انٹر نیٹ سے چنیدہ

سید عمران

محفلین
بیگمات کے چند مشہور تاریخی اقوالِ زریں😂

1) آپ کے سارے بھائی اتنے چالاک ہیں آپ کیوں اتنے بیوقوف ہیں؟ 🤔
2) سارے تکیے آپ نے تڑوڑ مڑوڑکر برباد کر دئے ہیں۔😁
3) آپ کے گھر والوں نے کبھی مجھے بہو تسلیم نہیں کیا۔😆
4) آپ کبھی میری بات نہیں مانتے۔💔
5) میری طبعیت اتنی خراب ہے لیکن آپ کو تو پرواہ ہی نہیں۔💔
6) بچے میری بات نہیں مانتے اور آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔
7) مجھے لگتا ہے میں کوئی فالتو چیز ہوں۔😭
8) ویسے کیا سوچ کر شادی کی تھی مجھ سے۔🤔
9) شادی سے پہلے تو ایسے نہیں تھے آپ ۔🤔🤔
10) کتنے دن سے آپ نے مجھ سے حال بھی نہیں پوچھا۔💘
11) بندہ خوش کرنے کے لیے ہی کہہ دیتا ہے کہ جو دل کرے مانگ لو آج ۔😁
12) میں آپ کے فائدے کے لیے ہی سمجھاتی ہوں ۔🥰
13) میں کبھی آگے سے بولی ہوں ؟🤔
14) جب میں بات کر رہی ہوں تو میری طرف دیکھا کریں۔😁
15) اپنی دفعہ آپ کو بڑا غصہ آتا ہے۔😉
16) آپ نے مجھے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔😉😉
17) چاہے اپنی مرضی کیا کریں بندہ مشورہ تو کرلیتا ہے۔
18) کرنا اپنی مرضی کا ہوتا ہے اس لیے مجھ سےمت پوچھا کیجئے۔🤨🤨
19) آپ کے بھائی ہر بات میں بیویوں سے مشورہ کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں۔🤣
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
بچھو کا کاٹا روتا اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے، ابنِ انشاء کا کاٹا سوتے میں بھی مسکراتا ہے، اس سے بہتر خراجِ تحسین اور کیا ہو سکتی ہے اور یہ دادو تحسین کے ڈونگرے وہ شخص برسا رہا ہے جسے اردو طنز و مزاح کا سر خیل سمجھا جاتا ہے اور جسکے بارے میں ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے یہ کہا ہے کہ ہم مزاح کے عہدِ یوسفی میں جی رہے ہیں ،مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ “پرکار عورت کی آنکھ اور دلیر کے وار کی طرح مزاح کی میٹھی مار بھی کبھی خالی نہیں جاتی ہے”ابنِ انشاء اپنے پیچھے ادب کا وہ خزانہ چھوڑ گئے ہیں کہ انکی موت ہو ہی نہیں سکتی ہے۔وہ ہر دور میں زندہ رہیں گے اور اپنی شاعری اور نثر سے آلامِ روزگارکو آسان بناتے رہیں گے

کلام۔۔شیر محمد خان ۔۔ابن انشاء
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
بیگمات کے چند مشہور تاریخی اقوالِ زریں😂

1) آپ کے سارے بھائی اتنے چالاک ہیں آپ کیوں اتنے بیوقوف ہیں؟ 🤔
2) سارے تکیے آپ نے تڑوڑ مڑوڑکر برباد کر دئے ہیں۔😁
3) آپ کے گھر والوں نے کبھی مجھے بہو تسلیم نہیں کیا۔😆
4) آپ کبھی میری بات نہیں مانتے۔💔
5) میری طبعیت اتنی خراب ہے لیکن آپ کو تو پرواہ ہی نہیں۔💔
6) بچے میری بات نہیں مانتے اور آپ انہیں کچھ نہیں کہتے۔
7) مجھے لگتا ہے میں کوئی فالتو چیز ہوں۔😭
8) ویسے کیا سوچ کر شادی کی تھی مجھ سے۔🤔
9) شادی سے پہلے تو ایسے نہیں تھے آپ ۔🤔🤔
10) کتنے دن سے آپ نے مجھ سے حال بھی نہیں پوچھا۔💘
11) بندہ خوش کرنے کے لیے ہی کہہ دیتا ہے کہ جو دل کرے مانگ لو آج ۔😁
12) میں آپ کے فائدے کے لیے ہی سمجھاتی ہوں ۔🥰
13) میں کبھی آگے سے بولی ہوں ؟🤔
14) جب میں بات کر رہی ہوں تو میری طرف دیکھا کریں۔😁
15) اپنی دفعہ آپ کو بڑا غصہ آتا ہے۔😉
16) آپ نے مجھے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔😉😉
17) چاہے اپنی مرضی کیا کریں بندہ مشورہ تو کرلیتا ہے۔
18) کرنا اپنی مرضی کا ہوتا ہے اس لیے مجھ سےمت پوچھا کیجئے۔🤨🤨
19) آپ کے بھائی ہر بات میں بیویوں سے مشورہ کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں۔🤣
میرے ایک چچا کا قول ہے کہ سب بیویاں کلاس فیلوز ہوتی ہیں۔😊
 

سیما علی

لائبریرین
شہزادی زیب النساء
کیا آپ کو معلوم ہےکہ فارسی ادب میں ایک شعر ایسا بھی موجود ہے جسکا پہلا مصرعہ ایرانی شہزادےکا اور دوسرا مصرعہ ہندوستانی شہزادی کا ہے.
کہاجاتا ہیکہ جس زمانے میں ایران اور ہندوستان میں علم ادب اپنے عروج پے تھا ایسے وقت میں ایرانی شہزادے نے ایک مصرعہ تخلیق کیا.

