انٹر نیٹ سے چنیدہ

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
"💫 آج کی پوسٹ ان عظیم مردوں کے نام "
جو رات کو اپنے چھالے بھرے ہاتھوں سے , اپنی ماں , بہن , بیوی , بیٹی کے لئے گرما گرم مونگ پھلی لاتے ہیں اور ساتھ بیٹھ کر قہقہے لگا کر کہتے ہیں , تم لوگ کھاٶ میں تو راستے میں کھاتا آیا ہوں ۔ ۔ ۔

💫"آج کی پوسٹ ان عظیم جوانوں کے نام "
جو شادی کے چند دن بعد پردیس کی فلاٸٹ پکڑتے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کا ATM بن جاتے ہیں ۔ ۔ جنہیں اپنی بیوی کےہاتھکاکھانا اور اپنے بچوں کا بچپن دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ ۔

💫" آج کی پوسٹ ان سب مزدوروں , سپرواٸزروں اور فیلڈ افسروں کے نام "
جو دن بھر کی تھکان کے ٹوٹے بدن کے باوجود , اپنے بیوی بچوں کے مسکراتے چہرے دیکھنے کے لئے رات کو واٸس ایپ (voice app)کال کرنا نہیں بھولتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

💫" آج کی پوسٹ ان سب دکانداروں اور سیلزمینوں کے نام "
جو سارا سارا دن اپنے وجود کے ساتھ لیڈیز سوٹ لگا کر کہتے ہیں : باجی دیکھیں کیسا نفیس پرنٹ اور رنگ ہے ۔ ۔ ۔ ۔

💫" آج کی پوسٹ ان سب عظیم مردوں کے نام "
جو ملک کے کسی ایک کونے سے ڈراٸیو شروع کرتے ہیں اور پورے پاکستان میں اشیاء تجارت دے کر آتے ہوئے اپنی بیٹی کے لئے کسی اجنبی علاقے کی سوغات لانا نہیں بھولتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

"💫 آج کی پوسٹ ان معزز افسران کے نام"
جو ویسے تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے , مگر اپنے بچوں کے رزق کے لئے سینٸیر اور سیٹھ کی گالیاں کھا کر بھی مسکرا دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

💫" آج کی پوسٹ ان عظیم کسانوں کے نام "
جو دسمبر کی برستی بارش میں سر پر تھیلا لئے پگڈنڈی پھر کر کسی کھیت سے پانی نکالتے ہیں اور کسی میں ڈالتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

" آج کی پوسٹ ان دیہاڑی داروں کے نام "
جو ہفتے میں ایک دفعہ اپنی بیٹی کا پسندیدہ انڈے والا بند کباب لاتے ہیں اور ساتھ اعلان بھی کرتے ہیں کہ انکا پسندیدہ کھانا تو بس روٹی اور چٹنی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

💫" آج کی پوسٹ میرے والد صاحب کے نام "
جنہوں نے مجھے زندگی دی اور زندگی بنا کر بھی دی شکراللہ

💫"آج کی پوسٹ ہر نیک نفس , ایماندار اور محبت کرنے والے باپ , بھاٸی , شوہر اور بیٹے کے نام "
💫جو اپنے لئے نہیں اپنے گھر والوں کے لئے کماتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

💫جنکا کوٸی عالمی دن نہیں ہوتا ۔ ۔
مگر ہر دن ان کے لئے عالمی دن ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کیونکہ جن کے لئے وہ محنت کرتے ہیں وہی تو ان کے لئے "کل علم" ہیں ۔ ۔ ۔ ۔♥️🌹
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
💫"آج کی پوسٹ ہر نیک نفس , ایماندار اور محبت کرنے والے باپ , بھاٸی , شوہر اور بیٹے کے نام "
💫جو اپنے لئے نہیں اپنے گھر والوں کے لئے کماتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
بہت ساری دعائیں ایسے عظیم رشتوں کے نام جو اپنی زندگی دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔ بہت قابل احترام ہیں ۔ اللہ پاک سلامت تا قیامت رکھیں آمین۔ :love:
 

