اُداس لمحے

آوازِ دوست

محفلین
گہری شاموں کے اُداس لمحے
ویران راہوں کے کُچھ چراغ

کسی نقشِ پا کے منتظر
دھیرے دھیرے سُلگ رہے ہیں

تنہائیوں کا سفر شُروع ہے
جُدائیوں کی ڈگر سے آگے

خود فریب لمحوں کا دامن
اِک بے یقیں سی آرزو ہے

یہ وقت امر ہو چُکا ہے
زمین و فلک کے ساتھ رہنا

میری باتیں کہتے رہیں گے
زرد پتوں پہ جو لکھا تھا

ہوا سُنائے گی یاد رکھنا
گہری شاموں کے اُداس لمحے

یاد آئیں گے یاد رکھنا
فضا میں بنتی تصویریں

یادوں کی بجتی شہنائیاں
بہت ستائیں گی یاد رکھنا

پھر بچھڑنے کو تم نہ ملنا
پھر نہ ہم سے ہو پائے گا

نہ کُچھ کہیں گے ہم کسی سے
نہ ہم ملیں گے یاد رکھنا

سوالوں کے تِشنہ جواب دینا
وہ نیند لے کر خواب دینا

خوشبو تو روح میں اُترچُکی ہے
مہک جائیں گے یاد رکھنا

تمہارے جُلو میں یہ شامیں سُنہری
نہ بھول پائیں گے یاد رکھنا

(دفینہ پارٹ 3)
 

ابن رضا

لائبریرین
پہلے تو اچھی کوشش کے لیے داد

آپ کی اس نظم کے لیے کچھ صلاح مشورے

نمبر 1: سب سے پہلے جو بھی صنفِ نظم آپ نے خیال آرائی کے لیے منتخب کی ہو اس کی ہیت اور طریقِ کار کے متعلق چند بنیادی چیزوں کا اہتمام لازم ہے یعنی آپ کو علم ہو کہ آپ آزاد نظم کہہ رہے ہیں، غزل کہہ رہے مثنوی کہہ رہے ہیں قطعہ لکھ رہے ہیں وغیرہ

جیسے آپ اگرکوئی آزاد نظم لکھنا چاہتے ہیں تو اس میں دو دو مصرعوں یا شعر کی صورت میں عمومی طور پر نہیں لکھا جاتا بلکہ سطروں کی صورت میں ہی ایک تسلسل کے ساتھ لکھ دیا جاتا تاہم مثنوی اور غزل وغیرہ کی صورت میں ایسا کیا جاتا ہے کہ ہر شعر علیحدہ علیحدہ نظر آئے۔

نمبر 2: وزن، آپ کی نظم مفاعلاتن کے قریب تر ہے تھوڑی سی کوشش سے وزن کی کمی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے

نمبر 3: باقی محاسن اور عیوب تو بعد کی باتیں ہیں
 
آخری تدوین:
Top