"دُرِّ ابلَقْ کسے کم دیدہ موجود"

ابلقی موتی( ایسی سیاہ موتی جس پر سفید دھبے ہوں) کسے نے کم ہی دیکھی ہوگی . مطلب بوجہ نایاب ہونے کے نہیں پائی جاتی.
اور منادی کرادی کہ جو شاعر اس پر موزوں گرہ لگائے گا تو انعام کا حق دار ہوگا
ایران سے لے کر ہندوستان تک تمام شعراء نے اس پر طبع آزمائی کی لیکن کوئی مناسب گرہ نہیں لگا سکا.
یہ خبر اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء کو ایسے وقت میں پہنچی جب وہ آئینے کے سامنے بیٹھی سرمہ لگارہی تھی سرمے کی جلن کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑا وہ کاجل زدہ آنسوں ابلقی موتی کا منظر پیش کر رہا تھا زیب النساء نے فوراً گرہ لگائی.

"مگر اشک بتان سرمہ آلود"

مگر محبوبہ کے سرمگیں آنکھوں سے ٹپکا آنسو( ابلقی موتی ہی ہوتی ہے)

ایرانی شہزادے کو جب اس کی خبر ہوئی رو ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور لکھ بھیجا۔
"ترا اے مہ جبیں ,بے پردہ دیدن آرزو دارم۔
جمالتہائے حسنت را سراپا آرزو دارم۔"


اے مہ جبین تمہیں دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں
تمہارے لیے نیک خواہشات کی تمنا ہے

(مشرقی تہذیب کو ذرا ملاحظہ کرے محل میں پلنے والی شہزادی زیب النساء کس طرح اپنی پردہ نشینی کا اظہار کر رہی ہے )
جواباً ایک شعر ارسال کیا

"در سخن مخفی منم چو بوئے گل در برگِ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا"


یعنی میں اپنے کلام میں ایسے پوشیدہ ہوں جس طرح پھول کی خوشبو اس کے پتوں میں پوشیدہ ہوتی ہے.
جو شخص مجھ سے ملاقات کا متمنی ہے اسے چاہیے کہ میرا کلام پڑھیں.
زیب النساء مخفی،، عالمہ اور حافظہ ہونے کے ساتھ عربی اور فارسی ادب پر عبور رکھتی تھی.
65 سال کی عمر میں انتقال ہوا شادی نہیں کی تھی.
(انتخاب)
"ماخوذ ادبیات فارسی"
 

سیما علی

لائبریرین
_______ *'عیدی'*_______

*شورش کاشمیری* نے یہ نظم آج سے
*57سال قبل* کہی تھی...

*میں اپنے دوستوں کو عِید پربھیجوں تو کیا بھیجوں*
*خدا توفیق دے تو، ھدیہء مہر و وفا بھیجوں*

*لڑکپن کی رسِیلی داستانوں کے لبادے میں*
*حدیثِ شوق، نقدِ آرزُو، آہِ رساں بھیجوں*

*جَوانی کے شگُفتہ وَلولوں کا تذکرہ لِکھ کر*
*طبیعت کا تقاضا ھے، دلِ درد آشنا بھیجوں*

*وہ راضی ہو تو،اپنی عُمرکے اس دورِآخرمیں*
*بیانِ شوق لکھوں، داستانِ ابتلاء بھیجوں*

*'قلم قتلے' ادیبِ شہر ہونے کی رعایت ھے*
*غزل کے ریشمیں لہجےمیں نظمِ دلکشا بھیجوں*

*کوئی نظمِ شگفتہ، حضرتِ احسان دانش کی*
*رشید احمد کے اسُلوبِِ دل آرا کی ادا بھیجوں*

*زبانِ میر، رنگِ میرزا، پیرایہء حالی*
*میں اس سہ آتشہ میں،نغمہء بہجت فزابھیجوں*

*خیال آتا ھے 'اس بازار' کی نیلام گاھوں میں*
*کِسی طوفان کے انداز میں، قہرِ خدا بھیجوں*

*برھنہ کَسبیوں کو عید کے ھنگامِ عشرت میں*
*فقِہیوں کی قبائیں پھاڑ کر بندِ قبا بھیجوں*

*تماشا ھائے عصمت، اور 'عالمگیر کی مسجد'*
*خدا کے نام بھی اک محضرِ آہ و بکا بھیجوں*

*میری عیدی مذاقِ عام سے ھو مختلف شورش*
*رفیقانِ قلم کو، ڈَٹ کے لڑنے کی دُعا بھیجوں*

ھفت روزہ چٹان. لاھور
7 فروری 1965
شورش کاشمیری
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
ھم سب کتابوں کی طرح ھیں۔ اکثریت محض ھمارا سَرورق دیکھنے پر اِکتفا کرتی ھے۔
اقلیت ھمارا تعارف پڑھ لیتی ھے۔ کچھ لوگ ھم پہ کی گئی تنقید پہ یقین رکھتے ھیں۔
اور محض دوچار لوگ ھی ایسے ھوتے ھیں جو ھمارے اندر کے مشمولات (متن) سے واقف ھوتے ھیں۔
"ایمیلے زولا"
فرانسیسی ناول نگار
 

