فراز اول اول کی دوستی ہے ابھی ۔ فراز

فاتح

لائبریرین
اوّل اوّل کی دوستی ہے ابھی
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی
میں بھی شہرِ وفا میں نو وارد
وہ بھی رُک رُک کے چل رہی ہے ابھی
میں بھی ایسا کہاں کا زُود شناس
وہ بھی، لگتا ہے، سوچتی ہے ابھی
دل کی وارفتگی ہے اپنی جگہ
پھر بھی کچھ احتیاط سی ہے ابھی
گر چہ پہلا سا اجتناب نہیں
پھر بھی کم کم سپردگی ہے ابھی
کیسا موسم ہے کچھ نہیں کھِلتا
بُوندا باندی بھی دھوپ بھی ہے ابھی
خود کلامی میں کب یہ نشّہ تھا
جس طرح روبرو کوئی ہے ابھی
قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دُوریوں میں بھی دلکشی ہے ابھی
فصلِ گُل میں بہار پہلا گلاب
کس کی زلفوں میں ٹانکتی ہے ابھی
رات کس ماہ وش کی چاہت میں
یہ شبستاں سجا رہی ہے ابھی
میں کسی وادیِ خیال میں تھا
برف سی دل پہ گر رہی ہے ابھی
میں تو سمجھا تھا بھر چکے سب زخم
داغ شاید کوئی کوئی ہے ابھی
دور دیسوں سے کالے کوسوں سے
کوئی آواز آ رہی ہے ابھی
زندگی کوئے نا مرادی سے
کس کو مڑ مڑ کے دیکھتی ہے ابھی
اس قدر کھِچ گئی ہے جاں کی کماں
ایسا لگتا ہے ٹوٹتی ہے ابھی
ایسا لگتا ہے خلوتِ جاں میں
وہ جو اک شخص تھا، وہی ہے ابھی
مدتیں ہو گئیں فراز مگر
وہ جو دیوانگی سی تھی، ہے ابھی
(احمد فراز)
 

فاتح

لائبریرین
لاجواب غزل پیش کی ہے آپ نے ۔ مگر ایک آدھ جگہ شاید کچھ الفاظ رہ گئے

پذیرائی کا شکریہ میر انیس صاحب۔ جہاں جہاں آپ کی رائے میں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں ان الفاظ یا مقامات کی نشان دہی فرما دیجیے کہ درستگی میں سہولت رہے۔
 

طارق شاہ

محفلین
بہت خوب !
فراز صاحب کی یہ غزل جناب ناصر کاظمی کی مشورِ زمانہ غزل

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

کی زمین میں ہے

خلیل صاحب لڑی زندہ کرنے کا شکریہ !

فرازصاحب کا وہ کلام جو یہاں نہیں، وہ وقتاََ فوقتاََ ڈالتا رہونگا

تشکّر
 

فاتح

لائبریرین
احمد فراز کی یہ خوبصورت غزل چھایا گنگولی اور معین خان کی آوازوں میں
اک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھی
 

فاتح

لائبریرین
بہت خوب !
فراز صاحب کی یہ غزل جناب ناصر کاظمی کی مشورِ زمانہ غزل

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

کی زمین میں ہے

خلیل صاحب لڑی زندہ کرنے کا شکریہ !

فرازصاحب کا وہ کلام جو یہاں نہیں، وہ وقتاََ فوقتاََ ڈالتا رہونگا

تشکّر
اور ناصر کاظمی نے بھی قافیہ و ردیف تو میر تقی میرؔ کی اس غزل کا برتا جب کہ صرف بحر تبدیل کر دی:
ان حنائی دست و پا سے دل لگی سی ہے ابھی​
میں نے ناخن بندی اپنی عشق میں کی ہے ابھی​
اگر میر نے خود بھی اپنے سے پہلے کے کسی شاعر کی زمین یا قافیہ و ردیف برتا ہو تو میرے مطالعہ میں نہیں۔
 
Top