اہرام مصر اور مستقبل بینی

حمیر یوسف نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 26, 2015

  1. حمیر یوسف

    حمیر یوسف محفلین

    مراسلے:
    169
    موڈ:
    Bookworm
    مصر کے اہرام اور انکی تفضیلات:

    کتاب: سفر نامہ ابن بطوطہ (ترجمہ انیس احمد جعفری صفحہ 50۔ ناشر نفیس اکیڈمی)

    )فرعون مصر خیفرے کا اہرام ابوالہول کے ساتھPyramid of Khafre with Great Sphinx of Giza)
    [​IMG]

    اہرام بھی عجائبات میں سے ایک ہیں۔ لوگوں نے انکےمتعلق بہت لکھا ہے اورغور وغوص کیا ہےکہ انکی تعمیر و تاسیس کب ہوئی؟ کہتے ہیں کہ طوفان نوح سے قبل جتنے بھی علوم ظاہر ہوئے اور ہرمس اول (سب سے پہلا فرعون) سے چلے گئے ہیں۔ انکا مسکن سعید مصر اعلیٰ تھا۔ جنکو خنوق کہتے ہیں۔ یہی حضرت ادریس علیہ السلام بھی ہیں۔ انہیں نے پہلے حرکات فلکیہ اور اجرام علویہ سے بحث کی ہے۔ یہی وہ پہلے شخص بھی ہیں جنہوں نے ہیکل (آبزوٹری) قائم کی ہے جو نمونہ شان الہیٰ تھا۔ انہیں ادریس علیہ السلام نے طوفان نوح کی پیشن گوئی سے لوگوں کو ڈرایا اور اس امر کا اندیشہ کیا کہ جب طوفان نوح آئے گا تو تمام علوم نیست و نابود اور کل عمارات اور کارخانے منہدم ہوجائے گے۔ اس طوفان نوح سے حفاظت کے لئے اہرام و برابی قائم کئے گئے۔ اور جملہ صنائع و آلات کی صورتیں اور نقشے ان عمارات میں ثبت کئے اور ان تمام عمارات میں تمام علوم مرسوم کئے تاکہ انکو دوامی اور پائیداری حاصل ہو۔

    [​IMG]
    اہرام مصر میں ایک فرعون کی قبر پر بنے جند تصویری نقشے، جنکو قدیم مصری زبان بھی کہاجاتا تھا۔ اسکو ہائیرو گلف hieroglyphs
    بھی کہتے ہیں۔ اس میں چند ہائیرو گلف میں واضح آپکو ایک ہیلی کاپٹر، آبدوز اور ہوائی جہاز کی تصاویر دکھائی دے رہی ہیں۔یہ ایک مصری فرعون سیتی اول Seti I کی قبر و تابوت کے اوپر نقش کئے گئے تھے جو آج سے تقریبا ساڑھے تین ہزار برس پہلے قدیم مصر کا حکمران تھا

    [​IMG]

    سیتی اول، فرعون مصر۔ عہد حکومت
    1294 BC to 1279 BC یا 1290 BC to 1279 BC
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  2. حمیر یوسف

    حمیر یوسف محفلین

    مراسلے:
    169
    موڈ:
    Bookworm
    ازرائے کرم اس لڑی کا عنوان "اہرام مصر اور مستقبل بینی " سمجھا جائے نہ کہ "مستقل بینی"۔ عنوان رکھتے ہوئے ایک معمولی سی ٹائپنگ کی غلطی ہوگئی، اس کو صحیح کرلیا جائے۔ شکریہ
     
  3. m s aimun

    m s aimun محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ادریس علیہ السلام ماضی قریب کےانبیاء میں سے ہیں جبکہ نوح علیہ السلام ماضی بعید کے نبی ہیں یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے متصل دور کے اور ادریس علیہ السلام حضرت لوط علیہ السلام کے دور کے لگ بھگ لہٰذ ادریس علیہ السلام کا طوفان نوح میں کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی یہ اہرام فراعین مصر کے مقبروں کے لیئے بنے ہیں ۔ بلکہ یہ اہرام یوسف علیہ السلام نے بنوائے تھے جنہیں مصرف نہ ہونے پر فراعین کے مقبروں میں تبدیل کردیا گیا ۔
    (م ص ایمن )۔۔ (محقق مصنف ماہر تقویم )
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    4,972
    ایمن بھیا! اپنا تفصیلی تعارف کروانے کے لیے درج ذیل ربط پر کلک کریں۔
    اپنا تعارف کروائیں!
     
  5. ابو کاشان

    ابو کاشان محفلین

    مراسلے:
    1,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لیکن تاریخ کی کتابوں میں حضرت ادریس علیہ السلام کو حضرت نوح علیہ السلام کے پردادا بھی بتایا گیا ہے۔ مثلا "نوح (علیہ السلام) بن لامک بن متوشالح یا متوشالخ بن ادریس [ حنوک یا اخنوک ] بن یارد بن مہلل ایل بن قینان بن انوس بن شیث(علیہ السلام) بن آدم(علیہ السلام)۔" یہ ویکیپیڈیا میں ہے۔
     
  6. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    1,892
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Sad
    مشہور تاریخ کی کتاب طبقات ابن سعد میں بھی شاید ایسا ہی ہے۔
     
  7. نکتہ ور

    نکتہ ور محفلین

    مراسلے:
    631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اتنے سالوں سے لڑی کا عنوان درست نہ ہو سکا۔
     
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    33,712
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    InLove
    جب لڑی ہی غلط ہے تو عنوان درست کرنے کا فائدہ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  9. نکتہ ور

    نکتہ ور محفلین

    مراسلے:
    631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    تو پھر لڑی کا بھی کیا فائدہ، اڑا دیا جائے۔
     

اس صفحے کی تشہیر