سیما علی

لائبریرین
"تیرھویں بکری

کسی نے بکریاں پالنے والے ایک دیہاتی سے پوچھا کہ: "آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں، اور آپ سالانہ کتنا کما لیتے ہو؟"
بکری والے نے کہا "میرے پاس اچھی نسل کی بارہ بکریاں ہیں، جو مجھے سالانہ تقریباً چھ لاکھ روپے دیتی ہیں۔ جو ماہانہ پچاس ہزار روپے بنتا ہے۔
مگر جب، سوال پوچھنے والے نے، بکریوں کے ریوڑ پر، نظر دوڑائی، تو اس ریوڑ میں، بارہ نہیں تیرہ بکریاں تھیں۔
جب اس نے، بکری والے سے اس تیرھویں بکری کے بارے میں پوچھا، تو اس بکری والے کا جو جواب تھا، وہ کمال کا تھا، اور اس کا وہی ایک جملہ، دراصل، اس بکری والے کے کامیاب ہونے کا بہت بڑا راز تھا۔

اس بکری والے نے کہا کہ
"ان بارہ بکریوں سے،میں چھ لاکھ منافع،حاصل کرتا ہوں، اور اس تیرھویں بکری کے سال میں دو بچے ہوتے ہیں۔
اس تیرھویں بکری کے، ایک بچے کی، میں قربانی دے دیتا ہوں، اور اس بکری کا دوسرا بچہ، میں کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں۔
اس لئے، یہ ایک بکری، میں نے گنتی میں شامل نہیں کی۔
یہ تیرہویں بکری، میری باقی کی بارہ بکریوں کی محافظ ہے، اور میرے لئے باعث خیر وبرکت ہے۔"
"یقین کریں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے"۔
دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کے فلسفے ایک طرف اور اس بکریاں پالنے والے نوجوان کا یہ جملہ ایک طرف۔
یہ بات ایک ان پڑھ، سادہ لوح، بکری والے گلہ بان نے، کامیابی کا وہ فلسفہ سمجھا دیا، جو کامرس کی موٹی موٹی کتابیں بھی کسی کو نہ سمجھا سکیں۔

"لوگ، رزق کو، محنت میں تلاش کرتے ہیں، حالانکہ، رزق، سخاوت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں پوشیدہ ہے
الحمدللہ
اللہ اکبر اللہ اکبر
 

سیما علی

لائبریرین
‏ ♡♡♡♡ بھلا مدینے میں بھی کوئی اجنبی ہوتا ہے ♡♡♡
قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ ایک دوست کو فکر لاحق ہوئی کہ مدینہ منورہ میں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا
اس نے مجھ سے پوچھا
مدینہ میں ہے کوئی جان پہچان والا -؟
اس سوال میں جانے کیا تھا کہ مضطرب دل کے سارے تار جھنجلا اٹھے اور پورے بدن میں ‏ارتعاش بپا ہو گیا ۔ میں نے کوئی جواب دیے بغیر اپنے آپ سے پوچھا
مدینے میں ہے کوئی جان پہچان والا ؟
اور اس سوال کے ساتھ ہی میری آنکھیں بھر آئیں
حلق میں نمک سا گھلنے لگا
میں نے دوست کو بتانا چاہا کہ ہاں ہے ♡
بہت ہی دیرینہ اور بڑا گہرا تعلق ہے اس سے وہی مجھے بار بار بلاتا ہے ‏۔ وہی میری میزبانی کرتا ہے ♡
میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے♡
میرے غم بانٹتا ہے♡
اور میرے آنسو پونچھتا ہے♡
میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کچھ نہ کہہ سکا بصد مشکل میرے منہ سے ایک جملہ نکلا ….
“ مدینہ میں بھی بھلا کوئی اجنبی ہوتا ہے ؟”
قدرت اللہ شہاب
 

یاسر شاہ

محفلین
‏ ♡♡♡♡ بھلا مدینے میں بھی کوئی اجنبی ہوتا ہے ♡♡♡
قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ ایک دوست کو فکر لاحق ہوئی کہ مدینہ منورہ میں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا
اس نے مجھ سے پوچھا
مدینہ میں ہے کوئی جان پہچان والا -؟
اس سوال میں جانے کیا تھا کہ مضطرب دل کے سارے تار جھنجلا اٹھے اور پورے بدن میں ‏ارتعاش بپا ہو گیا ۔ میں نے کوئی جواب دیے بغیر اپنے آپ سے پوچھا
مدینے میں ہے کوئی جان پہچان والا ؟
اور اس سوال کے ساتھ ہی میری آنکھیں بھر آئیں
حلق میں نمک سا گھلنے لگا
میں نے دوست کو بتانا چاہا کہ ہاں ہے ♡
بہت ہی دیرینہ اور بڑا گہرا تعلق ہے اس سے وہی مجھے بار بار بلاتا ہے ‏۔ وہی میری میزبانی کرتا ہے ♡
میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے♡
میرے غم بانٹتا ہے♡
اور میرے آنسو پونچھتا ہے♡
میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کچھ نہ کہہ سکا بصد مشکل میرے منہ سے ایک جملہ نکلا ….
“ مدینہ میں بھی بھلا کوئی اجنبی ہوتا ہے ؟”
قدرت اللہ شہاب
واہ بہت خوب ۔بہت خوب۔
 

