مصطفیٰ زیدی اُدھر اسی سے تقاضا ئے گرمیؑ محفِل ۔ غزل

غزل قاضی

محفلین
اُدھر اسی سے تقاضا ئے گرمیء محفِل
اِدھر جگر کا یہ عالم کہ جیسے برف کی سِل

نہ جانے کون سی عجلت تھی اے تصّوُرِ دوست
ابد کا لمحہ بھی مشکل سے ہو سکا شامِل

ہم اپنے پاسِ روایاتِ عاشقی میں رہے
ہمارے پاس سے ہو کر گزر گیا محمِل

ابھی اُمنگ میں تھوڑا سا خُون باقی ہَے
نچوڑ لے غمِ دنیا ، نچوڑ لے غمِ دل

مصطفیٰ زیدی

(شہرِ آذر)
 
Top