اوزانِ رباعی کے دو قاعدے

ربیع م

محفلین
میری توبہ جو آئندہ رباعی لکھنے کا سوچا بھی
لا حول و لا قوۃ الا باللہ

لا حول و لا قوۃ شاعر بننا کتنا مشکل کام ہے۔ ہماری توبہ جو شاعری کے بارے میں سوچا تو
خالی توبہ سے کام نہیں چلے گا۔۔۔۔۔
 
محنق اور مسکن کو میں شروع سے ایک دوسرے کے قائم مقام کے طور پر استعمال کرتا رہا ہوں۔ :)
یہ میرا خیال ہے آپ کی ایک اور غلطی ہے۔ تخنیق اور تسکین ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ تسکینِ اوسط کے عمل کے لیے تین حرکات کا ایک جگہ متواتر آ جانا کافی ہے۔ خواہ وہ ایک رکن متوالی الحرکات ہو خواہ دو ارکان کے نکتۂِ اتصال پر تین حرکات اکٹھی ہو جائیں۔ تخنیق اس کے برعکس ایک بالکل منفرد زحاف ہے۔ یہ تسکینِ اوسط کے برعکس ہزج سے مخصوص ہے اور خرم کے مقابل حشوین میں مفاعیلن کا "م" اڑا دینے کا نام ہے (یا بعض کے نزدیک کسی بھی ایسے رکن کا پہلا متحرک حرف اڑا دینے کا نام ہے جو حشو یا عروض و ضرب میں موجود ہو اور وتدِ مقرون سے شروع ہو)۔اس سے پہلے آپ ان دونوں کی تعریفیں بھی خاصی خلط ملط کر گئے ہیں:
عجمی عروض میں دو رویے رائج رہے ہیں۔ اگر ایک ہی رکن میں تین متحرکات یکجا ہو جائیں تو ان میں درمیان والے کو ساکن کردیا جاتا۔ اور اسے تسکینِ اوسط کا نام دیتے۔ اور اگر دو ارکان کو جمع کرکے تین متحرکات یکجا ہو رہے ہیں تو بھی درمیان والے کو ساکن کیا جاتا، لیکن اسے تسکینِ اوسط نہیں، بلکہ تحنیق کہا جاتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ تحنیق کی اصطلاح کم ہوگئی اور اس رویے کو مجموعی طور پر تسکینِ اوسط کہا جانے لگا۔ چنانچہ ہزج میں مفعولن جب شروع میں آتا تو اسے اخرم کہا جاتا، اور جب درمیان میں آتا تو محنق (تحنیق سے) کہا جاتا۔ اگر تحنیق کی جگہ سے تسکین کہیں اور مسکن رکن کہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
مجھے یہ آپ کے مرتبے کے شایان تو معلوم نہیں ہوتا کہ میں تسکین اور تخنیق کے فرق کی مثالیں دوں مگر پھر بھی صرف تسہیل کی غرض سے ایک نکتہ اٹھانا چاہتا ہوں۔
2۔ مفعول مفاعلن مفاعیلُ فعل
اس میں صدر/ابتدا کے "ل" اور حشوِ اول کے "مَفَ" کے اتصال پر "م" کو ساکن کر دینے کا نام تسکینِ اوسط ہے۔ جبکہ تخنیق کا یہاں دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ اس سے جو وزن ہمیں حاصل ہو گا وہ ہے "مفعولن فاعلن مفاعیل فعل"۔ اب یہ بتائیے کہ اس کے مفعولن کو، جو صدر/ابتدا میں وارد ہوا ہے، آپ اخرم کہیں گے، مخنق کہیں گے یا مسکن؟ تسکین تو ہم نے خود کی ہے۔ مگر مسکن نہیں کہہ سکتے کیونکہ جہاں کسی اور زحاف کا مقام ہو وہاں تسکین کو تسکین نہیں کہا جاتا۔ مخنق اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ حشوین میں نہیں۔ لہٰذا اخرم کہا جائے گا۔
مگر جیسے آپ فرماتے ہیں کہ تسکین و تخنیق قائم مقام ہیں اس لحاظ سے تو اس مفعولن کو مسکن بھی ہونا چاہیے تھا اور مخنق بھی۔ مگر یہ دونوں نہیں ہے حالانکہ تسکین کا عمل ہم نے خود کیا ہے۔ امید ہے اب آپ پر واضح ہو گیا گا کہ تخنیق اور تسکین قطعاً قائم مقام نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ، جیسا میں پہلے عرض کر چکا ہوں، تسکین کو زحاف سے زیادہ ایک کلیے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
تسکینِ اوسط دوسری جانب ایک ایسا وسیع الاطلاق زحاف ہے جس کا ذکر بھی عملی صورت میں نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ اسے ایک کلیے یا قاعدے کی حیثیت بہرحال حاصل رہی ہے۔
غالباً آپ کے ہاں محقق طوسی کی رائے نے اشتباہ پیدا کیا ہے جو "تجنیق" کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ یہ حشوین یا عروض و ضرب میں کسی وتدِ مقرون سے شروع ہونے والے رکن سے قبل ایک حرکت کے آجانے کی صورت میں وتدِ مذکور کے حرفِ اول کو ساکن کرنے کا نام ہے۔ شاید قدما کے ہاں "تجنیق" واقعی کوئی زحاف مروج رہا ہو مگر تخنیق سے اس کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ تخنیق تو اکثر کے ہاں "مفاعیلن" کا "م" گرانے کا نام ہے خواہ اس سے قبل کوئی حرکتِ متصل آئے یا نہیں۔ ان دونوں تعریفوں میں تطبیق خاصی دشوار ہو سکتی ہے۔ مگر تخنیق کی راجح تعریف یہی رہی ہے جس کی جانب میں نے اشارہ کیا ہے۔ اگر آپ حکم فرمائیں گے تو میں اس ترجیح کے لیے دلائل بھی پیش کر دوں گا۔
---
جہاں سے ہماری بات شروع ہوئی تھی وہ میرا یہ خیال تھا
اخرب و اخرم وغیرہ ارکان جن کا مقام دراصل صدر و ا بتدا ہیں، حشو میں بھی روا رکھے گئے ہیں۔
اس کا ثبوت مولوی نجم الغنی کے اسی پیراگراف میں موجود ہے جس کے ایک جملے کو آپ نے رنگ کر دکھایا ہے۔ آپ کے نشان زدہ جملے سے پہلے مولوی صاحب فرماتے ہیں:
"اہلِ فارس و ریختہ نے ان کو (یعنی خرم و خرب وغیرہ کو) کسی مقام سے مخصوص نہیں رکھا۔ یہاں تک کہ کبھی خرم و ثلم کو عروض و ضرب میں بھی استعمال کر جاتے ہیں۔"
14716283_1193757940689851_1936576603674557205_n.jpg
اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ خرم حشوین میں آ سکتا ہے۔ مگر مولوی صاحب اگلے ہی جملے میں ایک وضاحت کرتے ہیں جو آپ کی حمایت میں معلوم ہوتی ہے لہٰذا آپ نے اسے نشان زد کیا ہے:
"البتہ جس وقت حشو وغیرہ میں خرم کرتے ہیں تو اس وقت خرم نہیں کہتے، تخنیق کہتے ہیں۔ اور رکن کو بجائے اخرم کہنے کے مخنق بولتے ہیں۔"
انتہائی لطف کی بات یہ ہے کہ بظاہر تو مولوی صاحب اسے حشوین میں تخنیق کہنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں مگر پھر بھی انھوں نے رباعی کے زحافات میں (اسی کتاب کا صفحہ ۲۳۶) تخنیق کو شمار کرنا بالکل مناسب نہیں سمجھا۔ اس کی وجہ سوچ سکتے ہیں آپ؟ شاید وہی جو میں پہلے عرض کر چکا ہوں:
معاملہ یہ ہے کہ تخنیق ایک تقریباً متروک زحاف ہے جس کا ذکر تو اکثر لوگوں نے کیا ہے مگر عملی طور پر ہزج کی بحور میں اسے لاگو نہیں کیا گیا۔ بلکہ اسے خرم ہی قرار دینے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
خیر، اب چونکہ آپ دوبارہ گفتگو پر مائل معلوم ہو رہے ہیں مگر مجھے آپ کی مصروفیات کا اندازہ بھی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ آپ بےشک باقی بحثوں کو چھوڑ کر صرف پچھلے دعاویٰ ہی کی وضاحت کی غرض سے ان تین سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:
  1. تخنیق و تسکین کو باہم دگر متبادل سمجھنے کی کوئی ٹھوس وجہ؟
  2. تسکین کی آپ کی خط کشیدہ تعریف کا حوالہ؟
  3. گزشتہ سوال: کس عروضی نے آپ کے فرمان کے موافق رباعی کے حشوین کے مفعولن کو مسکن یا (مخنق ہی سہی) قرار دیا ہے (ویسے تو مفعولن ان گنت جگہوں پر تسکین کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے۔ سوال رباعی ہی کے تناظر میں اور حشوین کے حوالے سے تھا کیونکہ آپ کا فرمانا تھا کہ رباعی کے حشوین میں خرم نہیں ہے)؟
عرض ہے کہ خرم کو حشوین میں نہیں لایا گیا۔
عجمی عروض میں دو رویے رائج رہے ہیں۔ اگر ایک ہی رکن میں تین متحرکات یکجا ہو جائیں تو ان میں درمیان والے کو ساکن کردیا جاتا۔ اور اسے تسکینِ اوسط کا نام دیتے۔ اور اگر دو ارکان کو جمع کرکے تین متحرکات یکجا ہو رہے ہیں تو بھی درمیان والے کو ساکن کیا جاتا، لیکن اسے تسکینِ اوسط نہیں، بلکہ تحنیق کہا جاتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ تحنیق کی اصطلاح کم ہوگئی اور اس رویے کو مجموعی طور پر تسکینِ اوسط کہا جانے لگا۔ چنانچہ ہزج میں مفعولن جب شروع میں آتا تو اسے اخرم کہا جاتا، اور جب درمیان میں آتا تو محنق (تحنیق سے) کہا جاتا۔ اگر تحنیق کی جگہ سے تسکین کہیں اور مسکن رکن کہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
 

یاز

محفلین
افف اتنی دقیق قسم کی گفت و شنید دیکھ کر ہماری جانب سے رباعی کو دور دور سے ہی صاحب سلامت وغیرہ۔
بقول شاعر
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رباعی
 

صائمہ شاہ

محفلین
وقت ہی وقت ہے، صائمہ خاتون۔ اہلِ پاکستان کے پاس دو ہی تو دولتیں ہیں۔ ایک وقت اور دوسری قناعت۔ :angel3::angel3::angel3:
ویسے ہمارے موضوعات ذرا خشک قسم کے ہیں۔ لہٰذا ممکن ہے مضامین اصل سے زیادہ طولانی معلوم ہوتے ہوں! :sneaky::sneaky::sneaky:
[/QUOTE]

قناعت کے بیان کے علاوہ
متفق :) :)
ویسے مجھ جیسے اختصار پسند کے لیے بھی کبھی کبھار کوئی مختصر اور دلچسپ تحریر لکھیے ، آپ کی تحریر کی قامت سے ہی گھبرا جاتی ہوں ۔ :)
 
راحیل بھائی اس چو مکھی لڑی میں خاکسار کو تہِ ٹیگ کرنے کا شکریہ ! :):):)

رباعی کے اوزان کے بارے میں میرا علم کچھ زیادہ نہین لیکن تعمیلِ حکم میں اپنی ناقص رائے پیش کردیتا ہوں ۔ پہلی بات تو یہ کہ اشرفی صاحب نے اگر رباعی کے اوزان رجز سے کشید کئے توکچھ عجب نہیں کیونکہ ہزج اور رجز دونوں ایک ہی دائرے سے ہیں ۔ میری رائے میں اس معاملے کو دو پہلوؤں سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ اگر شاعر کی نظر سے دیکھا جائے تو اوزان کو یاد رکھنے کے لئے کوئی فارمولا بنانے یا کوئی حیلہ یا ترکیب استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ چونکہ رباعی کے تمام اوزان ایک نظم میں جمع کئے جاسکتے ہیں اس لئے اپنی آسانی کے لئے ان تمام اوزان کا یاد رکھنا رباعی گو شاعر کے لئے ضروری ہے ۔ اس کے لئے حقیقی اور غیر حقیقی تقطیع کے فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر شاعر اپنا اپنا طریقہ اپنا سکتا ہے ۔ جو جس کی طبع اور ذہن کو راس آجائے ۔ یاد رکھنے کے لئے تو اسامہ سرسری صاحب کا فعلن فعلن والا طریقہ بھی مجھے اچھا لگا اگرچہ تقطیع اس کی غیر حقیقی ہے ۔ وارث صاحب کا طریقہ گرچہ مجھے پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا لیکن بہت آسان لگ رہا ہے اور بیٹھ کر ذرامشق کی جائے تو ضرور ذہن نشین ہوجائے گا۔ بظاہر تو شرقی صاحب کے نکالے ہوئے اوزان آسان سے نظر آتے ہیں لیکن دراصل ایسا نہیں ہے ۔ اردو کی مستعمل بحروں میں عموماً آخری رکن بلحاظِ تعدادِ حروف سب سے چھوٹا ہوتا ہے ۔ لیکن شرقی صاحب کے اوزان میں مصرع کی دُم پیٹھ کے بجائے سر سے ٹنکی ہوئی ہے ۔ اب جو شاعرانہ طبیعت اور ذہن مروجہ افاعیلی نقشوں کا عادی ہے اس کے لئے یہ پیٹرن بہت عجیب ہے ۔ کم از کم مجھے فع مفتعلن یا فع مفعولن کے وزن سے مصرع شروع کرنے اور شعر کہنےمیں بہت دقت ہوگی ۔ ہر دفعہ ایک ذہنی قلابازی کھانی پڑے گی ۔
اب اس معاملے کو اگر خالص عروضی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ پہلا سوال تو یہ کہ ہزج کے مروجہ اوزان کے ہوتے ہوئے پہیے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔ مزید اعتراض کی بات اس میں یہ ہے کہ زحافات کو خلافِ قاعدہ استعمال کرتے ہوئے ان اوزان کو نکالا گیا ہے ۔ چنانچہ میری ناقص رائے میں اسے زیادہ سے زیادہ ایک عروضی ایڈونچر ہی کہا جاسکتا ہے ۔ زحافات کے حسبِ مرضی استعمال سے توہر بحر سے بہت کچھ کشید کرنا ممکن ہے لیکن ایسا کرنے سے معاملات سدھرنے کے بجائے اور بگڑنے کا اندیشہ ہے ۔ دورِ حاضر میں تقریبا تمام اہلِ علم کی متفقہ رائے یہی ہے کہ علمِ عروض کوتخریج و تسہیل کی اشد ضرورت ہے ۔
راحیل بھائی آپ کا یہ استدلال کہ ہزج سے رباعی کے اوزان چونکہ خرب و خرم کو بے محل استعمال کرکے نکالے گئے ہیں اس لئے شرقی صاحب کو بھی زحافات کے بے محل استعمال کی اجازت ہونی چاہئے ٹھیک نہیں لگتا ۔ اس کا تفصیلی جواب مزمل شیخ صاحب دے چکے ہیں ۔ تسکین اوسط اور تخنیق (یا تحبیق) اگرچہ قائم مقام نہیں ہیں لیکن چونکہ دونوں کا عمل اور نتیجہ ایک ہی ہے اس لئے آسانی کی خاطر انہیں ایک ہی عمل سمجھنا چاہئے ۔ اب مفعولن کو حشوین میں اخرم کہا جائے یا مخنق (یا محبق) اس بحث سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی ۔ خود تخنیق (یا تحبیق) کی اصطلاح کا وجود اس بات کی گواہی ہے کہ اس کے ذریعے صدر و ابتدا میں آنے والے مفعولن کو حشوین والے مفعولن سے ممتاز کرنا تھا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خرم کا بے محل استعمال کیا گیا ہے ۔ مولوی صاحب نجم الغنی نے یہی لکھا ہے کہ مفعولن جب حشو میں آئے تو اسے مخنق کہتے ہیں اخرم نہیں ۔ بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ خرم کا بے محل استعمال کیا گیا ہے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ ایک عروضی غلطی سے دوسری کا جواز کیسے نکل سکتا ہے ؟ اگر معاملہ پہلے ہی پیچیدہ ہے تو اسے پیچیدہ تر بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟​
واللہ اعلم بالصواب ۔
میری نظر میں بسمل صاحب کے دو اوزان والا فارمولا بہت آسان ہے ۔ صرف تسکینِ اوسط کا ایک زحاف استعمال کرتے ہوئے انہی سے بارہ اوزان نکل آتے ہیں اور آخر میں ایک ساکن حرف بڑھا کر چوبیس اوزان پورے ۔ نہ اس میں کوئی عروضی اصول ٹوٹتا ہے اور نہ کسی بدعت کی ضرورت پڑتی ہے ۔ باقی جیسا میں نے پہلے عرض کیا اوزان یاد رکھنے کے لئے کوئی فارمولا بنانے میں حرج نہیں ۔ جو جس کی طبع اور ذہن کو راس آجائے ۔ میں نے اپنے عہدِ نو آموزی میں کبھی دو چار رباعیات لکھی ہوں تو ہوں لیکن طبیعت اب اس طرف نہیں آتی ۔ رباعی واحد صنفِ سخن ہے جو نہ صرف وزن کے لحاظ سے محدود ہے بلکہ فارمیٹ کے لحاظ سے بھی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رباعی کی صنف اب اتنی مقبول نہیں رہی ۔

العِلمُ چھِیچڑۃ فکھِچّوُھا
:):):)
 
آپ نے تحریر میں لکھا ہے کہ بتر کا زحاف پورا وتد مجموع ختم کرتا ہے جو رکن کے شروع میں ہو جب کہ میرا تو خیال ہے کہ بتر جب اور خرم کا مجموعہ ہے یعنی کہ یہ ابتدائی وتد مجموع کا پہلا حرف اور آخری دو سبب خفیف ختم کر دے گا اور فع باقی رہ جائے گا۔
مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مضمون توجہ سے پڑھا۔
میں شروعات میں لکھ چکا ہوں کہ برصغیر میں عروضی کتابوں کے مؤلفین نے بہت بے ضابطگیاں دکھائی ہیں۔ آپ نے جو فرمایا کہ بتر خرم و جب کا مرکب ہے، عروض کی اکثر کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خود عروضی حضرات بھی کنفیوز ہیں۔ بحر الفصاحت دیکھیے۔ مفاعیلن کے زحافات میں مولوی صاحب نے بتر کو خرم و جب کا اجتماع بتا کر شروع سے میم اور آخر سے دونوں اسباب ہٹا کر فع بنا دیا ہے۔ لیکن تھوڑا آگے بڑھیں تو مولوی صاحب فاعلاتن اور فعولن کے زحافات میں اسی بتر کو حذف و قطع کا اجتماع بتاتے ہیں۔ اور فعولن میں حذف سے لن گراتے ہیں۔ قطع سے واؤ گرا کر عین کو ساکن کرکے بھی فع بناتے ہیں۔ اب بتائیں دونوں باتیں کیسے ٹھیک ہو سکتی ہیں؟
اس معاملے میں میرے نزدیک ابنِ قیس کا اتباع درست ہے جو شروع کے وتدِ مجموع کو ساقط کرکے فعولن سے فع۔ اور مفاعیلن سے فعلن کرتے ہیں۔ میں اسی رائے پر ہوں۔
 
آخری تدوین:
اَبُو مدین کے ایک کیفیت نامے اور اس پر محمد تابش صدیقی کے تبصرے نے بڑے عرصے کے بعد ایک رباعی ہم سے کہلوا ہی دی۔ دونوں بھائیوں کے نام! ;););)

اوزانِ رباعی کی نہ کر بسم اللہ
اس بحث کا انجام ہے انا للہ
یعنی موت اور وہ بھی عروضی والی
لاحول و لا قوۃ الا باللہ​
 
اَبُو مدین کے ایک کیفیت نامے اور اس پر محمد تابش صدیقی کے تبصرے نے بڑے عرصے کے بعد ایک رباعی ہم سے کہلوا ہی دی۔ دونوں بھائیوں کے نام! ;););)

اوزانِ رباعی کی نہ کر بسم اللہ
اس بحث کا انجام ہے انا للہ
یعنی موت اور وہ بھی عروضی والی
لاحول و لا قوۃ الا باللہ​
کیا خوب کہا ہے راحیل بھائی آپ نے۔:applause::applause::applause:
یہ رباعی، رباعی کے بارے میں میرے جذبات کی ترجمانی کر رہی ہے۔
کل یہ تین صفحات پڑھنے کے بعد ایسا لگ رہا تھا کہ میں شائد مریخ پہ رہتا ہوں اسی لیے سب کچھ اوپر سے گزر رہا ہے۔ اور ہر پارٹی کے مدلل بیانات اور ان کے اختلافات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ رباعی سے اس وقت تک دور رہا جائے جب تک یہ دوست کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ پاتے اور اس وقت تک ہم نے بھی اس صنفِ نازک کو نہیں چھیڑنا۔ :):):)
آپ کی محبتوں کا بے حد مشکور ہوں۔
 
مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مضمون توجہ سے پڑھا۔
میں شروعات میں لکھ چکا ہوں کہ برصغیر میں عروضی کتابوں کے مؤلفین نے بہت بے ضابطگیاں دکھائی ہیں۔ آپ نے جو فرمایا کہ بتر خرم و جب کا مرکب ہے، عروض کی اکثر کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خود عروضی حضرات بھی کنفیوز ہیں۔ بحر الفصاحت دیکھیے۔ مفاعیلن کے زحافات میں مولوی صاحب نے بتر کو خرم و جب کا اجتماع بتا کر شروع سے میم اور آخر سے دونوں اسباب ہٹا کر فع بنا دیا ہے۔ لیکن تھوڑا آگے بڑھیں تو مولوی صاحب فاعلاتن اور فعولن کے زحافات میں اسی بتر کو حذف و قطع کا اجتماع بتاتے ہیں۔ اور فعولن میں حذف سے لن گراتے ہیں۔ قطع سے واؤ گرا کر عین کو ساکن کرکے بھی فع بناتے ہیں۔ اب بتائیں دونوں باتیں کیسے ٹھیک ہو سکتی ہیں؟
اس معاملے میں میرے نزدیک ابنِ قیس کا اتباع درست ہے جو شروع کے وتدِ مجموع کو ساقط کرکے فعولن سے فع۔ اور مفاعیلن سے فعلن کرتے ہیں۔ میں اسی کا رائے پر ہوں۔
یعنی فع ابتر محذوف کہلائے گا اگر مفاعیلن سے حاصل کیا گیا ہے؟؟
 
رباعی کے لیے بنیادی وزن ایک ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فعل/فعول
ہزج مثمن اخرب مکفوف مکفوف مجبوب/اہتم
اس کے علاوہ معاقبہ قبض اور شتر کے اجتماع کی اجازت دیتا ہے ۔ حشوِ اول میں مکفوف اور مقبوض کے اجتماع کی اجازت بہت پہلے سے موجود ہے ۔ حشوِ ثانی میں بھی اجتماع ممکن ہے ، یہ علام سحر عشق آبادی نے کہا اور اوزان چھتیس گنوائے ۔ زار علامی نے یہی کلیہ صدری و ابتدائی نشست پر موجود رکن پر کیا اور خرب و شتر کو جائز کہا اور اوزان کی تعداد ہوئی چون ۔
ہزج سے نکلنے والے اوزان میں زحافات کے حوالے سے بے ضابطگی ہرگز نہیں ہے ۔ زحاف کا عمل جس مقام پر جائز ہے اسی مقام پر کیا گیا ہے ۔ تخنیق اصل ہے ۔ خرب ، شتر کو حشوین سے سمجھنا تخنیق سے نابلد ہونے کی دلیل ہے ۔ مخنق مقبوض اشتر نہیں اور مخنق مکفوف اخرب یا اخرم نہیں ہوتا ۔
آٹھ بنیادی وزن ہیں ۔ وقفی کے ساتھ سولہ ہیں اور تخنیق کا عمل ان کی تعداد چون تک پہنچاتا ہے ۔ اردو والے ان اوزان کو کیسے جمع کرتے ہیں یا زبان کا مزاج کیا قبول کرتا ہے ۔ یہ سوال ہے ۔ میری ناقص رائے یہ ہے کہ اردو والے معاقبے کی آڑ میں اوزان کا اجتماع نہیں کرتے ، اس لیے سولہ اوزان کافی ہیں جو لاحول ولا قوة الا باللہ والے وزن سے ہی حاصل ہوجاتے ہیں ۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
آپ کی بات درست ہے، جہانگیر باقاعدہ شاعر نہیں تھا، لیکن اس کے کچھ اشعار ادھر ادھر تذکروں میں بکھرے مل جاتے ہیں۔ سارے مغل بادشاہ ہی سخن فہم تھے اور سب نے اشعار کہے ہوئے ہیں، اور تو اور اکبر، جو بچپن میں سفید ان پڑھ ہی رہ گیا، اُس کے بھی بھنگ اور شراب کی مدح میں اشعار موجود ہیں :)
وارث میاں درست صد فی صد درست سارے سخن فہم تھے ۔۔۔اکبر اعظم ان پڑھ ہونے کے باوجود علما کا قدر دان۔۔۔۔۔
سابق صدر، شعبہء تاریخ،پنجاب یونی ورسٹی لاہور،پروفیسر محمد اسلم نے اکبر بادشاہ کے دربار کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریر کیا ہے’’اکبرِ اعظم کے دربار پر بھی علمی اکیڈمی ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ابو الفضل ،فیضی، ،عُرفی،عبدالرحیم خانِ خاناں،حکیم ابوالفتح،میاں تان سین،نظیری اور شاہ فتح اللہ شیرازی جیسے فضلاء اس دربار میں موجود تھے۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔
 
Top