سید عمران

محفلین
‏ ♡♡♡♡ بھلا مدینے میں بھی کوئی اجنبی ہوتا ہے ♡♡♡
قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ ایک دوست کو فکر لاحق ہوئی کہ مدینہ منورہ میں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا
اس نے مجھ سے پوچھا
مدینہ میں ہے کوئی جان پہچان والا -؟
اس سوال میں جانے کیا تھا کہ مضطرب دل کے سارے تار جھنجلا اٹھے اور پورے بدن میں ‏ارتعاش بپا ہو گیا ۔ میں نے کوئی جواب دیے بغیر اپنے آپ سے پوچھا
مدینے میں ہے کوئی جان پہچان والا ؟
اور اس سوال کے ساتھ ہی میری آنکھیں بھر آئیں
حلق میں نمک سا گھلنے لگا
میں نے دوست کو بتانا چاہا کہ ہاں ہے ♡
بہت ہی دیرینہ اور بڑا گہرا تعلق ہے اس سے وہی مجھے بار بار بلاتا ہے ‏۔ وہی میری میزبانی کرتا ہے ♡
میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے♡
میرے غم بانٹتا ہے♡
اور میرے آنسو پونچھتا ہے♡
میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کچھ نہ کہہ سکا بصد مشکل میرے منہ سے ایک جملہ نکلا ….
“ مدینہ میں بھی بھلا کوئی اجنبی ہوتا ہے ؟”
قدرت اللہ شہاب
مدینہ میں میزبان تو خود اللہ کے رسول ہوتے ہیں۔۔۔
اس اس طور مہمان داری کی جاتی ہے کہ دنیا میں کہیں اس کا تصور تک نہیں!!!
 

سیما علی

لائبریرین
قوم کیا چیز ہے
کیا جانیے کب، کس نے اور کیوں یہ فقرہ کس دیا کہ ’’ہم قوم نہیں ہجوم ہیں‘‘۔
بس یہ فقرہ کس دینے کی دیر تھی… قوم کی قوم، ہجوم در ہجوم بے سوچے سمجھے یہی فقرہ رٹنے لگی۔ صاحبو! جب سے سب کچھ زبانِ غیر میں پڑھایا جانے لگا ہے، تب سے سب ہی رَٹُّو طوطے بن گئے ہیں۔ ایک نسل کی نسل ایسی تیار کردی گئی ہے کہ بقول رحمٰن کیانی، جس کے:
ذہن میں غیروں کی باتیں، منہ میں مانگے کی زباں
اس پہ دعویٰ یہ کہ صاحب ہم بھی فرزانوں میں ہیں
یہ دعوے دار فرزانے خواہ خود جانیں یا نہ جانیں، باقی سب جانتے ہیں کہ ہماری قومی زبان میں ’ہجوم‘ ایک وقتی چیز کا نام ہے۔ ابھی تھا، اب نہیں ہے۔ ’ہجوم‘ کے معنی ہیں ’اچانک آجانا، ناگاہ حملہ کردینا، چڑھائی کرنا یا ٹوٹ پڑنا‘۔ ان معنوں میں اُردو ترکیب ’ہجوم کرنا‘ استعمال کی جاتی ہے۔ مثلاً ’غموں نے ہجوم کیا‘ یا ’وسوسوں نے ہجوم کردیا‘۔ غالبؔ کا مصرع ہے:
ہجومِ فکر سے دل مثلِ موج لرزاں ہے
اہلِ فارس نے ’ہجوم‘ کو ’بھیڑ بھاڑ، مجمع یا انبوہِ کثیر‘ کے معنوں میں استعمال کیا۔ سو، ان معنوں کو اُردو نے بھی اختیار کیا۔ مثلاً امیرؔ مینائی اپنی قبر میں لیٹے لیٹے اپنی کسی برسی پر اپنے دوستوں سے گلہ کرتے سنائی دیتے ہیں:
کمال احباب سے ہے شکوہ، کیا نہ عُرس ایک دن ہمارا
سرِ لحد ہی ہجوم ہوتا کبھی حسینانِ مہ جبیں کا
امیرؔ جانتے تھے کہ ہجوم کبھی کبھی ہی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اقبالؔ بھی خود سوال کرکے خود ہی جواب دیتے ہیں:
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق
القصہ ہجوم ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔ کبھی ہوجاتا ہے۔ کبھی کردیتے ہیں اشک و آلام و تفکرات وغیرہ۔ بالآخر ہجوم چَھٹ ہی جاتا ہے۔
اب ’قوم‘ کے لفظ کا شجرۂ نسب بھی کھنگال لیتے ہیں تاکہ جب ہم کوئی لفظ استعمال کررہے ہوں تو اس کے پورے پس منظر سے واقف ہوں۔ عربی لغت میں ’’قَامَ، یَقُوْمُ، قَوْماً، قِیَاماً و قَامَۃً‘‘ کے الفاظ کا مفہوم کھڑا ہونا یا ٹھہرنا لیا جاتا ہے۔ ’قُمْ بِاِذْنِ اللہ‘ کا مطلب ہے’اللہ کے حکم سے اُٹھ کر کھڑے ہوجاؤ‘۔ کھڑے رہنے کو ’قیام‘ کہتے ہیں اور کھڑے ہونے کی جگہ کو ’مقام‘ کہتے ہیں۔ جو کھڑا ہو یا کھڑا رہے اُسے ’قائم‘ کہا جاتا ہے۔ قائم کرنا، قائم ہونا اور قائم رہنا اِنھیں معنوں میں ہے۔ ہمارے ہاں ‘Standing Committee’ کو ’مجلسِ قائمہ‘ کہا جاتا ہے۔ مضبوطی سے جم کر اور سیدھے کھڑے رہنے کو ’استقامت‘ کہتے ہیں۔ جو ہمیشہ سے قائم ہے، ہمیشہ قائم رہے گا اور جس کے سہارے سب کچھ قائم ہے اُس ذاتِ پاک کا ایک اِسمِ حَسن ’القیّوم‘ ہے۔ نظم و نسق قائم کرنے والے اور قائم رکھنے والے نگہبان شخص یا محافظ کو ’قوّام‘ اور’قیّم‘ کہتے ہیں۔ اوپر عرض کیا تھا کہ کھڑے رہنے کی حالت ’قیام‘ کہلاتی ہے، تو مجازاً کہیں ٹھہر جانے یا بس جانے کو بھی ’قیام کرنا‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی جگہ کے لیے اُردو میں ’قیام گاہ‘ کی ترکیب رواج پا گئی ہے۔ قیام سفر کی ضد ہے۔ منیرؔ نیازی کہتے ہیں:
بہت قیام کی خواہش سفر میں آتی ہے
’قیامت‘ وہ دن ہے کہ سب کے سب اپنی اپنی قبروں سے یکایک اُٹھاکر کھڑے کردیے جائیں گے۔ جانے کب تک کھڑے رکھے جائیں۔ ’اِقامت‘ کے معنی بھی کھڑے ہونے، ٹھہرنے اور قرار حاصل کرنے کے ہیں۔ فرض نماز کے لیے کھڑے ہونے کے وقت جو کلمات کہے جاتے ہیں اُنھیں بھی اصطلاحاً ’اِقامت‘ ہی کہا جاتا ہے۔ کھڑے شخص کا جو قد نظر آتا ہے وہ ’قامت‘ ہے۔ رکوع سے اُٹھ کر کھڑے ہونا ’قومہ‘ہے۔ تو اے صاحبو! ’قوم‘ کا لفظ بھی اسی قبیل سے ہے۔ مطلب وہ لوگ جو ساتھ کھڑے ہوں اور ساتھ کھڑے رہیں۔
مختلف انسانی گروہ مختلف بنیادوں پر کھڑے ہوکر ایک قوم بناتے ہیں۔ کبھی نسل، خاندان اور قبیلے کی بنیاد پر۔ کبھی گورے، کالے اور پیلے رنگ کی بنیاد پر۔ کبھی کرۂ ارضی کے جغرافی خطوں کی بنیاد پر۔کبھی مختلف خطوں میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کی بنیاد پر۔ اور آج کی جدید ’مہذب‘ دنیا میں وطنیت یا ریاست کی بنیاد پر۔ قوم یا قومیت کی یہ تمام بنیادیں تسلیم کی جاتی ہیں۔ ان سے انکار ممکن نہیں۔



