ایک بات کہنی ہے

محمود احمد غزنوی نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 1, 2009

  1. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    ایک بات کہنی ہے
    تم ملی ہو تو یہ احساس ہوا ہے دل میں
    اک حسیں پھول کھلا ہے دل میں۔ ۔ ۔ ۔
    سوچتا ہوں کہ آج اِس کی مہک
    ان فضاؤں میں بکھر جانے دوں
    چند لفظوں کے حسیں سانچے میں ڈھل جانے دوں
    جیسے بارش کے بعد دھرتی کے۔ ۔ ۔
    سبھی گوشے نکھر سے جاتے ہیں
    جیسے قوسِ قزح کے کومل رنگ۔ ۔ ۔ ۔
    آسمانوں پہ بکھر جاتے ہیں۔ ۔ ۔
    بادلوں کے اتھاہ سمندر سے
    چاندنی چھن کے جیسے آتی ہے
    شب کے صحرا میں بانسری کی صدا
    دم بدم پھیلتی سی جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    آج ایسے ہی تیرے پہلو میں۔ ۔ ۔
    میں یہ چپکے سے ترے کانوں میں
    ایک نازک سی بات کہہ ڈالوں۔ ۔ ۔
    "مجھے تم سے محبت ہے۔ ۔ ۔
    مجھے تم سے محبت ہے"۔ ۔ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 15
    • زبردست زبردست × 2
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ کیا خوبصورت احساسات کا مجموعہ ہے۔ سبحان اللہ! مبارک باد قبول کیجیے حضور۔
    لیکن جیسا کہ پہلے بھی اعجاز صاحب نے نشان دہی کی تھی کہ آپ اکثر رمل اور خفیف کی دونوں بحور کو آپس میں خلط کر دیتے ہیں یعنی "فاعلاتن مفاعلن فعلن" اور "فاعلاتن فعِلاتن فعلن"۔ اس نظم میں بھی بعینہ یہی ہوا ہے۔
    اسی طرح اس نظم میں چند مصرعے رمل "مثمن" مخبون محذوف مقطوع (فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن) میں ہیں اور چند رمل "مسدس" مخبون محذوف مقطوع (فاعلاتن فعِلاتن فعلن) میں لیکن آزاد نظم کی حد تک مسدس اور مثمن کا اختلاط جائز ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,518
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    لیکن خفیف کا دخل گوارا نہیں۔ امید ہے فاتح بھی مجھ سے متفق ہوں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    رسید حاضر ہے محمود صاحب ،
    میں ابھی کچھ عرض کرتا مگر مخبو ن مخبوط مثمن مخلوط کی گردان کی وجہ سے جی متلانے لگا ہے
    سو پھر حاضر ہوجاؤ ں گا۔
    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    میں نے جائز والی بات دوسرے پیراگراف میں کی تھی کہ آزاد نظم کی حد تک کسی بھی بحر کو "مسدس" اور "مثمن" دونوں طرح ایک ہی نظم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رمل اور خفیف کا اختلاط تو بہرحال جائز نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    جون ایلیا کا ایک شعر یاد آ گیا۔ اگر اجازت ہو تو دل ہلکا کروں؟
    طنز پیرایۂ تبسم میں
    اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
    یہ جون ایلیا بھی کمال ہیں کہ ایک شعر کیا لکھا انہی کے دو مزید اشعار دماغ میں درّانہ وار چلے آئے۔ انہیں بھی سن لیجیے:
    مسائل اس طرح سلجھا رہا تھا
    کہ باتوں میں فقط الجھا رہا تھا

    محبت اس کے بس کا روگ کب تھی
    تماشہ شہر کو دکھلا رہا تھا
    متلی کے لیے انار لیجیے۔ انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
  7. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    وہ کیا ہے کہ جون ہی نے کہا تھا،

    کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں
    اصلاح مگر ہم بھی اب اصلا نہ کریں گے

    افطار کے بعد لے لوں گا انار بھی ،:silly:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  8. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    کم گوئی کہ اک وصفِ حماقت ہے بہ ہرطور
    کم گوئی کو اپنائیں گے چہکا نہ کریں گے;)
    اس پوری غزل میں جون کا لہجہ کسی اور ہی حقیقت پر غماز ہے۔:) مثلاً
    اخلاق نہ برتیں گے، مداوا نہ کریں گے
    اب ہم بھی کسی شخص کی پروا نہ کریں گے
    اور
    اب سہل پسندی کو بنائیں گے وتیرہ
    تادیر کسی باب میں سوچا نہ کریں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
  9. ظفری