سیما علی

لائبریرین
💫"آج کی پوسٹ ہر نیک نفس , ایماندار اور محبت کرنے والے باپ , بھاٸی , شوہر اور بیٹے کے نام "
💫جو اپنے لئے نہیں اپنے گھر والوں کے لئے کماتے ہیں ۔ ۔
ہماری ڈھیروں دعائیں ہر نیک ،ایماندار اور محبت کرنے والے باپ بھائی شوہر اور بیٹے کے نام جو اپنی تمام محنت اپنے گھروالوں کے لئے کماتے ہیں ۔۔
پروردگار اپنا کرم فرمائیں آسانیاں عطا فرمائیں ۔۔۔آمین
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
ہماری ڈھیروں دعائیں ہر نیک ،ایماندار اور محبت کرنے والے باپ بھائی شوہر اور بیٹے کے نام جو اپنی تمام محنت اپنے گھروالوں کے لئے کماتے ہیں ۔۔
پروردگار اپنا کرم فرمائیں آسانیاں عطا فرمائیں ۔۔۔آمین
آمین ثم آمین
 

سیما علی

لائبریرین
ایک عورت اپنی سہیلی کے پاس گئی سہیلی کھانے پکانے کی ماہر تھی تاکہ ان سے مچھلی تلنے کا طریقہ سیکھ لیں۔

سہیلی نے مچھلی کا سر اور دم کاٹنے کے بعد اسے کڑاہی میں ڈال دیا اس عورت نے سر اور دم کاٹنے کی وجہ پوچھی،سہیلی نے کہا وجہ تو مجھے نہیں معلوم میں نے اپنی امی کو اسی طرح مچھلی تلتے دیکھا ہے۔

سہیلی نے وجہ دریافت کرنے کیلئے اپنی امی کو کال کی امی نے بتایا کہ وجہ تو مجھے بھی نہیں معلوم کیونکہ میں نے اپنی امی کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔

دادی کو کال کی گئی کہ آپ مچھلی تلنے سے پہلے سر اور دم کیوں کاٹتی تھیں انہوں نے برجستہ جواب دیا "کڑاہی چھوٹی تھی اس لئے" ۔

بعینہ بزرگوں اور گزرے وقتوں کے بڑوں نے انجام دیے ہر کام کو تقدیس اور روایت کا نام دے کر خود کو ایک مخصوص خول میں بند کرنا درست نہیں ہے۔

عین ممکن ہے کہ ان کے دور میں اس کام کو انجام دینے کیلئے وہ وسائل میسر نہ ہوں جو آپ کو میسر ہیں لہذا آپ جس عہد میں ہیں اسی میں جئیں۔

منقول
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
یہ بات تو درست فرمائی آپ نے، کسی ٹوٹے پھوٹے کو کیا دست و بازو بنانا
ایویں درست فرمائی۔۔۔۔ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے بھائی۔
اور ہمارا تو بس بازو۔۔۔ لیکن وہ بھی ناکارہ تو نہیں ہوا نا الحمد للہ۔ ہو جائے گا مکمل صحت یاب بھی۔
بس زیک بھائی مشورہ نہ دینے لگیں کہ کٹوا ہی ڈالو۔
 

سیما علی

لائبریرین
فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نئے جوتے ملیں گے ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبرات حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نئے جوتے دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کا کہا گیا۔

استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجائیں اور پھر سب کے سامنے ایک اٹھایا جوں ہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائی وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیوں کہ وہ پٹھے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آگئی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔

جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کی احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔

میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملا سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔ ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوات اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
_________
(۱۲/۰۱/۲۰۲۲)
 

سیما علی

لائبریرین
میں نے کچھ دیر پہلے اپنی بیگم سے پوچھا
کیوں بھئی مرد زیادہ باتونی ہوتے ہیں یا عورتیں؟
وہ کچھ نہیں بولی، میں نے بلند آواز میں کہا
بہری ہو گئی ہو؟ سنتی نہیں
تو اطمینان سے کہنے لگی
پچھلے اکتیس برس میں تم نے مجھے جتنے سفرنامے،کالم، کہانیاں اور ناول سنائے ہیں تو میں نے بہری ہی ہونا تھا"
~مستنصر حسین تارڑ
بے_عزتی_خراب
 

زیک

تکنیکی معاون
ایویں درست فرمائی۔۔۔۔ مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے بھائی۔
اور ہمارا تو بس بازو۔۔۔ لیکن وہ بھی ناکارہ تو نہیں ہوا نا الحمد للہ۔ ہو جائے گا مکمل صحت یاب بھی۔
بس زیک بھائی مشورہ نہ دینے لگیں کہ کٹوا ہی ڈالو۔
اب تو بہت دیر ہو چکی کٹوانے کا وقت بھی گزر گیا
 

سیما علی

لائبریرین
وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں۔۔۔
سرخ اینٹوں سے بنے کسی آنگن میں۔۔۔
کہیں باورچی خانے میں چولہےکے پاس دھری پیڑھی پر۔۔۔
یا کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے۔۔۔
ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ کب لمحے ہمیں قید کر لیتے ہیں۔۔۔
کوئی چائے کی پیالی ایسی ہوتی ہے جس کا ذائقہ زبان کبھی بھول نہیں پاتی۔۔۔
کوئی سرگوشی، کوئی مسکراہٹ، کوئی مہک، کوئی قہقہہ، کوئی آنسو، کوئی سناٹا، تمام عمر کے لئے زندگی پر حاوی ہو جاتا ہے۔۔۔
پرانی یادوں پر نئی یادیں سجانا در حقیقت ایک مشکل عمل ہے۔۔۔
جبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے...!! 🙃
 

سیما علی

لائبریرین
رات کا آخری پہر تھا..
سردی تھی کہ ھڈیوں کے اندر تک گھسی جارھی تھی.. بارش بھی اتنی تیز تھی جیسے آج اگلی پچھلی کسر نکال کر رھے گی..
میں اپنی کار میں دوسرے شہر کے ایک کاروباری دورے سے واپس آرھا تھا اور کار کا ھیٹر چلنے کے باوجود میں سردی محسوس کررھا تھا.. دل میں ایک ھی خواھش تھی کہ بس جلد از جلد گھر پہنچ کر بستر میں گھس کر سو جاؤں.. مجھے اس وقت کمبل اور بستر ھی سب سے بڑی نعمت لگ رھے تھے..
سڑکیں بالکل سنسان تھیں حتیٰ کہ کوئی جانور بھی نظر نہیں آرھا تھا.. لوگ اس سرد موسم میں اپنے گرم بستروں میں دبکے ھوئے تھے..
جیسے ھی میں نے کار اپنی گلی میں موڑی تو مجھے کار کی روشنی میں بھیگتی بارش میں ایک سایہ نظر آیا.. اس نے بارش سے بچنے کے لیے سر پر پلاسٹک کے تھیلے جیسا کچھ اوڑھا ھوا تھا اور وہ گلی میں کھڑے پانی سے بچتا بچاتا آھستہ آھستہ چل رھا تھا.. مجھے شدید حیرانی ھوئی کہ اس موسم میں بھی کوئی شخص اس وقت باھر نکل سکتا ھے اور مجھے اس پر ترس آیا کہ پتہ نہیں کس مجبوری نے اسے اس پہر اس طوفانی بارش میں باھر نکلنے پر مجبور کیا.. میں نے گاڑی اس کے قریب جا کر روکی اور شیشہ نیچے کرکے اس سے پوچھا.. "بھائی صاحب ! آپ کہاں جا رھے ھیں..؟ آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ھوں.."
اس نے میری طرف دیکھ کر کہا.. "شکریہ بھائی.. بس میں یہاں قریب ھی تو جارھا ھوں اس لیے پیدل ہی چلا جاؤں گا.." میں نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا.. "اس وقت آپ کہاں جا رھے ھیں..?" اس نے بڑی متانت سے جواب دیا.. "مسجد.." میں نے حیرانی سے پوچھا.. "اس وقت مسجد میں کیا کرنے جا رھے ھیں..?" اس نے کہا.. "میں اس مسجد کا مؤذن ھوں اور فجر کی اذان دینے کے لیے مسجد میں جارھا ھوں.." یہ کہہ کر وہ اپنے رستے پر چل پڑا اور مجھے ایک نئی سوچ میں گم کرگیا..
کیا آج تک ھم نے کبھی سوچا ھے کہ سخت سردی کی رات میں طوفان ھو یا بارش' کون ھے جو اپنے وقت پر اللہ کے بلاوے کی صدا بلند کرتا ھے..؟؟؟
کون ھے جو ھمیں بتاتا ھے کہ "نماز نیند سے بہتر ھے"..؟؟؟
کون ھے جو یہ اعلان کرتا ھے کہ "آؤ نماز کی طرف.. آؤ کامیابی کی طرف"..؟؟؟
اور اسے اس کامیابی کا کتنا یقین ھے کہ اسے اس فرض کے ادا کرنے سے نہ تو سردی روک سکتی ھے اور نہ بارش..
جب ساری دنیا اپنے گرم بستروں میں نیند کے مزے لے رھی ھوتی ھے وہ اپنے فرض کو ادا کرنے کے لیے اٹھ جاتا ھے.. تب مجھے علم ھوا کہ یقینا" ایسے ھی لوگ ھیں جن کی وجہ سے اللہ ھم پر مہربان ھیں اور انہی لوگوں کی برکت سے دنیا کا نظام چل رھا ھے..
میرا دل چاھا کہ نیچے اتر کر اسے سلام کروں لیکن وہ جا چکا تھا.. اور تھوڑی دیر بعد جیسے ہی فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونجی' میرے قدم بھی مسجد کی جانب اٹھ گئے ..
آج مجھے سردی میں مسجد کی طرف چلنا گرم بستر اور نیند سے بھی اچھا لگ رھا تھا_________!!
💞💞
اللُّه کریم ہمیں پانچ وقت با جماعت نماز پڑھنے کی ہمت طاقت و اسطاعت عطا فرمائے۔۔۔۔آمین
 

سید عمران

محفلین
سردیوں میں صحت مند رہنےکی چند آسان ٹپس....!
〰️〰️🌼☘️🌼〰️〰️

ہم سب جانتے ہیں
سردی کے موسم میں اکثر افراد
کسی نہ کسی بیماری
جیسے نزلہ ، زکام، کھانسی، الرجی
جوڑوں میں درد
ڈپریشن، اداسی وغیرہ کا زیادہ شکار ہو جاتے ہیں
ان سب سے خود اور اہل خانہ کو محفوظ رکھنے
کے لیے چند آسان ٹپس عرض کرتا ہوں
سب کی سب آزمودہ و مفید ہیں

آرام
سب سے پہلی اور سب سے اہم ہے آرام
غور کیجئے
اللہ رب العالمین نے
سردیوں کی رات اتنی طویل کیوں کی ہے.؟
اسی لئیے کہ رب جانتے ہیں انسان اور دیگر ساری مخلوق کو اس سرد موسم میں زیادہ آرام کی ضرورت ہے
اس لئیے سردی میں رات کا آرام بہت سے امراض سے
محفوظ رکھتا ہے

☕. سبز چائے
اس سرد موسم میں
سبز چائے کسی نعمت سے کم نہیں
بہتر ہے گھر میں اردک، پودینہ، الائچی، سونف
دار چینی کی چائے جسے شہد، گڑ یا کھجور کے شیرے سے میٹھا کیا جائے اور دن میں پانچ کپ پی لئیے جائیں

🥣. یخنی سوپ
پشتو زبان میں یخنی ٹھنڈ یعنی سردی کو کہتے ہیں
اور سردیوں میں دیسی مرغی، مچھلی، اور بکرے کی یخنی
اور موسم کی ہر تازہ سبزی کا سوپ ضرور پیجیئے
یہ غذائیں ان شاء اللہ آپ اور اہل خانہ کو
بہت سی دواؤں سے محفوظ رکھیں گے.

☘️. جؤ اور کھجور کا دلیہ
عام طور پر جؤ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہے، بہت ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن جب آپ جؤ کے دلیہ کے ساتھ کھجور اور شہد ملا لیں تو
سرد موسم میں یہ سب سے مفید ناشتہ ہے

.☘️ مچھلی، دیسی انڈے
اس موسم میں جسم کی قدرتی حرارت کو بحال رکھنے میں معاون ثابت ہونگے
بس خیال رہے گھی تیل میں تلی ہوئی مچھلی میں ذائقہ تو ہوتا فائدہ کم ہی رہ جاتا ہے
اسٹیم بھاپ سے پکائی گئی مچھلی سب سے بہتر ہے
اس کے بعد شوربہ میں بنی ہوئی

.🌼 سرد موسم میں ورزش واک چہل قدمی کے لیے باہر جانا آسان کام نہیں، لیکن گھر میں رہتے ہوئے
یوگا جیسی ورزش ضرور کی جانی چاہیئے

☘️. اس موسم میں گرم لباس کا استعمال بہت ضروری ہے
اپنے لباس، لحاف وغیرہ ہر ممکن توجہ دی جانی چاہیئے
خاص طور پر بچوں اور ضعیف العمر اہل افراد کے لئے
کاٹن کے پورے بازو والی بنیان اور لیگ ان
بیحد مفید ہیں

🌼. وٹامن سی
کا استعمال زیادہ کی جائے
اس کے لیے مالٹا، موسمی، کینو، فروٹر
وافر دستیاب ہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں
انہیں کھانے کا اچھا وقت دوپہر کا اور وہ بھی دھوپ میں بیٹھ کر

☘️. سردیوں کی دھوپ
کم از کم بیس تیس منٹ دھوپ میں ضرور بیٹھا جائے

.☘️ ایک اہم بات
سردیوں میں صحت مند رہنے کے لئے
دن میں کئی بار ہاتھوں کو اچھی طرح دھویا جائے
خصوصاً کھانے سے پہلے.
اس کے علاوہ
اپنے موبائل فون، کمپیوٹر ماؤس، کی بورڈ
بھی بہت اچھی طرح ڈیٹول ملے پانی سے ہر روز
صاف کیجئے
اچھی کوالٹی کے ھینڈ سینیٹائزر سے بھی دن میں کئی بار ہاتھ صاف کئیے جائیں

.🌼 سرد موسم میں جسم کی مساج
کسی بھی آئل سے سر سے پاؤں تک مالش کا اہتمام کیا جانا چاہیے
جس قدر ممکن ہو
ہر غسل سے پہلے سرسوں کے تیل سے
جسم پر مالش کیجئے پھر گرم پانی سے نہا لیں
دوبارہ عرض ہے تیل کی مالش
بچوں اور بزرگوں کے لیے بہترین دوا ہے🌹🌹
 

سیما علی

لائبریرین

کہتے ہیں ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا
سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا
بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا
بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہامگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا

بچے کا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا

باپ نے بچے سے پوچھا؛
بیٹے کیا بات ہے؟

بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا
باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا
آگ جلائی اور حرارت کے پاس ہی بیٹھ کر بچے سے باتیں کرنے لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گُزری تھی کہ کچھوا بھی حرارت لینے کیلئے آہستہ آہستہ اُن کے پاس آ گیا باپ نے مُسکرا کر بچے کی طرف دیکھا جو کچھوے کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا

باپ نے بچےکو مُخاطب کرتےہوئےکہا:
بیٹے انسان بھی کچھوے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ اپنے خول اُتار کر تمہارے ساتھ کھلے دِل سے ملیں تو اُنہیں اپنی مُحبت کی حرارت پہنچایا کرو، نہ کہ اُنہیں ڈنڈے کے زور پر یا اپنا حُکم چلا کر

●پُر کشش اور جادوئی شخصیت والے لوگوں کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ
زندگی میں لوگوں کو اپنی مُحبت کی حِدت اور اپنے جذبات کی گرمی پہنچا کر اُنہیں اپنا گرویدہ بناتے ہیں
اُن کی تعریف و تحسین اور قدر سے اُن کے دِلوں میں اپنے لئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور پھر اِنہی جذبات کے بل بوتے پر اُن پر اور اُنکے دِلوں پر حکومت کرتے ہیں
اور انسانی مخلوق تو ہے ہی ایسی کہ کوئی بھی اُس کے دِل میں گھر نہیں کر سکتا
سوائے اِس کے کہ اُس کے ساتھ جذبات کی گرم جوشی، سچے دِل اور روح کی پاکیزگی کے ساتھ مِلا جائے ..۔۔۔۔۔
😊😊😊😊😊
 

سید عمران

محفلین
-: ہماری ڈگریوں نے مارا ہے:-
۔"" "" "" "" "" "" "" "" "" ""
پچھلے ہفتے چھٹی کے روز دو شاگردوں کا فون آیا کہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ دو بچے تھے، جنہوں نے کچھ عرصہ قبل میٹرک میں ٹاپ کیا تھا اور پورے شہر اور مضافات میں ان ہونہار طلباء کا چرچا تھا۔ بڑے بڑے پینا فلیکس پر ان کی ادارے کے نام کے ساتھ تصاویر لگی تھیں۔ بڑے کالجز کی طرف سے فری ایجوکیشن کی پیش کش ہوئی اور انہوں نے من پسند کالجز کا انتخاب کر کے اس میں داخلہ بھی لیا۔ اگلے چار سالوں میں کامیابی کا تناسب بھی قدرے بہتر رہا۔ گریڈ میں استحکام رہا۔ تب ان کو یوں لگا جیسے دنیا فتح کر لیں گے، ان کے گریڈ ان کی کامیابی کی دلیل اور گارنٹی ہیں۔ ان کی میڑک کی سند ان کی اعلیٰ ملازمت پر قبولیت کی سند ہے ۔۔۔ لیکن نتائج اس کے برعکس رہے۔
وہ جس بڑے ادارے میں انٹرویو دینے گئے بہت کم نمبروں سے ٹیسٹ پاس ہو سکے۔ تحریری ٹیسٹ پاس کر بھی لئے تو انٹرویو میں رہ گئے۔ پینل کے سوالات ان کے سر سے گزر گئے۔ اسناد میں اے پلس گریڈ دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ریک میں رکھی ٹرافی ان کے کسی کام نہ آئی۔
آج وہ کچھ سنانے آئے تھے اور میں خاموشی سے دونوں کو سن رہا تھا ۔ دونوں کے چہروں پر مایوسی اور انجانا سا عدم تحفظ تھا۔ چائے کا کپ رکھ کر ایک نے فرش کو دیکھتے ہوئے آخری جملہ بولا، "سر! تعلیی نظام نے بہت ظلم کیا ہے ہم پر ۔۔۔ "
میں نے مسکرا کر کہا، "بیروزگاری تو ہمارا بہت پرانا مسئلہ ہے شہزادے، میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔"
"نہیں سر !" دوسرا تڑپ کر بولا، "ہمیں بیروزگاری نے نہیں ، ہماری ڈگریوں نے مارا ہے ، ہمیں وہ کچھ سکھایا ہی نہیں گیا جو اگلے دس سال ہمارے کام آتا۔“
میں ایک بار پھر غور سے سننے لگا ۔ آج ان کے بولنے کی باری تھی۔
"ہمیں اعتماد نہیں سکھایا گیا ، انگریزی میں پورے نمبر دے کر انگریزی بولنا نہیں سکھایا گیا ، میتھ میں سو بٹہ سو لینے والے اپنی ہی زمین کا رقبہ نہیں نکال سکتے ، اردو میں پورے نمبر لے کر بھی ہم وزیر اعلٰی کو عرضی نہیں لکھ سکتے ، میرٹ ہمارے قدموں کی دھول ہے۔ لیکن نالج ہمارے پاس صفر ہے ، آپ نے نمبروں کی مشینیں بنائی ہیں، جینیس نہیں ۔" آواز اس کے گلے میں رندھ گئی ۔
میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔
"میرے ابو کے زمانے میں ڈاکٹری کا میرٹ %78 فیصد تھا، اب % 91 پر بھی پاکستان کے سب سے تھکے ہوئے کالج میں بھی داخلہ نہیں ملتا۔" اس کے چہرے پر تھکن ہی تھکن تھی۔
لگتا تھا نوکریاں ہمارے قدموں میں گریں گی۔ آج جس کمپنی میں جاتے ہیں وہاں پورے نمبر لینے والے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہوتے ہیں، لیکن ٹیسٹ اور انٹرویو میں سب رہ جاتے ہیں کہاں گئے وہ نمبر ۔؟؟؟"
وہ اپنا کتھارسس کر رہے تھے یا سوال ۔۔۔ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔

ہم نمبروں کی مشینیں ہی تو بنا رہے ہیں ، میری نظروں میں اس سال کوویڈ میں میٹرک اور ایف ایس سی میں پورے نمبر لینے والے گیارہ سو ستانوے طلباء گھوم گئے ۔۔۔چار سال بعد اُن کے سوالات اِن سے بھی تلخ ہوں گے۔ گیارہ سو طلباء اپنے ٹیچر کو فون کر کے کہیں گے، "آپ سے بات کرنی ہے۔"
اور جواب میں وہی خاموشی ۔۔۔ طویل خاموشی ملے گی۔
 

سید عمران

محفلین
#والدین❣
دُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں، یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں !!!
1:مال و دولت
2:وقت (اپنی ساری عمر)
3:اپنی جوانی/عمر (خوبصورتی، حسن و جمال، اپنی طاقت)
اور یہ (والدین) ایسے انویسٹر (سرمایہ) کار ہیں کہ:
اپنا وقت ، عمر ، پیسہ اور اپنی سوچ و فکر سب قربان کرتے ہیں وہ بھی بنا کسی لالچ کے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جس پر وہ انویسٹ کر رہے ہیں کیا وہ اُنہیں آگے جاکر کوئی فائدہ پہنچا پائے گا کہ نہیں، بنا کسی فکر و فائدے کے وہ اپنے بچوں پر انویسٹ کیے جاتے ہیں ، کیے جاتے ہیں اور کیے ہی جاتے ہیں ...
مگر آخر جب وہ زندگی کی بھاگ دوڑ اور آپ کی خواہشات کے محلوں کو تعمیر کر کے اپنی عمر کی اُس منزل پر آ پہنچے ہیں جہاں پر وہ اپنی ساری مضبوطی آپ پر قربان کر کے خود کمزور پڑ جاتے ہیں۔ بس پھر وہی سے اُن کے دل میں ایک عاجزانہ سی خواہش جنم لیتی ہے اور وہ خواہش پتا ہے کیا ہے ؟؟؟
کہ جس طرح ہم نے اپنے بچوں کے کمزور اور لڑکھڑاتے قدموں کو مضبوطی بخشی ، اُن کا ہاتھ تھام کر اُنہیں چلنا سکھایا ، اُنہیں پیار و محبت اور شفقت سے پالا بالکل اُسی طرح ہمارے بچے بھی ہمارا سہارا بنیں ،
والدین کی عاجزانہ خواہشات:
* ہم چلنا بھول گئے ہیں ہمیں چلنا سکھائیں ،
* ہم کھانا بھول گئے ہیں ہمیں کھانا کھلائیں ،
* ہم جینا بھول گئے ہیں ہمیں جینا سکھائیں ،
* ہم ہنسنا بھول گئے ہیں ہمیں ہنسنا سکھائیں ،
اگر خالص مُحبت سیکھنی ہے نا تو اپنے والدین سے سیکھیں ، ایک نگاہ اُن کی طرف اٹھا کر تو دیکھیں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کو بناتے بناتے اُنہوں نے خود کو خاک کر لیا ہے اور بدلے میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ، اِسی کو کہتے ہیں سچی مُحبت کہ خود کو فنا کرکے اپنی محبوب چیز کو زندہ رکھنا اور زندگی سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرنا بنا کسی پرافٹ کے لالچ کے ...
خدارا اپنے والدین کی قدر و قیمت کو پہچانیں، 🙏🏻
اُن کی قدر کریں، اُن سے محبت کریں، اُنہیں اپنا وقت کہ جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے اُنہیں دیں، اُن کے بار بار سوال کرنے یا پوچھنے کی عادت سے اُکتائیں مت، یہ اُن کا حق ہے اور آپ کا فرض کہ وہ آپ کی زندگی اور ذات کے ہر پہلو سے باخبر رہیں اور آپ کو غلط راستے پر جانے سے روکیں، اپنے والدین کی روک ٹوک کو بُرا نہ جانیں بلکہ ایک نعمت سمجھیں کیوں کہ وہ آپ کو اُن کو ٹھوکروں اور بُرے تجربات سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کہ جن سے وہ خود گزر چکے ہیں، لہٰذا جیسے وہ بچپن میں آپ کے دس بار سوال کرنے پر بنا کسی شکن کے مسکرا کر جواب دیتے تھے بالکل اُسی طرح آپ کا بھی یہ امتحان اور فرض ہے کہ بنا کسی شکن کے مسکرا کر اُن کے سو بار پوچھنے پر مسکرا کر جواب دیجیے۔
جب بھی دُعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں
سب سے پہلے اپنے والدین کے حق میں دُعا کریں ان شاء اللہ آپ کی سب دعائیں قبول فرمائی جائیں گے۔
اگر آپ کے والدین حیات ہیں تب بھی اور اگر وفات پا چکے ہیں تب بھی اُن کے حق میں یہ دُعا ضرور کیا کریں
اَللّٰھُمَّ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ [الإسراء: 24]
اپنے والدین کے ساتھ حکمِ الہٰی کے مطابق پیش آئیں:
ترجمہ:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔
اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔
[الإسراء: 23، 24]
اللہ پاک ہمیں ہمارے والدین سے مُحبت کرنے والا اور فرمانبردار بنائے۔
(آمین)

نوٹ:
یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں گے.
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
img-1-1642596694130.jpg

بچپن میں جب امی جان روٹی پکا کر توّے کو چولہے کے پیچھے کھڑا کر کے رکھتی تھیں تو توّے کے نیچے والے کالے حصے پر تپش کی وجہ سے سرخ رنگ کے موتی تارے نمودار ہوتے جو قطار میں آگے کی جانب حرکت کرتے تھے
توے پر لگی کالک کو جلا کر سفیدچمکدار کر دیتے تھے۔۔۔۔۔۔
جن کو ہم بڑی غور سے دیکھتے تھے اکثر بچے روٹی کھاتے چھوڑ کر انکو دیکھتے رہتے۔۔۔۔پوچھا جاتا یہ کیاہےتو امی کہتی یہ میرے بچوں کی بارات جارہی ہے اکثرانہیں تاریاں دی جنج( ستاروں کی بارات) چڑھ رہی ہے .بھی کہتےہیں

وہ بھی کیا دور تھا ۔سب بہن بھائی چولہے کے ارد گرد بیٹھ جاتے۔والدہ روٹیاں پکاتی جاتیں۔اور اگر کوئی روٹی پھول جاتی تو ضد کی جاتی کہ یہ روٹی میں نے کھانی ھے کیونکہ مجھے زیادہ بھوک لگی ہے ۔
آجکل کے ممی ڈیڈی بچوں کو کیا معلوم کہ وہ دور کیسا تھا۔اب تو اکثر بچے اس وقت تک کھانا ہی نہیں کھاتے جب تک سامنے میز نہ لگا ہو۔لیکن وہ لوگ جو میری طرح دیہاتی ہیں گاوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کا بچپن 2000 یا اس سے پہلے کے دور میں گزرا ۔انکو یہ باتیں اچھی طرح یاد ہوں گی۔
 
Top