مگر قومیت کی یہ بنیادیں بنی نوعِ انسان کو ’تقسیم‘ کرتی ہیں، ان میں ’تفریق‘ پیدا کرتی ہیں، اور ان کے اندر ’تعصب‘ کے جذبات کو جنم دیتی ہیں۔ نوعِ انسانی میں باہمی محبت، اخوت اور وحدت پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتیں۔
قرآن نے پوری بنی نوعِ انسان کو ’نفسِ واحدہ‘ کی اولاد قرار دیا۔ سب کو ’بنی آدم‘کہا۔ رنگ، نسل، شعوب اور قبائل کو تعارف یا پہچان کے لیے ’شناختی علامات‘ میں شمار کیا۔ برتری زُہد و تقویٰ کو دی۔ کسی بھی رنگ، نسل، زبان یا علاقے سے ایمان لانے والوں کو باہم ’بھائی بھائی‘ ٹھہرایا۔ ایرانی النسل، فارسی زبان بولنے والے حضرت سلمانؓ کے متعلق، عربی النسل، قریشی، ہاشمی و مُطّلبی، سیدنا علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ ’’سلمان منا اھل البیت‘‘ سلمانؓ ہم اہلِ بیت میں سے ہیں۔الغرض اسلام نے ایسی’ قومیت‘ تشکیل دی جس نے دنیا کے تمام انسانوں کو وحدتِ ایمانی کی واحد لڑی میں پرو دیا۔اسی وجہ سے اقبالؔ نے’قومیت‘ کے مغربی تصورات کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
دنیا میں دو عالمی جنگوں کے بعد ہونے والی بندر بانٹ نے قومِ رسولِ ہاشمیؐ کو بھی ’وطنی قومیتوں‘ کے چھوٹے چھوٹے خانوں میں بانٹ دیا۔ مگر آج بھی دنیا کے کسی خطے، کسی نسل، کسی رنگ اور کسی بھی لسانی گروہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر اپنے آپ کو صرف اور صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کا بندہ کہتا ہے اور صرف و صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا اُمتی ہونے کا دعوے دارہے تو وہ ہماری قوم کا فرد ہے۔ ہمارا اُس کا سب کچھ ایک ہے، رہن سہن، تہذیب، تمدن اور ثقافت۔ ہمارے بچے پیدا ہوتے ہیں تو ہم اُن کے دائیں کان میں اذان کہتے ہیں اور بائیں کان میں اقامت۔ اُن کا عقیقہ کرتے ہیں۔ نکاح کا طریقہ ایک ہے۔ کس سے نکاح ہوسکتا ہے، کس سے نہیں، قانون ایک ہے۔ کیا کیا کھا پی سکتے ہیں، کیا نہیں کھا سکتے، کیا نہیں پی سکتے، ہمارے حلال و حرام ایک ہیں۔ دائیں ہاتھ سے کھانا اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا ہماری قوم کا مشترکہ عالمی شعار ہے۔ کچھ مشترک کلمات ایسے ہیں جو محلِّ استعمال کے مطابق ہر زبان بولنے والا مسلمان بولتا ہے، سلام، الحمدللہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ، اللہ اکبر، جزاک اللہ اور صلی اللہ علیہ وسلّم وغیرہ۔ ہماری عائلی زندگی یکساں ہے۔ گھریلو ماحول ایک سا ہے۔ مرد و زن کی مقررہ حدود ایک جیسی ہیں۔ لباس، ستر اور حجاب کے معاملات مشترک ہیں۔ رمضان کے مہینے میں تو ہم سب کا سونا، جاگنا اور کھانے پینے کے اوقات کا تعین پوری دنیا میں بالکل ایک طرح کا ہوجاتا ہے۔ ہماری خوشیاں اورغم ایک ہیں۔ ہم ایک ہیں۔
تمام تر تفرقے بازی کے باوجود وطنِ عزیز پاکستان میں بھی ایک حرفِ شیریں (محمد صلی اللہ علیہ وسلّم) نے مختلف علاقوں، نسلوں، رنگوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایک ’قوم‘ کے رشتے میں پرو دیا ہے۔ ہم کوئی وقتی اور عارضی ہجوم نہیں ہیں۔ ہم ایک ’قوم‘ ہیں۔ قومِ رسولِ ہاشمیؐ۔
احمد حاطب صدیقی (ابو نثر)
 
عوامی سطح پر یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ محرم کے مہینے میں شادی کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس ماہ کی شادی بے برکتی اور مصائب وآلام کا سبب ہے ۔ چونکہ اس ماہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وجہ سے ان کی شہادت کا ماتم اور برسی منائی جاتی ہے اور ماتم کی حالت میں خوشی کا اظہار کرنا صحیح نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک خاص طبقہ میں محرم میں عدم نکاح کا تصور عام ہے ۔

آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں کسی شہادت یا موت پہ ماتم کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب جان لینے سے محرم میں شادی کرنے کی شرعی حیثیت کا علم ہوجائے گا۔
کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس کو موت نہیں آئے گی ۔ ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک یہ کائنات زندگی اور موت کا نظارہ دیکھ رہی ہے ۔ سال کا کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جن دن کسی کی موت نہیں آئی ہو۔ اگرکسی کی وفات پہ ماتم کرنا جائز ہوتا تو سال بھر ماتم کا ماحول ہوتا۔ انسان کبھی خوشی کا منہ نہیں دیکھ پاتا ۔
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ :
تُوفِّيَ ابنٌ لأمِّ عطيةَ رَضِيَ اللهُ عنها ، فلمَّا كان اليومُ الثالثُ ، دعت بصُفْرَةٍ فتمسحتْ بهِ ، وقالت : نُهِينا أن نُحِدَّ أكثرَ من ثلاثٍ إلَّا بزوجٍ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے صفرہ خلوق ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔(صحیح البخاری)

بخاری شریف کی اس روایت میں سوگ کا ذکر ہے کہ کسی کا کوئی رشتہ دار وفات پاجائے تو تین دن سوگ منائے اس سے زیادہ نہیں ۔
یہ سوگ بھی وفات کے وقت ہی منانا ہے ، ہرسال منانا بدعت کہلائے گا۔ اس حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ صحابیہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جن کا بیٹا انتقال ہوا تھا وفات کے تیسرے دن خوشبو استعمال کرتی ہیں تاکہ لوگ بھی جان لیں کہ اب سوگ ختم ہوگیا۔ اگر کسی کا رشتہ دار ماہ محرم میں وفات پاجائے تو محرم میں صرف تین دن سوگ منائے اور بقیہ دن کوئی سوگ نہیں ۔ سوگ اور ماتم ونوحہ دونوں میں فرق ہے سوگ تین دن عام رشتہ دار پر اور چار مہینہ دس دن بیوی پر منانا جائز ہے جبکہ ماتم و نوحہ کسی بھی وقت خواہ موت ہوئی ہو یا شہادت ہوئی ہو جائز نہیں ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ليس مِنَّا من ضربَ الخدودَ ، وشَقَّ الجيوبَ ، ودعا بدَعْوَى الجاهليَّةِ .(صحيح البخاري:1297)
ترجمہ: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دورِ جاہیلت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (صحیح البخاری)

حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت آج سے تقریبا ہزارسال سے بھی پہلے سن 61 ہجری میں ہوئی ۔ اس شہادت کا سال در سال غم منانا بدعت ہے ۔ جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ سال کا کوئی ایسا دن نہیں کہ اس میں کسی نہ کسی آدمی کی وفات ہوئی ہو۔ یہاں دن کا احاطہ کرنا مشکل ہے، مہینہ کے حساب سے چند بلند مقام ہستی کی وفات وشہادت کا ذکر کرتاہوں ۔

محرم الحرام : ایک محرم کو سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ۔
صفر: اس ماہ میں حسن بن علی کا انتقال اور بئر معونہ پر کئی صحابہ کی شہادت ہوئی۔
ربیع الاول :اس میں نبی ﷺ کی وفات ، حضرت معاذ بن جبل اور ام المومونین زینب بنت جحش کا انتقال ہوا۔
ربیع الآخر : اس میں عبدالقادر جیلانی وفات ہوئی ( اسى ماہ میں ان کا عرس منایا جاتا ہے جوکہ سوگ کے برخلاف عمل ہے)، عہد فاروقی میں ایرانیوں کے خلاف تقریبا تیس ہزار مسلمانوں کی شہادت ہوئی۔
جمادی الاول : حضرت ابوبکر کا انتقال , حضرت سراقہ بن عمرورضی اللہ عنہ اور حضرت عبادہ بن قیس رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔
جمادی الآخر : فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
رجب: امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ،اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات
شعبان: ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور بنت رسول ﷺ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال
رمضان:21 رمضان کوعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت
شوال: سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت
ذو قعدہ : ایک روایت کے مطابق زوجہ رسول ﷺ حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس ماہ میں ہوا۔اس میں مشہور تابعی مسلمہ بن مخلد کا انتقال ہوا۔
ذو الحجہ : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت

مذکورہ بالا فہرست ماہ وفات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر وفات یا شہادت پر غم منانا جائز کہہ دیا جائے شادی تو درکنار انسان کبھی خوشی کا منہ نہیں دیکھ پائے گا ۔صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ اسلام میں خوشی کے اظہار کے لئے دو دن سالہ عید کے طور پر متعین ہے ۔ جمعہ بھی عید کے ایام میں سے ہے جو ہرہفتہ آیا کرتا ہے ۔ ان ایام عیدمیں بھی بڑے بڑے لوگوں کی وفات اور شہادت ہوئی ہے تو کیا عید کے دن بھی خوشی چھوڑ کے غم منایا جائے اور اگر اسے ہرسال متعین کرلیتے ہیں تو تاریخ اسلام سے عید کا تصور ہی مٹ جائے گا۔
اللہ نے ہمیں جودین دیا ہے اس میں اعتدال وتوازن کے ساتھ شرعی حدود میں رہ کر زندگی سے لطف اندوزی کا موقع بھی فراہم کیا گیاہے ۔

اب دیکھتے ہیں کیا اس ماہ میں اسلاف نے شادی نہیں کی ؟

حقیقت میں کسی ماہ میں شادی کرنا ممنوع نہیں ہے اگر کسی ماہ میں شادی کرنا منع ہوتا تو نبی ﷺ ضرور ہمیں رہنمائی فرمادیتے مگر آپ ﷺ سے ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ہمیشہ سے لوگ اس ماہ میں شادی کرتے چلے آرہے ہیں ۔غلط فہمی اس وقت سے پیدا ہوئی جب واقعہ کربلا ہوا اور شیعہ نے اپنی طبیعت سے اس ماہ میں ماتم کرنے ، سوگ منانے اور خوشی کا اظہارنہ کرنے ، شادی بیاہ سے پرہیز کرنے کا تصور سماج میں پھیلایا۔ اگر کربلہ کی وجہ سے محرم میں شادی منع ہوسکتی ہے تو صفر سے لیکر ذوالحجہ تک بھی کسی کی شادی نہیں ہوسکتی کیونکہ ان ماہ میں بھی بڑے بڑے لوگ وفات پائے اور شہادت ہوئی ۔
گوکہ اس میں اختلاف ہے مگر تاریخ طبری اور تاریخ ابن عساکر کی روشنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی ماہ محرم میں شادی ہوئی ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی شادیاں ہوئی ہیں اور قیامت تک ہوتی رہیں گی ۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں محرم چارحرمت والے مہینے میں سے ایک ہے جس میں فتنہ وفساد سے بچنا ہے اور نیک وصالح عمل انجام دینا ہے خصوصا اس ماہ میں روزے کا بہت زیادہ اجر وثواب ہے ۔ان باتوں کا یہ مطلب ہواکہ ماتم وسوگ اس ماہ کی حرمت وتقدس کے بالکل خلاف ہے ۔

ایک اہم نقطہ:

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ } (سورة البقرة :154).
ترجمہ: جولوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے ۔
قرآن کی اس آیت سے کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ شہید کو موت نہیں آتی ، وہ دنیاوی زندگی کی طرح زندہ ہیں ۔ تعجب ہے ان لوگوں پر کہ ایک طرف میت کو اور شہید کو بالکل دنیا کی طرح زندہ سمجھتے ہیں اوردوسری طرف ان کا ماتم بھی مناتے ہیں ؟ آخر ماجرا کیا ہے ؟
غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ سارا معاملہ پیسہ کمانے کا ہے اگر میت کو میت (مردہ ) قرار دے تو کون مزار پہ آئے گااور کہاں سے نذرانہ اور جعلی دھندوں کی فیس ملے گی ؟
بریلوی مذہب کے بانی (احمد رضا خان بریلوی) اس ماہ میں شادی کے متعلق کیا کہتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں مسائلہ ذیل میں ؟
(١)بعض اہل سنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں بعد دفن روٹی پکائی جائے گی۔
(٢)ان دس دنوں میں کپڑے نہیں اتارتے ۔
(٣) ماہ محرم میں کوئی شادی بیاہ نہیں کرتے۔
الجواب: تینوں باتیں سوگ حرام ہیں ۔(احکام شریعت از احمد رضا خان بریلوی)

ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ محرم میں شادی کرنا جائز ہے اور اس ماہ کی شادی سے بدفالی لینا ضعیف الاعتقادی ہے ، ہم مسلمانوں کو اللہ کے دین واحکام پہ راضی ہونا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق زندگی گذارنا چاہئے ۔

(انٹرنیٹ سے ماخوذ)
 

سیما علی

لائبریرین
'
الجزائر سے تعلق رکھنے والی نامور اور عرب دنیا کی مقبول ترین اینکر و صحافی خدیجہ بن قنہ اپنے دورہ امریکہ کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ ایک سپر اسٹور میں شاپنگ کے بعد کاؤنٹر پر ادائیگی کے لئے اپنی باری کی منتظر تھیں ۔ کہ اسی دوران ایک باحجاب مسلمان خاتون ایک بڑا بکس کھینچتے ہوئے داخل ہوگئیں بکس غالبا گھاس کاٹنے والی مشین کا تھا ۔ خاتون کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نمایاں تھے ۔

خاتون کیشیئر ملازمہ کے پاس چلی گئی اور بڑے ادب کے ساتھ کہنے لگی کہ وہ کل یہ مشین آپ سے دیگر اشیا کے ساتھ 500 ڈالر کی خرید کر لے گئی تھی ۔
کیشر : کیا تم اسے واپس کرنا چاہتی ہو؟۔
مسلمان خاتون : نہیں ۔

کیشیئر ملازمہ: کیا آپ نے کسی دوسرے اسٹور پر اس سے کم قیمت میں فروخت ہوتے دیکھا ہے تو ہماری پالیسی آپ کو بقیہ اماؤنٹ دینے کی بھی ہے ، مگر اس کے لئے آپ کو دوسرے اسٹور کی قیمت کاثبوت دکھانا ہوگا ۔
مسلمان خاتون کہنے لگی کہ نہ یہ اور نہ وہ ۔ بلکہ میں نے کل آپ سے دیگر اشیا کے ساتھ یہ مشین خریدی تھی جس کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کردی گئی تھی ۔ پھر اس سامان کو اٹھا کر میں اپنی رہائش گاہ پر لے گئی جو یہاں سے تقریبا دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ۔ لیکن جب گھر پہنچی اور بل دیکھا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوگیا کہ آپ نے مجھ سے دیگر اشیاء کی قیمت تو وصول کی ہے مگر اس مشین کی قیمت لگانا بھول گئی تھی ۔

یہ سنتے ہی کیشیئر ملازمہ اٹھ کر خاتون سے گلے لگانے لگی اور آنکھوں میں اترتے آنسوں کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جذبات سے معمور لہجے میں کہنے لگی کہ پھر کس چیز نے آپ کو چار گھنٹے کی مسافت طے کرنے اور ملازمت سے چھٹی لینے پر مجبور کر دیا۔؟
مسلمان خاتون نے بڑی سادگی سے بولا : امانت نے ۔ اور پھر انگریزی میں اسے امانت کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی تشریح کرنے لگی ۔
یہ سن کر ملازمہ اٹھ کر شیشے کے کیبن میں بیٹھی ہوئی مینیجر خاتون کے پاس گئی ۔ ہم سن نہیں رہے تھے مگر اس کی باڈی لینگویج سے اس کے تاثرات بتارہے تھے کہ وہ کچھ خاص انداز سے کچھ کہے جارہی ہے ۔ ملازمہ نے توقف کیا ۔ تو مینیجر خاتون اپنی نشست سے اٹھی اور باہر آگئیں ۔
اسٹور کے تمام اسٹاف کو جمع کرلیا ۔ جس کے ساتھ کسٹمرز بھی جمع ہوگئے۔ انہیں اس مسلمان خاتون کی امانت داری کے بارے بتانے لگیں ۔ مسلمان خاتون خاموش کھڑی رہی۔ جس کے چہرے پر حیا کی پرچھائیاں بکھری ہوئی تھیں ۔

یہ سننے کے بعد اسٹاف نے مسلمان خاتون سے اسلام میں امانت اوردیانت داری کے بابت سوالات کئے ۔ جس کے جوابات اس نے بڑے نپے تلے انداز میں دینی نصوص کی روشنی میں دے دیئے ۔

مینیجر خاتون نے مسلمان خاتون کو مشین گفٹ کرنے کی پیشکش کردی جسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے مشین سے زیادہ اہمیت ثواب کی ہے ۔ وہ قیمت کی ادائیگی کرکے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اسٹور سے نکل گئیں ۔
اس واقعہ کو سپراسٹور میں موجود درجنوں کسٹمرز نے بھی دیکھا جو حجاب پہنے ایک دل آویز مسکراہٹ اور ایمانی قوت کے ہالے میں گھری ہوئی اسپرسٹور سے نکل کر رخصت ہو نے والی خاتون کو بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔
خدیجہ بن قنہ کہتی ہیں کہ یہ سن اور دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے پر بڑا فخر محسوس ہوا اور ادائیگی کے ساتھ شکریہ ادا کرکے سپر اسٹور سے نکل آئیں ۔
لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھ لینے کے بعد اگر انسان کے اندر یہ دو خوبیاں پیدا ہوں۔۔
1: خوفِ خدا
2: اچھے اخلاق
تو معاشرہ اس شخص کی قدر کرتا ہے، اور یہی دو خوبیاں مرنے کے بعد انسان کو جنت میں بھی لے جا سکتی ہیں۔
ان شاء اللہ العزیز
 

سیما علی

لائبریرین
👈 *بیماریوں سے بچاؤ کا آسان نسخہ* 👉

پچھلے دنوں میری ایک دیہاتی سے ملاقات ہوئی ان سے بات چیت ہوئ۔میں نے اس کی عمر پوچھی تو معلوم ہوا وہ ۹۵ برس کےہیں اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا.
*میں نے ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں؟*
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو.

*میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔*
ہنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے.

*میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا.*
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللہ کے بغیر نہ ڈالنا چاہے پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ...

*میں خاموش سا ہوگیا*

پھرکہنے لگے اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہرچیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے-
ہمیشہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑوگے- انشاءاللہ
میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے:

کھانے کے حوالے سے ایک اور بات بھی سنتے جاؤ،

*میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا*

کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نہ کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو.
*میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟*
لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی اللہ بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا- یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللہ روح کی غذا ہے- اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑسکتے ہو؟

✒️ _*دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم اور ہماری اولادیں کتنی محروم ہیں۔ جن کے فوائد آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی لا محدود ہیں لیکن ہم کُلّی طور پر غافل ہیں ۔تبھی تو ہمارا معاشرہ زوال پذیر اور ہر برائی میں ڈوبا ہوا ہے.اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
 
Top