    ظفری محفلین

    مراسلے:
    11,549
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Question
    بہت خوب ۔۔۔۔۔ محمود صاحب ۔ بہت پسند آئی یہ نظم ۔
    بہت عرصہ قبل ہم نے بھی کچھ اسی طرح کی نظم لکھ ماری تھی ۔ چونکہ ہم علمِ عروض کے متاثرین میں سے ہیں ۔ اس لیئے کبھی ہمت نہ ہوسکی کہ اس کو یہاں ارسال کریں ۔ ;)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ارے صاحب ، بسم اللہ کیجیے یہ اپنوں کی ہی محفل ہے ۔ کسی نے بہت تھوڑی ہی اڑانی ہے ۔ ہم منتظر ہیں ۔شدّت سے/۔
     
  11. مدرس

    مدرس محفلین

    مراسلے:
    736
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    میں‌بھی تائید کرتا ہوں‌
    ضرور پیش کریں‌
    شہسوار ہی گرا کرتے ہیں میدان میں وہ کیاگریں گے جو گھٹنوں کے بل چلیں‌
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    مدرس صاحب یعنی آپ یوں کہنا چاہتے ہیں کہ ::

    "گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. مدرس

    مدرس محفلین

    مراسلے:
    736
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اصلاح کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مغل صاحب یعنی آپ یہ کہنا چاہتے تھے۔

    "گرتے ہیں شہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے"
    :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    تصحیح کا شکریہ ، مگر اب میں مخمصے میں ہوں‌کہ میں نے متذکرہ شعر اسی طرح‌سنا تھا۔ چوں کہ آپ کے مطالعے میں ہوگا یقیناً‌سو میں‌درست کیے دیتا ہوں۔شکریہ فرخ بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold

    آپ بھی تحقیق کیجیے۔ اور ہو سکے تو کوئی حوالہ بھی دے دیجیے گا۔ اس دوران میں بھی کوئی حوالہ ڈھونڈتا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ضرور ، کیوں نہیں ، ویسے آپ کی بات اب دل کولگتی ہے۔،۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,220
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بہت خوب نظم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    نظم اچھی ہے اور جو کمی یا خامی ہے اس کی احباب پہلے ہی نشاندہی کر چکے ہیں اس لیے مزید کی گنجائش نہیں، سو داد قبول کیجیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. اسد قریشی

    اسد قریشی محفلین

    مراسلے:
    172
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    (مروجہ)

    شہزور اپنے زور میں گرتا ہے مثلِ برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    (مرزا عظیم بیگ)

    حقیقت :

    مرزا عظیم بیگ کا ذکر محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب "آبِ حیات" میں کیا ہے ایک محفل میں سید انشاء کے ساتھ مرزا عظیم بیگ بھی تھے، اس ذکر کا خلاصہ کچھ یوں ہے.

    "ان لوگوں میں مرزا عظیم بیگ تھے کہ "سودا" کی شاگردی اور پرانی مشق کے گھمنڈ نے ان کا دماغ بہت بلند کر دیا تھا، وہ فقط شد بد (معمولی) کا علم رکھتے تھے مگر خود کو ہندوستان کا صائب (ایران کا اک مشہور شاعر) کہتے تھے، ایک دن انہوں نے مرزا ماشاء الله خاں (انشا کے والد) کے سامنے ایک غزل سنائی جو بحرِ رجز میں تھی مگر ناواقفیت سے کچھ شعر بحر ِرمل میں جا پڑے تھے، سید انشاء تاڑ گئے اور بہت تعریف کی اور اسرار کیا کہ مرزا صاحب اس کو آپ مشاعرے میں ضرور پڑھیں. انھوں نے پڑھی اور انشاء نے وہیں ان سے تقطعی کی فرمائش کر دی. اس غریب پر جو کچھ گزری سو گزری مگر انشاء نے ایک مخمس پڑھا جس کا مطلع یہ ہے:

    گر تو مشاعرے میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی حد سے اپنی نہ باہر نکل چلے
    بحر ِرجز میں ڈال کے بحرِ رمل چلے

    مرزا عظیم بیگ نے گھر جا کر اس کا جواب لکھا جس کا ایک بند حاضر ہے

    موضونی و معنی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیلیِ بحرسے ہوئے بحرِ خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہزور اپنے زور میں گرتا ہے مثل ِبرق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

    کتابت کی غلطی اگر کہیں ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں کہ ابھی اسقدر واقف نہیں۔

    بہت شکریہ!
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر