1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

عالی اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے - جمیل الدین عالی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    غزل
    (جمیل الدین عالی - 1925-2015 ، کراچی)
    اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
    کہتا ہے تکلّف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے


    کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گی
    کچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو، دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے


    کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا، کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھا
    پھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چُپ ہو کر رہ جاتا ہے


    خود اُس سے کہا گھر آنے کو اور اُس کے بنا مر جانے کو
    اور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے


    اے بچو! اے ہنسنے والو! تاریخِ محبت پڑھ ڈالو
    دل والے کے دل پر قید نہیں، ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے
     

اس صفحے کی تشہیر