انہیں میرے مرنے کا رنج کیا انہیں میرے جانے کا کیا قلق

تجهے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق
تری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلق

ہوا دل کے جانے کا اب یقیں کہ وہ درد بر میں مرے نہیں
نہ وہ اضطراب قضا کمیں نہ وہ خشر خیز_ بلا قلق

انہیں نالہ کرنے کا رنج کیا انہیں آہ بهرنے کا رنج کیا
انہیں میرے مرنے کا رنج کیا انہیں میرے جانے کا کیا قلق

یہی رشک نے دیے مشورے کبهی پردہ ان کا نہ کهولیے
مرے جی ہی جی میں پهرا کیے مرے دل ہی دل میں رہا قلق

نہ وہ میں رہا نہ وہ تو رہا نہ وہ آرزو نہ وہ مدعا
ہوا زندگی کا بهی فیصلہ مگر ایک تیرا رہا قلق

رہے لاکھ صدمے نفس نفس جیے کیوں کہ کوئی پرائے بس
شب وصل مرنے کی تهی ہوس شب خجر جینے کا تها قلق

نہیں چین ان کو بھی ایک دم کہ ہے فکر جور کا غم سا غم
ہوئے مجھ پہ روز نئے ستم رہا ان کو روز نیا قلق

حکیم غلام مولیٰ قلق......
 

فرخ منظور

لائبریرین
غزل بہت خوبصورت ہے۔ اور شاعر نے اپنے تخلص کو ردیف بنا کر بہت ہی کمال کے اشعار نکالے ہیں۔
ڈھونڈنے پر مجھے ریختہ کی ویب سائٹ سے کلیات قلق مل گیا لیکن غزل کے آخری دو اشعار پرانی املا کی وجہ سے میں نہیں سمجھ سکا۔ اگر کوئی دوست آخری دو اشعار کو پڑھ کر یہاں درج کر سکے تو نوازش ہو گی۔
کلیاتِ قلق ریختہ پر

تجهے کل ہی سے نہیں بے کلی نہ کچھ آج ہی سے رہا قلق
تری عمر ساری یوں ہی کٹی تو ہمیشہ یوں ہی جیا قلق

ہوا دل کے جانے کا اب یقیں کہ وہ درد بر ہیں مرے نہیں
نہ وہ اضطرابِ قضا کمیں نہ وہ حشر خیزِ بلا قلق

مجھے حشر کر دیا بیٹھنا، مجھے قبر ہو گیا ٹھیرنا
ہے بسانِ صبرِ گریز پا نہیں غم گسار مرا قلق

انہیں نالہ کرنے کا رنج کیا انہیں آہ بهرنے کا رنج کیا
انہیں میرے مرنے کا رنج کیا انہیں میرے جانے کا کیا قلق

یہی رشک نے دیے مشورے کبهی پردہ ان کا نہ کهولیے
مری جی ہی جی میں بھرا کیے مرے دل ہی دل میں رہا قلق

نہ وہ میں رہا نہ وہ تو رہا نہ وہ آرزو نہ وہ مدعا
ہوا زندگی کا بهی فیصلہ مگر ایک تیرا رہا قلق

رہے لاکھ صدمے نفس نفس جیے کیوں کہ کوئی پرائے بس
شبِ وصل مرنے کی تهی ہوس شبِ ہجر جینے کا تها قلق

نہیں چین ان کو بھی ایک دم کہ ہے فکرِ جور کا غم سا غم
ہوئے مجھ پہ روز نئے ستم رہا ان کو روز نیا قلق

کرے ربط کوئی کسی سے کیا، کہ اٹھا طریق نباہ کا
نہ کرے گی تجھ سے وفا جفا، نہ کرے گا مجھ سے وفا قلق

میں جلا تو شعلے میں جوش تھا، جو ہوا میں خاک ہی زلزلہ
میں ہزار شکل بدل چکا پہ کسی طرح نہ چھپا قلق

نہیں تیرے پھرنے کا کچھ گلہ کہ زمانہ سارا بدل گیا
جو شبِ وصال میں چین تھا وہی روزِ ہجر نیا قلق

وہی التفاتِ دمِ ستم کہ زیادہ اس سے نہیں کرم
مرے چاکِ دل کا رفو الم مری دردِ جاں کی دوا قلق

حکیم غلام مولیٰ قلقؔ
 
آخری تدوین:
Top