا جنھیں عام اردو شاعری اور قاری قبول نہیں کرتا۔ میں نے ہندی کے ان تمام اوزان کو لیا ہے جو اردو شاعری کا جزو ہو گئے ہیں۔ انھیں اردو ارکان میں ظاہر کیا ہے عروض کی کتاب میں پہلی بار آزاد نظم کے اوزآن کے سانچے مقرر کرنے کی کوشش کی ہے۔
نظم طباطبائی نے تلخیص عروض میں لکھا ہے۔:
علامہ سکاکی نے مقتاح میں شکایت کی ہے کہ عروض نے اس کثرت سے اصطلاحات بنائے ہیں کہ ایک نئی زبان معلوم ہوتی ہے ۔ پہلے اس زبان کو سیکھ لو پھر عروض کو سمجھو۔"
 
بہت شکریہ فرخ منظور صاحب ۔ ۔ ۔ محمد ریحان قریشی صاحب بھی اپنی قیمتی آرا سے مستفید کریں۔ ۔ ۔
میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے جناب۔ مزمل شیخ بسمل صاحب نے متقارب مثمن مضاعف اثرم مقبوض محذوف(فعل فعول فعول فعول فعول فعول فعول فعَل) کو بحرِ ہندی قرار دیا ہے مگر اساتذہ کے کئی مصرع اس بحر اور تسکینِ اوسط سے حاصل کیے جانے والے 256 اوزان پر پورا نہیں اترتے۔ رہی بات فرخ صاحب کی تو انھیں خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہ رہے ہیں، میں کیا کہ رہا ہوں اور اختلاف کس بات کا ہے۔ جیسا کہ محمد خلیل الرحمٰن صاحب نے کہا تھا کہ عروض ڈاٹ کام پر تکیہ کیے بیٹھے رہنے سے کچھ ایسی ہی صورتحال جنم لیتی ہے۔
 
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
میں نے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے جناب۔ مزمل شیخ بسمل صاحب نے متقارب مثمن مضاعف اثرم مقبوض محذوف(فعل فعول فعول فعول فعول فعول فعول فعَل) کو بحرِ ہندی قرار دیا ہے مگر اساتذہ کے کئی مصرع اس بحر اور تسکینِ اوسط سے حاصل کیے جانے والے 256 اوزان پر پورا نہیں اترتے۔ رہی بات فرخ صاحب کی تو انھیں خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہ رہے ہیں، میں کیا کہ رہا ہوں اور اختلاف کس بات کا ہے۔ جیسا کہ محمد خلیل الرحمٰن صاحب نے کہا تھا کہ عروض ڈاٹ کام پر تکیہ کیے بیٹھے رہنے سے کچھ ایسی ہی صورتحال جنم لیتی ہے۔
مبتدی کم از کم عروض ڈاٹ کام سے کافی مدد حاصل کر سکتے ہیں بالخصوص تقطیع کے حوالے سے
 

عاطف ملک

محفلین
جناب محترم الف عین صاحب، محمد ریحان قریشی صاحب، ابن انشاء کی اس غزل کے بارے میں ذرا رہنمائی فرمائیے، یہ کس بحر میں ہے؟
اس طرح کے طالب علموں کو استاد کلاس کے باہر بھیج دیتے ہیں کہ "منڈا اس عمر وچ او سوال کردا اے جیہڑے مینوں نی آندے ":p
اللہ تہاڈا بھلا کرے:)
 
اس طرح کے طالب علموں کو استاد کلاس کے باہر بھیج دیتے ہیں کہ "منڈا اس عمر وچ او سوال کردا اے جیہڑے مینوں نی آندے ":p
اللہ تہاڈا بھلا کرے:)
جس طرح دی گفتگو شروع ہوگئی اے بعد وچ میں ہن guilty فیل کر ریا واں۔ اللہ دی قسمے مینوں اے وی نئی سی پتہ کہ سوال اینا اوکھا ہیگا اے۔
 

عاطف ملک

محفلین
جس طرح دی گفتگو شروع ہوگئی اے بعد وچ میں ہن guilty فیل کر ریا واں۔ اللہ دی قسمے مینوں اے وی نئی سی پتہ کہ سوال اینا اوکھا ہیگا اے۔
ایک چمچ کشتہِ حسن و لطافت
ایک چمچ معجونِ ظلم و شقاوت
دو چمچ شربتِ رنجِ رقابت میں گھول کر
جب جب guilt محسوس ہو،تب پیئیں۔
شکریہ
 
ایک چمچ کشتہِ حسن و لطافت
ایک چمچ معجونِ ظلم و شقاوت
دو چمچ شربتِ رنجِ رقابت میں گھول کر
جب جب guilt محسوس ہو،تب پیئیں۔
شکریہ
عاطف بھائی کمال کرتے ہو، ایک لمحہ کے لیے میں سمجھا واقعی کوئی نسخہ ہے، میں تو لکھنے لگا تھا کاپی پر :p
خیر مقصد سوال کا یہ تھا کہ اس غزل کی پیروڈی کرنے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن عروض کے حوالے اس کا بقول جناب الف عین صاحب شتر گربہ ہو گیا ہے اور ایسا شتر گربہ ہوا ہے کہ مجھے خود سمجھ نہیں آرہی۔ مجھے تو بہتری کی کوئی تدبیر نہیں سوجھ رہی اس لیے ردی کی نظر کر رہا ہوں اپنی طرف سے۔ آپ سب حضرات سے معذرت کے ساتھ یہ تک بندی یہاں فری وئیر کے طور پر شئیر کر دیتا ہوں، اگر کسی کے کام آ سکے۔

دیکھ تیرے ماتھے پر ہے آٹے کی یہ دھول میاں
تیرا مطبخ سے ہے رشتہ اس کو تو مت بھول میاں
کنوراوں سے یوں بات نہ کرنا ہوگا ترا اصول میاں
وہ کیوں چھوڑیں آزادی سے جینے کا معمول میاں
یونہی تو نہیں دھوئے ہیں کپڑے یونہی تو نہیں سوپ(soap) لیا
مکے تھپڑ کھا کے دیکھے اب ہوئے سب پھول میاں
یہ تو کہو کبھی مار ہے کھائی گلی میں ہوئے ہو رُسوا بھی
اس کے سِوا ہم کُچھ بھی نہ پوچھیں، باقی بات فضول میاں
درست کیا فرنیچر کو اب دھو کر سارے برتن بھی
سُنتے ہیں اس گھر میں آج ساس کریں گے نزول میاں
کرتو لی کسی نار سے شادی کرکے خرچہ بیچ کے گاڑی
ایک ذرا سے قصے کو اب دیتے ہو کیوں طُول میاں
کھیلنے دو میرے بچوں کو مجھ کو تھوڑا سونے دو
اپنی اس نیند کی خاطر ڈالیں انھیں کیا اسکول میاں
شوہر جی کیا عذر ہے تم کو نقد مال و زر نذر کرو
بیگم کے میکے جانے پر لگتا ہے محصول میاں
 
Top